استاد معمار قوم یا مزارع قوم۔۔۔؟

25 مئی 2018

شکیل امجد صادق

امریکہ میں تین شعبوں کے لوگوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور ان کو قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پہلے نمبر پر معذور لوگ، دوسرے نمبر پر سائنسدان اور تیسرا مقام اساتذہ کو حاصل ہے۔ اسی طرح فرانس کی عدالت میں اساتذہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو نہ تو کرسی پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی کو پروٹوکول حاصل ہے۔ جاپان ایک ایسا ملک ہے جس کی پولیس کو اگر کوئی استاد کسی معاملے میں گرفتار کرنا پڑ جائے تو پولیس کو استاد کی گرفتاری کے لیے باقاعدہ عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور گرفتاری کے لیے اجازت لینا پڑتی ہے۔ علاوہ ازیں کوریا ایک ایسا ملک ہے جس میں ایک استاد اپنا سروس کارڈ دکھا کر وہ تمام سہولتیں بلا چوں چراں حاصل کرتا ہے جو کوریا کے وزراء، ایم پی اے اور ایم این اے کو حاصل ہیں۔ یہ تو دیگر ممالک کا ایک طائرانہ تجزیہ تھا۔ اب آپ آج سے چودہ سو سال قبل نظر دوڑائیے تو آپ کو حضرت علیؓ کا قول واشگاف الفاظ میں نظر آئے گا کہ ’’جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا ہاتھ پکڑ مدینہ کی جس منڈی میں چاہے ضروحت کر سکتا ہے۔ پوری دنیا گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر جائے۔ معاشرہ اس قوم سے منحرف نہیں ہو سکتا تھا۔ اس قوم کی اہمیت اپنی جگہ الگ وجود کی حامل ہے۔ مگر نبی آخر الزماںؐ نے خود ارشاد فرمایا کہ ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘۔ یہ وہ قول ہے جس کی بنیاد پر معلمانہ پیشے کو پیغمبری پیشے سے منسوب کیا گیا ہے۔ اب یورپ کی مثالیں تو ایک طرف ہم اپنی اسلامی مثال سے روگردانی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے۔ مگر اس درسگاہ پر قطعاً اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کو ماحول سے روشناس، کلچر سے ہم آہنگی، تہذیب سے وابستگی، برے بھلے کی تمیز، سماج سے میل میلاپ، غورو فکر کی عادت، اقدار کی پہچان، معاشرے کی تعمیر، حب الوطنی، مذہب سے اپنائیت اور معاشی تگ و دو جیسی خصوصیات انسان کے اندر ایک معلم اور استاد ہی پیدا کرتا ہے۔ مثبت سے مثبت اور منفی سے مثبت کا سفر بھی استاد کا ہی مرہون منت ہے۔ ایک استاد ایک طالب علم کے کردار اور اس کی شخصیت کا سچا اور سُچا عکاس ہوتا ہے۔ ایک استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا دیتا ہے۔ ایک استاد وزیر اور حکمران نہیں ہوتا مگر وزیر اور حکمران بنا دیتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ گنگا بھی الٹی بہتی ہے۔ میں اس کی مثال یوں پیش کروں گا کہ ہمارے کسان کے پاس اس کے مال مویشیوں میں ایک ’’ملٹی پرپز‘‘ جانور ہوتا ہے۔ وہ اس کو ہل چلانے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ اس کو بیلن پر بھی جوتتا ہے۔ چارے کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی مشین بھی اَسی سے چلواتا ہے۔ آٹا پیسنے کے لیے ’’گیئر‘‘ پر بھی اسی کو ہانکتا ہے۔ حتیٰ کہ رہٹ سے پانی نکالنے کے لیے بھی اسی جانور کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بوجھ اٹھانے اور ڈھونے کے لیے بھی وہی جانور استعمال کیا جاتا ہے۔ تمام کام بروئے کار لانے کے بعد عام جانوروں کے ساتھ باندھ کر اسے چارہ ڈال دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں اساتذہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ملک میں معاملہ خانہ شماری کا ہو تو فوراً یہ ذمہ داری اساتذہ کو تفویض کر دی جاتی ہے۔ اگر ملک میں مردم شماری کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کام پر بھی اساتذہ کو جوت دیا جاتا ہے۔ اگر بچے گھروں سے سکول نہیں آ رہے تو اس کا ذمہ دار بھی اساتذہ اکرام کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ رہی سہی کسر اساتذہ کو الیکشن ڈیوٹیاں دے کر نکال دی جاتی ہے۔ اس عمل میں جو تذلیل اور غیر مہذبانہ سلوک اساتذہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، وہ ناگفتہ بہ ہے۔ اساتذہ کے سروں پر بیلٹ بکس اور کاندھوں پر بیلٹ پیپرز کے تھیلے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی حالت فیض کے اس شعر کے مترادف ہوتی ہے:
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
تین دن کی ہی غیر مہذبانہ مشقت اساتذہ سے جبری طور پر لی جاتی ہے۔ یہ تمام حقائق تو اپنی جگہ الگ مصدقہ حقیقت کے ترجمان ہیں۔ دور دراز علاقوں میں اور یہاں وڈیرے اور جاگیردار موجود ہیں۔ وہاں تو انہوں نے بے چارے اساتذہ کو تعلیم و نسق سے مبرا قرار دے کر اپنا ’’میر منشی‘‘ مقرر کیا ہوا ہے۔ دوسری اہم بات کہ تعلیمی اداروں کو گرمی کی چھٹیوں کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اساتذہ کو کوئی تفریحی پروگرام دیا جائے گا۔ یا کسی اچھے ادارے کے تحت، اچھے ماحول میں ٹریننگ دی جائے۔ صرف مقصد یہی ہوتا ہے کہ اتنے سخت اور گرم موسم میں غیر فعال ماحول میں تعلیمی نظام، کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا اور بچے ایسے ماحول کو برداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اساتذہ بھی شدت کی گرمی میں ذہنی کام اور تربیتی سرگرمی کو جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس دفعہ ماہ صیام کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی ادارے مئی کے دوسرے ہفتے بند کر دیئے گئے اور ساتھ ہی اس قدر ستم ظریفی سے کام لیا گیا کہ اساتذہ شام 6 بجے تک مختلف صورتوں میں سکول میں حاضر رہیں گے تا کہ سول جج صاحبان یا ان کے نمائندے کسی بھی وقت سکول کو وزٹ کر سکیں اور سکول کی بلڈنگ اور دیگر سہولتوں کا جائزہ لے کر سکول کو پولنگ سٹیشن کے لیے بہتر قرار دے سکیں۔ بے چارے اساتذہ باری باری سے تین اوقات میں سکول جاتے ہیں۔ بے چارے روزے سے ہوتے ہیں مگر کوئی سکول وزٹ کرنے نہیں آتا مگر اساتذہ اپنی ڈیوٹی کو بھی فرائض اول گردانتے ہوئے سکول روزانہ جاتے ہیں۔ لہٰذا جس کا کوئی اور کہیں بس نہیں چلتا وہ اپنا رعب ، دبدبہ اور غصہ اس طبقے پر اتار لیتا ہے۔ جو قومیں اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتیں وہ قومیں ہمیشہ زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ زوال کا شکار قوموں کا شمار تیسری دنیا کی قوموں میں ہوتا ہے۔ اور جن قوموں کا شمار تیسری دنیا کی قوموں میں ہوتا ہے وہ قومیں اخلاقی، معاشرتی، سماجی اور مذہبی ترقی سے عاری قومیں سمجھی جاتی ہیں اور جو قومیں اساتذہ کا احترام کرتی ہیں، ان قوموں کا شمار ترقی یافتہ اور مہذب قوموں میں ہوتا ہے اور ترقی ان کے قدم چومتی ہے اور وہ قومیں دنیا میں اپنا نام پیدا کرتی ہیں۔

مزیدخبریں