پی ٹی آئی : کے پی کے میں شاندار تعلیمی ترقی
25 مئی 2018 2018-05-25

سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف کو اب بھی ڈیفنڈ کرنے والوں کے لیے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے جو کچھ روز قبل ایک تحریک انصاف کے ایک جنونی کارکن نے سنایا‘آپ پہلے وہ لطیفہ سنیں۔
ایک چودھری نے ایک مراثی رکھا ہوا تھا جو چودھری کی ہر ’’شدنی‘‘ کو Justifyکرتا تھا۔ایک دن چودھری صاحب نے ساتھ والے گاؤں کے چودھری کے سامنے بول دیا کہ ’’ایس واری میں ہزار من منجی ہوئی اے تے وچوں گیارہ سو من چاول ہوئے(اس دفعہ ہزار من مونجی ہوئی اور چاول گیارہ سو من نکلے)‘‘۔ چودھری صاحب کا بیان سن کر گاؤں والے ہکا بکا رہ گئے کہ ہزار من مونجی میں سے گیارہ سو من چاوہ کیسے نکل گئے۔چودھری صاحب یہ بات کرنے کے بعد مدد طلب نظروں سے مراثی کی طرف دیکھنے لگے‘مراثی بھی یہ بات ہضم نہ کر سکا اور چودھری صاحب سے مخاطب ہو کر اس نے ایک تاریخی فقرہ بولا‘اس نے کہا ’’چودھری صاحب آپ ہی بھگتو‘ایہہ چاول تے پھک پایاں وی پورے نئیں ہونے(چودھری صاحب خود بھگتیں‘یہ چاول بھی ڈالنے سے بھی پورے نہیں ہوں گے)‘‘۔ میں یہ لطیفہ پڑھنے کے بعد اس سوچ میں پڑ گیا کہ اصل میں میاں صاحب کو بھی ڈیفنڈ کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے۔نواز شریف کے حالیہ بیان کے بعد حکومتی مشینری یہ ڈیفنڈ کرنے میں لگی ہوئی تھی کہ میاں صاحب کا بیان توڑ مروڑ کر ڈسکس کیا جا رہا ہے جبکہ میاں صاحب انتہائی مستقل مزاج ثابت ہوئے اور وہ اپنے ڈیفنڈ کرنے والوں کی پراہ کیے بنا یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کچھ کہا وہ سب ہوش و ہواس میں کہا۔ہم حالیہ بیانات کے علاوہ بھی نیب کو دیے جانے والے سوالات کے جوابات ‘پارلیمنٹ سمیت نیب عدالت کے باہر اور اپنی دیگرپریس کانفرنسوں میں جو کچھ میاں صاحب نے کہا‘ان کا آج کا بیانیہ گزشتہ سے بالکل مختلف ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے صادق اور امین ہیں۔آپ کچھ دیر کے لیے بڑے میاں صاحب کی بجائے اس خاندان اور اس پارٹی کے کسی بھی ’’نظریاتی لیڈر‘‘کا بیان اٹھا کر دیکھ لیں‘آپ کو فرق واضح ہو جائے گا۔کچھ روز قبل تحریک انصاف نے بھی پہلے سو دن کا ایجنڈا دیا‘ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پہلے سو دن میں تحریک انصاف واقعی یہ کام نہ کر پائی تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حکومت میں ناکام ہو گئے۔بات اگر تحریک انصاف کی چل نکلی تو میرے خیال سے ہم پا کستان تحریک انصاف کا سو دن کا ایجنڈا سامنے رکھتے ہوئے ان کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔میرے سامنے خیبر پختونخواہ کی گزشتہ پانچ سالوں کی تعلیمی رپورٹ پڑی ہے۔
گزشتہ حکومت میں کے پی کے میں تعلیم کا کل بجٹ 4.134ارب تھا جو تحریک انصاف کی دور میں بڑھ کر 29.706ارب ہو گیا جس میں سے 26ارب اب تک خرچ ہو چکا ہے۔اگر اس تعلیمی بجٹ کا موازنہ گزشتہ بجٹ سے کریں تو کل چارسو فیصد اس حکومت میں اصافہ ہوا۔اس بجٹ میں 47کالجز اور 10بڑی جامعات کا قیام وجود میں آیا۔79سرکاری کالجز میں 933ملین روپے کی لاگت سے عدم موجود سہولیات کی فراہمی مکمل کی گئی جس میں نئے تعلیمی بلاک‘اضافی کلاس رومز‘ایڈمن بلاک‘امتحانی ہالز‘لیب وغیرہ شامل ہے۔یہ کارکردگی رپورٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ کے پی کے کی حکومت پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس حکومت سے تمام فنڈزLAPSEہو گئے ہیں۔ یہاں ایک اوربات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر2012ء تک اس صوبے میں بیس سرکاری یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور تحریک انصاف نے پانچ سالو ں میں دس نئی یونیورسٹیاں قائم کر دیں جن میں ایبٹ آباد یونیورسٹی‘چترال یونیورسٹی‘ وومن یونیورسٹی صوابی‘یونیورسٹی آف لکی مروت‘وومن یونیورسٹی مردان‘انجینئرنگ مردان‘بونیر یونیورسٹی‘یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ‘ایگریکلچر یونیورسٹی ڈی آئی خان اور پاک آسٹریا یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز شامل ہیں۔حیرت تو یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں اس صوبے میں کئی حکومتیں آئیں مگر صرف بیس سرکاری یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور تحریک انصاف نے پانچ سالوں میں دس نئی سرکاری یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی جن میں سے نو جامعات میں تدریسی کام کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔47کالجز تو وہ جو مکمل ہوئے‘بیس کالجز زیرِ تعمیر بھی ہیں اور 65مزید نئے کالجز منظوری کے مراحل میں ہیں۔2008ء میں کالجز کی تعداد 133تھی جو آج222ہو چکی ہے۔ پاک آسٹریا یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز میں جن اساتذہ کی تقرری ہوئی ان کی تربیت آسٹریا میں مکمل کروائی گئی۔یونیورسٹی سطح پر گزشتہ دور میں داخلے کی شرح میں 43فیصد اضافہ ہوا جبکہ کالجز کی سطح پر داخلے کی شرح میں 25فیصد اضافہ ہوا۔یہاں ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ کے پی کے میں کل بی ایس (چارسالہ) کالجز کی تعداد 37تھی جو بڑھ کر 99ہوئی اور شعبہ جات جو پہلے 241تھے انہیں بڑھا کر 598کر دیا گیا ہے۔اسی طرح اگر ہم لائبریریوں کی تعداد دیکھیں تو پچھلے ساٹھ سالوں میں کل گیارہ عوامی لائبریریاں تھیں جو پورے صوبے میں کام کر رہی تھیں اور تحریک انصاف نے سات نئی لائبریریوں کی منظوری دی جن میں تین عوام کے لیے اوپن کی جا چکی ہیں اور چار رواں سال میں مکمل کر لی جائیں گی۔مزید فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام سمیت ماہانہ وظیفوں اور اسکالر شپ میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا اور اس سسٹم کو شفاف بھی بنایا گیا۔ایم ایس‘ایم فل اور پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالرز کے لیے نہ صرف مقالہ جات کے کی تکمیل میں مدد کی گئی بلکہ ان کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کی گئیں‘یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ان اسکالرز کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا۔48.36ملین روپے کی لاگت سے ریسرچ کے کام میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں اور اس شعبے کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ میں یہ کارکردگی پڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر اسی تیزی اور ایمانداری سے باقی صوبوں میں تعلیمی انقلاب لایا جائے تو یہ ملک کتنی جلدی اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔قارئین ابھی تو صرف تعلیمی رپورٹ ہے‘جلد ہی کے پی کے حکومت کی باقی شعبہ جات میں کارکردگی میں ڈسکس کروں گااورمیں یہ بھی چاہتا ہوں کہ پنجاب حکومت بھی اپنی کارکردگی رپورٹ شائع کرے اور اسے عوام الناس تک پہنچائے ‘پھر فیصلہ ہوگا کہ کون کتنا پانی ہے۔بقول شاعر
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کافیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا


ای پیپر