آخر ظلم مٹ جاتا ہے
25 مئی 2018 2018-05-25



کچھ کاموں کی نوعیت بڑی حیرت انگیز ہوتی ہے اور بعض کی انتہائی بھیانک ہوتی ہے ۔ان میں سے کچھ خفیہ طور پر کئے جاتے ہیں اور بعض ظاہری طور پر کئے جاتے ہیں ۔جوکام ظاہری طور پر کئے جاتے ہیں وہ سب لوگوں کے سامنے ہوتے ہیں ۔ہر کوئی ان کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہے یہ برُا ہے یا اچھا ہے ۔جو خفیہ طور پر کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں لوگوں کو شک رہتا ہے اور اس کے خطر ناک نتائج نکل سکتے ہیں۔
بھارت نے اپنے قیام کے بعد سب سے پہلے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔اس مقصد کے لئے اس نے ابتدائی سطح پر اپنی خفیہ ایجنسی "را"قائم کی ۔ اس خفیہ ایجنسی نے اپنے وجود میں آنے کے بعد پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لئے کام کا آغاز کردیا جو آج تک جاری ہے ۔اسی ادارے کے ذریعے بھارت نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا اور ہر وہ گھناؤنا طریقہ اختیار کیا جس کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔بھارت کا کئی بار مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو الیکن اس کے متعلق بھارت نے کبھی بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور اپنے خطرناک عزائم کو آگے بڑھاتا گیا۔
بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر دیں اور اس پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ''را"کا کام بھی شروع ہو گیا۔ اس نے چن چن کر کشمیر کے معصوم شہریوں کو شہید کیااور ہر اس شہری کی آواز کو دبا دیا جس نے اپنے حقو ق کی بات کی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے کشمیر کے شہریوں پر ظلم و ستم کے سلسلے کو بڑھادیا ۔ ان کے بنیادی حقوق کو پامال کر دیااور ناانصافی کی مثالیں قائم کر دیں۔بھارت نے کشمیر کو بھی غیر مستحکم کر دیا اور اس خوبصورت خطہ کو خون کی وادی میں تبدیل کر دیا۔
پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث رہا ہے جس کے متعلق پاکستان نے عالمی دنیا اور بھارت کو ٹھوس ثبوت پیش کئے ۔ اس کے بعد بھارت اس حد تک گر گیا کہ اس نے کھیل کے میدان کو بھی نہیں چھوڑا۔سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی اور جب وہ میچ کھیلنے کے لئے جارہی تھی تو قذافی سٹیڈیم کے نزدیک اس پر حملہ کر دیا گیا۔ اس دہشت گردی کے واقعہ میں بھی بھارت ملوث تھا تا کہ کسی ملک کی ٹیم بھی پاکستان میں آ کر نہ کھیلے ۔حتیٰ کہ پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس میں وہ ناکام رہا۔
اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ اس کو توڑنے اور دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقا ت خراب کرنے کی سازشیں کررہا ہے ۔"را"کا ایجنٹ کلبھوشن یا دیو پاکستان میں جاسوسی کرتا ہوا گرفتار ہو اہے۔جس نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔بھارت پاکستان اور چائنہ کے درمیاں دوستانہ تعلقات کے خلاف ہے اور اپنی تمام تر جدوجہد کے باوجود اس کو توڑنے میں ناکام رہا ہے ۔
کلبھوشن یا دیو کی صور ت میں پاکستان کوٹھوس ثبوت مل گئے ہیں کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے فنڈز فراہم کر رہا ہے ۔ بھارت کو گوادر پورٹ کی صورت میں پاکستان کاترقی کرنا بھی تکلیف دہ محسوس ہورہاہے۔وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے کافی عرصے سے افغانستان کی سر زمین بھی استعمال کر رہا ہے ۔کلبھوشن یادیوکا ساتھی راکیش عرف رضوان اور دوسرے "را"کے ایجنٹس کاایران میں موجودگی کا پتہ چلا ہے ۔ پاکستان نے ایران سے راکیش عرف رضوان اور دوسرے ساتھیوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس کے بعد یہ بات عیاں ہے کہ بھارت افغانستان کے علاوہ ایران کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال کر رہاہے۔
ایران کو مسلمان اور ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے اپنی ذمہ داری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے راکیش عرف رضوان اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے ۔ان کے قیام اور دوسری سرگرمیوں کا ریکارڈ فراہم کرے۔اپنی سر زمین پر موجود "را"کے نیٹ ورک کی مکمل معلومات پاکستان کو دے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی صور ت میں پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔پاکستان کے ساتھ تعلقا ت کو بہتر بنائے۔
بھارت کو اب یہ جان لینا چاہیے کہ وہ اپنی خفیہ ایجنسی "را"کے ذریعے اور دوسرے طریقوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور بد امنی پھیلانے کے لئے اپنے غریب عوام کا پیسہ ضائع کر رہاہے۔کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لئے وہاں پر موجود اپنی فوج پر بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ کر رہاہے۔اگر یہی رقم بھارت اپنے دن عوام پرخرچ کرے جو غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں تو ان کے ملک میں خوشحالی آئے گی ۔ ان کے ملک میں غربت میں بھی واضح کمی آئے گی اور ان کے غریب عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔اگر بھارت کشمیر سے اپنا قبضہ ختم کر لے تو اس کے پاکستان کے علاوہ چائنہ کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہو جائیں گے اوریہ خطہ امن اور سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
پاکستان نے بھارت کے خلاف تمام ثبوت اقوام متحدہ کو پیش کر دئے ہیں ۔اب اقوام متحدہ اور عالمی دنیا کا فرض ہے وہ بھارت پر زور ڈالیں کہ وہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلا کر وہاں سے ناجائز قبضہ ختم کر دے اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے ا نتشار اور بدامنی پھیلانا بندکر دے۔اگر بھارت ایسا نہ کرے تواقوام متحدہ اور عالمی دنیا کو اس کے ساتھ تعلقات ختم کر دینے چاہئیں اور اس پر پابندیاں لگا دیں۔بھارت کو غیر محفوظ ملک قرار دے اور اس کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کردیں۔


ای پیپر