Photo credit INP

میاں صاحب ہم سے گیمز کھلتے رہے اور آج بھی کھیل رہے ہیں:آصف زرداری
25 مئی 2018 (21:20) 2018-05-25

اسلام آباد: پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ اور سابق صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کےساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ہیں ، میاں صاحب بتائیں وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا نہیں یا وہ کسی اور طاقت کے ساتھ ہیں ، میاں صاحب ہم سے پہلے بھی کھیل کھیل رہے تھے جو آ ج بھی کھیل رہے ہیں، نوازشریف قوم کے ساتھ لڑ رہے ہیں ، سویلین فورسز میں صرف میاں صاحب کا تناﺅ ہے ہمارا کوئی تناﺅ نہیں ،مشرف کو نکالنا اشدضروری تھا ،میری ایک شخصیت تھی جسے دنیا نے مشرف کا متبادل سمجھا،نوازشریف سچ ماننے کےلئے تیار نہیں ہیں تو سچ بولیں گے کیا ، اگر آئی جے آئی مجھ سے بنوانا چاہتے ہیں تو میں تو پارٹی نہیں بنتا، ہم نے نگران وزیراعظم کےلئے ایک بزنس مین اور ایک بیوروکریٹ کا نام دیا ہے ، اگر کوئی اور نگران وزیراعظم آجاتا ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس کے ساتھ بھی کام کریں گے۔

جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ کی اپنے ذاتی ایجنڈا فاٹا اصلاحات کی مخالفت ضرور کرنے آتے ہیں، ان دوستوں کو خطرہ ہے کہ ا نکی اجارداری ختم ہوجائے گی اگر عوام کو حق مل گیا، میں نے وہ ایک جرگہ بلایا تھا ان سے مشورہ لیا تھا اس پر یوم آزادی پر یہ بات کی تھی کہ یہ ہونا چاہیے ، اس وقت میاں صاحب ہم سے کھیل کھیل رہے تھے جو آ بھی کھیل رہے ہیں۔ فاٹا اصلاحات پر پوری پارلیمنٹ کو مبارکباد دہتا ہوں ۔ یہ سوچ ذوالفقار علی بھٹو کی تھی، یہ پاکستان کے حق میں ہے ،آج مبارکباد کا دن ہے۔ سب کو مبارکباد دیتاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پیشرفت بڑھانی ہے ، فاٹا والوں کا اتنا ہی حق جتنا دوسروں کا ہے،یہ ذوالفقار علی بھٹو کا پودا ہے جو آج پھل لایا ہے۔ میاں صاحب کی بدقسمتی ہے ہر جگہ یہ ڈبل بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے تو مشرف کو صدارت سے نکالا تھا۔ فاٹا کے حوالے ہماری کاوشیں شروع سے ہیں ،مولانا صاحب سے مزاکرات کئے جاسکتے ہیں ۔

ان کی عزت کرتا ہوں ، آصف زرداری نے کہاکہ نواز شریف ہم سے پنجاب نہیں لے سکتے تھے۔ میں نے ان کو پنجاب دیا ،پرویز مشرف کے خلاف مقدمے سے متعلق سابق صدر نے کہا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے معاملے پر آصف زرداری میرے پاس آئے، میرا پرویز مشرف سے کیا تعلق تھا وہ میرا لیڈر نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو میں اور بھی بہت سے کام نکلوالیتا لیکن ہم نے پرویز مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکالا کیونکہ ایک آمر کو نکالنا میرے لیے بہت ضروری تھا،، مشرف کو نکالنا اشدضروری تھا۔آصف زرداری نے کہا کہ میری ایک متبادل شخصیت تھی جسے دنیا نے مشرف کا متبادل سمجھا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تو مجھے نہیں پتا کہ متوالے دھرنا دے سکتے ہیں ، عمران خان دھرنا نہیں کر سکتا تھا اگر طاہر القادری اس کو کندھا نہ دیتے ، دھرنے کی سیاست کسی طرف لے کر نہیں جاتی ، میاں صاحب ہمیشہ کہتے کچھ اور ہیں کرتے کچھ اور ہیں جس کی وجہ سے ہماری دوریاں ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نگران وزیراعظم کےلئے ایک بزنس مین اور ایک بیوروکریٹ کا نام دیا ہے ، تھپڑ مارنا سیاست میں اچھا باب نہیں ہے ، بچے ٹی وی دیکھتے ہیں ان پر کیا اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اور نگران وزیراعظم آجاتا ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس کے ساتھ بھی کام کریں گے ، ہم نے الیکشن کمیشن کو مضبوط کرنا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کسی کی بہن بیٹی کو اذیت نہیں دینا چاہتا مگر ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور قوم کی لیڈر کٹہرے میں کھڑی ہوتی تو کیا یہ مخالفت کرتے تھے ؟کتنا عرصہ انہوں نے مجھے جیل میں رکھا اور بی بی صاحبہ کو یہ ٹارچر کرتے تھے پھر وہ ٹیپیں بھی آگئیں جن میں ان کا اصلی چہرہ سامنے آتاہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی بھی میرے لوگوں پر کیسز ہیں اور ہماری پارٹی کے لوگ جیلوں میں ہیں ، ہم اسٹیبلشمنٹ کےساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ہیں ، میاں صاحب بتائیں وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا نہیں یا وہ کسی اور طاقت کے ساتھ ہیں ، نوازشریف قوم کے ساتھ لڑ رہے ہیں ،ان کا فیوچر پلان اپنے ذاتی مفاد میں کام کرنا ہے۔

سویلین فورسز میں صرف میاں صاحب کا تناﺅ ہے ہمارا کوئی تناﺅ نہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ امریکہ سے نئی سوچ لائے ہیں ، ہمیں خطے کے مسائل نظر آرہے ہیں ، ہم اپنے ملک کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہمارا کوئی تناﺅ نہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آئی جے آئی مجھ سے بنوانا چاہتے ہیں تو میں تو پارٹی نہیں بنتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ آر او الیکشن نہیں ہوں گے ۔سابق صدر نے کہا کہ جنوبی پنجاب بھی صوبہ بنے گا، اگر عمران خان انتخابی اتحاد میں نہیں جائیں گے تو ہم کیوں جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف سچ ماننے کےلئے تیار نہیں ہیں تو سچ بولیں گے کیا ۔


ای پیپر