دِلوں میں رہنے کی بجائے حکومتوں میں رہنے والا؟
25 مئی 2018 2018-05-25


بہت عرصہ پہلے ، جب فوکر جہاز بنانے والے ملک نے بھی فوکر چلانے بند کر دیے تھے پاکستان میں فوکر چلنے بند نہیں ہوئے تھے، میں ملتان سے لاہور آرہا تھا، میرے ساتھ میرے دوست حنیف بھی تھے، جو شاید اپنی کنجوسی کی وجہ سے بس میں ڈیڑہ غازی خان سے ساری رات کا سفر کر کے لاہور پہنچے تھے، میرے شدید اصرار پر وہ میرے ساتھ بائی ایئر لاہور آنے پر راضی ہوئے، قدرت خدا کی عین درمیان میں جہاز شدید طوفان با دوباراں میں گھر گیا، اور یُوں لگتا تھا کہ آسمانی بجلی ابھی جہاز پہ گر جائے گی، صُورت حال کی نزاکت اور جہاز کے عملے کی اُڑتی ہُوائیاں دیکھ کر میرے پسینے چھوٹ گئے، مگر میں جب بھی برابر میں بیٹھے اپنے دوست کو دیکھتا تو حنیف کے چہرے پہ پھیلی خفیف مسکراہٹ میرا منہ چڑا رہی ہوتی تھی، میں یہ سمجھا کہ چُونکہ حنیف کا بائی ایئر سفر کرنے کا کوئی تجربہ نہیں، لہٰذا اُسے صورت حال کا ادراک بھی نہیں ہے۔
میرے سے آگے والی سیٹوں پر ایک مشہور صوبائی وزیر اپنے خاندان کے ساتھ ہمسفر تھے، اُن کا چھوٹا بیٹا بار بار اُن سے اُونچی زبان میں کہتا، کہ بابا ہمارا جہاز کہاں گرے گا اور کبھی کہتا کب گرے گا؟ میں نے دیکھا کہ جلد ہی اُس کے اُبو کا ” اخلاق“ زمین بوس ہوگیا، انہوں نے میرے دِل کی آواز سن لی، اور نامناسب گالی کو مناسب بنانے والے انداز میں گالی دے کر کہا، کہ اپنی بکواس بند کرو
اُس وقت سونے پہ سہاگا یہ ہوا، کہ مُسافروں نے جو انگریزی اور اُردو کے اخبارات پکڑے ہوئے تھے، اُن کی ”ہیڈ لائن “ بھی ایک ایئر کریشن کی تھی۔ کہ فضائی حادثے میں ایک سو کچھ مسافر جاں بحق ہوگئے۔
چونکہ اِس سفر کو خاصا عرصہ بیت گیا ہے، ذہن میں زور دینے کے باوجود بھی مجھے اُس فضائی حادثے کا یاد نہیں آرہا کہ وہ کِس ملک کا تھا، اور کِس ملک میں ہوا، تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ حنیف کے چہرے کا رنگ بھی متغیر ہونا شروع ہوگیا ہے میں نے بگڑتی ہوئی صورتحال میں دِل پہ پتھر رَکھ کر اُس سے پوچھ ہی لیا، کہ حنیف بھائی ، خیر ہے آپ کُچھ گبھرائے ہوئے لگتے ہیں؟
اُنہوں نے جواب دیا ، کہ اگر اللہ نے زندگی رَکھی تو، لاہور پہنچ کر آپ کو جواب دُوں گا، فی الحال خاموش رہیں،
بہر کیف ، جس عذاب سے گزر کر ہم لاہور پہنچے ، وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، کیونکہ جب ہم لاہور ایئر پورٹ پہ پہنچے تو نیون سائن بورڈ اُڑتے پھرتے تھے، درخت سر کے بَل گرے ہوئے تھے، خدا خدا کر کے جب ہم گھر پہنچے تو میں نے حنیف سے اپنا سوال دہرایا، تو وہ بولے ، بھائی بالکل کاک پٹ کے پیچھے شروع ہونے والی سیٹوں پر ایک انگریز بیٹھا ہوا تھا، اور وہ مسلسل اخبار پڑھ رہا تھا، میں نے اُسے مسلسل بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا، یکدم میں نے دیکھا، کہ اُس نے اخبار کو مروڑ کر سامنے والی سیٹ میں ” ٹھونک “ دیا، اور اُس کا سرخ و سفید چہرہ زرد ہونا شروع ہوگیا۔ تو پھر مجھے بھی فکر لگ گیا، کہ اَب تو جہاز بنانے والے یعنی ایجاد کرنے والے بھی پریشان ہونا شروع ہوگئے ہیں، اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ ضرور کوئی خطرے والی بات ہے، کیونکہ جہاز کو ایسے اڑتے تو، میں نے انگریزی فلموں میں ، بھی دیکھا ہوا تھا، کہ جہاز کے انجن کے زور لگانے کی آوازیں آرہی ہوتی ہیں، اور وہ زور لگانے کے باوجود بھی کبھی دائیں ہو جاتا ہے ، اور کبھی بائیں ہو جاتا ہے، اور اِسی لئے میں تو انگریز کو دیکھ رہا تھا، اور انگریز بقول شاعر
جدھر دیکھتا ہے ہوا رُوبرو ہے
یہ دِل زرد پتے کی صورت کھڑا ہے
بہر حال اُس دِن کے بعد مجھے ہوائی سفر سے ........ فوبیا ........ ہوگیا، اور سوائے عمرے کی سعادت کے شوق میں ، میں سعودیہ جاتے ہوئے، نہ موسم دیکھتا ہوں، اور نہ ہی کوئی اور خدشات میرے ذہن میں ہوتے ہیں، بس ایک ہی دُھن ، اور ایک ہی لگن ، خیالات کو اشعار نعت میں ڈھلتی دکھائی دیتی ہے۔ بقول حفیظ تائب
وہ حرم وہ درو دیوار دکھا دے یا رب
اپنے محبوب کا دربار دکھا دے یا رب
باتوں باتوں میں بات وجہ تخلیق کائنات ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سرکارِ دو عالم، شفیع المذنبین، خاتم النبین ، ختم رسل ، مختار کل ، عرش نشین تک جا پہنچی، اور لبوں تک بات جا پہنچی کہ حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے ، سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے ۔
قارئین میں نے اتنی لمبی بات ، اور اپنی روداد آپ کو صِرف اس لئے سنائی ہے ، کہ میرے منصف آپ ہیں۔ میں نے آپ کو یہ بتایا تھا، کہ میرے دُوست حنیف کو بدلتے ہوئے حالات، اور بدلتے ہوئے انگریز کے تیور نے چکرا، اور گھبرا کر رکھ دیا تھا، بالکل میں بھی محض اِس لئے ڈر گیا ہوں، کہ فاٹا بل اِصلاحات پہ مولانا فضل الرحمن کو حکومت سے اِختلافات، خدشات اور تحفظات ہیں۔ اس لئے جے ، یو ، ایف نے حکومت سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، اسکا مطلب ہے کہ مستقبل بھی حکومت کا مخدوش ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ اب ہر حکومت سے مَراعات لینے والا ، فائدے اٹھانے والا وُزرا کی کالونی میں رہنے والا ، جس کو تو لوگوں کے دلوں میں رہنا چاہئے تھا،
ہر حکومت میں چاہے وہ پیپلز پارٹی کی ہو، چاہے مشرف کی ہو، چاہے ن لیگ کی ہو، اپنا اپنا مقصد حیات بنالیا، کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ، ایک ایسا عہدہ ہے جس میں نواب زادہ نصر اللہ خان جیسے محب وطن ، دانشور اور جہاندیدہ شخصیت جو اپنے عہدے اور منصب کا حق ادا کرتے رہے، اِس کے بعد اِسی عہدے کی خاطر ہر حاکم کو بلیک میل کرنیوالے مولانا، اور اَب فاٹا کے مسئلے پر ، فاٹا کے عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کے بالکل بر عکس اپنی سیاست اِس لئے چمکانا چاہتے ہیں، کہ آج کل بہت سے نامور سیاستدانوں کی سیاست مَدرسوں کی وجہ سے چل رہی ہے، مثلاً شیخ الاسلام ، یعنی پورے عالمِ اسلام کے واحد شیخ، ڈاکٹر طاہر القادری، اور مولانا سراج الحق ، جن کے دینی مدرسے پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کو عمران خان نے اپنا اتحادی بنا لیا ہے، یہ شوق ” خریدو فروخت“ کیسے پایہ تکمیل تک پہنچا؟ ظاہر ہے ، مولانا سراج الحق ، جن کے ”مُریدین“ اور جن کے مَدرسوں سے فارغل التحصیل ہونے والوں کی ایک خاصی تعداد افغانستان میں بھی اپنے مدرسے چلا رہی ہے، نے کنِ شرائط پہ ” خُود سُپردگی “ کا ایجاب و قبول کیا؟ قوم یہ عیب ، نیب کے بغیر تو ڈھونڈنے سے رہی،
کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کو بطور رشوت ، استعمال کرنا، حکومتوں کا کشمیر کے مسئلے سے اور شہداءکے خون کو بیچنے کے برابر ہے، چونکہ یہ معاملہ رشوت لینے اور رشوت دینے والوں کے درمیان ہے، لہٰذا قارئین ہمیں درمیان سے ہٹ جانا چاہئے، کیونکہ ہمارا ، یقین ایمان و ایقان ہے، کہ اللہ دیکھ رہا ہے،
لیکن اب ستر سال گذرنے کے بعد اتنا پتا تو چل ہی گیا ہے کہ اگر کسی نے انتخاب جیتنا ہو، حکومت وقت کو گھٹنے ہی نہیں ناک رگڑنے پہ مجبور کرنا ہو، اُن سے اپنی پسند کا عہدہ لینا ہو، اور اگر حکمران جنس مخالف ہو، تو اُن کی ایک آواز پر فدا ہو جانا ہو، مختصر یہ کہ اگر کسی بھی آمر کو بھی ”ساحر‘ بن کر دکھانا ہو، تو اُنہیں قارئین کیا کرنا چاہئے، میرے خیال میں یا دینی مدرسے بنالے، یا ”دنیاوی سکول“ تو پھر سکولوں کے جال خود ہی بچھنے شروع ہو جاتے ہیں، اور مالکوں کی چال میں فرق آجانے کے بعد، بُول، چال بھی من پسند لوگوں تک محدود ہو جاتی ہے،
میں لوگوں میں بَدلتی ہوئی ” باڈی لینگوئج“ اور سیاستدانوں کی بدلتی باتیں راہنماﺅں کی مُنہ اندھیرے میں ملاقاتیں، دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں، کہ اونٹ کِس کروٹ بیٹھے گا، اور اُونٹ کِس کے ” خیمے“ میں گھس کر قبضہ کرے گا، ستر سال معمولی عرصہ نہیں ، اِس عرصے میں ” لَت “ بھی لگ جاتی ہے، عادت بھی ہُو جاتی ہے، عداوت بھی جڑ پکڑ لیتی ہے، ” چَسکا “ بھی لگ جاتا ہے، ایک بلوچ کو چودہ سال قید ہوگئی، بلوچ دَال نہیں کھاتے، لیکن اتنے عرصے تک اُسے جیل میں دال ہی ملتی رہی، جب اُس کو قید سے رہائی مِلی، تو اُس نے اَفسوس سے کہا، دَال کا مزہ آنے لگا تھا، تو قید ختم ہوگئی، قارئین مجھے بھی کالم لکھنے کا مزہ آنے لگا تھا، تو کالم ہی ختم ہوگیا، لیکن آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ناں۔۔۔۔۔


ای پیپر