Bilawal Bhutto has said that becoming the next elected Prime Minister is not in his blood
25 مارچ 2021 (11:27) 2021-03-25

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دو روز پہلے منصورہ میں اپنے پہلے دورے کے موقع پر امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کے ساتھ ملاقات کے بعد مریم نواز کے ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اگلا سلیکٹ وزیراعظم بننا ان کے خون میں شامل نہیں۔

یہ لاہور کے ایک سیاسی خاندان کا کام ہے کہ وہ مختلف موقع پر سلیکٹ ہوتا رہا ہے۔ ردعمل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ماسوائے یہ کہ مریم نواز کا ہدف بلاول بھٹو نہیں تھے، جواب میں اس سے زیادہ کچھ کہنے سے گریز کیا۔

بالآخر بلاول بھٹو صاحب نے بھی اپنی جماعت کے قائدین کو مزید حرف گیری سے روک دیا۔ مبادا پی ڈی ایم نامی اپوزیشن کے اتحاد کو نقصان پہنچے لیکن نقصان تو جو ہونا تھا وہ پی ڈی ایم کے گزشتہ سربراہی اجلاس میں ہو چکا جب استعفوں اور راولپنڈی کی جانب لانگ مارچ کے سوال پر جناب زرداری کی جانب سے مسلم لیگ کے قائد نوازشریف پر سخت گولہ باری کی گئی اور انہیں للکار کر کہا کہ ہمت ہے تو پاکستان واپس آئیے ہمارے ساتھ مل کر گرفتاریاں اور استعفے پیش کیجیے۔

جواب میں مریم نواز نے اپنے والد کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ ان کی زندگی کی کوئی ضمانت دے دے تو وہ فوراً واپس آنے کے لئے تیار ہیں، جب تک ایسا نہیں ہو جاتا س کے ساتھ ہی انہوں نے بھٹو اور بینظیر کی قربانیوں کی جانب بالواسطہ طور پر اشارہ کرتے ہوئے کہا ہم پہلے ہی اپنے لیڈروں کی زندگیوں کو ان کے ہاتھوں گنوا چکے ہیں مزید کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

یہ سخت اور تندوتیز مکالمہ جو ایک بند کرے کے اجلاس میں ہوا فوراً مشتہر بھی ہو گیا اور دنیا بھر میں پی ڈی ایم کی جگ ہنسائی کا باعث بھی بنا اسی کے نتیجے میں یہ تاثر بھی عام ہوا کہ پی ڈی ایم کی نو جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے اور راولپنڈی کی جانب لانگ مارچ پر چل نکلنا چاہتی ہیں کیونکہ اسی کے نتیجے میں سٹیبلشمنٹ زدہ موجودہ نظام کو اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے جبکہ پی پی اتحاد میں شامل واحد جماعت کی حیثیت سے اس بات کی قائل نظر آئی کہ وہ جو بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے وہ ایوان کے اندر یعنی عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بروئے کار لائے گی۔

دوسرے الفاظ میں اس کا ہدف سٹیبلشمنٹ کو للکارنا نہیں بلکہ اس کی قائم کردہ ایک حکومت اور اس کے وزیراعظم کو جسے وہ سلیکٹ کہتی ہے اکھاڑ پھینکنا ہے اگرچہ پیپلز پارٹی اس سے انکار کرتی ہے لیکن اس کی تجویز کردہ راہِ عمل کا اگر کامیابی سے ہمکنار ہو بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ یہی نتیجہ نکل سکتا ہے…پیپلز پارٹی اپنی سندھ حکومت کو تو کسی صورت آنچ نہ آنے دے گی… استعفوں کی شکل میں قومی اسمبلی کا بھی کچھ نہیں بگاڑے گی البتہ پنجاب میں بزدار کے خلاف وہ عدم اعتماد کا ووٹ یقینا لانا چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) والوں کو جن کے بھرپور تعاون کے بغیر یہ راستہ اختیار کرنا ممکن نہیں اعتراض ہے کہ اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں گے یہ عمل اسٹیبلشمنٹ کے پنجوں کو پاکستان کی سرزمین ریاست حکومت کے اندر زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کا باعث بنے گا جو اسے منظور نہیں۔

اسی تناظر میں پی پی پی پر اعتراض جڑا گیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ یا غیرآئینی حکمرانوں کی بالادستی کو زک پہنچائے بغیر بلاول بھٹو کے لئے نئے اور متبادل جگہ پر بلاول بھٹو کو براجمان کرنا چاہتی ہے… اس قیاس آرائی سے پیپلز پارٹی کو سخت غصہ آیا ہے تاہم اس میں شک نہیں کہ وہ جداگانہ راستے پر رواں ہو چکی ہے… حکومت بھی وقتی طور پر اس پر مطمئن اور مسرور ہے کہ عدم اعتماد کی نمبرگیم میں آج تک کوئی کامیابی نہیں حاصل کر سکا اور اسٹیبلشمنٹ والے اپنی جگہ فرحاں اور شاداں ہیں۔

کہ ایک بڑی جماعت کی پی ڈی ایم سے علیحدہ راہ اختیار کرنے پر اس کے خلاف برپا کئے جانے والے چیلنج میں خاصی حد تک کمی آ گئی ہے… وہ اگر اپنی اٹھان کے وقت تھوڑا بہت مؤثر تھالیکن اب پہلی سی جان باقی نہیں رہی… اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کی بانی قیادت یعنی ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی بینظیر نے ملک کے غیرآئینی حاکموں کے ہاتھوں قربانی کی مثالیں قائم کی ہیں لیکن اس جماعت کی تاریخ کے ساتھ یہ عجیب معاملہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی ایک خاص ڈکٹیٹر کی حکومت ختم ہوئی اس کے فوراً بعد پی پی پی کو اقتدار ملا وہ جیسا تیسا بھی تھا اور جتنا لنگڑا لولا تھا بھٹو کے وارثوں نے اسے بسروچشم قبول کیا اور حکومت میں جو بھی حصہ پیش کیا گیا اسے قبول کرنے میں تامل سے کام نہ لیا۔

ہماری تاریخ میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت اس وقت قائم ہوئی جب ایوب جمع جنرل یحییٰ کے نہ بھلائے جانے والے بلکہ اپنے پیچھے تلخ ترین یادیں چھوڑ جانے والے آمرانہ ادوارِ حکومت کا خاتمہ ہوا… قائداعظمؒ کا پاکستان دولخت ہو چکا تھا… ہماری افواج کو بھارت جیسے کمینے دشمن سے تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا تو بقیہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے صدر اور پھر وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا… اگرچہ پاکستانی قیدیوں کو چھڑوانے ایٹم بم کی شروعات کرنے اور متفقہ آئینِ مملکت تیار کر کے اسے نافذ کروانے کے عملی کارنامے بھی سرانجام دیئے… انہوں نے قدرے آزاد روش اختیار کی… مرضی کے فیصلے کئے… اس لئے پاکستان کی غیرآئینی قوتوں کے لئے کبھی منظورنظر نہ ہوئے… پھر 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کا بہت چرچا ہوا… ان کی کوکھ سے زبردست بھٹو مخالف تحریک نے جنم لیا اور تیسرے مارشل لاء نے ملک و قوم کی گردن کو آن دبوچا جس کا غیرآئینی دبدبہ گیارہ برس تک قائم رہا… اس کا خاتمہ ہوا تو مرحومہ بینظیر بھٹو جیسے تیسے انتخابات کے نتیجے میں اپنی پارٹی کی قیادت کو لے کر پہلی خاتون وزیراعظم بنیں… اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ مرز کی طے کردہ شرائط یعنی وزیر خارجہ بھی ان کی مرضی کا ہو گا… وزیر خزانہ کے تقرر سے پہلے بھی وہ منظوری دیں گے اور افغان پالیسی بھی فوجی حاکموں کے تیار کردہ خطوط پر آگے چلائی جائے گی… یوں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت ملک کے اندر قائم ہوئی… یہ تھا اس کی آمریت کے خلاف گیارہ سالہ جدوجہد کا ثمر… پتا نہیں چلتا تھا کہ حکومت کس کی ہے اور کس کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے… یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور 20 ماہ کے اندر صدر مملکت کے خصوصی صوابدیدی اختیار کے تحت اسے اُڑا کر رکھ دیا گیا… اگلی مرتبہ پھر انتخابات ہوئے… بینظیر بھٹو نے اکثریتی پارٹی ہونے کے بل بوتے پر دوسری بار اقتدار سنبھالا… یہ پیپلز پارٹی کا تیسرا دورِ حکومت تھا… اپنی جماعت کے سب سے قابل اعتماد آدمی فاروق لغاری کو صدر بنایا تاکہ وہ صوابدیدی اختیارات کا کلہاڑا سول حکومت کی گردن پر نہ چلا دیں… 1996ء میں مگر اس انتظامِ مملکت کا کام بھی تمام ہوا… فاروق لغاری صاحب مقتدر قوتوں کا آلہ کار بن گئے… بینظیر کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں قتل کر دیا گیا اور ان کی حکومت کو ان سب قربانیوں کے باوجود چلنے نہ دیا گیا… محترمہ نے بہت چیخ و پکار کی مگر کچھ حاصل نہ ہوا… 3 فروری 1997ء کو ایک مرتبہ پھر انتخابات ہوئے… ان کا دوسرا دور شروع ہوا… پاکستان کو ایٹمی طاقت کے اعلان سے سرشار کیا مگر ان کی قسمت نے بھی یاوری نہ کی… اسٹیبلشمنٹ والوں نے ایک اور سول حکومت پر ایسا شب خون مارا کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا… نوازشریف سعودی عرب پناہ لینے پر مجبور ہو گئے… تب 2006-07 میں بینظیر اور نوازشریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے کہ رنجشیں ماضی کا قصہ بنا دی جائیں گی اور ایک دوسرے کی حقیقت کو برداشت کر کے آگے چلیں گے… اکٹھے ہو کر ڈٹ کر آمریت کا مقابلہ کریں گے… لیکن بعد میں بینظیر کو وطن میں قدم رکھتے ہی قاتلوں کا سامنا کرنا پڑا اور پیپلز پارٹی ایک اور بڑی قربانی پر مجبور ہوئی… مشرف کی آمریت تھی جس نے یہ دن دکھلائے… پھر انتخابات ہوئے زرداری صاحب جو اب جماعت کے قائد بن چکے تھے انہوں نے حکومت قائم کی… اس کے بعد مشرف کو چلتا کیا۔

یہ تمام کہانی اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے بیان کی گئی ہے کہ جب بھی آمرانہ حکومت آئی اور فوجی اقتدار قائم ہوا اس کے خاتمے پر پیپلز پارٹی نے جیسا تیسا لنگڑا لولہ اقتدار سنبھالا… اسٹیبلشمنٹ کو للکارا اس کے ساتھ سمجھوتے بھی لاتعداد کئے… مگر اس نے اسٹیبلشمنٹ کے ناجائز اقتدار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اکھاڑ پھینکنے کو اپنا ہدف نہیں ٹھہرایا… راستے ہی میں کوئی بڑا سمجھوتہ کر لیا… اب بھی جو مقابلہ درپیش ہے تو زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس سندھ حکومت کا بہت بڑا اثاثہ ہے محض آئین اور جمہوریت کے نام پر اسے ہاتھوں سے نہیں جانے دیں گے۔

دوسرے الفاظ میں یہ ایک Love and Hate سٹوری ہے۔ پیپلز پارٹی ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکر لے کر اپنا بھرم قائم کرتی ہے اور پھر اسی کے ساتھ سمجھوتے کر کے اقتدار میں اپنا حصہ وصول کر لیتی ہے۔ آج بھی کم و بیش یہی معاملہ درپیش ہے… زرداری صاحب اور بینظیر کے سپوت بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو خوب استعمال کیا اور اعلانیہ منزل کے حصول سے پہلے جلد ہی دوسرے اور پرانے راستے پر چل نکلے انجامِ گلستاں کیا ہو گا۔


ای پیپر