Bangladesh India,Modi Visit Bangladesh,Haseena Wajid
25 مارچ 2021 (20:42) 2021-03-25

ڈھاکہ :بنگلہ دیش میں 50 ویں یوم آزادی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مووی کے دورے کے خلاف شہریوں اور طلبہ نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ایک ’دہشت گرد‘ کو بنگلہ دیش کے جشن آزادی کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ 

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے 50 ویں یوم آزادی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم مودی  کے دورے کیخلاف بنگلہ دیشی عوام سراپا احتجاج ہیں ،دارالحکومت ڈھاکہ میں طلبہ نے مودی کی آمد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے شرکاء نے ’گو بیک مودی‘ کے بینرز تھام رکھے تھے،مظاہرین کا بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہنا ہے کہ ’دہشت گرد‘ بنگلادیش کی یوم آزادی کے جشن کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے ہرطرح کے حفاظتی اقدامات کرنےشروع کر دئیے ہیں جس کے باعث ڈھاکہ میں کرفیو کی صورتحال ہے۔ قبل ازیں احتجاج سے روکنے پر مظاہرین نے سیکیورٹی فورسسز پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 40 سے زائد مظاہرین زخمی ہو گئےتھے ، ڈھاکا یونیورسٹی میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ نے سڑک پر مارچ کیا اور مودی کے خلاف ’گجرات کا قصائی‘ کے نعرے بھی لگائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اسی طرح سرحد پر بھارتی فورسز کی جانب سے بنگلہ دیش کے شہریوں کو بھی مارا جاتا ہے، جس کے بارے میں بھارت کا مؤقف ہے کہ سرحد پر سمگلنگ میں ملوث افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی ریاست گجرات میں جب 2002ء میں ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے تو نریندر مودی اس وقت مغربی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے جہاں اس دوران ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے۔


ای پیپر