Motorway rape case: Both convicts appeal against death sentence
کیپشن:   فائل فوٹو
25 مارچ 2021 (12:27) 2021-03-25

لاہور: موٹروے زیادتی کیس کے مجرموں کو انسداد دہشتگردی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، اب دونوں مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کے وکیل نے اس سزا کیخلاف لاہور کی عدالت عالیہ میں اپیل کر دی ہے۔

خیال رہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مجرموں کی جانب سے عدالت میں قاسم آرائیں پیش ہوتے رہے، انہوں نے ہی اب سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

 موٹروے زیادتی کیس کی عدالتی کارروائی کا عمل 6 ماہ تک چلتا رہا، اس دوران دونوں فریقوں کی جانب سے دلائل پیش کئے گئے، تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے 18 مارچ کو اس ہم کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس کیس کیلئے کیمپ جیل لاہور میں خصوصی عدالت لگائی گئی تھی۔ کیس کی حساسیت کے پیش نظر اسے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے جیل میں جا کر ناصرف مجرموں کو شناخت کیا بلکہ ان کیخلاف گواہی بھی دی تھی کہ اسے ریپ کا نشانہ بنانے والے یہی دو لوگ ہیں۔

معزز جج ارشد حسین بھٹہ نے گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں موٹروے زیادتی کیس میں ملوث دونوں مجرموں کو عمر قید، جرمانے کیساتھ ساتھ موت کی سزا سنا دی تھی۔

انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے عابد ملہی اور شفقت بگا کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 440 کی روشنی میں پانچ، پانچ سال قید جبکہ پچاس، پچاس ہزار روپے جرمانہ اور موت کی سزا کا حکم دیا۔

دونوں مجرموں کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376/2 کی روشنی میں سزائے موت اور 392 کے تحت عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ذہن میں رہے کہ گزشتہ سال لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون اپنی گاڑی میں بچوں کے ہمراہ گھر جا رہی تھی کہ اچانک پیٹرول ختم ہو گیا۔ اس موقع پر وہ سڑک کنارے کھڑے کسی مدد کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک عابد ملہی اور شفقت بگا نے وہاں پہنچ کر ناصرف اسے زدوکوب کیا بلکہ اسے بچوں کے سامنے زیادتی کا بھی نشانہ بنایا۔


ای پیپر