On May 1, 2021, the United States will complete the withdrawal of its last troops from Afghanistan
25 مارچ 2021 (11:41) 2021-03-25

گزشتہ سال فروری میں جب دوحا، قطر میں امریکی ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کا معاہدہ ہوا تو یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھا جو ناقابل یقین اور ناقابل عمل نظر آتا تھا۔ اس معاہدے میں طالبان کو Islamic Emirates آف افغانستان کے طور پر تسلیم کیا گیا اور دلچسپ با ت یہ تھی کہ اس معاہدے میں افغانستان کی اشرف غنی حکومت فریق ہی نہیں تھی۔ اس معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ یکم مئی 2021ء کو امریکہ افغانستان سے اپنا آخری فوجی بھی واپس بلا کر انخلاء مکمل کرے گا۔ نیٹو فورسز بھی افغانستان خالی کر دیں گی اور طالبان القاعدہ یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ کیے جانے کے پابند ہو ں گے۔

اس معاہدے پر عمل درآمد کی مدت جیسے جیسے قریب آ رہی ہے اس کی تکمیل پر شکوک و شبہات اور دو طرفہ بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ مقررہ معیاد کے اندر یہ معاہدہ نافذ العمل نہیں ہو سکے گا۔ اس کی اچھی بات یہ تھی کہ طالبان نے سیز فائر معاہدے پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال میں امریکی اور نیٹو فورسز پر حملے بند کر دیئے البتہ افغان سکیورٹی فورسز پر طالبان نے حملے جاری رکھے اور ملک میں پر تشدد ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ طالبان امریکی انخلاء سے پہلے ہی زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر کے اشرف غنی پر اپنی دھاک بٹھانا چاہتے تھے اور اب  بھی تجزیہ نگاروں کا  خیال ہے کہ جب اشرف غنی حکومت کی پشت پر امریکی افواج نہیں ہوں گی تو وہ حکومت طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گی۔ اسی اثناء میں امریکہ دونوں فریقین یعنی اشرف غنی اور طالبان پر زور دیتا رہا کہ وہ آپس میں مذاکرات کریں اور مستقبل میں اتفاق رائے سے افغان امن عمل کو یقینی بنائیں۔ ان مذاکرات میں 5ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سب سے مشکل کام تھا اور سارا وقت اس پر صرف ہو گیا اور یوں طالبان نے اپنے سارے قیدی چھڑا لیے جو اشرف غنی حکومت کے مطابق دہشت گرد تھے۔ اسی اثناء میں امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ہو گئی اور وہ منظر سے ہٹ گئے اور امریکہ میں ان کی مخالف پارٹی یعنی ڈیمو کریٹس نے اقتدار سنبھال لیا۔ بائیڈن امریکہ کے صدر بن گئے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ معاہدے کی ڈیڈ لائن میں 6 ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے ورنہ وہاں بہت زیادہ فساد اور خون خرابے کا خطرہ ہے۔ مذاکرات پر مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ امریکی نمائندہ افغان امور زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں فریقین سے بات چیت کی ہے۔ ادھر روس میں امریکہ روس پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ختم ہوئے ہیں اور اگلے ہفتے ترکی میں بھی اس سلسلے میں میٹنگ ہو رہی ہے جس میں اگلہ لائحہ عمل طے ہونا ہے۔

امریکہ کی سر توڑ کوشش یہ ہے کہ کسی طرح یکم مئی کے انخلاء کی تاریخ میں توسیع ہو جائے۔ دوسری طرف بائیڈن حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی پالیسی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یکم مئی کو انخلاء کرنا مشکل نظر آتا ہے جبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ اس تنازعے کا ذمہ دارانہ اختتام ضروری ہے۔ نیٹو کے جنرل سیکرٹری جینز سٹولٹن برگ نے خبردار کیا ہے کہ مناسب وقت اور شرائط کی تکمیل کیے بغیر انخلاء نہیں ہونا چاہیے۔یہ بیان خاصا معنی خیز ہے اور اس کی سیاسی تشریح کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ جب تک طالبان شرائط پوری نہ کریں، انخلاء نہیں ہونا چاہیے۔ ایک امریکی سنیٹر عہدیدار جان ساپکو جو افغانستان کی تعمیر نو کے پروگرام کے سربراہ ہیں نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جامع سمجھوتہ کے بغیر امریکہ کا افغانستان سے نکلنا تباہی کے مترادف ہو گا۔ اس وقت 3500 امریکی فوجی اور نیٹو فورسز کے 10 ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ امریکہ ہر سال افغان سکیورٹی فورسز کے لیے سالانہ 4 ارب ڈالر افغانستان کو دے رہا ہے جس کے بارے میں حکومتی کرپشن کی کہانیاں نقطۂ عروج پر ہیں۔

اس وقت امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ طالبان کو انخلاء کی تاریخ میں توسیع پر آمادہ کیاجائے۔ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے اشرف غنی اور طالبان کے درمیان جامع معاہدہ کرایا جائے اور ترکی سمٹ پر توجہ مرکوز کی جائے تا کہ طالبان کو سفارتی سطح پر مجبور کیا جاسکے جبکہ دوسری طرف طالبان کسی قیمت پر بھی معاہدے میں توسیع کے لیے تیار نہیں۔ ان حالات میں اگر واقعی امریکہ افغانستان سے کوچ کر گیا تو اشرف غنی حکومت تو شاید ایک ہفتہ بھی نہیں نکال سکے گی اور طالبان کا قبضہ ہو جائے گا۔ مغربی میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ طالبان نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اس وقت بھی سینکڑوں القاعدہ ارکان افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں لہٰذا امریکہ بھی انخلاء کا پابند نہیں ہے۔ یہ بہت پیچیدہ صورت حال ہے۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں بائیڈن حکومت افغانستان خالی نہیں کرے گی۔ خواہ اس کے لیے انہیں جو چاہے کرنا پڑے۔ کوئی نہ کوئی معقول جواز تیار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ طالبان پر منحصر ہو گا کہ وہ اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ معاہدے اور مذاکرات کے کسی بھی مرحلے پر طالبان نے کمزوری نہیں دکھائی اور اپنی شرائط منوائی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی بائیڈن حکومت کو ڈکٹیٹ کر سکیں گے یا نہیں کیونکہ بائیڈن پر امریکی فوجی قیادت کی طرف سے بھی خاصا دباؤ ہے کہ افغانستان سے انخلاء نہ کیا جائے۔

اسی اثناء میں روس سارے معاملے میں خاصی دلچسپی لے رہا ہے اور اگر طالبان اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری فیل ہو جاتی ہے تو روس طالبان کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا ۔ کل کے دشمن امریکہ کے خلاف دوست بن جائیں گے کہ امریکیوں کو وہاں سے زبردستی نکالاجا سکے امریکہ کو اس خطرے کا اندازہ ہو چکا ہے۔ اس لیے معاملات کو قابو میں رکھنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اہتمام کا آغاز ہو چکا ہے وہ یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو مذاکرات پر قائل کیا جائے تا کہ خطے میں تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ نریندر مودی نے عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ان کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے جو کہ بر ف پگھلنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف کا مصالحانہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ اندر سے امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ معاملات کنٹرول سے باہر ہوتے نظر آئے تو پاکستان کی مدد لی جائے گی کیونکہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے اور دوحہ مذاکرات کے شرو ع کرانے میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس لیے پاکستان کو ریلیف دینے کے لیے انڈیا کے ساتھ بہتری لانے کے عمل کا آغاز ہو رہا ہے۔


ای پیپر