Maryam and Bilawal were trying to run things by quarreling with each other
25 مارچ 2021 (11:37) 2021-03-25

یار لوگ تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی وجہ یہ تھی مریم اور بلاول ایک دوسرے کو غچہ دے کر معاملات کو چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مسلم لیگ ن کے پاس ایجی ٹیشن کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھااور مریم نواز نے بخوبی اس راستے کو چن لیا تھا۔ بے نظیر کے دور میں ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے کا نعرہ لگا تھا بعد ازاں یہ نعرہ مریم نواز کے لیے لگایا جانے لگا۔بلکہ کیپٹن صفدر نے تو انہیں مادر ملت کا خطاب بھی دے دیا۔ پیپلزپارٹی نے بڑی ہوشیاری سے مریم کو اس راستے سے ہٹا دیا۔ وہ احتجاجی ریلیوں میں ان کے ساتھ شریک ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ عہد و پیمان ہوئے ۔ پی ڈی ایم بنی اور مولانا فضل الرحمن کو اس کا سربراہ بھی بنا دیاگیا۔ مولانافضل الرحمن جو میں نہ مانوں کی پالیسی پر گامزن تھے انہیں بھی راضی کر لیا گیا۔ یہ پیپلزپارٹی کی کامیابی تھی کہ انہو ں نے مولانا فضل الرحمن کو بھی اس اسمبلی کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ مولانا جب سے الیکشن ہارے ہیں اس اسمبلی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پیپلزپارٹی نے ایسا جادو پھونکا کہ مولانا نے نہ صرف اسے تسلیم کر لیا بلکہ سینیٹ کے انتخابات میں ڈپٹی چیرمین کے لیے اپنا امیدوار بھی اتار دیا۔ سینیٹ کے انتخابات نے اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ اس حکومت کا مستقبل کیا ہے اور اس نے یہ ثابت کر دیاکہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے ۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ اس وقت کے معروضی حالات فیصلہ کریں گے تاہم اب سارے ایک ہی پیج پر ہیں۔

مسلم لیگ ن کا بیانیہ جاندار ہے لیکن کیا یہ بیانیہ حقیقت کے قریب تر بھی ہے اس کاجائز ہ لینا بھی ضروری ہے۔ کتابی اعتبار سے جو بات وہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے مگر جب احتجاجی تحریک چلتی ہے تو بہت کچھ بد ل جاتا ہے۔ ملک کی فیصلہ کن قوتوں کو جب کوئی راستہ نہیں دیا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں ان کے پاس اس سارے نظام کو ساتھ لے کر چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔سیاست دو جمع دو کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس میں کبھی دو جمع دو بائیس ہو جاتے ہیں اور کبھی دو جمع دو صفر بھی ہو جاتے ہیں۔ ترکی جیساانقلاب لانے کے لیے بڑی تپسیاکی ضرورت ہے عوام کے ساتھ جڑ کر ان کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں یہ سب نہیں ہوا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ملک میںانقلاب لانے کی کوشش کی گئی اور ان ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے آج بھی عوام کا ایک بڑا طبقہ مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑا ہے اور اس میں مسلم لیگ ن سے زیادہ کریڈٹ موجودہ حکومت کا ہے جس کی ناکام حکمت عملی نے حالات کو ان کے حق میں نہیں کیا۔ لوگ روٹی کپڑا اور مکان مانگتے ہیں۔ روٹی ان کی دسترس سے دور ہوتی جائے تو عوام ماضی کو یاد کرتے ہیں۔ پہلے ہم ایوب خان کو کتا کتا کہتے ہیں اور جب چلا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ اس کے دور میں ریکارڈ ترقی ہوئی۔

بات ہو رہی تھی کہ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔ پیپلزپارٹی یہ بات جانتی ہے کہ اس کے پاس فی الوقت سندھ ہی ہے اور وہ کسی غلط سیاسی فیصلے کے نتیجہ میں سندھ کو اپنے ہاتھ سے کیونکر گنوا سکتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی بخوبی علم تھا کہ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے زور پر اگر کوئی سیاسی تبدیلی آتی ہے تو اس کا فائدہ انہیں ہرگز نہیں ہو گا ۔ ایسی صورت میں بھی ان کے پاس سندھ ہی ہے اور وہ اس میدان کو دوسرے کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتے تھے۔ انتہائی ہوشیاری سے انہو ں نے سینٹ کے انتخابات میں حصہ لیا اور سینٹ میں اپنے لوگ لانے میں کامیاب ہو گئے۔ پیپلزپارٹی اس سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ ہاں و ہ بھی دوسروں کی طرح اس بات کی منتظر ہے کہ پنجاب سے کسی رات جیتنے والے گھوڑے اس کے اصطبل میں آ جائیں۔مسلم لیگ نے اس بات کو نہیں سمجھاکہ پیپلزپارٹی اپنا انٹی اسٹیبلشمنٹ کردار ختم کر چکی ہے ۔ پارٹی نے جان لیا ہے کہ اقتدار کے اس کھیل میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہ کر فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بھٹو ازم زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکا تو زرداری اور بلاول کے پاس توبے نظیر کی تصویر کے سوا کوئی منشور موجود نہیں ہے۔پاکستان کھپے کا نعرہ ان کی سیاسی ضرورت تھی جو انہوں نے لگایا اور اس کے ثمرات سے مستفید بھی ہوئے۔

انقلابی ہونا ایک اعزاز سے کم نہیں ہے لیکن اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے پھر لیڈر یہ نہیں کہتے کہ ہمیں مردہ لیڈروں سے زیادہ زندہ لیڈر چاہیں۔ پھر یہ بھی نہیں ہوتا کہ جیل سے ڈر کر بیرون ملک چلے جائیں اور کارکنوں سے یہ امید رکھیں کہ وہ ان کی خاطر باہر نکلیں۔ لیڈر درمیان ہو تو وہ کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔زرداری نے بڑے طنزیہ انداز میں مسلم لیگ ن سے کہا کہ میاں صاحب سے کہیں کہ وہ لندن سے واپس آئیں سب مل کر جیل جائیں گے۔ مریم نوازشریف اچھی تقریر کرنے کا فن جان گئی ہیں ۔ آنے والے دنو ںمیں ہم ان کی خوبصورت تقریریں ضرور سنیں گے لیکن ان تقریروں سے کوئی بڑا انقلاب ابھی بہت دور ہے۔پیپلزپارٹی اور زرداری نے وہ سیاسی کھیل کھیلا ہے کہ مولانا اورمریم ایک عرصہ تک اسے یاد رکھیں گے۔ انہوں نے خوبصورتی سے اپوزیشن کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور وقت آنے والے اتنی ہی خوبصورتی سے کنارہ کش بھی ہو گئے۔ سچی بات یہ ہے کہ زرداری کی سیاست کو سمجھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ بلاول بھٹو کو وزیراعظم ہائوس تک پہنچانے کا راستہ لاہور اور لاڑکانہ کی  بجائے اسلام آباد اور راولپنڈی سے زیادہ قریب ہے۔


ای پیپر