In one country, the wailing of wolves at night was considered a nightmare for the kingdom and the king
25 مارچ 2021 (11:33) 2021-03-25

ایک ملک خداداد میں رات گئے گیدڑوں کا رونا سلطنت و بادشاہ کے لیے نحس سمجھا جاتا تھا۔ اسی نحوست سے بچنے کے لیے باشاہ وقت جنگلوں میں گیدڑوں کی آماجگاہوں کے آس پاس وافر مقدار میں خوراک مہیا کردیتے تھے تا کہ یہ پرباش رہیں اور سلطنت ان کی نحوست سے محفوظ رہے۔ پھر ہوا یوں کہ خوراک مہیا کرنے والے وزیر اور محکمے کی نیت خراب ہو گئی کہ لاکھوں روپے گیدڑوں کی خوراک پر کیوں خرچ کیے جایں۔ دھیرے دھیرے خوراک میں کمی کی جاتی رہی لالچ بڑھا تو اورآخر کار خوراک بند بھی کر دی گئی۔ اس کے لیے مختص فنڈ حکومتی اہلکاروں کی جیبوں میں جانے لگا۔ انسان تو اپنے رازق کو جانتے بوجھتے ہوے اس کا شکر ادا نہیں کرتا اور تنگی کے دوران دوسرے رستے تلاش کرتا ہے۔ لیکن جانور کو جس در سے روزی ملے اسی کا ہو رہتا ہے۔ گیدڑوں نے بھی یہی کیا ٹولیوں کی شکل میں شہر کی طرف آنے لگے اور لوگوں کی توجہ کے لیے منہ آسمان کی طرف اٹھا کر رونا شروع کر دیا۔ شروع میں تو کسی نے توجہ نہ دی اور ان کو مار بھگایا۔ رفتہ رفتہ ان کے غول بڑھتے گئے اور ان کی آوازوں سے فصیل کے آس پاس رہائش پزیر مصاحبین کی نیندیں حرام ہونے لگیں۔متعلقہ محکمے سے شکایت کی گئی لیکن وہ تو سارا فنڈ چٹ کر گئے تھے کہاں سے انہیں خوراک مہیا کرتے۔ دربار میں بادشاہ سلامت تک بات پہنچائی گئی لیکن متعلقہ وزیر نے اسے معمول کی بات کہہ کر ٹال دیا۔ نتیجتاً گیدڑوں کے غول فصیل شہر کے گرد بڑھتے گئے اور ان کا رونا بھی یہاں تک کہ یہ آوازیں شاہی محل میں بادشاہ اور ملکہ کی نیندیں بھی خراب کرنے لگیں۔

بادشاہ کے ساتھ دربار کے دیگر متاثرین کی آوازیں بھی شامل ہو گئیں۔ شاہی جوتشی نے بھی طرح لگائی کہ اگر یہ رونا اسی طرح جاری رہا تو تخت اور بادشاہ کے لیے شدید نحس ہوگا یہ سب دیکھ کر وزیر کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ لیکن جہاندیدہ وزیر نے بگڑتی صورتحال کو سنبھالا اور کہاجہاں پناہ لگتا ہے گیدڑوں کی آبادی بڑھنے سے کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہو گئی ہے اس لیے فریاد کررہے ہیں۔ وزیر خوراک کی جان میں جان آئی۔ جہاندیدہ وزیر نے وزیر خوراک کی توند پر ہاتھ لگاتے ہوئے طنزاً کہا کہ سارا مال خود ہی ہضم کر جاتے ہو کچھ دوسروں کا بھی خیال کیا کرو۔ عقل سے عاری وزیر نے اپنے سیکرٹری کی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھا تو اس نے جہاندیدہ وزیر کو کچھ اشارہ کیا اور یوں معاملات طے پا گئے۔

حاکم وقت نے فوراً حکم دیا کہ گیدڑوں کے لیے مزید خوراک کا بندوبست کیا جائے۔ شاہی خزانے سے گیدڑوں کے من بھاتے کھاجے کے لیے پیپرا رولز معطل کر کے فوری فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ فنڈ جاری ہو گئے وزیر صاحب نے سوچا گیدڑوں کی تو دربار تک رسائی ہے نہ ان کی آواز اٹھانے والا کوئی اور نہ ہی یہ بادشاہ تک شکایت پہنچا سکتے ہیں۔ پھر جہاندیدہ وزیر کوحصہ بھی دینا ہے سو اس نے ان فنڈز میں سے نصف گھر بھجوادیے ، حصہ بقدر جثہ جہاندیدہ وزیر کو کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کر دیے۔فائلوں کا پیٹ بھرنے کے لیے آٹے میں نمک برابر خوراک بھی خرید لی۔

اگلی رات ناکافی خوراک کی وجہ سے گیدڑ چھینا جھپٹی میں لڑ پڑے۔ اور ان کی لڑائی اور رونے کی آوازیں زور شور سے آنے لگیں۔ صبح بادشاہ سلامت نے پھر دربار سجایا وزیر موصوف کو بلوا کر سختی سے پوچھا کہ کل گیدڑوں کے لیے خوراک کا بندوبست نہیں کی گیا کہ گزشتہ رات پھر چیخ رہے تھے؟

بادشاہ سلامت نے حکم جاری کیا کہ اس مخلوق خدا کے لیے فوراً سردی سے بچنے کے جنگل میں مستقل انتظامات کیے جائیں اور وزیر موصوف سے سوال کیا کیا انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔ جہاندیدہ وزیر نے فوراً اندازہ لگایا بادشاہ کی دریا دلی جوش مار رہی ہے اس نے کہا جہاں پنا آپ کی روز روز کی پریشانی کو دیکھتے ہوے ان بے زبان جانوروں کو سردی گرمی بارش اور بھوک سے بچنے کے لیے ان کے لیے مستقل پناہ گاہیں، لنگر خانے ، آگ کے الائو اور گرم بستروں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ چند خدام کی ڈیوٹی بھی لگا دی جائے تا کہ ان بے زبانوں تک ان اشیاء کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے۔ساتھ ہی ایک سابق سپہ سالار کو اس پراجیکٹ کا نگران مقرر کر دیا۔ جہان دیدہ وزیر جز بز ہوا کیونکہ وہ اپنے سالے کولگوانا چاہتا تھا لیکن حکم شاہی کے سامنے بے بس تھا۔ وزیر خوراک کی پھر موجیں لگ گئیں اس نے پورا ایک سیکریٹریٹ کھڑا کر دیا جس میں اپنے احباب اور چہیتوں کو اعلیٰ مشاہروں پر ملازمت دے دی۔ جنگل میں منگل لگ گیا اور گیدڑوں کی پناہ گاہوں کے نام پر اپنی پکنک کے لیے پر تعیش ہٹ بنانے کا کام شروع کر دیا گیا۔حسب سابق شاہی خزانے سے فنڈز کی تقسیم حصہ بقدر جثہ رشتہ داروں ، مصاحبین اور دوستوں میں کر دی گئی لیکن احتیاطاً گیدڑوں کی خوراک قدرے بڑھا دی گئی اور ساتھ ہی سابقہ سپہ سالار کو گیدڑوں کو پیچھے جنگل میں دھکیلنے کا بھی کہہ دیا تا کہ رات کو ان کا رونا بادشاہ کی نیند میں خلل نہ ڈال سکے۔ لیکن جانوروں کا پیٹ طفل تسلیوں یاکم خوراک سے نہیں بھراجاسکتاتھا نتیجہ یہ ہوا کہ طاقتور گیدڑوں نے ساری خوراک آپس میں تقسیم کر لی اور کمزوروں کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ اگلی رات آئی تو گیدڑوں کے رونے کی بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں بلکہ اس بار تو یہ فصیل شہر کے قریب سے آنے لگیں۔ لیکن نقاہت اور طاقتور گیدڑوں سے لڑائی کی وجہ سے ان آوازوں میں قدرے بے چارگی سی لگ رہی تھی ۔ بادشاہ کو غصہ آیا صبح کا انتظار کیے بغیر اس نے اسی وقت دربارسجالیا اور کہا کہ وہ اس کوتاہی پر پوری کابینہ کو برطرف کر دے گا۔ وزراء کے طوطے اڑے ہوئے تھے۔ بادشاہ نے دربار میں گیدڑوں کے شور شرابے اور سہولتیں مہیا نہ کرنے بارے سوال کیا۔؟

جہاں دیدہ وزیر نے کورنش بجا لاتے ہوئے عرض کی ظل الٰہی گیدڑوں کی آوازوں میں فرق لگا ہو گا۔ بادشاہ نے کہا اس نے بھی محسوس کیا ہے ان میں وہ غصہ نہ تھا۔

جہاندیدہ وزیر نے بادشاہ کو تو مطمئن کرنا ہی تھا۔تو وہ کہنے لگا بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ہو ابھی پتہ کرکے آتا ہوں۔کچھ مصاحبین، وزیر خوراک اور سابق سپہ لار کے ساتھ رات کے اس پہر جنگل کی طرف گیا۔ رستے میں وزیر خوراک کو کہا کہ اپنی توند کم بھرو، کچھ اپنی عقل سے بھی کام لیا کرو گیدڑوں کی خوراک کچھ دنوں کے لیے بڑھا دو ورنہ تم نے تو پوری کابینہ فارغ کروا دی تھی۔ وزیروں کاوفد جب دربار واپس آیا تو جہاندیدہ وزیر مسکراہٹ لبوں پر سجائے بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور عرض کیا کہ بادشاہ سلامت گیدڑ شور نہیں کررہے بلکہ آپ کی دریا دلی کا شکریہ ادا کررہے تھے اور جب تک ان کو سہولتیں پہنچائی جاتی رہیں گی ان کی یہ ہلکی پھلکی موسیقی ہر رات جاری رہے گی۔ اگر حکم کریں تو ان کو خوراک اور سہولتیں بند کر دیں بادشاہ نے فوراً کہا ہرگز نہیں۔

بادشاہ نے اپنے مصاحبین کو انعام و کرام سے بھی نوازا اور سابق سپہ سالار کی انتظامی صلاحیت سے متاثر ہو کر تمام سابق سپہ سالاروں اور جرنیلوں کو مختلف محکموں میں کھپانے کا حکم بھی دے دیا۔ وزیر جہان دیدہ کو یقیناً یہ حکم گراں گزرا لیکن وہ تو احتجاج بھی نہ کر سکتا تھا۔

قارئین اب یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے عوام مہنگائی، بیروزگاری ، بڑھتے ہوئے بل اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں۔لیکن حکومت نے لنگر خانوں ، پناہ گاہوں کی چوسنی دے کر ان کے رونے کی آواز کو قدرے دبالیا ہے لیکن ان روتے بلکتے عوام کے آنسوپوچھنے کے لیے مستقل اقدامات عنقا ہیں۔ بلکہ بادشاہ کو تو گیدڑوں کے رونے کی آوازوں کو شکرانے سے موسوم کر دیا گیا ہے اب کوئی سن بھی لے تو شنوائی نہ ہوگی۔


ای پیپر