سیاسی و انتظامی کرپٹ کورونے!
25 مارچ 2021 2021-03-25

کبھی کبھی مجھے احسا س ہوتا ہے پاکستانی سیاستدانوں کو مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے جان بوجھ کر بدنام کیا جاتا ہے، تا کہ اس سے مذموم مقاصد حاصل کر کے اپنی برتری کوئی ثابت کر سکے۔ لیکن پھر یہ احساس غالب آتا ہے اس صورتحال کے ذمہ داران سیاستدان خود ہیں۔ آدھا پاکستان اس ملک کے سیاستدانوں نے اپنی سرپرست قوتوں کے ساتھ مل کر گنوا دیا، اور جو آدھا بچ گیا ہے اب اسے گنوانے کے ہر لحاظ سے شدید کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عوام بھوک ، مہنگائی ، بیروزگاری ، ناانصافی سے مر رہے ہیں اور سیاستدان آپس میں لڑ رہے ہیں۔ عوام کی کسی کو کوئی پروا ہی نہیں۔ کورونا کی حالیہ لہر زیادہ خطرناک زیادہ تباہ کن ہے۔ یہ لہرمکمل لاک ڈاﺅن کی متقاضی ہے۔ افسوس اس ضمن میں حکومتی اقدامات محض کاغذی اقدامات ہیں۔ اس ضمن میں سرکار اتنی کنفیوژ ہے ایک دن کوئی اور فیصلہ کرتی ہے اگلے روز وہ فیصلہ بدل کر کوئی اور فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ اب تو گھنٹوں بعد فیصلے تبدیل کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف عوام نے بھی کورونا کو ایک مذاق سمجھ رکھا ہے اور المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں نے اپنی ”ڈنڈا پسند عوام“ کو اسے محض ایک مذاق سمجھنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ حکومت نام کی کوئی شے کہیں اگر دیکھائی دیتی ہے تو وہ صرف اپوزیشن کو گالیاں وغیرہ دینے کی حد تک ہی دیکھائی دیتی ہے۔ اور اپوزیشن کا بھی یہی حال ہے۔ وہ بھی کہیں دیکھائی دیتی ہے تو آپس میں لڑنے جھگڑنے کی حد تک یا حکمرانوں کے ہر اچھے برے کاموں میں کیڑے نکالنے کی حد تک ہی دیکھائی دیتی ہے۔ حکمران اور اپوزیشن صرف ایک پیچ پر اکٹھے دیکھائی دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ عوام کی اذیتوں اور تکلیفوں کو نظرانداز کیسے کیا جائے؟ ان حالات میں جبکہ کورونا باقاعدہ ایک موت کی صورت میں اس ملک کے کروڑوں عوام کے سامنے رقص کر رہا ہے۔ بجائے اس کے اپوزیشن اس آزمائش وباءیا عذاب سے نمٹنے کے لئے حکمرانوں کی سہولت کار بنے، حکمرانوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ فرض کر لیں ان کے مطالبے کے مطابق حکمران اگر مستعفی ہو بھی جاتے ہیں تو ان اپوزیشنی سیاستدانوں نے ایک بار پھر اقتدار میں آکر کون سی دودھ اور شہدکی نہریں بہا دینی ہیں؟ سوائے اس کے اس کے بعد وہ بھی وہی رونا روئیں گے جو موجودہ حکمران اڑھائی برس گزرنے کے باوجود مسلسل روتے جا رہے ہیں کہ ”ساری خرابیوں کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں“۔ پہلے اتنی بار وہ اقتدار میں رہے تباہ شدہ سسٹم کو ٹھیک کرنے میں کیا کردار انہوں نے ادا کیا۔ چلیں کچھ معاملات میں کچھ قوتیں ان کے لئے رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ ان کا یہ روایتی رونا ممکن ہے کسی حد تک درست ہو ، مگر صحت ، تعلیم اور انصاف کے شعبے درست کرنے میں ان قوتوں کو بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ یہ شعبے مزید ابتریوں کا شکار کیوں ہوتے گئے؟ آج سسٹم اس حد تک تباہ ہو چکا ہے کوئی فرشتہ بھی آسمان سے اتر کر اسے ٹھیک کرنے کی کوشش میں شاید خود ہی خراب ہو جائے۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی نیک نیتی میں کوئی شک نہیں۔ وہ سسٹم میں تبدیلی یہ لے کر آئے سسٹم مزید تباہ ہو گیا۔ اس کے ذمہ داران بھی کسی حد تک سابقہ حکمران ہی ہیں، ان سابقہ حکمرانوں نے اس سسٹم کو ایسی دیوار بنا کر رکھ دیا جس کی چند اینٹیں اکھاڑنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ یہ دیوار مکمل طور پر گرا کر نئی دیوار بنانا پڑے گی۔ میں بارہا عرض کر چکا ہوں اس ملک کو چلانے والے اپنے اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر حلفاً یہ طے کر لیں ان کا ہر اقدام صرف اور صرف ملک و قوم کی بہتری و بھلائی کے لئے ہو گا خدا کی قسم یہ ملک برسوں میں نہیں مہینوں بلکہ دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔.... یہ اگر نہیں ہو رہا اور آگے چل کر بھی نہیں ہونا کوئی یہ منافقانہ بیان نہ دیا کرے”ہم کسی کو اپنے ملک کی طرف میلی آنکھوں سے نہیں دیکھنے دیں گے“.... ہماری اپنی آنکھیں اتنی میلی ہیں کسی اور کو ہماری طرف میلی آنکھوں سے دیکھنے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟۔.... جہاں تک روز بروز پھیلتے ہوئے کورونا کا تعلق ہے بجائے اس کے ہمارے سیاستدان اس موقع پر اس سے نمٹنے کے لئے اجتماعی طور پر جدوجہد کریں ، اپنی ساری توانائیاں آپس کے جھگڑوں میں ضائع کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکمرانوں کو بھی چاہئے ”انتقامی کارروائیوں “ کا سلسلہ موجودہ حالات کے پیش نظر کچھ عرصے کے لئے ملتوی کر دیں۔ سرکاری و نجی ہسپتال کورونا کے مریضوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ نجی ہسپتالوں نے لوٹ مار کے بازار ایک بار پھر گرم کر دیئے ہیں۔ لیبارٹریوں میں ٹیسٹوں کا دھندہ الگ سے عروج پر ہے۔ ایک لیبارٹری میں کسی کا ٹیسٹ پازیٹو آتا ہے ، دوسری لیبارٹری میں نیگیٹو آجاتا ہے۔ سرکار نے کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں کیا جو اس فرق کی تحقیق کے بعد ذمہ داران کو سزا دے۔ ا س کے علاوہ کورونا سے بچنے کے لئے لوگوں کی تربیت کا سرکاری طور پر کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ نہ ایسے جارحانہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے خوف سے ہی لوگ حفاظتی اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اوپر سے کرپشن کا بازار بلکہ پوری منڈیاں اس قدر گرم ہیں سرکار کی طرف سے ”سخت اقدامات“ کا کوئی نوٹیفکیشن جاری ہو بھی جاتا ہے اس کے نتیجے میں پولیس و انتظامیہ ، لوگوں کو ان کے غیر ذمہ دارانہ رویئے یا حکومتی اقدامات کی خلاف ورزی پر انہیں کوئی سزا دینے کے بجائے اپنی جیبیں گرم کر رہی ہوتی ہے۔ ابھی اگلے روز مجھے ایک شادی میں شرکت کرنی تھی۔ سینکڑوں لوگ ہوٹل کے ہال میں موجود تھے۔ کسی ایک کے منہ پر ماسک نہیں تھا۔ بعد میں پتہ چلا وقت اور ون ڈش کی پابندی بھی یہاں نہیں تھی۔ میں تو اینٹرس سے ہی واپس لوٹ آیا۔ اگلے روز میں نے اعلیٰ حکام کی توجہ اس طرف دلائی تو اس ہوٹل کو سیل کر دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب یہاں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی تھی، علاوہ ازیں ون ڈش اور وقت کی پابندی کی خلاف ورزی بھی ہو رہی تھی اس علاقے کی انتظامیہ کہاں سوئی یا کہاں مری پڑی تھی؟۔ ہوٹل تو سیل کر دیا گیا۔ کیا اس جان لیوا کو تاہی کے ذمہ داران افسران کے خلاف کوئی ایکشن ہوا؟۔ شاید اس لئے نہیں ہوا کہ حرام کی کمائی اوپر تک جاتی ہے۔ اور جب اوپر تک پہنچ جاتی ہے اس کے بعد سبھی اندھے ،گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں۔ قدرت کے کورونے سے قدرت کی مہربانی سے ہم شاید نمٹ لیں۔ حرام کی کمائی کھانے والے کو دونوںسے بھلا کون نمٹ سکتا ہے؟؟؟!!


ای پیپر