بھٹو نے کہا ! خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا ،میں نے کہا پاکستان بچا نہیں ٹو ٹ گیا !صحافی حسین نقی
25 مارچ 2020 (17:02) 2020-03-25

اسد شہزاد

ڈی بلاک ماڈل ٹائون کی مارکیٹ ایک صدی کے بعد دوسری صدی میں ڈھل چکی ہے۔ مارکیٹ کے درمیان مندراس کی بڑی شناخت ہے۔ اسی مارکیٹ کے گول چکر کے درمیان 156ڈی ہے جس میں پاکستان کی صحافتی تاریخ کے بہت بڑے کردار حسین نقی رہائش پذیر ہیں جن کی زندگی کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ناممکن ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کم وبیش پوری 20ویں صدی میں رونما ہونے والے تحیرانگیز واقعات اور انقلابات کے چشم دیدگواہ ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ اگر ان کی زندگی کے اہم واقعات کی طرف دیکھتا ہوں تو پھر بھارت کے شہر لکھنؤ سے 1936ء سے زندگی کا شروع ہونے والا سفر آج 2020ء میں بھی جاری وساری ہے۔ 85 کی عمر میں بھی وہ بڑے ہشاش بشاش ہیں اور ان کی سب سے خوبصورت بات ان کی ذہانت ہے۔ وہ آج بھی جب پُرانے واقعات وحالات کا ذکر کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ کل یا آج کی بات ہے اور واقعات کو سال، تاریخ، دن اور شخصیات کے ساتھ بیتے واقعات کو تسلسل میں لے جانا انہی کا فن کمال ہے کہ وہ کبھی بھولے نہیں۔ ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو ، ضیاالحق کے آمریت اور ڈکٹیٹرانہ ادوار میں انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے سچ کو اُگلا تو وہ تینوں حکومتوں کی نیندیں حرام کر دیتے، کبھی سول لاء تو کبھی مارشل لاء کے ضابطوں کے تحت ان کی گرفتاریاں ہوئیں، سزائیں دی گئیں، جیل خانے، ٹارچرسیل اور شاہی قلعے کے تہہ خانوں کے بند کمروں میں پابندسلاسل ہوئے مگر سچ کا ساتھ نہ چھوڑا، نہ ڈگمگائے، نہ گھبرائے، نہ روئے، ایک ہی جذبہ تھا کہ کسی طرح قلم کو جھکنے نہیں دینا۔

حسین نقی کل اور آج کی صحافی کرداروں کا سب سے بڑا گواہ، سب سے بڑا نقاد، سب سے سینئر۔ صحافت کے گذرے چھ ادوار میں کتنے اُتارچڑھائو آئے، ان کے بارے میں کہنے اور لکھنے کو ایک بڑا دفتر درکار ہو گا، وہ بشر ضرور ہیں ان میں بشری کمزوریاں بھی ہوں گی مگر ان کی صحافتی خوبیاں اتنی ہیں وہاں کمزوریاں ضرور دب گئیں یا ختم ہو گئی، صحافت کی بے مثال داستان، بڑی شخصیت اور بڑا قلم حسین نقی کے آگے یہ تعارف شاید کم پڑ جاتا ہو گا، وہ خودپسند ضرور ہیں مگر خودپرست نہیں، وہ اپنے دور کے ارسطو تھے کہ ان کو خبر تلاش کرنا، خبر کے اندر اُترنا اور خبر کو شائع کرنے کا بہت خوب ڈھنگ آتا ہے۔ ان کو قدرت نے تحریر وتقریر دونوں پر مکمل عبور دے رکھا ہے۔

زمانہ طالب علمی میں وہ سٹوڈنٹ لیڈری کے شوق میں بڑے کام کر گئے، گرفتاریاں ہوئیں اور پھر جب صحافت کے میدان میں اُترے توکچھ کر گزرنے کی دُھن میں یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے جلسوں کی رپورٹنگ کی۔ ایوب خان کو ایک جلسے میں جب جوتا پڑا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی عقب میں بیٹھے حسین نقی کی طرف دیکھا کہ یہ خبر دے گا، تاہم وہ خبر کسی انگریزی اخبار کی زینت نہ بن سکی۔ بھٹو سے 1960ء میں دوستی ہوئی اور پھر ڈھاکہ میں ہونے والے اہم واقعات کے چشم دید ٹھہرے، ایک دور سے دوسرے دور تک، پھر چھٹے دور تک حسین نقی نے حسین نقی کو بڑا نام دے ڈالا۔ حسین نقی ایک فرد، ایک ادارے، ایک مکتب فکر نہیں بلکہ صحافت کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی سند کا مقام ہے۔

ہمایوں سلیم نے گزشتہ روز کہا کہ اسد بڑے ناموں میں ایک نام حسین نقی کا ہے، ان کا انٹرویو کرو… تو بات بنے گی۔ یوں اگلے روز 156ڈی ماڈل ٹائون جب ان کے گھر پہنچا تو دل میں ایک ہی فکر تھی کہ میں کہاں اور کہاں حسین نقی ، ہر سوال ان کی شخصیت کے آگے کہیں ماند نہ پڑ جائے، پھر ایک بڑے صحافتی نام کے آگے کس طرح بیٹھ کر گفتگو ہو گی، یہ سب کچھ سوچتے سوچتے ان کے گھر پہنچ گیا،گھر کے عقب میں ایک چھوٹے سے کمرے میں مجھے لیجایا گیا جس میں پُرانی اور نئی کتابوں کے علاوہ گرد سے بھرے دنیا بھر کے اخبارات پڑے تھے، ایک چھوٹا سامیز، اس پر بھی کتابوں کا بھاری بوجھ، مجھے یوں لگا جیسے میں پُرانے زمانے کے کسی اخباری دفتر میں بیٹھا ہوں، یہ میری خوش قسمتی کہ 1974ء میں روزنامہ ’’دی سن‘‘ میں جب وہ بیوروچیف پنجاب تھے اور میں اپنے ابتدائی دنوں میں صحافت کے میدان میں قدم رکھنے والا ایک معمولی صحافی بننے کا شوقین تھا، انھیں روزانہ دیکھتا تھا اور یوں وہاں پرتقریباً ایک سال ان کو دیکھنے میں گزر گیا، پھر 47سال کے بعد میں آج ان کے روبرو تھا۔ ڈرتے ڈرتے گفتگو کا آغاز ایک روایتی سوال سے کیا اور ان کے جوابات نے میری ہمت بندھائی اور پھر ایک یادگار انٹرویو تشکیل پاگیا۔

آیئے ذیل کے کالموں میں 85 سالہ بزرگ صحافی، پاکستان کی صحافت کے ایک بڑے استاد، رہنما اور کامیاب انسان حسین نقی سے ملتے ہیں۔

نقی صاحب ایک روایتی سوال سے آغاز کروں گا کہ آپ کا تعلق کس خاندان سے ہے، کہاں سے پڑھے لکھے اور پھر کیا شوق یا کوئی حادثہ صحافت میں آپ کو لے آیا؟

میرا تعلق لکھنؤ سے ہے اور میری تقسیم شدہ فیملی ہے، میرے زیادہ بہن بھائی اور عزیز واقارب آج بھی وہیں رہتے ہیں جبکہ بھانجے بھتیجے وغیرہ بنگلور سائوتھ انڈیا میں ہیں۔ پہلے میں ہر سال لکھنؤ جاتا تھا مگر اب عمر اتنی اجازت نہیں دیتی کہ سال میں ایک چکر بھی لگ جائے۔ زمانہ جدیدیت میں اب ملاقات بھی آسان کردی گئی ہے۔ آئی ٹی کا زمانہ ہے۔ میرے والد کا پیشہ وکالت تھا، ہم شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک میری تعلیم کا تعلق ہے تو ایشا کالج میں پڑھا، جہاں پہلی جماعت سے ایف اے کے بعد تک تعلیم حاصل کی۔ اب تو اس کے کئی اور یونٹ کھل گئے ہیں۔ ان کا اب لاء کالج، سائنس کالج، اس کے بعد سنی کالج بھی وہاں بنا۔ اسی طرح خواتین کے بھی بڑے کالج تھے۔

کس عمر میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا؟

1946ء میں جب تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھی، آزادی کی اس تحریک میں میرے بزرگ، میرے والدین اور تمام عزیز واقارب شامل تھے۔ میری عمر بہت چھوٹی تھی، اس کے باوجود اتنا شعور آگیا تھا کہ اب ہندوستان کی تقسیم کا وقت آگیا ہے، 1946ء کے انتخابات مجھے آج بھی یاد ہیں، ہمارے لکھنؤ میں مسلم لیگ کے اُمیدوار چوہدری خلیق الرحمن تھے، جن کی سپورٹ شیعہ کانفرنس کے سجاد علی شاہ، ان کے بڑے بھائی سید علی ظریف جو بعد میں ایران میں بھارت کے سفیر بھی بنے کر رہے تھے، جب تقسیم کا عمل ہوا تو میرے چچا وغیرہ پاکستان آگئے تھے۔

تعلیم کی تکمیل اور صحافت میں آمد کب ہوئی؟

میں بھی پاکستان آگیا اور کراچی میں گھر لیا اور یہیں تعلیم مکمل کی۔ صحافت میں تو میں اس وقت آگیا تھا جب میری عمر اٹھارہ سال تھی۔ ہوا یہ کہ شیعہ مشن کے زیراہتمام ایک روزنامہ ’’سرفراز‘‘ نکلا کرتا تھا، اس کے ایڈیٹر میرے ابا کے دوست تھے، میں نے مس ایڈمنسٹریشن کے بارے میں ایک مضمون لکھا، وہ میری پہلی تحریر تھی۔ میرے بڑے گھر میں والد صاحب کا ایک بڑا دفتر بھی تھا، وہ گھر آج بھی لکھنؤ میں موجود ہے۔ اس کمرے میں بیٹھ کر میں نے تحریر لکھی اور لفافے میں بند کر کے دفتر گیا اور ان سے کہا کہ اس مضمون پر میرا نام نہ لکھئے گا کہ میرے والد ان دنوں ایڈمنسٹریشن کی ایک کمیٹی کے رُکن تھے، اس وجہ سے ان پر کوئی الزام بھی آسکتا تھا، مگر وہ میرے نام سے چھپا، وہ اخبار ہمارے ہاں بھی آتا تھا، جب وہ مضمون ابا کی نظر سے گذرا تو انہوں نے میری ماں سے کہا کہ کسی نے اس کو لکھ کے دیا ہے اور اس نے میرے تعلقات کی بنا پر اپنے نام سے شائع کرایا ہے۔ میری والدہ نے کہا، ایسا نہیں ہوسکتا، یہ نقی ہی نے لکھا ہے۔ میں نے ابا کے جانے کے بعد اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا بات ہورہی تھی تو انہوں نے سب کچھ بتایا تو میں نے کہا کہ میں دوسرا لکھ دیتا ہوں۔ ہمارے اس زمانے میں لکھنا کم تو پڑھنا زیادہ سکھایا جاتا تھا۔ خاص کر لڑکیوں کو، چنانچہ میں نے دوسرا مضمون لکھا تو میری والدہ نے میرے مضمون کا ایک آدھ فقرہ پڑھ کر بھی سنایا کہ دیکھو یہ مضمون اسی نے لکھا ہے اور باقی تم خود پڑھو۔ مضمون پڑھنے کے بعد میرے ابا مسکرائے اور خاموشی اختیار کرلی اور پھر کہنے لگے کہ تم مجھ کو بتاتے تو سہی، اخبارات میں تو کنٹروورسی ہوتی ہے۔

پاکستان کب آئے؟

1950ء میں پاکستان آگیا، کھوکھرا پار تو 1953ء تک کھلا رہا، اسی راستے سے ہم بہن بھائی آتے جاتے تھے۔ والد اپنے وکالت کے سلسلے کی وجہ سے نہیں آئے۔ یوپی میں بہت راجواڑے تھے۔و الد صاحب کے کلائنٹ ہونے کے سبب ان کی بہت مصروفیات تھیں، تو میں بات کررہا تھا کھوکھراپار سرحد کی، جس کے ذریعے آپ بھارت آجاسکتے تھے جو 1960ء تک سلسلہ رہا۔ میں حکومت پاکستان پر پوری تنقید کرتا ہوں کہ آپ نے 40لاکھ افغانیوں کو ایک دم پناہ دے دی اور اگر کوئی ہندوستان سے پاکستان آئے تو اس کو ٹرانسفر کرانے کے لیے جب تک وزیراعظم یا کوئی جنرل سفارش نہ کرے وہ آسانی سے نہیں آسکتا، اس وقت تو افغانستان نے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا، اگر آپ کو یاد ہو ایران واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔

آپ لاہور نہیں آئے؟

کراچی آیا تھا، میرے مقدر، مجھے یہاں لے آئے۔ میری بہن کی شادی بھی کراچی میں ہوئی، تو میں بھی ان کے ساتھ آگیاتھا۔ اس وقت میری 18سال عمر تھی،میںاس وقت بھارت میں انڈسٹریل کیمسٹری پڑھ رہا تھا، وہ یہاں پڑھایا نہیں جاتا تھا لہٰذا لاہور میں داخلہ تو ہوگیا مگر ان دنوں مجھے یرقان ہوگیا، دوسری طرف میرے بہنوئی کا کوئٹہ تبادلہ ہو گیا۔تو مجھے لاہور آنا پڑا اور اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ حمیداحمد خان اس کے پرنسپل تھے جو بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے۔ اکنامک اور پولیٹیکل سائنس میرے مضمون تھے۔ یہ 58ء کی بات ہے جب مارشل لاء لگا تو میں این ایس ایف کا جوائنٹ سیکرٹری بنا تھا، تو مارشل لاء کے ایک ضابطہ کے تحت اس تنظیم کو سیاسی تنظیم کے نام پر پابندی لگا دی گئی حالانکہ اس کا نام سیاسی تھا مگر اس کے کبھی بھی سیاسی مقاصد نہیں رہے، بلکہ ہماری تنظیم تو وائس چانسلر نے ڈی ایف اے کے خلاف بنائی تھی۔ ڈی ایف اے کو پہلے بین کیا گیا، اتفاق یہ ہوا کہ ایوب خان نے طلباء یونین پر پابندی عائد نہیں کی، یہاں ایک واقعہ بتاتا چلوں کہ ایک دفعہ طے ہوا کہ فیض احمد فیض کو انجمن حمایت اسلام میں انگلش ڈیپارٹمنٹ میں رکھ لیا جائے تو انجمن حمایت نے فیض کو لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا یہ تو کمیونسٹ ہے ، یہ تو مسلمان بچوں کو خراب کرے گا، لہٰذا اس کی جگہ عیسائی رکھ لو، تو ان کی جگہ ایرک کو رکھا گیا۔ اسلامیہ کالج سے بی اے کرنے کے بعد کراچی چلا گیا۔ کراچی یونیورسٹی سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات ہوئے تو فتح یاب علی خان اس کے صدر بنے اور 1962ء میں دوسری بار میں صدر بن گیا۔ اس زمانے میں اشتیاق حسین قریشی وائس چانسلر بن کر آئے، وہ جمعیت کے بہت قریب تھے اور بحیثیت صدر یونیورسٹی میں بہت سے مسائل پر انتظامیہ اور یونین کے درمیان کئی محاذ جنگ کھلے۔

صحافت کو آپ نے کب اور کیوں اپنایا؟

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد میں پاک ٹی ہائوس میں بیٹھتا تھا، سجاد باقر رضوی میرے اُستاد ہوا کرتے تھے، جب میں اسلامیہ کالج سول لائنز میں پڑھا کرتا تھا۔ اسی دوران میری ان سے دوستی بھی ہو گئی، وہاں بہت سے صحافی بھی آتے تھے اور ان سے بھی دوستیاں ہو گئی تھیں، لہٰذا میں نے باقر رضوی سے کہا کہ مجھے جنگ میں نوکری دلوا دیں ، مجھے رپورٹنگ یا ڈیسک پر بٹھا دیں تو انہوں نے کہا کہ تم اُردو کی بجائے انگریزی جرنلزم کی طرف جائو، اتفاق سے میرا تعلق لکھنؤ کے بہت بڑے شیعہ عالم ناصر الملت کے بھانجے سے ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ تم پی پی آئی چلے جائو اور انہوں نے مجھے اسلم ملک کے پاس بھجوا دیا اور انہوں نے مجھے بطور آپرنٹس رکھ لیا، تو انہوں نے مجھے جاوید رضوی کے پاس بھجوا دیا، جو میرے پہلے اُستاد بھی ہیں اور آج کل ’’ڈان‘‘ میں لکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ نقی تم تو لیڈر آدمی ہو، انھوں نے کہا کہ تم جو کام کرو پھر اسی میں گم ہو جائو اور پوری کمٹمنٹ ہونی چاہیے۔ پھر اگلے دن انہوں نے مجھے ڈیسک پر بٹھا دیا، وہاں کے سینئرز نے مجھے کچھ خبریں دیں، پھر بطور آپرنٹس کام کا آغاز ہوا، 1963ء میں باقاعدہ صحافت میں داخل ہوا اور 1962-63ء میں ایم اے کا طالب علم بھی تھا اور میں نے نوکری کے دوران فرسٹ ڈویژن میں پاس کرلیا تھا۔

پی پی آئی پہلا صحافتی ادارہ، پہلی تنخواہ کیا ملی؟

150روپے اپرنٹس الائونس ہوتا تھا اور پھر زمانہ 63ء کا تھا اور یہ 150روپے ختم نہیں ہوتے تھے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ دوران تعلیم شام کے وقت ایک سکول میں انگریزی کا اُستاد بھی تھا، وہاں سے 55روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک ٹیوشن کے 25روپے ملتے تھے۔ پھر میں نے جاوید رضوی سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں ٹیوشن وغیرہ چھوڑ دوں گا۔ ان دنوں میں اپنے کزن کے ساتھ چار نمبر کاظم آباد میں رہتا تھا اور کھانے پینے کے لیے وہ بھی آدھے پیسے دیا کرتا تھا، اب یہ ہوا کہ صبح میں رپورٹنگ کیا کرتا اور شام کو ڈیسک پر ہوتا، پھر یہ ہوا کہ رات کو جیسے ہی شفٹ ختم ہوتی تومیں میز پر وہیں سو جاتا اور ہوٹل سے ناشتہ اور جہاں ہوتا کھانا کھالیتا۔

پہلی خبر کیا تھی جو آپ نے دی؟

میری پہلی خبر کینسر کے بارے میں تھی۔ ڈاکٹر زیدی نے جناح ہسپتال میں کینسر کا شعبہ شروع کیا تھا۔ اس زمانے میں یہی بڑی خطرناک بیماری تھی۔ اس کے بارے میں تفصیل لی اور رپورٹ بنا کر جاری کردی۔ اگلے دن کسی اخبار میں وہ سٹوری شائع نہیں ہوئی، میں نے جاوید صاحب سے کہا کہ میری خبر شائع نہیں ہوئی تو وہ میرا گلہ سُن کر مسکرانے لگے تو انہوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان سے روزنامہ ’’آبزرور‘‘ نکلتا ہے۔ وہ صبح لاہور آجاتا تھا، اس وقت لاہور سے پانچ روپے کا آنے جانے کا ٹکٹ پی آئی اے کا ہوتا تھا، انہوں نے میرے سامنے اخبار رکھا اور کہنے لگے کہ اس میں اپنی خبر کو تلاش کرو، میں نے تمام صفحات چھانٹ مارے، خبر کہیں دکھائی نہیں دی تو انہوں نے کہا کہ آپ کی سٹوری مین لیڈ بنی ہے۔ ان دنوں مشرقی پاکستان میں کینسر بہت بڑا مسئلہ تھا کیونکہ وہ لوگ پان اور سپاری بہت کھاتے تھے۔ اس سٹوری کے بعد انہوں نے کہا کہ تم یہاں ہی کمرے میں سو جایا کرو، پھر میں نے منظم صاحب کے کمرے میں سونا شروع کردیا، وہ ایم ڈی تھے۔ ایک وقت میں منظم صاحب بھارت کی طرف سے قاہرہ میں نمائندہ خصوصی بھی رہ چکے تھے، یہ بات 1947ء کی ہے۔ ان دنوں میری ایک ہی کوشش ہوتی کہ کوئی اہم خبر نکالوں، یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ 150روپے تنخواہ کے بعد ہر ماہ 50روپے اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ پھر 1966ء میں میری شادی ہوئی تو میری تنخواہ ساڑھے تین سو روپے ہو چکی تھی۔

پی پی آئی میں آپ کتنا عرصہ رہے؟

میں نے کافی عرصہ پی پی آئی میں گزارا۔ جب پہلا پریس اینڈ پبلی کیشنز کا لاء آیا تو صحافیوں نے ہڑتال کردی۔ اس میں تو مالک بھی شامل تھے۔ 1963ء میں اس ہڑتال میں، میں بھی رواں دواں رہا۔ پھر 1965ء کی جنگ میں بہت رپورٹنگ کی۔ اس دوران الطاف گوہر نے بڑی غلط خبریں چلائیں جو بعد میں بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بنیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت صحافیوں کی ایک تحریک چل رہی تھی کہ پیسے بڑھائے جائیں۔ میں تو صحافت کی تاریخ سے بہت واقف ہوں۔ روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں تو ایک روپیہ ماہانہ تنخواہ دی گئی۔ ظفر علی خان نے بھی بہت کام خراب کیے۔ اس زمانے میں پی پی آئی والے 150روپے، 50روپے الائونس کے طور پر ملا کرتے تھے مگر بعد میں انہوں نے پوری سیلری دینا شروع کردی۔ ان دنوں روزنامہ ’’انجام‘‘ بند کردیا گیا۔ اس دوران میری پہلی ملاقات کشمیری رہنما مقبول بٹ سے ہوئی۔ یہ کراچی کی بات ہے، ان دنوں مقبول بٹ روزنامہ ’’مشرق‘‘ پشاور میں کام کرتے تھے اور سٹوڈنٹ یونین کے رُکن بھی تھے۔ وہ کوئٹہ سے اس لیے آئے کہ ’’انجام‘‘ کی بندش پر روزانہ بھوک ہڑتال ہوا کرتی تھی۔ انہی دنوں ’’شمار‘‘ کو ایوب خان نے ٹرسٹ کا چیئرمین بنادیا۔ شمار نے ان دنوں شاید منظم کو پیسے دیئے ہوں گے کہ وہ کچھ عرصہ پی پی آئی کے چیئرمین بھی بنے۔ انہوں نے منظم کو شکایت کی کہ پی پی آئی کے جو لوگ اس ہڑتال میں شرکت کررہے ہیں ان کو نکال دو یا ان کا تبادلہ کردو۔ انہوں نے میرا آرڈر سبی میں کردیا۔ میں نے انکار کردیا کہ وہاں کیا کروں گا، لہٰذا انہوں نے میرا تبادلہ حیدرآباد کردیا، یہ 1964ء کی بات ہے۔ ایک دن بروہی جو وہاں کمشنر تھے، مجھے کہنے لگے کہ آپ نے ساتھ چلنا ہے، ایوب خان آرہے ہیں، شکار کرنے، تو رپورٹنگ آپ کریں گے، پھر کئی بار ایسا ہوا کہ میں ایوب خان کی تقاریب کی کوریج کرنے لگا اور ایوب خان سے میری واقفیت ہو گئی۔ 1967ء کے شروع میں ایک بار ایوب خان نے شکار کے موقع پر مجھے دیکھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کو عموماً میں ہی سوال کرتا تھا، دوسرے صحافی ا یوب خان سے بات کرتے ہوئے گھبراتے تھے، میں نے تو مادرملت کے ساتھ ان کی انتخابی مہم میں باقاعدہ شرکت بھی کی تھی اور میں تمام جلسوں کی رپورٹنگ کرتا تھا اور بیس بیس گھنٹے کام کرتا تھا۔

ایوب خان طبیعت کے کیسے انسان تھے؟

بہت ہنس مکھ، نفیس انسان اور خوش مزاج بھی تھے گو پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے میں ان کا بڑا کردار تھا، ایک واقعہ بتاتا ہوں، رپورٹنگ کے دوران دیکھا کہ ایک شخص نے ایوب خان پر جوتا پھینکا جو سٹیج کے درمیان آکر گرا۔ خوش قسمتی سے وہ ان کو لگا نہیں۔ اس خبر کو رُکوانے کی پوری کوشش کی گئی۔ اُردو اخبارات میں تو واقعہ کوڈ ہو گیا مگر کسی انگریزی اخبار میں اس کو شائع نہیں ہونے دیا گیا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بہت سے واقعات کے آپ چشم دیدہ گواہ ہیں کہ آپ صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھٹو کے ساتھ ڈھاکہ گئے اور واپس بھی اسی کے ساتھ آئے، کچھ یادیں شیئر کریں گے؟

فروری 1971ء میں ہم ڈھاکہ گئے۔ رپورٹنگ کے لیے میرا انتخاب ہوا کہ میں پی پی پی کے بننے کے عمل سے بھٹو کے ساتھ ساتھ رہا، یہاں ایک بڑے واقعہ کا ذکر کرتا چلوں کہ بھٹو نے مشرقی پاکستان جانے سے انکار نہیں کیا، مگر یہ ضرور کہا کہ ادھر تم ادھر ہم جبکہ وہ اس سے انکار کرتے رہے۔ بات ایک ہی تھی، بھٹو کے اصل الفاظ یہ تھے کہ میں اس ونگ سے اور تم اس ونگ سے جیتے ہو اور عباس اطہر جنہوں نے یہ سُرخی نکالی تھی، میں خود وہاں موجود تھا۔ میرے علاوہ آئی اے رحمان، عبداللہ ملک، نثار عثمانی بھی تھے۔ اسی اجلاس میں بھٹو نے کہا تھا کہ مجھے کابینہ میں لیا جائے۔ ڈپٹی پرائم منسٹر بنایا جائے اور یہ کہ وزارت خارجہ ان کو ملے حالانکہ دیکھا جائے کہ میری نظر میں اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس زمانے میں تو مغربی پاکستان ایک اور مشرقی پاکستان دوسرا یونٹ تھا اور مجیب الرحمان نے چھ پوائنٹ پر شروع مچانا شروع کردیا تھا۔ اس وقت ان چھ مطالبات کا ایک ہی مقصد نظر آرہا تھا کہ وہ مغربی پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو 1940ء کی جو قرارداد لاہور تھی وہ کونسل کا فیصلہ تھا اور اس کو تبدیل کرنے کا کسی کے پاس اختیار نہیں رہا، اب ہمارا ملک ایسا ہے کہ یہاں سب چیزیں چل جاتی ہیں لہٰذا یہ بھی چل گیا اور مجیب کے چھ نکات سامنے آگئے۔

آپ اور بھٹو تو ایک ہی جہاز میں ڈھاکہ سے لاہور آئے، وہ کیا واقعہ تھا؟

اسی روز دو کشمیری نوجوانوں ہاشم اور اشرف گنگا جہاز اغوا کر کے لاہور لے آئے تھے۔ ڈھاکہ ہی میں بھٹو نے کہا تھ اکہ ان کو ہیروز ویلکم ملے اور اگلے دن مال روڈ پر اس سلسلے میں جلوس نکلا اور جیسے ہی بھٹو اقتدار میں آئے تو یہی لوگ ملک دُشمن قرار دے دیئے گئے اور گنگا کا اغواء بھارتی سازش کا حصہ بنا دیا گیا، ان کو شاہی قلعہ لے جایا گیا، ان پر ٹارچر ہوا۔

آپ کو جیل بھی ہوئی، کیا الزام تھا آپ پر؟

بھٹو نے ایک مارشل آرڈر مصطفیٰ کھر سے جاری کرایا، میرے ’’پنجاب پنچ‘‘ میں کچھ ایسی چیزیں شائع ہوئیں جو حکومت پر تنقید تھیں۔ میرے ہفت روزہ پر پابندی عائد کردی گئی، اس وقت پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کھر تھے۔

یہ آپ کی پہلی گرفتاری تھی؟

بھٹو کے زمانہ اقتدار میں یہ میری پہلی گرفتاری تھی اور اس میں مجھے سزا بھی ہوئی، ویسے تو ایوب خان کی حکومت میں بھی ہمیں پکڑا گیا، اس زمانے میں شعیب الحق وزیرخزانہ تھے اور پی پی آئی کے منظم صاحب کے وزیرخزانہ سے بہت دوستی تھی۔ ادھر میں صحافی بن کر پی پی آئی میں باقاعدہ ملازمت کررہا تھا لہٰذا وزیرخزانہ کی مداخلت پر میں چند گھنٹوں کے بعد رہا کردیا گیا۔ انہوں نے انہی دنوں خالد حسن کو پریس سیکرٹری مقرر کیا، وہ میرا دوست اور ساتھی رہاہے۔ خالد حسن کی خوبی یہ تھی کہ وہ انکم ٹیکس کی اس لیے نوکری چھوڑ کر آیا کہ وہ رشوت کے بہت خلاف تھا، لہٰذا وہاں سے استعفیٰ دیا اور صحافت میں آگیا۔ اس نے بھٹو صاحب کو لکھا کہ یہ بہت اچھا اخبار ہے۔ نوجوان اس کو زیادہ پڑھتے ہیں کہ اس میں زیادہ مزاح ہوتا ہے لہٰذا آپ اس کو اگنور کریں۔ خالد نے بعد میں مجھے اس خط کی فوٹوکاپی بھی بھجوائی جس پر اس نے ریمارکس لکھے۔ اس خط کے باوجود بھٹو نے مارشل آرڈر 54 کے تحت اخبار بند کردیا۔ ہم چاہتے تھے کہ پاکستان میں جمہوریت کو فروغ ملے اور اخبار میں صرف بھٹو نہیں شیخ مجیب پر تو کھل کر تنقید ہوتی تھی۔ دوسری طرف بھٹو چاہتے تھے کہ کسی طرح اسمبلی کا اجلاس نہ ہو۔ اسی دوران یحییٰ خان بھٹو کے پاس لاڑکانہ گئے۔ اس میں زم جو بڑے نامور صحافی تھے، انہوںنے ’’ڈان‘‘ میں ایک سُرخی لگائی کہ ’’انڈراے مینگورٹری‘‘ ایک دن ’’سن‘‘ کے چیف ایڈیٹر شمیم صاحب نے بھی لگائی تھی۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان میں دو تین بڑے نام تھے جو صرف دو لفظوں میں سرخی لگایا کرتے تھے۔ ان میں زم، شمیم صاحب اور دی سن کے رضوی صاحب شامل تھے حتیٰ کہ اس زمانے میں ایک لفظ کی بھی سرخی لگی۔ انگلش صحافت کی یہی تو ایک بڑی خوبی ہے تو میرے اخبار کے علاوہ شامی صاحب کا ’’زندگی‘‘ اور الطاف حسن قریشی صاحب کا ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ بھی بند کر کے دونوں کو گرفتار کرلیا گیا، وہی الزام جو مجھ پر لگا اسی کی زد میں یہ بھی آگئے۔

یہ1971ء کی بات ہے؟

جی یہ 1971ء کی بات ہے، ایک بات بھول گیا وہ بھی بتاتا چلوں۔ ان دنوں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی ہڑتال کے سلسلے میںمقبول بٹ بھی جیل میں ہمارے ساتھ ڈال دیئے گئے۔ اس زمانے میں آئوٹ لُک کے ایڈمنسٹریٹر زبیری صاحب ہوتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ حسین نقی تم بہت تیز جارہے ہو، میں نے کہا کہ میں نے تو بھٹو کے حق میں بہت کچھ لکھا ہوا ہے اور میں نے آئوٹ لُک میں جو سٹوریاں دیں وہ سب آپ کے علم میں ہیں لہٰذا بھٹو آپ کو بھی نہیں چھوڑے گا کہ وہ ایک لفظ بھی تنقید کا برداشت نہیں کرتا، ہم صرف یہ لکھ رہے تھے کہ ڈپٹی وزیراعظم بننے کا آپ کو حق نہیں ہے۔ جنگ کے دوران جس میں بھٹو نے ’’اِدھر تم اُدھر ہم‘‘ کا نعرہ لگایا تو اس وقت بھی میٹنگ کے دوران میں نے بھٹو کو ٹوکا تھا کہ آپ کو پنجاب کے علاوہ سندھ میں معمولی اکثریت ملی ہے۔

وہ تو ون یونٹ کا دور تھا؟

جی بالکل ون یونٹ کے تحت یحییٰ نے انتخابات کرائے تو گرفتاری کے وقت ہمیں کہا گیا کہ آپ نہ ایڈیٹر اور نہ پرنٹر ہو سکتے ہیں۔ ٹرائل کے لیے ایک کورٹ لے جایا گیا۔ ہم نے اس کورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ سویلین حکومت ہونی چاہیے، یہ تو سیاسی لوگ ہیں، یہ کیسے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ پوری دُنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ سول لوگ فوجی اختیارات استعمال کریں۔ بہرحال کورٹ میں گئے تو میں سگار پی رہا تھا۔ میں نے پریزائیڈنگ آفیسر کو کہا کہ ہم تو آپ کی کورٹ نہیں مانتے لہٰذا ہم سموکنگ کرسکتے ہیں تو اس نے جواب میں کہا کہ آپ جو بھی کرسکتے ہیں کریں، میرے پاس تو فائل میں لکھا ہوا آرڈر موجود ہیں، لہٰذا اس نے ہمیں ایک سال کی سزا دے دی اور پہنچ گئے کوٹ لکھپت جیل ،جہاں تھرڈ کلاس دی گئی۔ میرے علاوہ مظفر قادر جو پنجاب پنچ کے پرنٹر تھے، جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ میرے پرنٹر پبلشر بھی تھے جبکہ ایسا نہیں تھا اور نہ میں ان کا ملازم رہا۔ یہ میرا ذاتی اخبار تھا، مظفر قادر کا تعلق بیوروکریسی سے رہا تھا تو جیل میں جب صبح ہوتی تو کئی قسم کے ناشتے آگئے تو معلوم ہوا کہ بیوروکریسی میں کس قدر اتحاد ہے اور وہ اپنے بندوں کا جیل میں بھی خیال کرتے ہیں۔ اس زمانے میں افضل آغا چیف سیکرٹری تھے۔ انہوں نے پگڑی پہنے ملازمین کو ناشتے پر بھیجا۔ اعجازالحسن قریشی، مجیب الرحمن شامی، الطاف حسن قریشی، یہ بھی ایک ہی دن جیل آئے۔ ہم میں صرف شامی صاحب ذرا پریشان تھے، چند دنوں کے بعد گنگا اغواء کرنے والے دونوں مرکزی کردار ہاشم اور اشرف کے ساتھ مقبول بٹ بھی تھے اور ان پر اس قدر ٹارچر کیا گیا کہ ان کی ٹانگوں سے گوشت تک اُڑ گیا تھا۔

جیل میں آپ کتنا عرصہ رہے؟

چھ ماہ تک ہم جیل میں رہے۔ اس دوران مظفر قادر کو ساہیوال جیل لے جایا گیا، مجھے جہلم جیل میں لے گئے۔ وہاں ایک بیرک تھی، وہ فوجیوں کی بی بلاک بیرک کہلاتی تھی۔ میں اکیلا تھا ۔ دوسری طرف بھٹو نے شملہ جانا تھا۔ ادھر اپوزیشن نے یہ ڈیمانڈ کردی کہ پہلے اسیر صحافیوں کو رہا کرو، ان کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ ان کی رہائی ہو گی تو ہم سپورٹ کریں گے، پھر ہنگامی طور پر ہمارے ریلیز آرڈر ہوئے اور مجھے ایک قیدی نے اطلاع دی کہ ریڈیو پر آپ کی رہائی کی خبر آگئی ہے، رہائی کے بعد جہلم سٹیشن سے لاہور آئے تو راستے میں لوگوں نے میرے اُوپر پھول نچھاور کیے، بعض نے تو نوٹ بھی پھینکے کیونکہ اخبارات میں روزانہ ہماری خبریں لگتی تھیں۔

آپ نے پھر اخبار دوبارہ نہیں نکالا؟

وہ کئی بار تو بند ہو چکا تھا مگر نکالتا رہا۔ اس کے بعد اس بات کی گنجائش نہیں رہی کہ دوبارہ اس کو نکالتا۔ اس کے بعد ایک بڑی بات یہ ہوئی کہ میں نے کشمیری حریت پسندوں کی ان کے ساتھ ملاقات کرائی اور ’’زندگی‘‘ اور ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ میں ان کا سارا موقف شائع کرادیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کو باعزت بری کیا۔ جہاں تک میرے قلم کا تعلق ہے میں مختلف جگہوں پر لکھتا رہا۔ کوئی جاب نہیں کی، آپ کو ایک اور شخص سے ملواتا چلوں، پی ٹی وی کے ایک بڑے خوبصورت اینکر ہوا کرتے تھے محمد ادریس، ان دنوں انفارمیشن سیکرٹری حفیظ الرحمان بہت ایماندار آفیسر تھے تو ہوا یہ کہ ہم لنڈے سے کوٹ پتلون اور سویٹر خریدا کرتے تھے، میں، زم اور ادریس لنڈے میں جاتے، بعد میں ہمارے اس گروپ میں اداکار ننھا بھی آگئے اور اے ٹی چوہدری بھی آگئے اور جب لوگ پوچھتے کہ کہاں سے خریدے، بڑے زبردست ہیں تو ہم کہتے یہ برطانیہ لنڈے سے لائے ہیں۔ انہی دنوں محمد ادریس کو ڈیٹ لائن انٹرنیشنل کے عنوان سے ایک پروگرام مل گیا۔ زم پاکستان ٹائمز میں تھا اور اس پروگرام کی سٹوری وہ ہم دونوں سے لکھواتا۔ اس وقت اس کو ایک پروگرام کے تین ہزار روپے ملا کرتے تھے۔ ان میں سے آدھے پیسے وہ ہمیں ہمارے معاوضے کے طور پر دیتا بلکہ زم کو میری نسبت زیادہ پیسے ملا کرتے تھے گو مجھے روزنامہ ’’سن‘‘ یا پی پی آئی میں جو تنخواہ ملا کرتی وہ زیادہ تھی۔ ان دنوں میری بیگم امروز میں لکھا کرتی تھیں۔ کراچی کے ایک طالب علم رہنما سرور امروز کے چیف ایڈیٹر ہارون سعد کے بہنوئی تھے اور ہارون سعد صاحب بھی لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے اور میرے گھر کے پاس ان کی رہائش ہوتی تھی۔ ان سے پُرانی یادیں اور یاداللہ رہی، ہارون سعد رائٹسٹس تھے۔

بھٹو کے بعد آپ نے ضیاء الحق کا دور بھی دیکھا؟

جب سقوط ڈھاکہ ہوا تھا تو لاہور میں ایک ڈی ایس پی درانی تھے اور مشہور آدمی رہا۔ بعد میں ڈی آئی جی بنا تو اس نے ضیاء الحق کے اقتدار میں آتے ہی انہوں نے مجھے گرفتار کرا دیا، جب وہ مجھے گرفتار کرنے آئے تو انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ نقی صاحب آپ کا ہر ایک سے اختلاف کیوں ہوتا ہے، میں نے کہا کہ میرا تو کسی سے اختلاف نہیں ہوا، یہ لوگ کام ہی ایسا کرتے ہیں کہ مجھے ان کے بارے میں لکھنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بھٹو نے اپنے آخری مہینوں میں پی پی آئی پر قبضہ کرلیا۔ ایک انڈسٹریل مین لطیف ابراہیم جمال ہوا کرتے تھے، ان سے پیسے لے کر معظم صاحب کو دے دیئے۔ جمال صاحب نے ’’ڈان‘‘ کے جاوید صاحب کو جو میرے اُستاد بھی ہیں، سے کہا کہ میں تو نہیں جانتا کہ پریس کے کیا معاملات ہوتے ہیں لہٰذا اس کو بٹھا لوتو انہوں نے کہا کہ میں ایک ورکر ٹیم بنا دیتا ہوں لہٰذا انہوں نے مجھے ورکرز کی طرف سے دوبارہ بیوروچیف بنادیا، لاہور کا، ایسا ہوا کہ میرے گھر ایک خط آگیا ، اس خط میں یہ لکھا ہوا تھا کہ یعنی انتظامیہ کو یہ ڈائریکشن دی گئی کہ کوئی ایسا اتحاد نہ بننے دیا جائے جس میں جرنلسٹ، طالب علم اور مزدور رہنما یا انڈسٹریل ورکرز شامل ہوں اور اگر یہ اتحاد بن گیا تو یہ حکومت کے لیے مشکلات پیداکرے گا۔ بھٹو کے زمانے میں بھی اس طرح کے خط جاری ہوتے تھے اور یہ سرکلر تو ضیاء الحق نے جاری کردیا۔ پھر انہی دنوں پی پی آئی منظم صاحب کو واپس کردی گئی۔ ان کے آنے کے بعد میری نوکری مزید پکی ہو گئی۔ اس زمانے میں طاہر مرزا صاحب جو ہفت روزہ ’’ویوپوائنٹ‘‘ میں ڈائری لکھا کرتے تھے، وہ بھی پی پی آئی میں آگئے اور میں نے ’’ویوپوائنٹ‘‘ میں لاہور کی ڈائری لکھنا شروع کردی۔ اس لیے کہ طاہر مرزا کے چلے جانے کے بعد مظہر صاحب نے مجھے کہا آپ لاہور کی ڈائری لکھا کرو۔ اسی دوران ایک دن میں گھر کے برآمدے میں بیٹھا تھا کہ دو تین لوگ آئے اور میرے بارے پوچھنا شروع کردیا، میں نے کہا کہ آپ آئی ایس آئی یا کسی اور ایجنسی سے آئے ہیں کیونکہ آپ سویلین نہیں لگتے کہ میں بہت سے لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ مسکرا کر چلے گئے اور اسی شام 4بجے کے قریب میرے گھر پھر آئے، مجھے لگا کہ یہ تو سی آئی ڈی سے آئے ہیں، ایک نے کہا کہ سر آپ میرے ساتھ چلیں، میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس دوران میرے برادر اِن لاء نے گاڑی کو فالو کیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ مجھے قلعہ لے آئے ہیں، راستے میں انہوں نے بتایا کہ نقی صاحب اگر ہم آپ کو نہ پکڑتے تو وہ لوگ (دوسرے) آپ کو پکڑ کر لے آتے، پتہ نہیں وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتے لہٰذا ہم نے آپ کو پکڑا، اس قلعے کو نوازشریف کی حکومت نے قیدیوں کے رکھنے کے سلسلے میں بند کرادیا۔

اس وقت قلعے میں اور کون لوگ تھے؟

بہت لوگ تھے اس قلعے میں، پی پی پی کی لڑکیاں بھی گرفتار کرکے لائی گئیں، وہ بہت شور مچاتی تھیں۔ ویوپوائنٹ کے مظہر علی خان بھی دو تین دن وہاں رہے۔ جب قلعہ لایا گیا تو بہت سردی تھی۔ ایک بند کمرے میں بغیرچارپائی، گدھے یا کسی اور سہولت کے ،صرف یہ کہ کمرے ہی میں ایک کونے پر باتھ روم بہت بدبودار کمرہ تھا تو ایک دن درانی صاحب وہاں آئے تو مجھے دیکھتے ہی بلند آواز میں کہنے لگے کہ ارے آپ پھر آگئے، کیا وجہ ہے کہ ہر حکومت کے ساتھ آپ کا اختلاف ہوتا ہے، میں نے کہا کہ کہاں حکومت، کہاں ایک لکھاری، لکھنا ہی میرا جرم بنتا ہے،بہرحال انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کو گدا، چارپائی اور کمبل فوری مہیا کیا جائے، یوں میں تھڑے پر سونے سے بچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ آرام کریں، صبح چند لوگ آپ سے پوچھ گچھ کرنے آئیں گے،

اگلے دن رانا واصف آگئے جو انٹیلی جنس بیورو میں تھا، اس کو میں کئی مواقع پر مل چکا تھا، انہوں نے آتے ہی کہا کہ آج کا ناشتہ تو میں آپ کو کرائوں گا، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اب آپ پولیس کی تحویل میں ہیں، میں نے ان کو بتا دیا کہ ہم ایوب خان سے بھٹو کے زمانے کو سہتے آئے ہیں، ان کو جا کر بتا دیں کہ وہ چلے گئے تو جانا آپ نے بھی ہے، پھر کہنے لگے کہ آپ کو نیچے جانا ہو گا، میں نے کہا، نیچے کہاں؟ تو وہ بولے کہ یہ جو انٹیروگیشن ہوتا ہے وہ تہہ خانہ میں ہوتاہے۔ میں نے کہا کہ وہاں تو ٹارچر وغیرہ کرتے ہیں، دیکھیں ایک خوف تو ہوتا ہے، تھوڑی دیر کے لیے مجھے ڈر بھی لگا مگر میں کانپا یا رویا نہیں، بہرحال وہ مجھے نیچے لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد وہاں دوتین اور لوگ آگئے اور کہنے لگے کہ آپ کسی جنرل کو جانتے ہیں۔ میں نے جواب میں کہا کہ میں جن کو جانتا ہوں وہ تو ریٹائرڈ جنرل ہیں، انہوں نے نام پوچھا تو اتنی دیر میں ایک دو لوگ اور آگئے، شاید ایک ایسا سائونڈ سسٹم تھا کہ وہ ریکارڈنگ باہر کی جارہی تھی۔ انہوں نے بھی نام کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ جنرل ٹکا خان، جو اس وقت پی پی پی کے جنرل سیکرٹری تھے، وہ پھر بولے کہ آپ مذاق کررہے ہیں، آپ کو پتہ ہے کہ یہاں کیا ہوسکتا ہے، میں نے کہا کہ مجھے بھی پتہ ہے کہ میرے ساتھ یہاں ٹارچر ہوسکتا ہے۔ ان دنوں بھٹو تو گرفتار ہوچکا تھا جبکہ میرے تو فوج میں کسی کے ساتھ نہ ذاتی اور نہ صحافتی تعلقات ہیں، انہوں نے پھر کہا کہ آپ کے پاس سے یہ اطلاع کہاں سے آئی کہ ضیاء صاحب نے خط کے ذریعے پابندی لگانے کی بات کی ہے۔ میں نے پھر کہا کہ میں صحافی ہوں، میرے پاس تو بیرون اور اندرون ملک سے تحریری اطلاعات بھی آتی ہیں، انہوں نے خط کے بارے میں پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ ہاں خط ہے، وہ خط حاصل کرنے کے لیے وہ مجھے میرے دفتر لے گئے، پھر گھر میں، وہ خط میں نے ان کو دے دیا، یہاں ایک اور دلچسپ واقعہ ہوا کہ یہیں معلوم ہوا کہ خفیہ اداروں کو اس بات کا شک زیادہ تھا کہ روسی مظہر علی خان اور حسین نقی کو قلعے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اُٹھا کر لے جائیں گے۔ انہوں نے پھر ایک اور مسئلہ چھیڑ دیا کہ یہ خط حسین نقی کے پاس کیسے آیا، اب اصل سٹوری یہ تھی کہ ہوم سیکرٹری تھے شاہ صاحب، جب اعتزاز احسن وزیر تھا تو وہی سیکرٹری رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا یہ خیال تھا کہ روسی سفیر کے پاس خط آیا، اس نے آگے مظہر علی خان کو دیا اور مظہر علی خان نے میرے حوالے کیا۔ پھر سپیشل ٹربیونل میں مقدمہ چلا، میں، مظہر علی خان اور عزیز ضیاء نے بے شمار پیشیاں بھگتیں، میاں محمود علی قصوری ہمارے وکیل تھے۔ ہماری ضمانت ہو گئی، جب میں جیل سے گھر آیا تو قصوری صاحب کا فون آیا کہ یار نقی تجھ سے ایک معذرت کرنی ہے کہ میں فیس کے بغیر کام نہیں کرتا، تم پہلے ایک روپیہ جمع کروائو، یوں ایک روپے میں انہوں نے ہمارا مقدمہ لڑا، جب پی پی آئی میں دوبارہ آیا تو ضیاء حکومت کا منظم صاحب کو فون آیا کہ اس کو نکالو تو انہوں نے کہا کہ کیوں نکالوں، نقی نے کبھی ہماری پالیسی کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کیا لہٰذا میں اب اس کو نہیں نکالوں گا، اگر کوئی بڑا مسئلہ ہوا تو میں خود ضیاء الحق سے بات کروں گا۔ پھر بینظیر کی حکومت آئی تو ہمارے سارے کیس ختم کردیئے گئے۔

آپ نے پنجابی اخبار بھی نکالا، کہاں آپ اُردو سپوکن، ساری عمر انگریزی اخبار کی صحافت کی اور پھر یہ پنجابی زبان میں اخبار نکال دیا؟

67ء میں، میں نے روزنامہ ’’عبرت‘‘ میں بھی کام کیا۔ اس زمانے میں علی محمد میرے ساتھ تھے جنہوں نے بعد میں اپنا اخبار بھی نکالا تھا، وہ پنجابی تھے اور جب 58ء میں لاہور پاک ٹی ہائوس میں بیٹھا کرتا تو سجاد رضوی پنجابی میں گفتگو کرتے، انہی دنوں میری دوستی شفقت سے ہو گئی کہ یہ ان دنوں روزنامہ ’’امروز‘‘ لاہور میں کام کرتے تھے۔ پنجابی زبان کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ کتابوں میں کوئی پڑھ کر تو اس کو نہیں سیکھے گا، اس کے لیے تو روزنامہ ضروری ہے۔ پہلے ہم نے مل کر ایک پنجابی آگنائزیشن بنائی اور طے کیا کہ ایک پنجابی اخبار نکالیں۔ اس کے لیے طے ہوا کہ پہلے سودن کے لیے اخبار کے پیسے اکٹھے کیے جائیں۔ میں نے پیسوں کے لیے پہلے تیس افراد کی لسٹ بنائی کہ 3لاکھ اکٹھا کرنے کے لیے ہر ایک سے دس بیس ہزار اکٹھے کریں، سوان تعلقات والے افسران کے پاس باری باری گیا، یہ ایک طویل بات ہو جائے گی۔ یہ تین لاکھ روپے اکٹھے ہو گئے۔ میں اس زمانے میں جب پنجاب پن نکالا کرتا تھا، اس زمانے میں ساڑھے 14روپے کا رِم لیا کرتا تھا۔

پہلے دس ہزار روپے کس نے دیئے؟

میں سب سے پہلے ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر گیا، جن کا دو تین روز قبل انتقال ہو گیا ہے۔ ان سے کہا کہ دس ہزار دو یا چیک، تو بولے کہ کیا کرنا ہیں، میں نے نہیں بتایا کہ اخبار نکال رہا ہوں، وہ تھے بڑے کنجوس، اس کے باوجود وہ دوسرے کمرے میں گئے اور دس ہزار روپے کا چیک لے آئے۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ہوئی کہ میرے حلقہ میں بیٹھنے والے زیادہ پنجابیوں نے اعتراض کیا کہ پنجابی اخبار کیسے نکالو گے، اس کی ساخت کیا ہو گی، بہرحال میں نے سب لوگوں سے پنجابی میں مضمون لکھوائے اور نوائے وقت، پاکستان، جنگ میں اشتہارات چھپوائے جو مفت چھپے۔ پھر اخبار کی باقاعدہ اشاعت ہو گئی۔

یہ اخبار کتنی مدت تک چلا؟

مسلسل اٹھارہ ماہ تک اخبار نکلا۔ پھر حالات نے اجازت نہ دی اور اخبار بند کردیا اور ورکرز کی تمام تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے میں نے اپنی بیوی سے 50ہزار روپے لیے جو اس کو ابھی تک واپس نہیں کرسکا۔

بینظیر کی حکومت سے بھی تو واسطہ پڑا؟

ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ پریس ٹرسٹ کو توڑ دیں اور آپ کے ابا نے میرے ساتھ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کو توڑ دیں گے بلکہ بھٹو نے تو پریس ٹرسٹ کو زیادہ استعمال کیا، اس کے بعد وہ اکثر مجھ سے جب کوئی پریس کانفرنس ہوتی تو مجھ سے پوچھتی رہتی تھیں کہ اگر کوئی کام ہو تو بتائو، ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ آپ کے ہمارے شہید بابا کے ساتھ کیا اختلافات تھے تو میں نے کہا کہ اب وہ دُنیا میں نہیں رہے تو مرنے والے کے بارے میں اس کے بچوں سے بات نہیں کرنا چاہیے، جب وہ وزیراعظم بن گئیں تو ان سے ملنے کراچی گیا۔ میرے ساتھ واجدالحسن تھے۔ اس وقت بلاول جو شاید چھ ماہ کا تھا، وہ گود میں لیے بولیں کہ بتائیں کیا حکم ہے، آپ کے لیے میں کیا کرسکتی ہوں اور ہم نے سنا ہے کہ آپ کو مجھ سے کچھ چاہیے تو میں بولا، ہاں چاہیے ، ایک تو مجھے تمام سرکاری کمرشل اشتہارات چاہئیں، میں پنجابی کا ایک اخبار نکال رہا ہوں ، انہوں نے فوراً شاہ جہاں کریم کو بلایا اور کہا کہ جو نقی صاحب کہیں وہ آپ نے کرنا ہے، میں نے ان سے وہی بات کی، جو محترمہ سے کرچکا تھا اور روزنامہ ’’سجن‘‘ کو بھی دیں۔ یہاں محترمہ کو میں نے یاد کرایا کہ آپ نے کہا تھا کہ صوبائی سطح پر مختلف زبانوں کے فروغ کے لیے آپ پیسے دیں گی، پھر انہوں نے تفصیل بتائی کہ کس کس سندھی اخبار کو انہوں نے پیسہ دیا۔ پشتو کی بھی مدد کی تو میں نے کہا کہ پنجابی اخبار کو بھی دو، انہوں نے مجھے دس لاکھ روپے دلوائے۔ نوازشریف نے بھی اس زمانے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ آرائیں صاحب سے کہہ کر روزنامہ ’’سجن‘‘ کو پیسے دلوائے۔

اٹھارہ لاکھ روپے لگا کر آپ نے اخبار بند کردیا؟

اخراجات تھے کہ بڑھتے گئے، پھر اس کو اشتہارات ملنا بند ہو گئے، حکومتیں بدلیں، حالات بدلے، میں کوئی اخبار کا سیٹھ تو تھا نہیں۔

1971ء میں آپ نے ’’دی سن‘‘ جو کراچی سے شائع ہوتا تھا، وہ کیسے جوائن کیا؟

مجھے 1971ء میں کراچی سے شمیم صاحب کا پیغام ملا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اخبار کو جوائن کریں، یوں ان کی دعوت پر کراچی گیا اور انہوں نے مجھے پنجاب کا بیوروچیف مقرر کردیا۔

1971ء ہی میں آپ ڈھاکہ گئے، وہ کیا واقعہ تھا؟

مجھے ایک رات پیغام ملا کہ آپ نے صبح ڈھاکہ جانا ہے، ان دنوں صبح فلائٹ جاتی تھی۔ ایئرپورٹ گیا تو وہاں ٹکٹ ملا۔

آپ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے چشم دید گواہ ہیں، بھٹو پر یہ الزام درست ہے کہ وہ علیحدگی کا ذمہ دار ہے؟

اگر سیاسی لیڈرشپ کی بات کروں تو پھر یہ ساری ذمہ داری بھٹو پر عائد نہیںہوتی ہے۔ انہی دنوں مجیب نے تقریر کی تھی کہ میں ریفارمز کروں گا، اس کے تحت فوجی آفیسر اور سول سرونٹس جو گریڈ17 کے اُوپر ہوں گے ان کو مغربی پاکستان نہیں بھیجوں گا تاکہ دونوں طرف بوجھ نہ پڑے۔ اس پر میں نے بھٹو سے کہا کہ اب تو آپ کا کام آسان ہو گیا، اب آپ کی ذمہ داریوں میں بھی کمی ہو جائے گی، یہ تو اس کا اچھا اقدام ہے۔

ڈھاکہ سے یہ ایک مثبت پیغام تھا؟

مگر بھٹو کے ارادے کچھ اور تھے، وہ ڈھاکہ سے جب پاکستان واپس آیا اور میں بھی اسی فلائٹ میں تھا تو ایئرپورٹ پر اُترتے ہی یہ نعرہ بلند کیا کہ خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا، میں نے پریس کانفرنس کے دوران ہی بھٹو سے کہا کہ آپ سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان بچا نہیں بلکہ پاکستان ٹوٹ گیا۔ اب کچھ باقی بچا نہیں، اس پر بھٹو بولے، یار تم تو مجھے قیوم خان کے طریقے سے استعمال کررہے ہو۔ میں نے کہا، میں ان کو جانتا ہوں مگر وہ ایسے نہیں ہیں، میں نے پھر کہا کہ دُنیا کی تاریخ جس قدر آپ نے پڑھی ہے وہ تو شاید ممتاز دولتانہ بھی نہیں جانتا ہو گا۔

آخری سوال، آخری بات! کیا الیکٹرانک میڈیا کے دور میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور افادیت کم نہیں ہوگئی؟

اس کی افادیت کم یا خاتمے کی طرف ہوتی تو آج لاکھوں کتابوں کی اشاعت ممکن نہ ہوتی۔ آج پوری دُنیا میں اخبار شائع ہورہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی لانگ لائف ہے جبکہ الیکٹرانک میڈیا تو آپ کو 24 گھنٹے میں ایک بھی تحقیقاتی خبر یا ریفرنس نہیں دے پاتا، وہ لوگ بیوقوف ہیں جو پرنٹ میڈیا کے ختم ہونے کی بات کررہے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر