ظلم و جبر کیخلاف بلند آواز ،آغا شورش کاشمیری !
25 مارچ 2020 (16:51) 2020-03-25

اسد شہزاد

خبر پڑھیں:اس حکومت کے بعد

کہا جاتا ہے کہ تخلیق کار کا وطن تو ہوتا ہے مگر اس کی تخلیق کا کوئی وطن نہیں ہوتا کیونکہ تخلیق ایک آفاقی حیثیت کی حامل ہوتی ہے بشرطیکہ تخلیق خالص ہو اور اس کے سبھی دھارے جیون کی گہرائیوں اور بلندیوں سے پھوٹتے ہیں۔ آج ہمارے سامنے سومر کی تخلیقات ہیں۔ ہیوڈ کے قلمی کارنامے ہیں، گوتم کے افکار ہیں، شیکسپیئر کے شاہکار ہیں، کلس کی نظمیں اور اقبال کی شاعری ہے۔ میر، غالب، فراق کی عظیم شاعری ہے۔ بائرن کے خیالات ٹیگور کے نغمات اور سقراط کے خیالات ہیں۔ دانتے کا طربیہ خداوندی اور رومو کا عمرانی معاہدہ ہے۔ جان لاک، ابوالکلام آزاد، ارون دتی رائے اور جان ڈان کے فکری کمالات ہیں تو پھر ہمیں اس تاریخ ساز نام کو بھی لکھنا ہو گا جس نے بولنے کی جرأت اور طاقت دی جس نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھا کر نہ صرف اس قوم کو زندہ دلی کے ساتھ زندہ رہنے کا پیغام دیا وہاں شعور بھی دیا اور صحافت کو امر کردیا۔ آغا شورش کاشمیری جنہوں نے اپنے بیان میں اپنے کلام میں اپنی گرج دار آواز میں جہاں آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی وہاں قلم اور لفظ کو حرمت کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے ضامن بھی بنے۔

تخلیق کسی بھی ملک کی ہو، فنکار کسی بھی دھرتی کا ہو، ملک، زبان، مذہب، رنگ، نسل میں بہت کم ایسے لوگ جنم لیتے ہیں جن کے نام نسلوں میں اُتر جاتے ہیں۔ صدیاں ان کو زندہ رکھتی ہیں۔ ان کے اقوال میں ان کے الفاظ میں ان کے انداز میں ان کی زندہ تحریروں میں ان ناموں میں ہمارے درمیان ایک ہی نام نقش ہے آغاشورش کاشمیری ، جن کی زندگی ایک طویل تلاش ہے۔ اس تلاش کے سنگ میل تو ہیں مگر راستہ بہت طویل ہے۔

اک او تیری اوٹ خدایا ہو رئیس اوں کج سجدا

جس دیوے نوں آپے بالیں نین کسے نوں بجھدا

آغاجی کی تلاش کچھ اور تھی، منزل کچھ اور تھی، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں مقاصد کے حوالے کردیں۔ اس صدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے جہاں عظیم ہستیوں کو جنم دیا وہاں آغا شورش کاشمیری جیسی عظیم ہستیوں کو بھی جلابخشی اور وہ ایسے کام کرگئے جو ہماری تاریخ کا خوبصورت باب کے طور پر نسل درنسل پڑھیں جائیں گے۔ انہوں نے جتنی زندگی گزاری، بھرپور اور تنہا ہوتے ہوئے بھی خود کو لاکھوں کے مجمع میں زندہ رکھا، یہی ان کا کمال فن تھا… خدا کا وِرد، رسولؐ کی یاد، اس کی عظمت، اس کی راہ میں زندگی نچھاور کرتے ہوئے ہر عہد میں خود کو نقش پا بنالیا۔ صحافت ان کا انوکھا عشق تھا، سامنے محبوب تھا، نہ وصال نہ فراق تھا، محض ایک لگن تھی۔ انہوں نے اپنی اس لگن کو ہمیشہ افسانوں میں تلاش کیا اور اسی ہجوم میں رواں دواں رہے، کہاں ٹوٹ، کہاں ہمت کر ڈالی، کہیں ناکام تو پھر کہیں بہت کامیاب … ایک طویل کہانی ایک طویل داستان نہ ابتدا نہ انتہا … سفر میں کئی طوفان آئے۔ للکار کی شکل میں قلم اور اپنے ہاتھوں کو ہتھکڑیوں کے حوالے کیا۔ زندان میں حق کی آواز بلند کی۔ کئی طوفان خوبصورت سینے پر سہے مگر لبوں پراف کی بجائے خدا اور رسولؐ کی پکار سنی … یہ ہیں آغا شورس کاشمیری …!

میرے نزدیک ان کی تمام کامیابیوں میں ان کے ساتھ ان کا وہ عشق تھا جسے ماں کہتے ہیں، ان کی رومانیت میں وہ جھکے نہ بکے … جب پریشانی کا عالم آیا، صرف ماں کو دیکھا کہ ماں میں ایک خدا بھی تو ہے۔

وہ بہت مختلف اور ممتاز بھی تھے۔ ایمانداری اور خدمت ان کا طرہ امتیاز تھا۔ ہر دور میں نیاپن ان کی سانسوں میں جڑا ہوا تھا، وہ اپنی کہی ہوئی باتوں، اپنے لکھے ہوئے لفظوں اور سوچے ہوئے خیالوں اور کیے ہوئے کاموں میں فخر محسوس کرتے تھے اور ان کے بڑے پن کا کمال یہ تھا، وہ متکبر نہیں تھے اور نہ حد سے زیادہ خود پسند، کسی بڑے آدمی کے ہونے کی شہادت کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اس دور کا بڑا نام ہی اس کی عظمت کی شہادت ہوتا ہے۔ آغا شورش اس قافلے کے سردار تھے جو قائداعظمؒ کے پیروکار تھے۔ وطن کے رکھوالے تھے، سرحدوں کے امین تھے، لوگوں کے دلوں کی پکار اور ان کی شناخت تھے۔ آغاجی کی زندگی اس قدر وسیع تھی کہ ہر آدمی ان کی پہنچ میں جانے کا نہیں سوچ سکتا۔

ان کا ایک بڑا واضح پیغام تھا کہ کامیابی صرف زمانہ شناسی ہی میں نہیں ہوتی بلکہ انسانی روایات میں خود کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے کہ انسان اپنے مقدروں کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔

آغا شورش کاشمیری ایک کہنہ مشق انسان، کہنہ مشق صحافی ایک باہمت، طاقتور اور اصولوں کا ضامن انسان جب تک زندہ رہے خود کو اتنا مضبوط نہیں کیا بلکہ صحافت کو ایک جدوجہد کا نام دیا، ایک تحریک میں بدلا۔

آغا جی کے بارے میں یہ بات کہتے اور لفظوں کے حوالے کرتے ہوئے کہوں گا کہ ان کا شمار ان لوگوں میں کیا جاسکتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو مہینوں یا سالوں میں نہیں بدلا بلکہ قلم کی عظمت اور اس کے عزم کے ساتھ اُبھرے اور پھر زمانے میں خود کو منوایا … اور وہ کل کی طرح آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ اُردو شاعری میں جس طرح میرا اور غالب کا نام نہیں ملے گا۔ اسی طرح صدیوں میں اُترنے والا نام شورش کاشمیری بھی صحافت کے ایوانوں میں سنا، بولا اور پڑھا جاتا رہے گا۔ ایک ریفرنس ایک تحریک ایک ویژن ایک لیڈر … آغا جی نے ہمیشہ نااُمیدی میں ایک چراغ جلایا اور وہ اپنے پیچھے ایک ایسا اثاثہ چھوڑ گئے ہیں جو ان کے حوالوں کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے اور ان کی وفات ایک ایسی تحریک دے گئی ہے جو آغا شورش کاشمیری کی ایک خوبصورت شناخت ہے۔

مولانا رومی نے ایک بارکہا تھا:

سب لوگ قبروں میں جاتے ہیں لیکن اچھا انسان مر کر بھی لوگوں کے دلوں میں چلا جاتا ہے اور لوگ یاد کے ذریعے اس کو زندہ رکھتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ اپنے لیے زندہ رہنا ہے یا پھر سب کے لیے قبر میں جانا ہے یا لوگوں کے دلوں میں دفن ونا ہے، ایک اچھی یاد یا پھر نشان عبرت۔

آغا شورش کاشمیری اپنے پیشے کے اعتبار سے عظیم ٹھہرے اور پھر ایک وقار ایک علامت بن گئے۔ صحافت ایک مقدس جشن ہے۔ اس دور میں صحافت بامقصد ہوتی تھی اور شورش نے اس کا علم اُٹھاتے ہوئے عہد کیا تھا کہ وہ اس کی سچائی کا پاسبان بنے گا۔ پھر انہوں نے ’’چٹان‘‘ کی شکل میں اپنا عہد وفا نبھا دیا… ’’چٹان‘‘ کا ایک ایک لفظ آمر اور جابر کے سامنے کلمہ حق ہے۔ ہر دور میں ان کی آواز کو دبانے اور لفظ کی سچائی کو خریدنے کی کوشش ہوئی مگر کوئی غیرفطری عمل ان کے صحافتی اقدار کو تسخیر نہ کرسکا، ہر حکومتی آمر کو ٹھوکر ماری ’’زمیندار سے چٹان‘‘ تک کا سفر … صدیوں میں اُتر گیا۔

آغا شورش کاشمیری کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے فکرات کا پاسبان کہوں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ وفا کا پیکر اور ایک ایسے محب وطن پاکستانی تھے جن کے دل میں صرف پاکستانیت کا دل دھڑکتا تھا۔ صدرایوب خان کے دور میں پابندی صحافت اپنے عروج پر تھی، بے شمار پابندیوں کے باوجود انہوں نے حق اور سچ میں فاطمہ جناحؒ کا بھرپور ساتھ دیا۔

ایک بار کسی نے آغا جی سے سوال کیا!آپ کا اصل مشن کیا ہے تو آغاجی نے جواب میں بلندآواز میں کہا:

میں صرف خود کو خدا کا بندہ تصور کرتا ہوں۔ خدا مجھ سے وہ کام لے رہا ہے، اسی کی دی ہوئی ہمت اور جرأت سے سچ کا علم نبھائے ہوئے ہوں، یہ زندگی بھی اسی کی ہے، موت بھی اسی کی ہے اور آخرت ہی میرا اصل مقام ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے آغا شورش کاشمیری کے مشن کو فراموش کردیا ہے تو اس کا یہی جواب دیا جاسکتا ہے کہ جس طرح میرا سوسال کوئلے کے تاریک گھر میں بسیرا کرتا ہے تب جا کر وہ اپنی قیمت پاتا ہے اور سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے، سفردرسفر طے کر کے منزل کو قریب پانا گو ایک جملہ ہے مگر سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، رواں دواں رہتا ہے۔ وہ ایسا ہیرا تھے جس کی چمک آج بھی روشن روشن ہے۔ ان کی دمک آج بھی اندھیروں میں اُجالا کیے ہوئے ہے۔

یوں تو ان گنت واقعات، تحریریں، تصویریں، لیکچرز آغاجی کی زندگی کی لائبریری میں ایک تاریخ کا درجہ رکھتے ہیں مگر میرے نزدیک آغاجی جس قدر دلیر، بہادر، بے باک اور نڈر تھے اس سے زیادہ اپنے دل میں عشق کا مقام بھی رکھتے تھے ان کا نظریہ عشق کیا تھا؟

ان کے نزدیک عشق ہی اس کارخانہ ہستی کو چلانے والا ہے۔ عشق ہی کا ظہور پذیر ہے آگ میں سوزش، پانی میں روانی، خاک میں قرار، ہوا میں اضطرار، عشق ہی سے موت عشق ہی کی مستی اور زندگی اس کی ہوشیاری ہے۔ ون عشق کی بیداری، حسن عشق کا مال اور کافر عشق کا جلال ہے۔ نیکی عشق کا قرب اور گناہ اس سے دوری ہے اور یہی بات انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے پوری کی۔ آغا شورش کاشمیری جذبوں کے کردار کی تحریک صحافت کے وہ کاررواں تھے جن کو زمانہ آج بھی ان کے حوالوں کے ساتھ ان کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

٭٭٭

آغا شورش کاشمیری ، کلمہ حق کی آواز کا داستان گو

وہ اپنی ذات میں کیا تھا، یہ میرا خود اپنے سے سوال ہے؟

کہتے ہیں کہ دُنیا ایک زندگی ہے، وقت اس کا پیمانہ … نام اس کی شناخت اور پہچان اس کی اقدار کا حوالہ بنتی ہے۔

کہتے ہیں کہ لمحے صدیوں میں اُترتے ہیں، صدیاں اپنے ہیروز کو زندہ رکھتی ہیں۔ وہ ہیرو جو زمانوں میں اُترے تو آغا شورش کاشمیری کہلائے۔

ایک سنگ میل … ایک مصور، ایک شاعر، ایک ادیب، ایک صحافی، ایک سنگ تراش یہ سب ہمارے ہیروز ہیں، فخر ہیں، شناخت ہیں، شورش کاشمیری لمحوں کی جگہ کوئی اور ’’ شورش ‘‘ پیدا نہ کرسکے … یہ خلاء ایک دور کا خلاء نہیں ہے، یہ تو زمانوں اور صدیوں کا خسارہ ہے اور یہ دُکھ وہی محسوس کرے گا جو اس سمندر کے پانی میں اُترا ہو کہ وہ تو ایک دریا تھا جو سمندر میں اُتر گیا اور گہرے نیلے سمندروں میں دریا کا پتہ کبھی نہیں چلتا۔

پڑھنے والو! صحافت نے مجھے کیا دیا تو میرا جواب ہے کہ میں ان خوش قسمت قلم کاروں میں سے ہوں جنہوں نے ان ہاتھوں کو چھوا ہے، ان کا لمس محسوس کیا ہے۔ جن ہاتھوں نے لکھے لفظ کی مرتے دم تک حفاظت کی اور لفظ ہی کی حرمت کے سائے تلے لحد میں اُتر گیا۔

قارئین!

موت برحق ہے جو اس دُنیا میں آتا ہے۔ ایک دن اس کی واپسی بھی ہونا ہے۔ دُنیا میں روزانہ نجانے کتنی زندگیاں وجود پاتی ہیں اور کتنے لحد میں اُتر جاتے ہیں۔ ظالم، مظلوم، عالم، جاہل اور نامور گمنام مگر جو کچھ ہوتے ہیں صرف اس دُنیا کے حوالے سے…

دائم رہے گی دُنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

آغاجی گو ہم میں نہیں ہیں مگران کے لفظ زندہ ہیں، ان کی تحریر زندہ ہے۔ ان کی شعلہ بیانی آج بھی مستقبل کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وجود نہ سہی، ان کے محسوسات ان کی یادیں، باتیں، شاعری، دلوں کو چھوتی تحریک … جب تک قلم اور کاغذ کا رشتہ ہے تب تک آغا شورش کاشمیری زندہ ہے اور زندہ لوگ کبھی مرتے نہیں اور مرتے ہیں تو زندہ رہنے کے لیے۔

٭٭٭

آغاجی گو ہم میں نہیں ہیں مگران کے لفظ زندہ ہیں، ان کی تحریر زندہ ہے۔ ان کی شعلہ بیانی آج بھی مستقبل کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وجود نہ سہی، ان کے محسوسات ان کی یادیں، باتیں، شاعری، دلوں کو چھوتی تحریک … جب تک قلم اور کاغذ کا رشتہ ہے تب تک آغا شورش کاشمیری زندہ ہے۔


ای پیپر