ہم عمران خان کے ویژن کو فالو کر رہے ہیں:طاہر ملک
25 مارچ 2020 (16:43) 2020-03-25

کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما طاہر ملک پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری اطلاعات ہونے ساتھ پارٹی کی سنٹرل ایکزیکٹو کمیٹی اور کور کمیٹی ممبر بھی ہیں، پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طاہر ملک نے اپنے تعلیمی مراحل کراچی کے تعلیمی اداروں نیشنل گرامر اسکول اور پریمئر کالج میں طے کئے۔انہوں نے اگر چہ زمانہ طالب علمی میں طلباء سیاست میں حصہ نہیں لیا، لیکن اس وقت بھی اپنی سوجھ بوجھ کے حوالے سے اپنے موقف کا بر ملا اظہار بے باکی سے کرتے رہے۔ اب جبکہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری اطلاعات ہیں، اہم سیاسی ایشوز پر پارٹی کا موقف دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی زبر دست اہلیت رکھتے ہیں، موروثی سیاست کے مخالف طاہر ملک کراچی شہر اور عوام کے گھمبیر مسائل سے نہ صرف آگاہ ہیں، بلکہ ان کے مسائل کے حل کیلئے پارٹی کے لائحہ عمل کو بھی موثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ گذشتہ دنوں طاہر ملک نئی بات کراچی کے شعبہ مارکیٹنگ کے خالد غوری کے ہمراہ نئی بات کراچی کے دفتر تشریف لائے، اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے سنڈے میگزین کیلئے ان سے انٹرویو کی درخواست کی، جسے قبول کرتے ہوئے طاہر ملک نے کراچی کے مسائل، شہر کے ترقیاتی منصوبوں،بلدیاتی انتخابات اور مہنگائی سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی گفتگو کی ، ان سے ہونے والی گفتگو سوال جواب کی صورت میں نئی بات کے قارئین کی نذر ہے۔

سوال،،،،، پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا خیال کیسے آیا؟؟

طاہر ملک،،،،،کپتان عمران خان کرکٹر کے طور پر مجھے ہمیشہ سے پسند تھے، وہ جس طرح قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، اور جس طرح ابتدائی ناکا میوں کے بعد پاکستان کیلئے ورلڈ کپ جیتا، اس سے ان کی قائدانہ صلاحیتیں، عالمی سطح پر اجاگر ہوئی تھیں، جب انہوں نے کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد عمران خان نے سیاسی جماعت تحریک انصاف قائم کی تو ان سیاست میں بھی قائدانہ صلاحیتیں منظر عام پر آنا شروع ہوگئیں،اور دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان سیاسی افق پر چھا گئے، خان صاحب کی سیاسی میدان میں قائدانہ صلاحیتیں، ان کی دیانتداری، ملک اور عوام کی خدمت اور ترقی کا جذبہ دیکھتے ہوئے میں تحریک انصاف میں شامل ہوگیا۔ مجھے اس بات کا یقین تھا کی خانصاحب اپنے ویژن، خلوص، جذبہ و جنون اور دیانتداری سے ملک کو بہتر طور پر چلاسکتے ہیں، انہی وجوہات سے متاثر ہوتے ہوئے ان کے ساتھ سیاست کے خار زار میں چلنے کا فیصلہ کر لیا، مجھے آج اس بات کا یقین کامل ہے، خانصاحب کی جدو جہد سیمسائل اور مشکلات پر جلد قابو پالیا جائیگا،اور پاکستان ترقی کے منازل طے کرے گا اور خوشحالی کا دور دیکھیں گے۔ میں کہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنے خاندان کا پہلا فرد ہوں جو سیاست کے میدان میں آیا ہے۔

سوال،،،، وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل عمران خان نے اپوزیشن لیڈر کا کردار بھی ادا کیا،اس حوالے سے آپ کیا کہیںگے؟؟

طاہر ملک،،،،خانصاحب بلا شبہ ایک اچھے اپوزیشن لیڈر رہے ہیں،انہوں نے نہ صرف انتخابی دھاندلیوں کے خلاف بلکہ جمہوری اقدار کے فروغ ، کرپشن اور پاکستان سے موروثی سیاست کے خاتمے اور عوامی مسائل حل کرنے کیلئے حزب اختلاف کا موثت کردار ادا کیا تھا، اور 123دن کا دھرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، جس میں پی ٹی آئی کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔طاہر ملک نے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ وہ اقتدار سے دور تھے، انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کیلئے دھرنا دیا، دھرنے کے حوالے سے ان کے کوقف اور اپیل کو عوام نے مسترد کردیاتھا، جس کی وجہ سے چند دن کی ریہرسل کے بعد دھرنا کسی مقصد کے حصول کے بغیر ہی ختم ہوگیا، بلاشبہ یہ مولانا صاحب کا ایک فلاپ شو تھا۔اور نہ ہی مولانا کے دھرنے سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کوئی فرق پڑا۔

سوال ،،،،کراچی کے مسائل کیا ہیں، ان کے حل کیلئے پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوںنے کیا اقدامات کئے ہیں،اور عوام کو مسائل اور مشکلات کی گرداب سے نکالنے کیلئے کیا لائحہ عمل مرتب کیا ہے، نیز وفاقی حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے کیا اقدامات کررہی ہے۔

طاہر ملک،،،،کراچی کے شہریوں کو اس وقت جو مسائل در پیش ہیں، ان میںپانی کی منصفانہ فراہمی، پانی کے ذخائر میں اضافہ کرنا، سیوریج نظام کی ابتر صورتحال،پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان، اور صفائی سمیت عوام کو آسانی کے ساتھ بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہے۔ اس وقت سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے تحت جو ترقیاتی کام جاری ہیں، ان میں تاخیر عوام کیلئے اذیت ناک بنی ہوئی ہے، اس کی وجہ سے نہ صرف شہر میں جگہ جگہ ٹریفک جام رہتا ہے، بلکہ عوام فضا میں اڑتی ہوئی دھول اور مٹی سے بیحد پریشان ہیں۔ عوام الرجی، سانس اور آنکھوں کے امراض کا شکار ہورہے ہیں، صوبائی وزراء اپنے بیانات میں جو خوشخبریا ںسناتے ہیں، عوام ان کے منتظر ہی رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور کراچی سے منتخب ہونے والیپی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی عوام تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے پر خلوص جدوجہد کر رہے ہیں۔ سندھ میں پی پی کی صوبائی حکومت ہے، اور کراچی کے بلدیاتی اداروں پر ایم کیوایم کا راج ہے، اس کے باوجود ہمارے منتخب نمایندوں جو ترقیاتی فنڈز مل رہے ہیں ان کا عوام کے مفاد میں بہتر استعمال کیا جارہا ہے، توقع ہے کہ سندھ میں جلد یاتی انتخابات کا انعقاد ہوگا، اور پی ٹی آئی کراچی کے تمام بلدیاتی حلقوں میں اپنے نمایندے نامز کرے گی، ہمیں یقین ہے کہ عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے ارکان کو کامیاب بنائینگے، مجھے اس بات کا یقین ہے کہ سندھ اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ہماری جانب سے عوامی حقوق کیلئے لڑی جانے والی جنگ مزید تیز ہوجائیگی ۔ میں نئی بات کے توسط سے کراچی کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندے کراچی کے بلدیاتی مسائل حل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کرینگے۔

سوال،،، ، بلدیاتی الیکشن اگر پی ٹی آئی جیت لیتی ہے، اور سندھ میں پی پی کی صوبائی حکومت ہے، آپ کو بھی ترقیاتی فنڈز کے حصول میں اسی طرح مشکلات ہوگی، جس کا اظہار میئر کراچی گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں؟؟

طاہر ملک،،،، بلدیاتی الیکشن جیتنے کے بعد وفاقی حکومت سے کراچی کے ترقیاتی کاموں کے لئے ملنے والے فنڈز کا بہتر اور عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائیگا، وفاقی حکومت سے کراچی پیکیج کے تحت زیادہ سے زیادہ فنڈز لینے کی کوشش کرینگے۔جہاں تک سندھ میں پی پی کی صوبائی حکومت سے فنڈز لینے کیلئے ہر ممکن قانونی اقدام کرینگے، اور سندھ حکومت کو بلدیاتی اداروں کے فنڈز روکنے کی اجازت دینگے، اور اور نہ ہی اس کے اجراء میں ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کو برداشت کرینگے، کراچی ہر قیمت پر اس کا جائز حق دلائینگے۔

سوال ،،،، آپسندھ میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کب تک دیکھ رہے ہیں؟؟

طاہر ملک،،،، مجھے سندھ میں بلدیاتی انتخابات 2020کی آخری سہ ماہی میں ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنم فردوس شمیم نقوی جو سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں،وہ گاہے بگاہے ایوان بلدیاتی الیکش کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے تاخیری حربے اختیار کئے جارہے ہیں، لیکن ہم ان کو ناکام بنا کر بلدیاتی الیکشن کرانے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔ان شاء اللہ اسی سال بلدیاتی الیکشن منعقد ہونگے اور پی ٹی آئی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ اور ہم بلدیاتی سطح پر کراچی کے عوام کی بھر پور خدمت کرینگے۔

سوال،،،، عام انتخابات میں کراچی میں پی ٹی آئی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے ۔لیکن سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ ایم کیو ایم کے کراچی کے سیاسی منظر نامے سے ہٹنے کے بعد جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے،وہ اب تک پر نہیں کیا جاسکا ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہں گے۔

طاہر ملک،،،،، پاکستان تحریک انصاف ایک عوامی جماعت ہے، پارٹی کے عہدیدار اور منتخب نمائندیعوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمارا عوام کے ساتھ قریبی رابطہ ہے، ہمارے ارکان اسمبلی کو فنڈز ملے ہیں اور وہ ہم عوام کی فلاح بہبود کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے مثبت نتائج بھی جلد عوام کے سامنے آئیں گے۔ میں ذاتی طور پر قومی اسمبلی کے دوحلقوں NA 247اور 243میں عوام سے قریبی رابطے میں ہوں، NA 247 سے صدر عارف علوی نے الیکشن جیتا تھا، جبکہ 243 ہمارے کپتان کا حلقہ تھا، وزیر اعظم عمران خان نے اس حلقے سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا تھا۔ ہم اس حلقے کو خوبصورت بنا رہے ہیں۔ یہاں کے ووٹرز کو بہتر شہری ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ میں اور میرے ساتھی عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ اور اس حلقے میں شہریوں کے جو مسائل ہیں انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے کہ کسی جماعت کے سیاسی منظر سے ہٹ جانے کے بعد شہر میں کوئی سیاسی ؒخلا پایا جاتا ہے، کراچی ایک انٹر نیشنل شہر ہے، تحریک انصاف نے اس شہر کو دنیا کا بہترین شہر بنانے کیلئے منصوبہ بندی کی، اور جلد ہی دنیا اس شہر کو دیکھے گی،یہ ایک خوبصورت شہر کی شکل میں سامنے آئے گا۔

سوال،،،،کراچی میں جاری تجاوزات آپریشن کے حوالے سے آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟؟

طاہر ملک،،،،پیپلز پارٹی بارہ سال سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے، اس کے دور میں ایس بی سی اے سمیت کے ڈی اے اور دیگر ادارے مافیا کے طور پر کام کر رہے ہیں،بلا شبہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن سپریم کورٹ کے حکم پر کیا جارہا ہے، اس میں درجنوں افراد بے گھر اور ہزاروں افراد بے روزگار بھی ہوئے ہیں، ان کو متبادل جگہ ملنا چاہئے، یہاں میں کہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کی غلط پالیسیوں اور غلط کاموں کی جو سزا عوام کو مل رہی ہے ،وہ درست نہیں ہے، میرا موقف یہ ہے کہ جن افسران کی مصلحت آمیز چشم پوشی اور مفاد پرستی کی وجہ سے تجاوزات قئم کرائی گئی ہیں، ان کو بھی سزا ملنا چاہئے۔

سوال،،،،گرین لائن منصوبہ کب تک مکمل ہو سکے گا؟؟

طاہر ملک،،،، کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے گرین لائن منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،اس کی تکمیل میں وفاق کا کردار بھی اہم رہا ہے،اس کی تکمیل کا حتمی وقت تو میں نہیں بتا سکتا ہوں ،تا ہم اتنا ضرور کہ سکتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اس منصوبہ پر توجہ دیں، اور گورنر صاحب بھی گاہے بگاہے اس منصوبہ کا ذاتی طور پر جائزہ لیتے ہیں،وفاق کی جانب سے فنڈز اور ضروری اعانت کا سلسلہ بھی جاری ہے، گورنر صاحب کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں ذاتی طور پر دلچسپی لے رہے ہیں، امید ہے کہ مثبت نتائج جلد بر آمد ہونگے۔

سوال۔۔۔۔جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا ہونا چاہئے؟؟

طاہر ملک،،،پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور گروپوں کو ملک اور قوم کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، پی ٹی آئی کی حکومت جمہوری حکومت ہے ، اور وہ حزب اختلاف کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن حزب اختلاف کو بھی تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے، اختلاف برائے اختلاف ، منفی سیاست ہے ، اور یہ صحتمند جمہوری رویہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس سے ملک اور عوام کی خدمت ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو عوامی خدمت کے منصوبوں کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

سوال،،،، مہنگائی کی وجہ سے عوام بے حد پریشان ہیں، عوام کو مہنگائی سے ریلیف دلانے کیلئے حکومت کیا اقدام کر رہی ہے؟؟

طاہر ملک،،،،مہگائی بلا شبہ ایک عوامی مسئلہ ہے، وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ضروری ہدایا ت بھی دی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے مہنگائی کے حوالے سے حکومت کا غیر ضروری طور پر میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے، حکومت نے یوٹیلٹی اسٹور کارپورشن کو 12 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، عوام کو چاہئے بڑے ناموں والے ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے بجائے یوٹیلٹی اسٹورز سے خریداری کریں، جہاں معیاری اشیاء کی مناسب اور مارکیٹ سے کم نرخوں پر اشیاء کی ٖروخت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

٭٭٭

کراچی کے شہریوں کو اس وقت جو مسائل در پیش ہیں، ان میںپانی کی منصفانہ فراہمی، پانی کے ذخائر میں اضافہ کرنا، سیوریج نظام کی ابتر صورتحال،پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان، اور صفائی سمیت عوام کو آسانی کے ساتھ بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہے۔


ای پیپر