مساوی انسانی حقوق کے علمبردار اور سائنس و ٹیکنالوجی
25 مارچ 2019 2019-03-25

ہم ابھی تک اس معمے کو حل نہیں کر سکے کہ آیا بعض سیاستدانوں کو عالمی طاقتوں نے حساس اداروں کی بدنامی پرمامور کیا ہے یا وہ رضاکارانہ اور فی سبیل اللہ یہ خدمتِ عظیم انجام دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ عہدِ اعتراف ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حساس ادارے کے ایک سربراہ اسد درانی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے حساس ادارے کے سربراہ سے مل کر خوفناک کتاب لکھ چکے ہیں۔ اسی طرح ایک بریگیڈیئر (ر) امتیاز کرتے تھے اگست 2009ء میں بھی انہوں نے ایک پنڈورا باکس کھولا تھا۔ نئے نئے انکشافات ہو رہے تھے۔ باسی کڑھی میں ابال آرہا تھا۔۔۔چائے کی پیالیوں میں طوفان اٹھائے جا رہے تھے۔۔۔ سنسنی اور زرد صحافت کی چونچ پالش کی جا رہی تھی،بس یوں سمجھیے کہ رائی سے پہاڑ اور ٹوٹے اور نچے کھچے پروں سے کوے بنا ئے جا رہے تھے ۔اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ یہ عہد اعتراف ہے، اس دور میں موصوف اپنے تئیں عہد اعتراف کا روسو بننے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ باخبر اور با علم قارئین جانتے ہیں کہ روسو کی خود نوشت کا عنوان "Confessions" تھا ۔ ہر وہ شخص جو آدھا سچ بول دے وہ روسو نہیں ہو تا۔ کیا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم یہ معمہ حل کریں کہ جنرل(ر) اسد درانی اوربریگیڈیئر موصوف کو حساس اداروں کی بدنامی پر کس نے اور کیوں مامور کیا؟ بتایا جا رہا تھاکہ کوئی (ر)اعلیٰ فوجی افسر’ آپریشن مڈ نائٹ جیکال‘ کا مرکزی کردار تھا اور کوئی’ آپریشن ڈے ولف ‘کا سکرپٹ رائٹر۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا اس قسم کے آپریشن ہماری قوم کو ترقی کی منازل تک پہنچا سکتے ہیں۔ ترقی کی منزل تک رسائی کیلئے درحقیقت جس آپریشن کی ضرورت ہے، اُس کی جانب آج تک کسی نے توجہ مبذول نہیں کی۔ گڑے مردے اُکھاڑ نے اورمستقبل کے خطرات سے بے خبرہو کر خوابِ خرگوش کے مزے لینے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کیا کرتیں۔ عصرِ حاضر میں قوموں کی صف میں

نمایاں ہونے کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی از بس ضروری ہے۔ لیکن ہم تو ابھی تک یہ عقدہ حل کر رہے ہیں کہ ماضی میں آئی ایس آئی سے کس کس معتبر ہستی اور باوقار جماعت نے کتنی رقم بٹوری۔ہمارے ذی احترام سیاستدان میڈیا کے تنور میں نانبائیوں کی طرح نان ایشوزکے نان اور کلچے لگانے میں مصروف ہیں اور اُدھر بھارتی اسٹیبلشمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی بدولت مزید ایٹمی دھماکوں کی تیاری کر رہی ہے۔

صاحبو! ٹیکنالوجی بظاہر ایک لفظ ہے لیکن اس ایک لفظ میں معانی کی کئی دنیائیں اور کائناتیں آباد ہیں۔ اس ایک قطرے میں کئی سمندر موجزن ہیں۔ آنیوالے دور میں دنیا میں صرف اُنہی قوموں اور ملکوں کی ’’سپرامیسی ‘‘ کا سکہ چلے گا جن کے ہاتھوں میں خلائی بالادستی کا ہتھیار ہو گا۔ موجودہ دور نے انہی قوموں کے سر پر فتح و نصرت کا تاج رکھا ہے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں وکٹری سٹینڈ پر کھڑی قومیں زندگی کے ہر شعبہ میں بالادستی کی ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے لیکن بحیثیت ایک پاکستانی اور مسلمان شہری کے ہمیں یہ سوچنا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عالم اسلام کے اکثر ممالک کا شمار ٹیکنالوجی کے حوالے سے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتاہے۔ حالانکہ ان میں سے کئی ممالک مالی لحاظ سے انتہائی طاقتورہیں۔

عالم یہ ہے کہ عرب ممالک جدید ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لئے امریکی ریاستوں اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ان کی خدمات کا جو معاوضہ دیتے ہیں وہ پوری دنیا کے 30فیصد کے برابر ہے۔ اگر وہ یہی سرمایہ اپنے اپنے ممالک میں تعلیم اور ٹیکنالوجی کو عام کرنے والے اداروں کے قیام پر صرف کریں تو اس میدان میں کم از کم وہ 2ٹارگٹ تو ضرور حاصل کر لیں گے ایک تو وہ خود کفالت کی منزل کو پا لیں گے اور دوسرے خود انحصاری ان کا سرمایہ بن جائے گا۔

مقام افسوس ہے کہ معاشی و اقتصادی لحاظ سے ان طاقتور ترین مسلم ممالک نے آج تک اپنے سرمائے سے مفیداور مثبت شعبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ان ممالک کے پیٹرو ڈالر سے امریکا اور یورپ کی معیشت نے سنبھالا حاصل کیا۔

محض موٹرویز، فلائی اوورز، انڈر پاسز، سکائی سکریپرز، سیون سٹار ہوٹلز، عالی شان پلازے اور محلات بنا لینے سے کسی ملک کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں نہیں کیا جا سکتا۔ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر عبورضروری ہے۔

اولاً تو مسلم ممالک میں سامراجی قوتوں نے فکری، ذہنی ، ثقافتی اور مالیاتی غلبے کی بدولت سائنس اورٹیکنالوجی کی ترقی و بہبود کیلئے کام کرنے والے اداروں کے قیام و استحکام کی راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے یہ مقروض ممالک اپنے ہاں کسی بھی قسم کی فائدہ رساں اور علم و ہنر کے پھیلاؤ میں مدد دینے والی سرگرمیوں کی بنیاد رکھنے کیلئے ان سے این او سی(N.O.C.) حاصل کرنے کے محتاج ہیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی تودورکی بات ہے، ان ممالک کے حکمران تو اپنی زراعت تک کو ترقی دینے کے فیصلے آزادانہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ امیر ترین مسلم ممالک بھی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اس حد تک پسماندہ ہیں کہ وہ سُوئی تک بنانے کے ہنر سے بھی ناآشنا ہیں۔ اِن میں سے، پاکستان ایسے ممالک کا وجود عالمی طاقت اور اس کے حلیف مغربی ممالک کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔وطن عزیز نے مشکل ترین حالات اور زبردست عالمی دباؤ کے باوجود نیوکلیئر، میزائل اور دیگر اسلحی ٹیکنالوجی میں دسترس حاصل کر لی ہے۔ یہ بات بہر حال خوشی کی بات ہے کہ پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرنے کیلئے بھر پور کوشش کی ہے۔


ای پیپر