صدر پیوٹن کی ایک اور انتخابی فتح
25 مارچ 2018 2018-03-25

صدر پیوٹن توقعات کے عین مطابق 18 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد اب وہ 2024ء تک روس کے صدر رہ سکیں گے۔ 65 سالہ صدر جو کہ روس کی خفیہ تنظیم ICGB کے عہدیدار رہے ہیں اب 2024ء تک یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ انہوں نے آئین میں ترمیم کر کے تاحیات صدر رہنا ہے یا 2008ء کی طرح وزیر اعظم بن کر معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنی ہے۔ صدر پیوٹن کو اس بار بھی انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے لئے کسی خاص دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ صدر پیوٹن کے مخالفین خواہ وہ ان کی حزب مخالف ہو یا بڑی مغربی طاقتیں انہیں ایک ظالم، غیر جمہوری حکمران اور جدید زار قرار دیتے ہیں جو کسی بھی قسم کی مخالفت کو برداشت نہیں کرتا اور سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کو طاقت سے کچل دیتا ہے جبکہ دوسری طرف ان کے حامیوں کے لئے وہ روسی طاقت ، تحفظ اور استحکام کی نشانی ہے۔ کوئی شخص صدر پیوٹن کو پسند کرتا ہے یا پھر ناپسند مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے نہ صرف روس پر بلکہ پوری دنیا پر گہرے اثرات اور نقوش مرتب کئے ہیں۔

صدر پیوٹن پر سب سے زیادہ تنقید ان کے غیر جمہوری اقدامات ، افسر شاہانہ اور جبر پر مبنی نظام حکومت پر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے مغربی حکومتیں ، میڈیا اور دانشور انہیں ایک ظالم آمر قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روس میں میڈیا کی آزادی اور سیاسی اظہار پر سخت قدغین عائد ہیں۔ حکومت کی مخالفت کی بہت محدود اجازت ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر انتظامیہ کی سخت گرفت ہے اور آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ ان پر بڑی تنقید اس حوالے سے بھی ہے کہ روس عوام کو بہت ہی محدود سیاسی اور جمہوری حقوق اور آزادیاں حاصل ہیں۔ صدر پیوٹن پر یہ الزام بھی بڑی شدت سے لگتا ہے کہ وہ مخالفین اور اظہار رائے کو کچلنے کے لئے خوف و ہراس ، حملوں ، قیدوبند، تشدد اور جبر کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔

اگرچہ صدر پیوٹن نے آہنی ہاتھوں سے حکمرانی کی ہے اور حزب مخالف کو منظم نہیں ہونے دیا مگر انہوں نے حکمرانی کے لئے صرف جبر اور طاقت کا ہی استعمال نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے مراعات اور مفادات کے ذریعے کئی پرتوں کی حمایت حاصل کی ہے۔ صدر پیوٹن نے ڈنڈے اور گاجر دونوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی گرفت روس ریاست پر مضبوط کی ہے۔

یہ کہنا غلط ہو گا کہ وہ صرف خوف اور جبر کے ذریعے حکمرانی کر رہے ہیں اور انہیں عوام میں قطعاً حمایت حاصل نہیں ہے سچ تو یہی ہے کہ صدر پیوٹن روس کی آزادی کے بڑے حصوں میں مقبول ہیں اور سماج کی کئی پرتوں میں ان کی حمایت موجود ہے۔ اس وقت روس میں لوگوں کے پاس صدر پیوٹن کے علاؤہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔ یہی صدر پیوٹن کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے متبادل قیادت کو ابھرنے ہی نہیں دیا جو کہ ان کے لئے سیاسی طور پر خطرہ بن سکے۔ اس صورت حال میں روسی عوام کے پاس اور کوئی متبادل ہی نہیں ہے ۔ صدر پیوٹن کی حمایت کی ایک بڑی وجہ عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہونے کا خوف ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی اسی وجہ سے صدر پیوٹن کی حمایت کرتی ہے۔ صدر پیوٹن کی سب سے زیادہ مخالفت آبادی کے اس حصے میں پئی جاتی ہے جو کہ ان کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنشنرز اور محنت کش عوام کی پرتوں کی طرف سے صدر پیوٹن کی مخالفت سامنے آتی ہے۔ پرانی نسل اپنی مخالفت کا اظہار کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کی صورت میں کرتی ہے جبکہ زیادہ جمہوری اور شخصی آزادیوں اور حقوق کا مطالبہ کرنے والے لبرل جزب مخالف کی جماعتوں اور شخصیات کی حمایت کرتے ہیں۔ صدر پیوٹن نے کمیونسٹ پارٹی کو حزب مخالف کے طور پر موجود رہنے اور اپنا ڈھانچہ برقرار رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ دراصل صدر پیوٹن نے ریاسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے منصوبوں اور مفادات کے تحت روس کی سیاست کو دوبارہ تعمیر کیا ہے۔

18 مارچ کے صدارتی انتخابات کے نتائج نے صدر پیوٹن کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ ربع صدی حکمرانی کر سکیں۔ اگر وہ 2024ء تک صدر رہے تو وہ سابق سوویت رہنما جوزف سٹالن کے بعد طویل حکمرانی کرنے والے دوسرے رہنما بن جائیں گے۔ روس کی نئی نسل نے صرف پیوٹن کو ہی حکمران اور سیاسی رہنما کے طور پر دیکھا ہے۔ وہ ابھی تک کسی دوسرے رہنما اور حکمران سے آشنا ہی نہیں ہوئے۔ صدر نتائج نے صدر پیوٹن کو مزید مضبوط کیا ہے اور حزب مخالفت کی تقسیم اور کمزوری کو مزید آشکار کیا ہے۔ پیوٹن کے انتخابی نعرے مضبوط صدر ۔ مضبوط روس کو لوگوں کے ایک حصے میں نمایاں حمایت ملی ہے اور معیشت کی گراوٹ اور کمزوری پس منظر میں چلی گئی۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق صدر پیوٹن نے مجموعی ڈالے گئے ووٹوں کا 76.7 فیصد حاصل کیا جو کہ پہلے مرحلے میں کامیابی کے لئے درکار 50 فیصد ووٹوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار یاول گروڈنین 11.8 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ قوم پرسٹ ولددیمیر زیروہنووسکی 5.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ صدر پیوٹن نے 2000ء میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد کبھی بھی سنجیدہ نوعیت کی مخالفت کا سامنا نہیں کیا۔ 2000ء میں انہیں 53 فیصد ، 2004ء میں 71 فیصد ، 2012ء میں 63 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس مرتبہ انہیں ایک کروڑ ووٹ زیادہ ملے ہیں۔ 2012ء میں انتخابی دھاندلی کے الزامات پر انہیں ایک بڑی احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس مرتبہ انہیں ماسکو سے بھی کافی زیادہ ملے ہیں۔ 2012ء کے صدارتی انتخابات میں وہ محض 47 فیصد ووٹ حاصل کر پائے تھے مگر اس مرتبہ انہوں نے 70 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ حالانکہ ماسکو کو روسی حزب مخالف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 67 فیصد رہی جو کہ 2012ء کے مقابلے میں زائد ہے۔ یہ نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں حزب اختلاف کی طرف سے کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔ اور انہیں اس نظام پر مکمل کنٹرول حاصل ہے جو کہ گزشتہ 18 سالوں میں انہوں نے خود تشکیل دیا ہے۔

صدر پیوٹن نے سوویت یونین کے انہدام کے ایک دہائی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد مغربی طاقتوں ، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی چاہتے تھے کہ روس ان کا حلیف اور جونیئر اتحادی بنے۔ وہ روس کو ایک کمزور اور طفیلیہ ملک کے طور پر دیکھنے کے خواہاں تھے۔ جب پیوٹن نے اقتدار سنبھالا تو روس کی حالت بہت خراب تھی۔ معاشی حالات بہت خراب تھے۔ روس 1990ء کی شکست و ریخت اور 1998ء کے مالیاتی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ صدر پیوٹن نے اقتدار سنبھالتے ہی معاشی صورتحال کو بہتر بنایا۔ انہوں نے بورس ہلسن کے دور میں ابھرنے والے نئے سرمایہ داروں کے جھتوں جنہیں اولیگارچ کہا جاتا ہے کی سیاسی اور معاشی طاقت کو توڑا اور ان کی دولت اور طاقت کا بڑا حصہ خود سنبھال لیا۔ صدر پیوٹن نے معیشت میں ریاست کے کردار کو بڑھایا۔ کئی شعبوں اور صنعتوں کو دوبارہ قومی ملکیت میں لے لیا۔ معاشی ترقی کے نتیجے میں لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا۔ 1999ء سے 2006ء تک آمدن دوگنی ہو گئی۔ 2000ء میں 4 کروڑ روسی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارتے تھے۔ اب ان کی تعداد 2 کروڑ رہ گئی ہے۔

مگر اس سرمایہ دارانہ ترقی اور تعمیر کے نتیجے میں روسی معاشرے میں عدم مساوات بہت بڑھ گئی ۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سرمایہ دارانہ استحصال ، جبر اور طبقاتی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ روس کی اس معاشی ترقی اور خوشحالی نے روس کے بہت سارے لوگوں کو چھوا تک نہیں ہے۔ اس خوشحالی اور معاشی ترقی کا سب سے زیادہ فائدہ سرمایہ داروں ، ریاستی افسر شاہی ، سیاسی اشرافیہ اور درمیانے طبقے کی پرتوں کو پہنچا ہے۔ جن کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ روس کے محنت کش ، پنشنرز اور غریبوں کو اس ترقی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ 2008ء کے معاشی بحران کے بعد سے صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ مکانوں کے کرایے بڑھ رہے ہیں، معیشت گراوٹ کا شکار ہے۔ تنخواہوں اور پنشنوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا ۔ روس محنت کش طبقے کو کوئی مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے۔ صدر پیوٹن کو ان مسائل کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ اگر صدر پیوٹن نے ان مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو انہیں حقیقی اپوزیشن کا سامنا محنت کش عوام کی ناراض پرتوں کی طرف سے کرنا پڑے گا۔

صدر پیوٹن مسلسل مغرب کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ روس مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ اس پالیسی کے تحت ان کی مغرب سے کشیدگی مزید بڑھے گی اور مشرق سے قربتوں میں اضافہ ہو گا۔


ای پیپر