گر دشی قر ضے اور ہما ری معیشت
25 مارچ 2018 2018-03-25


ما ہِ رو ا ں کی انیس اور بیس تا ر یخ کو ، یعنی صر ف دو دنوں میں ہما را روپیہ ا مر یکی ڈا لر کے مقا بلے میں پا نچ روپے گر کر ایک سو پند رہ ر وپے پچا س پیسے کی ریکا ر ڈ بلند سطح پر پہنچ گیا۔ عا م شہری اس تشو یش نا ک صو ر تِ حا ل کو سمجھنے سے قا صر رہے کہ صر ف دو روز کے مختصر عر صے میں اس قدر زیا دہ اضا فہ کیسے ممکن ہوا۔ در اصل ان سے اس حقیقت کو چھپا یا گیا کہ سا بق دز یر خز ا نہ غلا م ا سحق ڈا ر نے روپے کی ما لیت کو گر نے سے رو کنے کی غر ض سے اسے مصنو عی بیڑ یا ں پہنا ئی ہو ئی تھیں۔ لیکن ایسا کب تک چل سکتا تھا؟ ملکی معیشت کو یو ں تبا ہی سے دو چا ر کر نے میں بڑا ہا تھ سفید ہا تھیو ں سے مشا بہ ان قو می ادا رو ں کا ہے، جن میں پا کستا ن سٹیل مل ا ور پی آ ئی اے سر فہرست ہیں۔ یہ اد ا رے ملکی معیشت کو اب تک چار سو ستر ار ب روپے کا نقصا ن پہنچا چکے ہیں ۔ پھر یہی نہیں، بلکہ پا کستا ن کی تاریخ میں گردشی قرضہ پہلی دفعہ سا ڑھے دس کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ صر ف پاور سیکٹر کا کل گردشی قرضہ 10 کھرب 22 ارب روپے ہوگیا ہے۔ بے شک رو پے کی گروا ٹ میں اور بہت سے دو سرے عو ا مل بھی شا مل ہیں، لیکن گردشی قر ضو ں میں مسلسل اضا فہ اس کی ا ہم وجہ ہے۔ کہنا یہ چا ہتا ہو ں کہ رو پے کی قیمت میں یو ں کمی کا ا حا طہ کر نے کے لیئے الگ سے پو را کا لم در کا ر ہے ۔بشر طِ ز ند گی جلد ہی اس پہ بھی کا لم تحر یر کر و ں گا ۔ اس پسِ منظر کے ساتھ ز یرِ نظر کا لم کا نقطۂ نظر ملک میں بڑھتے ہو ئے گر د شی قر ضو ں کی وجو ہا ت اور ا ثر ا ت کا جا ئز ہ لینا ہے۔ پا ور سیکٹر کے دس کھر ب با ئیس ا ر ب رو پے کے گر دشی قر ضے کے علا وہ حکومتی آئل مارکیٹنگ کمپنی پی ایس او نے حکومتی اور نجی پاور کمپنیوں سے 338 ارب روپے کے بقایا جات لینے ہیں، جس میں سے حکومتی پاور جنریشن کمپنیوں، جنکو کے ذمہ 154 ارب روپے، حبکو 85 ارب، کیپکو 44 ارب اور پی آئی اے کے ذمہ 16 ارب روپے بقایا جات ہیں۔ گردشی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ اس لیئے بھی تشویشناک ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے قومی معیشت پہلے ہی مسائل کا شکار ہے اور اگلے چند ہفتوں میں بجٹ کا اعلان بھی کیا جا نا ہے۔ ایک سچا محبِ و طن پا کستا نی ان تفصیلا ت کو پڑ ھ کر حیرا ن و پریشا ن ہو جا تا ہے کہ اتنے گردی قرضے اکٹھے کیسے ہوگئے جبکہ عام صارف ہر ماہ باقاعدگی سے بل ادا کرتا ہے، مبادا برقی رو کی ترسیل منقطع کردی جائے۔ عوام سے بلوں کی مد میں اکٹھا کیا گیا یہ پیسہ کہاں جاتا ہے کہ فرنس آئل فراہم کرنے اور بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو ادائیگیاں ہی نہیں ہوتیں اور اربوں روپے کے بقایا جات اکٹھے ہوجاتے ہیں؟ مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ 30 جون تک بقایا جات کلیئر کردیئے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیسے؟ جبکہ تیس جون تک حکومت کی میعاد ہی نہیں ہے اور اسی وجہ سے وفاقی بجٹ اپریل کے آخری ہفتے میں پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو اپنی جگہ ایک زیادتی ہے کہ بجٹ کی تیاری اگر موجودہ حکومت کرے گی تو نئی منتخب حکومت ہونے والی حکومت کیا اس پر عمل کرنے کی پابند ہوگی؟ کیا موجودہ حکومت گردشی قرضے نگران سیٹ اپ یا اگلی منتخب حکومت کو ورثے میں دینے کا ارادہ رکھتی ہے کہ وہ ادا کرتی رہیں یا جون 2013ء کی طرح مختلف مقاصد کے لیے مختص کی گئی رقوم اٹھا کر گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرلی جائیں گی؟ اگر گردشی قرضے اسی طرح ادا کیے جانے ہیں تو پھر ان رقوم کا کیا کیا جائے گا جو بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار کمپنیاں صارفین سے بلوں کی مد میں اکٹھا کرتی ہیں؟ یہی نہیں، یہ کمپنیاں صارفین کے بلوں میں لائن لاسز بھی ڈال دیتی ہیں، جسے صارفین اووربلنگ کا نام دیتے ہیں۔ یہ سارے پیسے کہاں جاتے ہیں اور کیوں ان سے ادائیگیاں نہیں کی جارہی ہیں کہ ہر کچھ عرصے بعد گردشی قرضوں کا ایک نیا پہاڑ کھڑا ہوجاتا ہے، جنہیں ادا کرنا حکومت کے لیے ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ضرورت کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہے جس کے تحت گردشی قرضے ایک حد سے بڑھنے نہ پائیں۔ ان کے پہاڑ بننے کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ جونہی ان میں کچھ اضافہ ہو، الارم بج جانا چاہیے اور ان کی ادائیگی کا بندوبست شروع ہوجانا چاہیے۔ لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ اس کے لیے لائن لاسز ختم کرنے کا اہتمام کرنا ہوگا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں پائی جانے والی کرپشن پر قابو پانا ہوگا۔ یہ کام کیسے ہوگا؟ کب ہوگا؟ حکومت کو اس ایشو پر بھی سوچ بچار کرنا چاہیے۔مگر یہاں تو ہمیشہ سے تجھ لگا ئی مجھ او ر مجھ لگا ئی تجھ کا سا عا لم ہے۔
جہا ں گردشی قرضے اس ملک کی جڑو ں کو کھو کھلا کر رہے ہیں، وہیں ما ضی کی حکو متو ں نے بھی ملکی و غیر ملکی قرضوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور موجودہ حکومت ان میں سب سے آگے ہے، جس نے ساڑھے چار سال میں قرضوں کے بوجھ میں ریکارڈ 12 ہزار 500 ارب کا اضافہ کیا ہے، یعنی جو ترقی ہم نے اس عرصے میں کی ہے وہ قرضے لے کر کی۔ اس پہ طر ہ یہ کہ مو جو دہ حکو مت کے سا بق وز یرِ خز ا نہ غلا م اسحق ڈ ا ر نے عو ا م کو ا عد ا دو شما ر میں ا لجھی ہو ئی معیشت کی ایسی جعلی تصو یر پیش کی جو حقیقت کے ہمیشہ ا لٹ تھی۔ آ ج اگر پٹر ولیم مصنو عا ت کی قیمتو ں میں اضا فہ تمھنے کا نا م نہیں لے رہا تو یہ غلا م ا سحق ڈا ر کا ہی بو یا ہوا ہے ۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں کا کل حجم 26 ہزار 814 ارب روپے ہوچکا ہے۔ سٹیٹ بینک کی دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی قرضے 15 ہزار 437 ارب روپے ہیں جبکہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 9 ہزار 816 ارب روپے ہوچکا ہے۔ اتنے بھاری اور ضخیم قرضے کون اتارے گا؟ یہ قرضے کیسے اتارے جائیں گے؟ ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ قانون کے مطابق قرضوں کا حجم ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریباً 75 فیصد تک پہنچ چکے ہیں اور کسی نے اس کو نوٹس نہیں لیا، حکومت نے نہ ہی اپوزیشن نے۔ ہوتا یہ ہے کہ ہر سال ایک بڑی بھاری رقم ان قرضوں پر واجب الادا سود کی ادائیگی پر اٹھ جاتی ہے اور اصل زر بھی برقرار رہتا ہے۔ اس طرح یہ قرضے ملکی معیشت میں دوہرے بوجھ کے مترادف ہیں۔ اس معاملے میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ بے تحاشا ملکی و غیر ملکی قرضے حاصل کرنے کے اس سلسلے کو روکا جائے اور آہستہ آہستہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کا بندوبست کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے اور ہم بطور ایک قوم اپنے قدموں پر کھڑے ہوسکیں۔ قرضوں سے کی گئی ترقی کو قر ض لے کر خر یدی گئی مے کا نا م تو د یا جا سکتا ہے، مگر ترقی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقی ترقی وہی ہوتی ہے جو اپنے پیسوں اور اپنی بچتوں سے کی جائے۔ اس لیے مزید ملکی یا غیر ملکی قرضوں کے حصول پر فوری طور پر پابندی عائد ہونی چاہیے تاکہ ملک کو معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ اور پھر اس پہ اختتا م نہ کیا جا ئے بلکہ ملک کو اس تبا ہی سے دو چا ر کر نے والے چہر وں کو بھی بے نقا ب کیا جا ئے۔


ای پیپر