ایسا نہ ہو۔۔۔
25 مارچ 2018

ووٹ کی عزت کی تحریک اور جوڈیشل مارشل لاء کا مطالبہ، دونوں بیانیہ بہت عجیب ہیں۔جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں گنجائش ہے نہ کوئی جمہوری مارشل لاء ایسے بے سروپا نظریات کا متحمل ہو سکتا ہے۔
عدلیہ کوسیاست زدہ اور سیاست کو عدلیہ زدہ کرنے والے کسی کے دوست نہیں۔یہ مہم ابھی جاری ہے۔ اس مہم کا نیا کردار راولپنڈی کا پیشین گو شیخ رشید ہے۔جو کروڑ پتی ہو کر بھی مفلسی کا شکار ہے۔سیاسی افلاس کی منہ بولتی تصویر۔وہ تو بھلا ہوا منصف اعلیٰ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کا جنہوں نے سیاسی موقع پر ستی کے تاحیات چیمپیئن شیخ رشید کا فوری طور پر مکو ٹھپ دیا۔ورنہ ان کی بولتی کوئی بند نہیں کر سکتا۔ناچاہنے کے با وجود بھی قلمکار کا موضوع شیخ رشید ہے۔ بات کریں توان کے چاہنے والے ناراض ہوتے ہیں۔چاہنے والے؟ جی ہاں قحط الرجال کا یہ عالم ہے کہ ان کے بھی چاہنے والے ہیں۔یہ ایسا قحط ہے جس کو عوامی شعور ہی دور کر سکتا ہے۔اس میں فی الحال وقت لگے گا۔ اس روز جناب نیشنل پریس کلب میں تشریف لائے۔ اپنے اثاثوں کے مس ڈیکلریشن کے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ ہونے کے ایک روز بعد۔ اورہاں 23 مارچ کو یوم پاکستان کی سالانہ تقریب سے دو روز پہلے۔اس خاکسار کے نزدیک کسی بھی مقدمہ کی سماعت کے دوران فیصلے کے متعلق ہلکا سا اشارہ،تبصرہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ توہین عدالت صرف تعزیری جرم ہی نہیں بلکہ ایسا اخلاقی جرم بھی ہے جس پر اپنے آپ کو ہی سزا دی جا سکتی ہے۔ شیخ رشید کے خلاف اس مقدمہ کو فالو نہیں کیا۔لہٰذا تفصیلات سے آگاہ نہیں۔مدعی غالباًسابق ایم این اے شکیل اعوان ہیں۔یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ان کے کاغذات نامزدگی میں کیا لکھا ہے۔یاد نہیں۔ جب یہ مقدمہ شروع ہوا تھا تب سرسری نظر سے کاغذات دیکھے۔اب مندرجات یاد نہیں۔لہٰذا اس میں کیا غلط ہے کیا درست اس پر تبصرہ مناسب نہیں۔فیصلہ آئے گا تو پتہ چل جائے گا کہ وہ سرکاری طور پر صادق امین ڈیکلیئر ہوتے ہیں یا نہیں۔الب?اب راولپنڈی کے جڑواں شہر کے رہائشی کے طور پر کچھ باتیں مشاہدے میں ہیں۔راولپنڈی کے یہ فرزندلال حویلی کے نام سے معروف ایک متروکہ وقف املاک کی حویلی میں ہے۔لیکن صرف ٹی وی انٹر ویو اور فوٹو سیشن کیلئے۔صدیق الفاروق کا بس نہیں چلا ورنہ وہ اس غیر قانونی ملکیت کو واگزار کرا کے رہتے۔ واقفان حال ان کی کئی بیش قیمت جائیدادوں کی کہانیاں سناتے ہیں۔فتح جنگ کا فریڈم ہاؤس تو کوئی پوشیدہ مقام نہیں۔ یہ جنت ارضی مجاہدین کشمیر کو پناہ دینے کیلئے موصوف نے حاصل کی۔اب مجاہدین باہر اور خود اندر ہیں۔ایمبیسی روڈ پر بنگالی مہاجرین کی چھوڑ دی ایک پراپرٹی کچھ عرصہ پہلے تک جناب فرزند راولپنڈی کے تصرف میں تھی۔اب شاید چھوڑ دی ہے۔جراب سے لیکر گاڑی تک بیش قیمت ترین استعمال کرتے اور اپنی غربت کو کیش کراتے ہیں۔راولپنڈی کے با خبر احباب بتاتے ہیں کہ موصوف الیکشن جیت جائیں یا ہاریں مالی طور پر کبھی گھاٹے میں نہیں رہے۔ بہر حال ادھر فیصلہ محفوظ ہوا ادھراگلے روزجناب شیخ رشید کی پریس کانفرنس کی اطلاع آئی۔ فیصلہ کو قبول کرنے کا اعلان کر کے جناب موصوف نے بیان داغا کہ چیف جسٹس صاحب نوے دن کا جو ڈیشل مارشل لاء لگادیں۔تاکہ انتخابات کا منصفانہ انعقاد ہو سکے۔اس کم قلمکار کو بے چینی ہوئی کہ الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کا کیا کام ہے؟یہ تو آئین کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کہ ذمہ داری ہے۔لیکن موصوف ٹلی بھائی اپنا اْلو سیدھا کرنے کیلئے اداروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر مخالفین کو نشانہ بنانے کے پرانے کھلاڑی ہیں۔اب وہ اس کھیل میں طاق ہو چکے ہیں۔ 2002 ء کا الیکشن انہوں نے اس اعلان پر جیتا کہ وہ دونوں نشستیں نواز شریف کے قدموں پر رکھ دیں گے۔الیکشن جیتا تو جن قدموں پر وہ دو سیٹیں نچھاور کیں وہ پرویز مشرف کے تھے۔ ایک ماہ کے اندر ضمنی الیکشن ہار گئے۔ اس کے بعد اگلے دس سال مسلسل ہارتے ہی گئے۔ بلدیاتی سے لیکر قومی اسمبلی تک عام انتخابات۔ 2013 ء میں ان کو اپنی پرانی مخبرانہ خدمات کے عوض پی ٹی آئی کا ووٹ بنک بطور نذرانہ پیش کیا گیا۔ کندھوں پر سواری کا پرانا تجربہ اور آزمودہ ہتھ کنڈے استعمال کیے اور اسمبلی میں جا پہنچے۔شروع میں منہ طرف ول رائے ونڈ شریف کی کوشش بھی کی۔لیکن نواز شریف ان کی فیملی نے ازن باریابی نہ دیا۔ورنہ وہ تو سجدہ سہو کیلئے تیار تھے۔بہر حال وہ کامیاب سیاستدان ہیں۔اب وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔سنگل رکنی پارٹی کے سربراہ ہیں۔سٹیج پی ٹی آئی کا، ہجوم بھی پی ٹی آئی کا، خطاب ان کا،شعلہ بیانی بھی ان کی۔پانچ سال گزر گئے مارشل لاء نہ لگا۔ نہ حکومت گری۔ایک بھی پیشن گوئی پوری نہ ہوئی۔لیکن ہفتہ میں سات دن ون آن ون ٹی وی مذاکروں میں نمودار ہوتے ہیں۔فوج کو ستو پینے کے طعنے دیتے ہیں۔شنید ہے کہ ریٹنگ بہت آتی ہے ان کے سکرین پر آنے سے۔معلوم نہیں ایسا ہے بھی یا نہیں۔اینکر بلاتے ہیں تو کوئی وجہ تو ہو گی۔ریٹنگ نہ سہی کوئی اور وجہ ہو گی۔بہر حال اب ایک مرتبہ پھر عام انتخابات کی آمد آمد ہے۔موصوف کی خواہش ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے دوحلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں کیونکہ انتخابی نتائج یقینی نہیں۔دل ہے کہ نامعلوم وسوسوں اور خدشوں کا شکار ہے۔لہٰذا ان کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ پی ٹی آئی کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جائے۔تا کہ کوئی شک نہ رہے۔ جماعت اسلامی کے کسی امید وار کو وہ اپنے ساتھ بطور صوبائی امیدوار کے طور پر رکھیں۔پی ٹی آئی سے ان کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ صوبائی ٹکٹیں بھی وہ اپنی مرضی سے دیں تاکہ فنانسر ایڈجسٹ ہو جائے۔عمران خان ان کے پسند کے دونوں حلقے دینے کیلئے تیار ہیں۔آدھی بات وہ مان چکے ہیں۔آدھی بات پر نیم رضا مندہیں۔امید ہے کہ باقی بھی مان جائینگے۔کیونکہ شیخ رشید کو خوش رکھنا ضروری ہے۔
جناب شیخ رشید نے جوڈیشل مارشل لاء کے نفاذ کی بات 23 مارچ کی سالانہ تقریب سے صرف دو روز پہلے کی۔پاکستان میں مارشل لاء فوجی ہو یا غیر فوجی۔ان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔1958 ء سے لیکر 12 اکتوبر 1999 ء تک مارشل لاء ہی لاء۔حتیٰ کہ ذولفقار علی بھٹو کا سویلین مارشل لاء۔ قوم مارشل لاؤں سے لڑتی بھی رہی۔کبھی ہاری اور کبھی جیتی۔کش مکش میں ایسا ہی ہوتا ہے۔پاکستان کے آرمی چیف اور چیف جسٹس دونوں جمہوری نظام کے ساتھ وابستگی کا اعلان کر چکے ہیں۔وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے۔شیخ رشید نے جوڈیشل مارشل لاء کا مطالبہ کیوں کیا۔کس کے کہنے پر کیا۔اس کی چھان بین شروع ہے۔لیکن چیخ رشید کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان مذاکرات کی میز پر دلیل سے بنا۔کسی لشکر کشی یا بندوق کے ذریعے نہیں۔اگر انہوں نے ووٹ کی عزت نہیں کی تو ووٹر ان کو ایک مرتبہ پھر دھتکار دے گا۔ماضی کی طرح۔


ای پیپر