ملکی سیاست ابہام کا شکار
25 مارچ 2018

ملک کی پوری سیاست ابہام کا شکار ہوگئی سیاست کی غلام گردشوں میں غیر معینہ مدت کی لوڈشیڈنگ ہر طرف اندھیرا، راہیں تاریک، کچھ سجھائی نہیں دیتا، کون محب وطن کون کرپٹ جسے صادق اور امین کہا گیا اس کے بارے میں لا تعداد تحفظات ’’گاڈ فادر‘‘ کے جلسوں میں ان گنت عوام، اس کا سر عام چیلنج کہ ایک روپے کی کرپشن ثابت کردو دو سال سے کرپشن ڈھونڈی جا رہی ہے ابھی تک مل کے نہیں دے رہی ریفرنس پر ریفرنس پھر ضمنی ریفرنس جس نے جو کہہ دیا وہی کم، قابل اعتبار نیب نے اسی پر ریفرنس دائر کردیا، نت نئی افواہیں، سزاؤں کے جلد اعلان کی پیشگوئیاں، منہ پھٹ سیاستدان اور ان کے ترجمان گزشتہ تین ماہ سے سزاؤں کی خود ساختہ تاریخوں کا اعلان کرتے تھک گئے مارچ بھی گزر گیا دور کی کوڑی لائے کہ موجودہ سیٹ اپ میں سزا دی گئی تو صدارتی معافی مل سکتی ہے مئی کے آخر تک سزا سنائے جانے کی صورت میں آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو سزا ختم کرنے کے اختیارات ہیں سزا لازمی ٹھہری لوح محفوظ میں یہی لکھا ہے تو آئینی رکاوٹ کو صرف اسی صورت عبور کیا جاسکتا ہے کہ احتساب مقدمات کو عبوری سیٹ اپ تک گھسیٹا جائے سویا ایھا الناس یہی کیا جا رہا ہے ایک اور ضمنی ریفرنس دائر کردیا گیا پیشیاں بھگتتے باپ بیٹی نڈھال ہوگئے سابق وزیر اعظم کے چہرے سے رونق غائب ہوگئی بیٹی سنجیدگی کی چادر اوڑھے ہر پیشی پر باپ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے مستعدی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ عبوری سیٹ اپ میں سزائیں سنائی گئیں تو صدارتی معافی نہیں ملے گی۔
یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کسی طرح فرد جرم عائد کر کے جیل بھیج دیا جائے کرپشن وغیرہ بعد میں ثابت ہوتی رہے گی احتساب عدالت کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کے لیے 6 ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی 14 مارچ کو وہ ڈیڈ لائن ختم ہوگئی تو دو ماہ کی توسیع کردی گئی اس کے بعد ’’ثبوت‘‘ ٹرالی میں لاد کر لانے والے چیمپئن کو طلب کیا گیا پردہ غیب سے کیا ظہور پزیر ہوتا ہے آنے والے دنوں میں پتا چل سکے گا لیکن سیاسی افق ابر آلود ہے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں کچھ نظر آئے تو حتمی رائے قائم کی جائے تجزیہ کاروں کے مطابق 14 مئی سے قبل یا اس دن سزاؤں کا اعلان ہوا تو صدر اپنے صوابدیدی اختیارات یا وزیر اعظم کی سمری پر سزا معاف کردیں گے عبوری حکومت بن گئی تو معافی مشکل ہوجائے گی آئینی موشگافیاں ہیں اس عرصہ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اندر ہوگئے تو کہاں کے جلسے، کیسی انتخابی مہم، عوام ’’حاضر مال‘‘ پر ٹوٹ پڑیں گے۔جھولیاں بھر بھر کے ووٹ دیں گے ووٹ نہ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے آصف زرداری اور بلاول بھٹو بار بار اس یقین کا اظہار کر رہے ہیں کہ آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی اس کے برعکس عمرنا خان اور ان کے لا تعداد ترجمان بشمول شیخ رشید کو یقین ہے کہ ائندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کلین سوئپ کرے گی کیسے کرے گی؟ ’’علم دیا گلاں منشی علم دین جاندا اے‘‘ چاچا علم دین کہتا ہے کہ دونوں مل کر حکومت بنائیں گے تب جوتیوں میں دال بٹے گی علم دین کا اپنا علم محدود ہے سینیٹ کے انتخابات میں ن لیگ اوندھے منہ کیسے گری چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑ بھان متی نے کنبہ جوڑا کیسے ممکن ہوا؟ علم دین اس کے بارے میں لا علم چیئرمین الیکشن کے بعد پھر ایک دوسرے کو گالیاں دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا عام انتخابات میں ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے کام لیا جائے گا بقول عدیم ہاشمی
اس نے کہا کہ ہم بھی خریدار ہوگئے
بکنے کو سارے لوگ ہی تیار ہوگئے
اس نے کہا کہ ایک وفادار چاہیے
سارے جہاں کے لوگ وفادار ہوگئے
وفاداریاں بکتی ہیں یہی تو جمہوریت کے حسن کے لشکارے ہیں جو آنکھیں خیرہ کیے دیتے ہیں حقائق پوشیدہ عبوری حکومت نادیدہ، الیکشن کب ہوں گے ہوں گے بھی یا دو تین سال تک ’’ڈنگ پٹاؤ‘‘ انتظامات کے تحت ملک چلتا رہے گا ابہام ہی ابہام ہے پوری سیاست ابہام کا شکار سازش ہے یا منصوبہ بندی سازش ہے تو اس کے پیچھے کون ہے منصوبہ بندی ہے تو منصوبہ ساز کون ہیں اور کب سے ہیں بادی النظر میں تو 2013ء کے انتخابات ہضم نہیں ہوئے تھے 120 دن کا ریکارڈ توڑ دھرنا اس دوران پارلیمنٹ اور پی ٹی آئی پر حملے بعد میں سارے مکر گئے ’’بخدا ہم نے جلایا نہیں پروانے کو‘‘ چار سال بعد بھی ان حملوں اور ایس ایس پی پر تشدد کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا فرد جرم نہ سزا ابہام ہی ابہام موجودہ حالات نے ثابت کردیا کہ سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق چل رہا ہے پی ٹی آئی میں ایک نووارد لیڈر نے جو کل تک نواز شریف کی تعریف میں رطب اللسان ہوا کرتے تھے بے رخی سے تنگ آکر بنی گالہ کی چوکھٹ پر سر جھکا دیا بولے پی پی سے ہاتھ ملانا کرپٹ ترین جماعت سے دوستی کے مترادف ہے سب درست لیکن ’’اوپر‘‘ سے احکامات موصول ہوجائیں تو بے چارے عمران خان کیا کریں حکم حاکم مرگ مفاجات مرتا کیا نہ کرتا حالات سے بے خبر نو وارد لیڈر کو ایک عمر گزارنے کے بعد بھی ان رمزوں کا علم نہیں، ادھر بے چارے خورشید شاہ قاعدے قانون کے پابند کسی حد تک محرم راز، کہنے لگے پی ٹی آئی سے انتخابی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ خارج از مکان نہیں بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی میرا حوصلہ دیکھ کیا چاہتا ہوں۔ امکان کا کیا سوال ’’بڑے ابا چاہیں تو کچے دھاگے سے بندھی آئیں گی سرکار میری‘‘ کسی چھوٹے بڑے لیڈر کی کیا مجال کہ انکار کردے یا تحفظات کا اظہار کرے ’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘ جس نے سر اٹھا کے چلنے کی کوشش کی دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اس کا جو حشر نشر ہو رہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے تیس پینتیس پیشیاں دل دہلا دینے والی باتیں چاروں طرف سے پابند کرنے کے اقدامات نام و نشان مٹا دیا گیا اب سات آٹھ سال کے لیے پھر باہر نکلانے کے لیے مشاورت سر جھکائے حکومت کرتے اِدھر اُدھر نہ دیکھتے تو نہ صرف تیسری میعاد پوری کرلیتے بلکہ چوتھی بار بھی وزارت عظمیٰ جھولی میں آگرتی اب کچھ بھی یقینی نہیں صرف جلسے اور نعرے ہاتھ کھڑے کرنے والے لاکھوں عوام خاموش محبت اور حمایت کے قائل وقت آنے پر کتنے لوگ ساتھ دیں گے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور کے جنازے میں بارہ آدمی تھے قدم بڑھاؤ کے نعرے خوش کن سہی لیکن قدم بڑھا کے پیچھے دیکھیں گے تو اکیلے ہی ہوں گے چند ساتھی ہی بچیں گے جو ہمیشہ ساتھ رہے یا لوگوں کا کیا اعتبار لاکھ دعوے کریں کہ ن لیگ اپنے قائد سے منحرف اور نظریہ سے الگ نہیں ہوگی لیکن جب زلزلے زمین کو ہلا دیں گے ان دیکھے طوفان قیامت ڈھا دیں گے تو قائد پکار اٹھیں گے یہ کیا ہو گیا انہونی ہو کر رہے گی کیا زرداری عمران گٹھ جوڑ انہونی نہیں ایم کیو ایم اچھے برے وقتوں میں ہمیشہ وزیر اعظم کو ووٹ دیتی رہی لیکن برا وقت پڑا تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا سارے ووٹ ایک پلڑے میں جمع ہوگئے پلڑا جھک گیا اقلیت اکثریت میں بدل گئی کیا یہ انہونی نہیں دونوں پارٹیوں کے لیڈر دشمنی کی حد تک ایک دوسرے کے مخالف، ڈاکو، فرعون سب سے بڑی بیماری کے القابات سے ملقب لیکن مفاہمت پر وہی لیڈر سب پر بھاری فرمان جاری ہوا اپنے اپنے مہرے اکٹھے کرو اور متحد ہوجاؤ بڑی بیماری ختم کرنے کے لیے چھوٹی بیماری کو گلے لگا لو، دشمن کا دشمن دوست، بڑے دشمن کا نام و نشان مٹانا مقصود ہو تو چھوٹے دشمن معاف کیجیے جانی دشمن سے دوستی کرلو کسی نے کہا دونوں ’’دشمن‘‘ ایک میز پر بٹھا دیے گئے دونوں دانت پیستے اور ایک دوسرے کو صلواتیں سناتے رہے لیکن میز کے نیچے (Under The Table) ہاتھ ملایا کیا یہ ابہام نہیں ہے؟


ای پیپر