ترکی سے پاکستان کے لائق رشک روابط
25 مارچ 2018

یہ تو سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان کے مابین اقتصادی و تجارتی تعلقات میں وسعت اور مشترکہ دفاعی پیداوارکے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے بھر استفادہ حاصل کیا جا سکے ۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات موجود ہیں جبکہ معیشت اور دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے مشترکہ منصوبے زیر غور ہیں ۔ ترک حکمران پاکستان آکر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کئی صدیوں سے گہرے برادرانہ روابط ہیں جو بحیرۂ عرب سے گہرے اور ہمالیہ سے بلند ہیں، ترکی اور پاکستان کے درمیان بھائی چارے کا عظیم رشتہ قائم ہے جو سیاسی‘ دفاعی‘ اقتصادی‘ کلچرل اور دیگر تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان تمام شعبوں میں انتہائی مضبوط اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ وہ علاقائی سا لمیت ، امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستا ن کی کوششوں کو سرا ہتے ہیں۔دونوں ممالک کے مابین مشترکہ دفاعی پیداوار کے منصوبے‘ تجارت کو ایک بلین ڈالر تک بڑھانے‘ عالمی سطح پر یکساں مؤقف‘ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے کیلئے مؤثر لائحہ عمل پر اپریل 2008ء میں اتفاق ہو چکا تھا۔ مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری اور سٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس بھی ہوچکے ہیں۔ اب امید ہے کہ عملی اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ ترک حکمرانوں کو اس امر کا بہ خوبی ادراک ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں کشمیر کلیدی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے جس کا حل انتہائی ضروری ہے؂ترک حکومت کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر غیرمشروط حمایت پر پاکستا نی عوام ہمیشہ ان کے ممنون رہے ہیں۔واضح رہنا چاہیے کہ پاک ترک تعلقات فردواحد کے ساتھ نہیں بلکہ ترکی اور پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔ ترک حکومت دوٹوک الفاظ میں ایک سے زائد بار یقین دلا چکے ہیں کہ ’’ پاکستان میں تمام مسائل کے حل کیلئے ترکی برادر اسلامی ملک کا ساتھ دیتا رہے گا‘‘
اس باب میں دو رائیں نہیں ہیں کہ جب کسی ملک میں کسی حقیقی منتخب جمہوری حکومت کی جانب سے بہتر معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جاتا اور انہیں دیر پا بنیادوں پر تحفظ کی یقین دہانی عالمی سطح پر تسلیم کر لی جاتی ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار اس ملک کو سرمایہ کاری کیلئے ایک محفوظ جنت تصور کرتے ہیں۔ آپس میں جڑی اس دنیامیں آج کوئی بھی ملک معیشت کی فضا میں ’’سولو فلائیٹ‘‘ کا مظاہرہ نہیں کر سکتا ۔ تیز رفتار مواصلاتی رابطوں اور سیٹلائیٹ میڈیا نے پوری دنیا کو ایک چھوٹے سے گاؤں کا روپ دے دیا ہے۔ 20ویں صدی کے آخری عشرہ سے مختلف حکومتیں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے فضا ساز گار بنانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔اس ضمن میں 1999ء سے فروری2008ء تک ایک نیم جمہوری حکومت کے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے کیلئے بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ اس تشہیرپر یقیناًبھاری بھر کم مصارف آئے۔ اس دوران سیاسی عدم استحکام، بعض اعلیٰ سطحی شخصیات کی کمیشن گردی اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث ارباب حکومت کی کوششوں اور کاوشوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ 1988ء سے 1999ء تک منتخب جمہوری حکومتیں بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وطن عزیزمیں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے پرکشش پیکج پیش کرتی رہیں اوردوسری طرف داخلی سیاسی تناؤ اور مخاصمت پر قابو پانے میں ناکام رہیں ۔مزید برآں عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے بعض حکومتوں کے ایک آدھ تساہل کی وجہ سے بھی پاکستان مخالف عالمی میڈیا میں اسی دور میں پاکستان کو نادہندہ ملک قرارد ینے کی ’’تجاویز‘‘ اچھالی جاتی رہیں۔ اس پراپیگنڈہ کی وجہ سے عالمی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے رہے۔
حالیہ برسوں میں بین الاقوای سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کو سرمایہ کاری کیلئے ایک آئیڈیل ملک قرار دیا جانا یقیناًایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس مثبت تبدیلی کے مقتضیات بھی اہم اور حساس ترین ہیں۔ ارباب حکومت کیلئے اب ناگزیر تھا کہ وہ ایڈہاک ازم کے عارضے سے معاشی پالیسوں کو نجات دلاتے اور مستحکم معاشی پالیسیاں بنانے کیلئے ٹھوس اور نتائج خیز اقدامات کرتے۔ تاہم یہ بھی ایک بہتر علامت ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان میں داخلی امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر تصور کرنے لگے ہیں۔ اس امر پر بھی غور کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ عالمی سرمایہ کار خصوصا امریکی سرمایہ کار ماضی میں پاکستان میں سرمایہ کاری سے محض اس لئے گریز کرتے رہے کہ وطن عزیز کی معاشی پالیسیاں عدم استحکام کا شکار رہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ چونکہ پاکستان میں النٹلکچل پراپرٹی رائیٹس پر عملدآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں ، تاجروں اور صنعت کاروں کے قلوب و اذہان میں بعض تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان کی رائے میں اگر حکومت پاکستان ان تحفظات کا ازالہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو غیر ملکی تاجر و سرمایہ کار پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گے۔ البتہ پاکستان کے مخصوص داخلی معیشتی تناظر میں یہ ذمہ اری اقتصادیات کے ماہرین اوروزارت خزانہ کے ذمہ داران پر عائد ہوتی ہے کہ وہ وسیع سیاق و سباق میں اس امر پر سوچ بچار کریں کہ النٹلکچل پراپرٹی رائیٹس پر عملددرآمد پاکستان کے حق میں کسی قدر اور کس حد تک مفید ہے۔ اس ضمن میں وسیع تر قومی مفاد کو اولیت حاصل ہونا چاہیے ۔
گزشتہ 2عشروں سے پاکستان اور ترکی کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کے نظام میں باہمی تعاون اور کاروباری شراکت کو بڑھانے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ وطن عزیز کے ٹیلی مواصلاتی شعبے میں اِن برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ مختلف بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نے پی ٹی سی ایل کے اشتراک اور نجی سطح پر بھی صارفین کو ٹیلی فون کی سہولیات فراہم کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ۔یہ امر موجب طمانیت ہے کہ ماضی کی حکومت نے بھی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے حکومت پاکستان کی طرف سے بھرپور تعاون اور رہنمائی کا یقین دلایا تھا۔کون نہیں جانتا ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کے میدان میں باہمی تعاون اورکاروباری شراکت دونوں ملکوں کے بہتر مفاد میں ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات کی جڑیں زمین اور تاریخ میں انتہائی گہری ہیں۔ ابتلا و آزمائش کی ان گنت گھڑیوں میں پاکستان نے ترکی اور ترکی نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ علاقائی اقتصادی ترقی کیلئے صدر محمد ایوب خان کے دور میں پاکستان ، ایران اور ترکی نے ایک ادارہ آر سی ڈی کے عنوان سے قائم کیا تھا ۔مقام افسوس ہے کہ عہد ایوبی کے بعد اس ادارے کی فعالیت میں ’’بوجوہ‘‘ کمی کے آثار دکھائی دئیے۔ اس امر کی ضرورت بھی کئی برسوں سے محسوس کی جارہی ہے کہ اس ادارے کی ری سٹرکچرنگ اور ری آرگنائزیشن پر توجہ دی جائے اور اسے 60ء کے عشرے کی طرح فعال ، متحرک اور مستعد بنایا جائے۔ بین الاسلامی معاشی اور اقتصادی تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے ہی میں ترقی پذیر اور پسماندہ اسلامی ممالک کے معاشی مستقبل کے تحفظ کی ضمانت پنہاں ہے ۔ پاکستانی عوام اطمینان محسوس کر رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں بین الاسلامی اقتصادی تعاون کی رو میں توانائی بھی آئے گی اور روانی بھی۔


ای پیپر