بیٹا یہ راگ مت چھیڑنا ۔۔۔ منہ ٹیڑھا ہو جائے گا ۔۔۔؟
25 مارچ 2018

’’ریچھ کی ٹانگ کی ہڈی میں دو تین سوراخ کر کے اسے بطورِ ساز استعمال کیا گیا یعنی یہ بانسری کی ایجاد تھی‘‘؟ ۔۔۔ ہزاروں سال پہلے جب پتھر سے زندگی وابستہ تھی اُس دور میں نظریہ ضرورت کے تحت انسان نے اپنے کھانے پینے کا انتظام کیا وہیں وقت گزارنے اور خود کو خوشی فراہم کرنے کے لیے انسان نے یہ سب کچھ ایجاد کر ڈالا ۔۔۔ جو بعد میں ارتقائی مراحل طے کر کے جدت اختیار کر گیا ۔۔۔ یہ بات نامور محقق اور علم و ادب سے وابستہ شخصیت جناب جواز جعفری نے حاضرین کو بتائی تو وہ ہمہ تن گوش ہوئے، اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے جواز جعفری نے بتایا کہ سب سے پہلا گٹار، وائلن یا سارنگی بھی ایسے ہی اتفاقاً ایجاد ہوئی ۔۔۔ جب فارغ بیٹھے سپاہی نے جنگوں میں استعمال ہونے والی تیر کمان کی کمان کی نہایت Tight تار کو چھیڑا تو اُسے وہ آواز بھلی لگی ۔۔۔’’ارے یہ کیا ۔۔۔ خوبصورت آواز‘‘ ۔۔۔؟انسان بولا ۔۔۔ اور پھر چھ سات تاروں کو ہاتھ سے، گز سے رگڑا یا چھیڑا گیا تو ۔۔۔ وہ ساز سامنے آیا جو سوئے انسانوں کو جگا دیتا ہے، بے آرام، بد سکونی کا شکار دماغوں کو لذت فراہم کرتا ہے ۔۔۔
بظاہر بات سادہ تھی لیکن دل میں اترتی چلی جا رہی تھی اور میرے لیے تو معلومات افزاء بھی تھی، جواز جعفری کی یہ گفتگو ۔۔۔! ہال میں موجود ستر اسی لوگ، ساکت ہوئے اور جنہیں موسیقی سننے کا اشتیاق اس محفل میں کھینچ لایا وہ موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے حوالے سے جواز جعفری کی سیر حاصل گفتگو سے متاثر ہوئے کھو سے گئے ۔۔۔ اُن کی باتوں میں ۔۔۔حلقہءِ ارباب ذوق کا یہ اجلاس نامور ناول نگار علی نواز شاہ، جناب غافر شہزاد، اعجاز رضوی اور روحِ رواں فرحت عباس شاہ کی کوششوں سے ہر جمعہ کی شام پاک ٹی ہاؤس میں ہوتا ہے، محترمہ شاہدہ دلاور شاہ بھی ہر جمعہ کو ہونے والی اس تقریب میں لازمی پیش ہوتی ہیں ۔۔۔ کل تو اُنھوں نے اپنی نہایت پر اثر شاعری بھی پیش کی ۔۔۔فرحت عباس شاہ چونکہ خود بھی اچھے گلو کار اور ترنم سے شاعری پڑھنے کے ماہر ہیں اسی لیے اُنھوں نے بھی ایک معلومات افزاء گفتگو کی، موسیقی اور فن موسیقی کے حوالے سے ۔۔۔ اساتذہ خاص طور پر موسیقی کے اساتذہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرحت عباس شاہ نے بتایا ۔۔۔ کہ موسیقی کے نامور گھرانے کے سینئر لوگ تو اپنے بھتیجوں، بھانجھوں کو بھی سر، تال سے آشنائی فراہم نہیں کرتے تھے، پرویز پارس نے اس بات کو بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ بڑے موسیقی کے استاد تو ۔۔۔ اپنے شاگردوں، دامادوں اور بھتیجوں کو گھر کی ’’ڈیوڑھی‘‘ میں بیٹھاتے کہ اُن کی آواز اُن کے کانوں تک نہ پہنچے جب وہ ریاض کر رہے ہوتے تھے ۔۔۔اس بات کو یا تنگ نظری کو مزید اچھے انداز میں نامور گلو کار فہیم مظہر جو یورپ میں چودہ پندرہ سال فن موسیقی کے استاد رہے، اُنھوں نے بتایا کہ جب کوئی شاگرد ۔۔۔ اچھا گانے لگتا یا سمجھ بوجھ کے قریب پہنچنے لگتا تو ۔۔۔ استاد کہتے ۔۔۔ ’’ بیٹا اے راگ نہ چھیڑ لقویٰ ہو جائے گا ‘‘ ۔۔۔؟ (یعنی گانے سے منہ ٹیڑھا ہو جائے گا ؟) ۔۔۔
لیکن اس گفتگو کا خوبصورت رنگ اُس وقت سامنے آتا جب استاد پرویز پارس نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے اس بات کا مثبت انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے بتایا ۔۔۔ کہ ۔۔۔’’موسیقی روح کی غذا ہی نہیں‘‘ ۔۔۔ روح موسیقی میں جذب ہو کر سیکھنے سمجھنے کا نام بھی ہے، جو نو عمر ہار مونیم پکڑتا ہے اُسے شہرت کمانے کا شوق یا لالچ غزل گانا گانے کی خواہش تو ہو جاتی ہے لیکن موسیقی کے رازوں پر بنیادی قائدے قوانین میں مہارت پر وہ توجہ نہیں دیتا ۔۔۔ جب کہ بقول ثریا ملتانی سارنگی ایک لکڑی سے بنا ساز ہے اور انسان اس کے اسرار و رموز جانتا جانتا خود لکڑی بن جاتا ہے‘‘؟ ۔۔۔جب مجھے یہ بات ثریا ملتانی صاحبہ بتا رہی تھیں تو اُن کا اشارہ استاد شریف الدین خاں کی طرف تھا جو اُس وقت سارنگی بجانے لگے تھے اور سارنگی کے ایک دو بڑے استادوں میں اُن کا شمار ہوتا تھا ۔۔۔
حلقہءِ ارباب ذوق کے اس اجلاس میں در اصل چھ سات گلو کاروں نے قومی نغمے 23 مارچ کے حوالے سے پیش کرنا تھے ۔۔۔ چونکہ صاحبانِ علم وہاں موجود تھے اس لیے موسیقی کے آلات سامنے پڑے تھے مگر حاضرین کی توجہ مد نظر رکھتے ہوئے فرحت عباس شاہ، فہیم مظہر، مجید ریاض، جواز جعفری اور استاد پرویز پارس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’موسیقی بطورِ فن‘‘ کے موضوع پر دل کھول کر گفتگو کی ۔۔۔ علی نواز شاہ نے جب جواز جعفری خوبصورت، معلومات افزاء گفتگو کر رہے تھے ۔۔۔ میرے کان میں کہا ۔۔۔ ’’شاید موسیقی سننے کا وہ مزہ نہ آئے جو اس حوالے سے گفتگو سننے میں آ رہا ہے‘‘۔۔۔؟میں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔ کیونکہ بڑی مدت بعد ایسے پڑھے لکھے، علم و فضل سے وابستہ لوگوں کے درمیان بیٹھنے کا موقع مل رہا تھا ۔۔۔ایک دفعہ میری پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سنٹر میں افتخار مجاز سے بات ہوئی تو میں نے گلہ کیا کہ ’’آپ شاعری کے حوالے سے پروگرامز بہت کم کرواتے ہیں؟‘‘ ۔۔۔ افتخار مجاز بولے ۔۔۔ ’’حافظ صاحب ’’یہاں توں بڑا کہ میں بڑا‘‘ والے جھگڑوں سے ڈر لگتا ہے، سینئر جونےئر کی لڑائی اور دردِ سر مول لینے سے بہتر ہے بندہ چپ ساد لے‘‘ ۔۔۔؟موسیقی کے حوالے سے ایک گلہ مجید ریاض صاحب نے بھی کیا جو میرے دل و دماغ میں بھی گردش کر رہا تھا ۔۔۔وہ تھی آج کی موسیقی ۔۔۔ نہ شاعری پر توجہ نہ موسیقی پر توجہ نہ ہی گلو کار کی تربیت ۔۔۔ پر ۔۔۔ بقول فرحت عباس شاہ اب تو سائنس کی مدد سے اچھی آواز، اچھا میوزک نہ بھی ہو ٹیکنالوجی کے زور پر گانا تیار ہو جاتا ہے ۔۔۔ فہیم انور چغتائی فرماتے ہیں، چونکہ آجکل اُن کا قیام لاہور کے رائل پارک میں ہے جو کہ موسیقی، فلم، اداکاری اور دیگر شوبز سے وابستہ معاملات سے متعلقہ لاہور کی ایک بدنام بستی تھی ۔۔۔ ایک صحافی کی حیثیت سے فہیم انور چغتائی کا کام کھوج لگانا ہوتا ہے ۔۔۔ فہیم صاحب کہتے ہیں کہ لاہور کے رائل پارک میں آج بھی وہ ڈائریکٹر/ پروڈیوسر موجود ہیں جو پندرہ بیس لاکھ میں ’’اچھی‘‘ فلم بنا ڈالتے ہیں کیونکہ اُنھوں نے بھارت میں بنی اُن فلموں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو دو چار ارب روپے کے بجٹ سے بنتی ہیں ۔۔۔؟ (آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ۔۔۔ جو میں کہنا چاہتا ہوں؟)
میں نے موسیقی کے ایک استاد سے (جو عمر کے باعث تنگدستی کے باعث سٹھیا چکے تھے) پوچھا ۔۔۔؟
استاد جی ۔۔۔ آجکل گانے والی لڑکیاں ملکہءِ موسیقی روشن آراء بیگم کیوں نہیں بن جاتیں ۔۔۔؟!
’’پتر ۔۔۔ اوہ ڈائیٹنگ جو کردیاں نیں‘‘ ۔۔۔؟!
(آپ سمجھ تو گئے ہوں گے؟) ۔۔۔


ای پیپر