گیریژن یونیورسٹی میں ایک دن !
25 مارچ 2018

میں نے پوچھا :’’ سر آپ نے ماس کمیونیکیشن کس یونیورسٹی سے کیا تھا اور آپ کا سی جی پی اے کیا تھا ‘‘ انہوں نے زور دار قہقہہ لگایا ، گاڑی کا شیشہ او پر چڑھایا اور میری طرف متوجہ ہو کر بولے ’’ عرفان ہمارے دور میں ماس کمیونیکیشن تو کیا صحافت کا کوئی ڈپلومہ بھی نہیں کرتا تھا ، ملک میں چند سرکاری یونیورسٹیاں ہوا کرتی تھیں اور ان میں صرف پنجاب یونیورسٹی ایم اے صحافت کروایا کرتی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے پنجاب یونیورسٹی کا صحافت ڈیپارٹمنٹ برصغیرمیں صحافت کا پہلا ڈیپارٹمنٹ تھا جوا 1941ء میں قائم ہوا، 1985ء میں اسے جرنلزم کی بجائے انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن ڈکلیئر کر دیا گیا۔ سن دو ہزار کے بعد ملک میں دو اہم ادارے متعارف ہوئے اور ان دونوں نے صحافت کی مانگ بڑھا دی ، یہ ادارے میڈیا اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں تھیں ، پرائیویٹ چینلز کی بھر مار ہوئی تو ان میں خبروں کے لیے نیوز اینکرینگ اور رپورٹرز کی مانگ بڑھی،پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے ماس کمیونیکیشن کی ڈیمانڈ دیکھی تودھڑا دھڑ ماس کمیونیکیشن کے کورسز شروع کر وادیئے۔اب صورتحال یہ ہے کہ ملک کی سو سے زائد یونیورسٹیوں میں ماس کمیونیکیشن کے ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں لیکن صحافت کا معیار دن بدن گرتا جا رہا ہے ۔ ‘‘ وہ اس لمبی تمہید کے بعد خاموش ہوئے تو میں نے عرض کیا ’’ سر کیا صحافت یا میڈیا میں ’’ان ‘‘ ہونے کے لیے ماس کمیونیکیشن کرنا ضروری ہے ‘‘ انہوں نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا ، باہر نگاہ دوڑائی اور میری طرف متوجہ ہوئے ’’ اس سوال کے دو جواب ہیں ، ہاں بھی اور نہیں بھی ‘‘ میں نے وضاحت کے لیے نظریں ان کے چہرے پر گاڑ دیں ’’وہ بولے ’’ اگر آپ عملی صحافت میں آنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ماس کمیونیکیشن کی کوئی ضرورت نہیں ، آپ دیکھ لیں اس وقت پاکستان میں جتنے بھی ’’بابے ‘‘ صحافی ہیں ان میں سے کسی کے پاس صحافت کی ڈگری ہے اور نہ انہوں نے کبھی یونیورسٹی کا منہ دیکھا ، اس کا تعلق صرف اور صرف آپ کے شوق ، جذبے اور جنون سے ہے ، ماس کمیونیکیشن کا ڈیپارٹمنٹ آپ کے اسی شوق، جذبے اور آپ کی صلاحیتوں کو صرف پالش کرتا ہے اور آپ میں پہلے سے موجود صحافت کے جراثیم کو مضبوط بناتا ہے۔آپ جب تک کتب نہیں پڑھتے ، روزانہ اخبارات کا مطالعہ نہیں کرتے ، کرنٹ افیئرز سے دلچسپی نہیں رکھتے اور آپ کو اردو ادب سے شناسائی نہیں تو آپ کبھی اچھے صحافی اور کالم نگار نہیں بن سکتے ۔ اگر آپ یہ سب بھی کر لیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ آپ ضد اور ہٹ دھرمی کی حد تک مستقل مزاج نہیں تو پھر بھی آپ سو میں سے صرف پچاس نمبر کے مستحق ہیں۔اور اگر آپ نظری صحافت یا ریسرچ ورک میں جانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ظاہر ہے آپ کو ماس کمیونیکیشن کے ڈسپلن سے گزرنا پڑے گااور آپ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنی پڑے گی۔ ‘‘وہ بات کر کے خاموش ہوئے اور میں نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ یہ ملک کے معروف قومی روزنامے کی ایڈیٹر تھے ، میں جب بھی کسی سینئر صحافی کا کالم نگار سے ملتا ہوں تو اس سے یہ سوال ضرور کرتا ہوں ۔ میں یہ سوال کیوں کرتا ہوں اس کی وجہ میرا پنا تجربہ ہے، مجھے یا دہے آج سے چھ سال قبل جب میں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایڈمشن لیا تو میں بہت پرجوش تھا ، میرٹ لسٹ دیکھتے ہوئے جب ہزاروں اسٹوڈنٹس میں سے میرا نام تیرھویں نمبر پر موجود تھا تومیں دیکھتے ہی زور سے چلایا او ر ارد گرد کھڑے لوگ حیرت سے مجھے تکنے لگے۔لیکن صرف دو ماہ بعد مجھے اندازہ ہو گیاکہ اتنا پرجوش ہونے کی ضرورت نہیں ۔ مجھے احساس ہوا کہ ان دو سالوں میں ڈیپارٹمنٹ مجھے کوئی بہت بڑا ’’صحافی یاکالم نگار ‘‘ نہیں بنا دے گا،یہ ذیادہ سے ذیادہ یہ کرے گا کہ مجھ میں صحافت کے جو جراثیم پہلے سے موجود ہیں یہ صرف ان کو پالش کر دے گا باقی کام مجھے خود کرنا ہے ۔ میرے پاس دو آپشن تھے ، ایک ، میں کلاس روم میں پڑھائی جانے والی تھیوریز کو رٹا لانا شروع کر دیتا اور اپنا سی جی پی اے آسمان پر لے جاتا ، میں کمیونیکیشن کی تعریف اوراس کی اقسام پر نوٹس بنانے میں وقت ضائع کرتا اور عملی صحافت سے بالکل غافل ہو جاتا ،لیکن شاید میں یہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ دو ، میں کلاس ورک کو اتنا وقت دیتا جتنی اس کو ضرورت تھی اور باقی وقت عملی صحافت کے لیے وقف کر دیتا ، میں نے دو ماہ تک اپنے رجحان کا جائزہ لیا اور دوسرے آپشن کا انتخاب کر لیا ، میں نے سو چ لیا تھا میں کلاس ور ک کو صرف اتنا وقت دوں گا کہ میرا سی جی پی اے تین سے اوپر رہے اور پھرایسا ہی ہوا۔ میں نے عملی صحافت اور کالم نگاری کو چن لیا، میں ابھی طفل مکتب ہوں ، میں ابھی سیکھ رہا ہوں کہ کالم کیسے لکھتے ہیں لیکن میں مطمئن اور خوش اس لیے ہوں کہ میں نے درست آپشن کا انتخاب کر لیا ہے اور میرا سفر صحیح سمت پر گامزن ہے ۔
اس وقت ملک کی سو سے زائد یونیورسٹیوں میں ماس کمیونیکیشن کے ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں اور ان میں ہزاروں اسٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں ، یہ تمام اسٹوڈنٹس سنہرے اور روشن مستقل کا خواب لے کر اس فیلڈ میں آئے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ جب یہ لوگ یونیورسٹی سے نکلیں گے تو ان کے ہاتھ میں سوائے سی جی پی اے کے اور کچھ نہیں ہو گا ۔ یہ ہماری یونیورسٹیوں کا المیہ ہے ، پچھلے دنوں مجھے گیریژن یونیورسٹی لاہور میں ایسے ہی اسٹوڈنٹس کے ساتھ ایک ورکشاپ کا موقعہ ملا ، یہ سب میڈیا اسٹڈیز کے اسٹوڈنٹ تھے اور ہم نے پورا ایک دن عملی صحافت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ گیریژن یونیورسٹی ڈیفنس کے سیکٹر سی میں قائم ہے ، اس کے موجودہ وائس چانسلر میجر جنرل (ر) عبید بن زکریا ہیں ، یہ بہت شاندار اور وژنری انسان ہیں ، یہ وسیع المطالعہ شخص ہیں یہ کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ اقبال کے بہت بڑے فین ہیں اوریہ اقبال پر ایک داکو منٹری فلم بنانا چاہتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ ایک فلم کے لیے جن عناصر کا ہونا ضروری ہے اقبال کی زندگی میں وہ تمام عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یونیورسٹی کا ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ بہت متحرک اور فعال ہے ، ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ مس جویریہ نذیر ہیں ، یہ انتہائی قابل اور محنتی انسان ہیں ، یہ اسٹوڈنٹس کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہیں ، ڈیپارٹمنٹ کا اسٹوڈیو کسی بھی پیشہ ورانہ ادارے سے کم نہیں اورابلاغیات کے جدید ترین آلات یہاں موجود ہیں ۔ مس جویریہ اور ڈاکٹر عامر باجوہ کی صورت میں یہاں شاندار ٹیم موجود ہے ، یہ سارے نوجوان اور محنتی لوگ ہیں ، یہ اپنا ایف ایم ریڈیو ، ویب چینل اور اخبار بھی نکا ل رہے ہیں اور یہ اپنے اسٹوڈنٹس کو نظری اور عملی صحافت دونوں شعبوں میں تربیت فراہم کر رہے ہیں ۔ یہ گاہے بگاہے نامور صحافیوں کو بلاتے ہیں اور طلباء کو عملی صحافت سے بھی روشناس کر وا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کئی اسٹوڈنٹس نامور میڈیا ہاؤسز میں جاب اور انٹرن شپ کر رہے ہیں ۔طلباکو عملی طور پر کام کرنے اور اپنے کارکردگی بڑھانے کے لیے اخبار، ویب ٹی وی اور ایف ایم کی سہولتات میسر ہیں ، اسٹوڈنٹس تینوں شعبوں میں سے جس میں دلچسپی رکھتے ہیں اس میں پریکٹس کر سکتے ہیں ۔میرے خیال میں اس وقت ضرورت بھی اسی امر کی ہے کہ صحافت کو کلاس روم کی بجائے عملی طور پر سکھایا جائے ،صرف کلاس روم تک محدود ہونے سے سی جی پی اے تو مل جائے گا لیکن پھر آپ یہ خیال ذہن سے نکال دیں کہ آپ ایک اچھے صحافی ، اینکر یا کالم نگار بن جائیں گے ۔


ای پیپر