تصورِ محبت کی ردِ تشکیلیت
25 مارچ 2018 2018-03-25

محبت پانی کی طرح ہوتی ہے یعنی اس کا اپنا کوئی رنگ یا شکل نہیں ہوتی ۔ یعنی پانی کی طرح محبت میں بھی یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ اس میں جو رنگ شامل کریں یہ وہی رنگ اختیار کرلیتی ہے یا اسے جس برتن میں ڈالیں وہی شکل اختیار کرلیتی ہے۔پانی جب نقطہ ء انجماد یا اس سے نیچے پہنچتا ہے تو جم کر برتن کے کناروں سے باہر آجاتا ہے اور جب اسے گرم کیا جائے تو بھاپ بن کر غائب ہوجاتا ہے ۔ محبت کو جب فاصلہ یا وقت حنوط کرتا ہے تو یہ کناروں سے باہر آجاتی ہے اور پھیل کر اپنے مضافات کو اپنے خوبصورت حصار میں لے لیتی ہے۔بدقسمتی سے ہندوستان پاکستان کے ہاں تصورِ محبت ایک مخصوس برتن تک ہی محدودہوکر رہ گیا ہے۔ اس میں زیادہ حصہ ہماری لوک داستانوں نے ڈالا جن کے ذریعے جنسِ مخالف کو ایک ایسی شناختی اکائی کے طور پر پیش کیاگیا جس کو اختیار کرنا اپنی ذات کی نفی اور اپنے فطری جوہرِ محبت کو مضافات کی شناختی اور ثقافتی اکائیوں سے الگ کرکے ایک جنسِ مخالف کی اکائی تک مرتکز کرنا اعزازِ بے مثل بنا دیاگیا۔کسی بھی سماج کے جمالیاتی اظہاریوں میں محبت ک یک نکتہ ارتکاز خوف ناک ہوتا ہے۔دنیا کی تمام بڑی محبت کی داستانیں ثنویت یعنی بائنری پر قائم ہیں تاہم ان کی ردِ تشکیلیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت کرنے والے دو دل دراصل ایک جابر سماج سے مزاحم ہوتے ہیں گویا جہاں محبت کا شعوری ارتکاز یک شخصی ہو یہ بات عمومی طور پر طے کرلی جاتی ہے کہ یہ جذبہ سماجی عدم برداشت ، تشدد ، نفرت اور جنسِ مخالف کی طرف آزادانہ میلانات کے خلاف تھا۔ عام طور پر ایسی محبت کی کہانیوں کے انجام بہت دکھ دینے والے ہوتے ہیں جن سے یہ تاثرمتن کیا جاتا ہے کہ دو محبت کرنے والوں کو سماج اور سماجی قوانین نے ملنے نہیں دیا۔یونانی روایت سے پیرس اور ہیلن کی داستانِ محبت ہو،آرفیئس اور یوریڈسی کا معاملہ ہو، یا مصری روایت سے قلوپطرہ اور مارک اینٹنی ، فرانس سے ٹرسٹن اور اسولڈے ہوں یا سولہویں صدی میں ولیم شیکسپیئر کی تحریر کردہ رومیو جولیٹ کی داستانِ محبت ، ہندوستانی روایت سے شیوااور ستی ، ڈھولا اور مارو ، شکنتلا اور دیشیانت ، امبیکاپتی اور امرا وتی، یاہندوستانی مسلم تہذیبی روایت سے ہیر رانجھا ، سسی پنوں ، مرزا صاحباں ، سوہنی ماہینوال ہوں ، یا پھر عر ب سے قیس اور لیلیٰ ہوں ، محبت کی ان تمام داستانوں میں محبت کا یک شخصی ارتکاز بطورِ مہابیانیہ کے اختراع کرنے کی کوشش کی گئی یعنی محبت کے حصول کے لیے اپنی جان کی قربانی دینا ایک آفاقی آدرش کی طرح سمجھا اور سمجھا یا گیا۔عام طور پر ایسی داستانیں ان سماجوں میں پروان چڑھتی ہیں جہاں تصوف کی روایت موجود ہوتی ہے یا فنا فی الشیخ کا تصور موجود ہوتا ہے ۔ادبی متون بڑی مہارت سے فنا فی الشیخ کے تصور کو فنا فی الجنسِ مخالف میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہ داستانیں نوجوانوں کو مرکزی تہذیبی دھارے سے الگ کردیتی ہیں اور وہ ایک معلق تصورِ محبت کے لیے اپنے فطری سماج اور رشتوں سے باہم دست و گریباں ہوجاتے ہیں اور انہیں ہر وہ شخص ، رویہ یا آدرش ’’مقدس محبت ‘‘ کے حصول کی راہ میں بطورِ رکاوٹ محسوس ہوتا ہے جو ان کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔سماج ثقافت کے عملی اظہارپرقائم رہتا ہے ، مذاہب انسانی سماج کو عملی طور پر قابلِ رہائش حلقے بناتے ہیں ۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو انسان بیزاری پر یقین رکھتا ہوں ۔ محبت کا لوک داستانوں سے کشید کیا گیا تصو ر جو یک شخصی ارتکاز پر یقین رکھتا ہے دراصل انسان بیزاری کو ہوا دیتا ہے ۔ جنسِ مخالف کے ہاتھ پر بیعت کرکے سماج کے خلاف خاموش مزاحمت کے نام کو ‘’ایک ارفع محبت ‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے۔
یہ تو ہوگئی لوک داستانوں کی بات۔ محبت کا تازہ تر تصو ر بصری میڈیا اور بالی وڈ کا اختراع کردہ ہے۔ عمومی طور پرمحبت کی شادیاں اس وجہ سے ناکام ہوتی ہیں کہ دو محبت کرنے والوں کے سامنے جو ماڈل ہوتا ہے وہ بالی وڈ کا ہوتا ہے یا بصری میڈیا کی دوسری شکلوں یعنی ٹی وی ڈراموں وغیرہ کے ہاتھوں متشکل ہوا ہوتا ہے لہٰذا یہ ایک غیر عملی اور سماج سے الگ معلق منظر نامے کا حصہ ہوتا ہے جب کہ شادی ایک متحرک اور جدلیاتی سماجی ربط ہے جو سماجی تحرک کے ساتھ اپنی نو بہ نو سمتوں کا تعین کرتی ہے ۔ چونکہ محبت کا تصور یک شخصی اور یک روی ہوتا ہے لہٰذا جدلیاتی ترفع کے ساتھ اس کی ہم آہنگی نہیں ہوتی اس لیے شادیوں کی کامیابی کا تناسب بہت کم ہوتا ہے۔ جیسے کہ پہلے عرض کیا جاچکاہے کہ محبت ایک بہت وسیع تصور ہے اس کا ارتکاز یک شخصی کرکے ہم لوگ محبت کے تصور کو محدود کردیتے ہیں ۔ محبت کی ایسی داستانیں اختراع کرنے کی اشد ضرورت ہے جس میں تصورِ محبت یک شخصی ارتکاز کی بجائے دیگر سماجی اکائیوں کو بھی خود میں شامل کرے یا اس کا پھیلاؤ دیگرحاشیہ برداروں کو بھی اپنے حصار میں لے لے۔اس سے ایک بات اور بھی طے ہوتی ہے کہ سماجی سطح پر رشتوں کے بین محبت کی کڑیاں اتنی ناپختہ مگر ٹھوس ہوتیں ہیں کہ جدلیاتی تبدیلیوں کا بوجھ سہار سکیں لہٰذا محبت کے جنسِ مخلاف میلان سے ٹوٹ جاتی ہیں ۔ والدین کی طرف سے مزاحمت بھی ایک سماجی جبر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ہمیں بہت جلد سماجی سطح پر یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم محبت کی عملی صورت پر سماجی بوجھ یا جبر کو بطور حاکم سمجھتے ہیں یا حقیقی معنوی تفہیم کے ۔ مثال کے طور پر عمومی طور پر بچوں کی پسند کو والدین اس لیے رد کردیتے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی پسند یک شخصی ارتکاز ہے یعنی بچوں کا تصورِ محبتExclusive ہے لہٰذا وہ اس تصورِ محبت کو Inclusive بنانے کے لیے بچوں کے لیے کوئی ایسا شریکِ حیات تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں جو ان کے نزدیک یک شخصی ارتکاز پر یقین نہیں رکھتا ، یاد رہے کہ والدین کا یہ تصورِ محبت بھی بصری بیانیوں کے جبر کا شاخسانہ ہے۔ اسے مذہبی رنگ یا ثقافتی میلان کا نام دے کر بچوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا تصورِ محبت کے جابرانہ معنوں سے فرارحاصل کرکے معنوی امکانیت پر زور دینے کی ضرورت ہے جو Inclusive اور کثیر الجہت ہوتی ہے۔اور آخر میں سعید راجہ کا ایک شعر:
کیا مجھے اتنی بھی آزادی نہیں ہے
میں خدا سے بات کرنا چاہتا ہوں


ای پیپر