کراچی: 7 جولائی 2008ء سے25مارچ 2018ء تک
25 مارچ 2018

7 جولائی2008ء کی شام بھی انتہائی پریشان کن شام تھی ۔اس شام پاکستان کے میگا سٹی کراچی کے مختلف مقامات پر ایک گھنٹے کے دوران تواتر سے ہونیوالے 7 بم دھماکوں میں 14 کمسن بچوں سمیت 50 افراد زخمی اور 2 جاں بحق ہو چکے ہیں۔یہ دھماکے باچا خان چوک، قصبہ موڑ، اورنگی ٹاؤن، کباڑی بازار، پہاڑ گج اور بنارس چوک کباڑی مارکیٹ ، نارتھ ناظم آباد اور دیگر علاقوں میں ہوئے۔ ایک گھنٹے کے دوران پے درپے 7 دھماکوں سے شہرِ قائد کراچی لرز اُٹھا۔ ہر سو افرا تفری کا سماں تھا۔ خوف و ہراس نے شہریوں کو تصویر حیرت بنارکھا تھا۔ ہسپتالوں میں فوری طورپر ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی اورشہر میں رینجرز کے گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔ صدر، وزیر اعظم ، آصف زرداری، نواز شریف، الطاف حسین اور دیگر اعلیٰ سطحی شخصیات نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا : ’’دھماکہ کرنے والی سازشی قوتیں حکومت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں‘‘ ۔۔۔۔ صد شکر پاک افواج کی کوششوں اور قربانیوں کا ثمرہ یہ ہے کہ آج کراچی شہر امن بن چکا ہے۔ جب یہ سطور آپ تک پہنچیں گی شہر قائد میں پی ایس ایل کا فائنل ہوچکا ہوگا۔ وہ کراچی جہاں بھتے کی پرچیاں شہریوں کو موصول ہوا کرتی تھیں ، کل وہاں شہری کرکٹ میچ کی ٹکٹیں خرید رہے تھے۔۔۔7 جولائی2008ء کی شام سے25مارچ 2018 کی شام 7بجے تک منظرنامہ کتنا تبدیل ہوچکا ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قومی معیشت میں کی بحالی و استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زمینی حقائق کی بناء پر یہ باور نہیں کروایا جاتا کہ وطن عزیز میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر امن و امان کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے ۔ امن و امان کی صورت حال کی بہتری کا کریڈٹ بنیادی طور پر قانون کے نفاذ کے ذمہ دار اداروں اور ملٹری و پیرا ملٹری فورسز کو جاتا ہے، مزید برآں وہ ایجنسیاں بھی لائق تحسین ہیں جن کا بنیادی فریضہ تخریب کاروں، دہشت گردوں اور زیر زمیں سرگرم سماج دشمن مافیاں کی کارروائیوں پر نگاہ رکھنا اور ان کا سراغ لگانا ہے۔ ہمارے ہاں درجنوں کی تعداد میں اداروں اور ایجنسیوں نے استحکام امن کے لیے رات دن کام کیا۔ اور وہ دہشت گردوں تک رسائی میں کامیاب رہیں۔ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے کام کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں نے روایتی دقیانوسی طریق عمل اور طرز فکر کو بالائے طاق رکھ کر نئے حالات کے تناظر میں نئی پالیسی وضع کی۔ اس سے قبل دہشت گردانہ واقعات کی تحقیق و تفتیش کے دوران بھی تحقیق کاراور تفتیش کاراپنی تحقیق و تفتیش کی پرکار کو محض مذہبی انتہا پسندی کے دائرے ہی میں گھمانے میں مصروف رہتے لیکن اس کے بجائے انہوں نے اس کی نئی جہتوں کا بھی کھوج لگایا۔ وطن عزیز میں مذہبی انتہا پسندی کے ساتھ لسان پرستی ، علاقہ پرستی اور صوبہ پرستی کی علمبردار جماعتوں نے بھی باقاعدہ منظم مسلح ملیشیاز اور مافیاز قائم کر رکھے تھے۔ ان ملیشیاز اور مافیاز سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں یہ بات ریکارڈ پر آ چکی ہے کہ وہ بھارتی خفیہ اداروں اور بعض غیر ملکی قوتوں کے سرمائے سے وطن عزیز کے داخلی امن و امان کو تاخت و تاراج کر رہے تھے۔ وطن عزیز کیلئے اصل خطرہ یہ ڈالرائزڈ ، ملیشیاز اور مافیاز ہیں۔ ان کی آماجگاہیں صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کیلئے مبینہ طالبانائزیشن کی طرح مغربی ممالک کی ڈالرائزیشن بھی کچھ کم خطرناک نہیں۔ڈالرائزیشن کے اسیر لسانی انتہا پسند پریشر گروپس کے خفیہ اثاثوں ، کمین گاہوں اور ہیڈ کوارٹرز کے خلا ف شفاف کریک ڈاؤن کیا جائے تو انتہائی خطرناک وطن دشمن راز ہائے درونِ پردہ طشت از بام ہوں گے۔
2015ء تک کے دہشت گردانہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ داخلی دہشت گردوں کا نیٹ ورک قانون کا نفاذ کرنے کے ذمہ دار اداروں اور حساس ایجنسیوں کے اہلکاروں کیلئے ناقابل شناخت ،ناقابل رسائی اور ناقابل تسخیر چیلنج بنا ہوا تھا ۔ یہ تو واضح ہے کہ اسے عوام ،ملکی حساس ایجنسیوں،قانون کا نفاذ کرنیوالے ادروں اور حکومت کیلئے ناقابل تسخیر چیلنج بیرونی قوتوں، بیرونی سرمائے اور بیرونی ایجنسیوں ہی نے بنایاتھا۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ پاکستان نے جب سے امریکا کا ساتھ دیا ہے اُس کی داخلی سلامتی معرضِ خطر میں ہے۔ 1979ء سے1989ء تک سرد جنگ میں ہم نے یو ایس اے کا حلیف بن کر یو ایس ایس آر کے خلاف سرد جنگ میں حصہ لیا اور تحفے میں پاکستان کو کلاشنکوف کلچر اور ہیرؤن کلچر کی سوغات امریکیوں کی جانب سے ہبہ کی گئی۔ نائن الیون 2001ء کے بعد پاکستان نام نہاد دہشت گردی کی بین الاقوامی جنگ کے خلاف امریکا اور اُس کے حلیف مغربی ممالک کی بھڑکائی ہوئی اس جنگ میں امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا اور نتیجے میں امریکا دوستی نے ہمیں انتہا پسندی اور خود کش بمباروں کے تحائف عطا کئے۔ پاکستان میں رونما ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات امریکا دوستی ہی کا شاخسانہ ہیں۔ امریکا اور مغربی ممالک ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست داخلی سطح پر اس حد تک عدم استحکام کا شکار تھا کہ اُس کے وفاقی دارالحکومت کے درو بام بھی جولائی 2008ء میں بم دھماکوں سے لرز رہے تھے اور اقتصادی دارالحکومت کے گلی کوچوں میں بھی بم دھماکوں کی گھن گرج نے شہریوں کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔


ای پیپر