تضادات اور بھری سیاسی جماعتیں۔۔۔
25 مارچ 2018



آج یہ نکتہ ہمیں ہر حال میں تسلیم کرناپڑے گا کہ گزشتہ ستر سالوں کے دوران پاکستا نی قوم اور عوام کو امریکا یا کسی یورپی ملک نے اتنا بے وقوف نہیں بنایا ہے جتنا کہ ہر معصوم پاکستا نی شہر ی کو ہمارے حکمران/ اشرافیہ طبقے اور سیاستدانوں نے مل کر بے وقوف بنا یااور قدم قدم پر ذلیل وخوار کیا اور پریشانیوں میں مبتلاکیاہے۔ قومی خزانے سے اللے تللے کرتے حکمران اور سیاستدان ہاتھ پہ ہاتھ اور پاؤں پہ پاؤں دھرے اورخواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں مگر شہر کراچی جیسا مُلک کاتجارتی حب کا درجہ پا نے والادنیا کا انٹرنیشنل شہر گندگی اور غلاظت کے انبار اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ،ابلتے گٹروں ،بہتے سیوریج کے بدبودار پانی کے ساتھ دنیا کاسب سے گنداترین شہر بنادیاگیاہے۔ اِسے اِس حال تک پہنچا نے میں ن لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم سمیت شہر کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی برابرکی حصے دار ہیں مگر پی پی پی اور ایم کیوایم اقتدار کی چھینا جھپٹی نے توشہر کو کھنڈربنا کر رکھ دیاہے۔ شہر میں قبضے اور اقتدار اور اختیار کی ( پی پی پی اور ایم کیو ایم میں) سیاسی جنگ جاری ہے مگراِن کی جنگ میں پس عوام رہے ہیں۔ پینے کا پا نی نلوں سے غائب ہے مگر گٹر کا کالا بدبودارپانی جس پر مچھر بھنبھناتے دکھائی دیتے ہیں ایساپانی وافر مقدار میں جابجا ہر گلی ہر محلے میں گھٹنوں گھٹنوں ضرور نظر آتاہے مگر اِس پر بھی یہ نعرہ ہے کہ ’’ماؤں بہنوں کا رکھوالا شیر ہمارا، زندہ ہے بھٹوزندہ ہے‘‘ دھت تیرے کی ۔
اَب قوم کو پل پل اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد اور مفادات کے لئے بے وقوف بنانے والے احمقوں سے کوئی پوچھے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا؟ویسے تو ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ساری زندگی قوم کے ساتھ جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے میں گزری اور گزررہی ہے مگر اِن کا ایک بس یہی سچ ہے کہ یہ دانا پاکستا نی ہیں مگر عمل کے مسلمان آٹے میں کم جتنے بھی نہیں ہیں، اور کچھ نے تو دُہری شہریت بھی رکھی ہو ئی ہے جو اکثرجس کا اقراربھی کرتے ہیں تو اِنکار بھی مگر پھر کہتے ہیں کہ یہی پکے اور سچے پاکستا نی اور مسلمان ہیں؟ تاہم آج اگر ہم اپنے مُلک کی سیاسی جماعتوں اور اِن کے منشوروں اور نعروں کابغور جائزہ لیں توہم پر بہت سی باتیں اورکئی راز عیاں ہوجا ئیں گے کہ یہ سب تضادات سے بھری ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر شیر ایک درندہ اور آد مخور جانور ہے تب ہی جنگل کے جانور اِس سے ڈر کر خوشامدی انداز اپناتے ہوئے اِسے خوش کرنے کے لئے جنگل کا بادشاہ کہتے ہیں تاکہ یہ خوش رہے اور اِن کی جا نیں بچی رہیں۔ کو ئی کچھ بھی کرلے شیر شیر ہی رہتاہے۔ شیر کا اپنا ایک خوف ہوتا ہے جو قا ئم رہتاہے۔ خواہ اِس کا پیٹ بھر ا ہوا ہو یا خالی ہو، یہ خوش ہو یا ناراض ،یہ تکالیف سے آزاد ہو یا مصیبتوں میں مبتلا ہو۔بہر حال ہر صورت میں شیر سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ یہ جنگل کا بڑ فاسق و فاجر، آمر اور جابر اور درندہ صفت جانور ہے۔ اِس سے کہیں سے وفاداری کا گمان نہیں کیا جاسکتاہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کسی کا نہیں ہوتا ہے جب یہ اپنے پر آتا ہے تو کسی کی نہیں سُنتا، ساری خدا ئی ایک طرف شیر کی مرضی دوسری طرف ، جب یہ ایسا بد مزاج اور ضدی آدمخور جانور ہے تو یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھلا اِس پر اعتماد کیو ں کر کیا جا سکتاہے؟پھر تواِس سے وفاداری کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوسکتاہے؟مگر ہمارے مُلک اور ہماری سیاسی جماعتوں کے تو انداز ہی نرالے ہیں انداز ہ کیجئے کہ آج کل ہمارے مُلک کی رواں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخا بی نشان ’’ شیر ‘‘ سے متعلق ایک نغمہ بنایاہواہے جو اِن دِنوں ن لیگ کے انتخا بی جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں میں بہت زیادہ چلایا جارہاہے جس کے اتبدائی بول کچھ یوں ہیں’’ ماؤں بہنوں کا رکھوالا شیر ہمارا شیرہمارا‘‘ ۔
اَب ذراسوچیں شیر جو ایک آدمخور ردرندہ ہے وہ معصوم ماؤں بہنوں ہی کا کیا ؟ وہ تو کسی مرد کے بچے کا بھی رکھوالا نہیں ہوسکتاہے،شاید ن لیگ نے یہ جانے بغیر کہ شیر سے وفاداری کی اُمید نہیں کی جاسکتی ہے اِس نے اپنا انتخابی نشان ’’ شیر ‘‘ رکھ لیا ہے۔ شیر کی فطرت اور خصلت میں موقع پرستی اور مفاد پرستی اور خود غرضی کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی ہے۔ تب ہی مُلک میں تین بار حکمرانی کرنے والی ن لیگ کے سربراہ اور تاحیات قائد میاں محمد نوازشریف نے اپنے انتخا بی نشان شیر کی خصلت اور فطرت سے مجبور ہو کر جب بھی اِنہیں موقع ملا تو اُنہوں نے قومی خزا نے سے رقوم اِدھر اُدھر کیں اور آف شور کمپنیاں بنا ڈالیں اور پھرتوبناتے ہی چلے گئے مگرجب قانون کی گرفت میں آئے توایک ذرا سے اقا مے پر ڈھیر ہوگئے۔مُلکی سیاسی جماعتوں کے منشوروں اور نعروں اور اِن کے قول و فعل سے متعلق تضادات کے حوالے سے بات چل ہی نکلی ہے تو اِس حوالے سے صرف ن لیگ ہی نہیں ہے بلکہ اِس کی جوڑی دار دوسری جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی ہے جس کا نعرہ ’’ زندہ ہے بھٹوزندہ ہے‘‘ حالانکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور خاندانِ بھٹو کی پی پی پی برسی ایک عرصے سے ہر سال مناتی ہے اور پھر بھی ہربار یہ نعرہ لگا تی ہے کہ ’’ زندہ ہے بھٹوزندہ ہے‘‘ اگر بھٹو زندہ ہے تو پھر برسی کس کی منائی جارہی ہے؟ براہ مہربانی اَب اشرافیہ اور سیاستدان ہر الیکشن میں عام شہری کی آنکھ میں جھوٹ اور دھوکے پر مبنی نعروں اور منشوروں سے دھول جھونکنا بند کریں اور حقائق اور سچا ئی پر مبنی منشوروں اور نعروں کے ساتھ عوام کی دہلیز پر جا ئیں ۔ورنہ قبل اِس کے کہ پاکستا نی مفلوک الحال اور ننگے بھوکے شہر ی سڑ کو ں پر آجائیں اور اِن کی برداشت کی تمام حدیں ختم ہو جا ئیں اور وہ سیاسی جماعتوں کے جھوٹ و فریب پر مبنی منشوروں اور نعروں کو سمجھ جا ئیں اور اِن کو عقل آجا ئے اور حکمرانوں اور سیاستدانوں سے یہ سوال کریں کہ ’’پاکستان میں بھوک اور افلاس کی برسی کب بنا ئی جا ئے گی؟‘‘
کچھ بھی ہے مگر پھر بھی ن لیگ اور پی پی پی اور دیگر مُلکی سیاسی و مذہبی جماعتیں کس ڈھٹائی اور ناقص عقل و فہم وفراست سے اگلے متوقع انتخابات کے لئے اپنے اپنے برسوں پرا نے تضادات سے بھر پور منشوروں اور نعروں کے ساتھ اپنی انتخا بی مہم چلارہی ہیں۔ اَب پھر بھی آئندہ کے متوقع الیکشن صاف و شفاف ہوں یا نہ ہوں مگر مُلک’’ ماؤں بہنوں کا رکھوالا شیر ہمارا ‘‘ اور ’’ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ اور ’’ تبدیلی آئی نہیں آگئی ہے ‘‘کے نعروں سے ضرور گونجے گا۔


ای پیپر