پانی زندگی ہے
25 مارچ 2018

وطن عزیزپاکستان میں دولڑائیاں بہت مشہورہیں بچوں کی لڑائی میں بڑوں کاچھلانگ لگا کرایک دوسرے کا سرپھاڑنا اوردوسری لڑائی ہم پانی کے لئے لڑتے ہیں میں بچپن سے لے کراب تک اخبارات میں سینکڑوں بارایسی خبروں کوپڑھ چکا ہوں کچھ عرصہ قبل جب دُور درازکے دیہات جو بجلی جیسی نعمت سے محروم تھے تواس وقت نچلے درجے کے سیاست دان اپنے مخالفین کے خلاف زیادہ تر پانی چوری کی ایف آئی آر درج کرواتے تھے اب جب کہ ان دیہاتوں میں بجلی آگئی ہے تویہ سیاست دان اپنے مخالفین کے خلاف بجلی چوری کی ایف آئی آر درج کرواتے ہیں 1994ء میں راقم الحروف پانچویں جماعت کا طالب علم تھا سکول میں طلباء کی کل تعدادایک ہزارکے لگ بھگ تھی شدید گرمی میں طلباء کی پیاس بجھانے کے لئے محض ایک ہی نلکا ہوتا تھا جس پرہروقت طلباء کاہجوم لگا رہتا تھا پانی پینے کے لئے نفسانفسی کا عالم ہوتا تھا کسی طالب علم نے تختی دھونا ہوتی تھی اورکسی نے شدتِ پیاس بجھانا ہوتی تھی لیکن دھکم پیل میں ایک دوسرے سے تکرارہوتی اورپھریہ تکرار لڑائی پر جاکرختم ہوتی لڑائی میں زیادہ تر تختیوں کااستعمال ہوتا تھا اورآج پھر پانی کے لئے لڑائیاں شروع ہوگئی ہیں میرے شہرکازیرزمین پانی فیکٹریوں کے زیرزمین مہلک کیمیکل زدہ پانی کے ملاپ سے 80فیصد سے بھی زیادہ زہریلا ہوچکا ہے اور زیرزمین پانی کی سطح روزبروزکم سے کم ہوتی جارہی ہے شہرکاہر فردیر قان اورنامعلوم بیماریوں میں مبتلاء ہوچکا ہے ۔ حکومت نے جو واٹر فلٹر یشن پلانٹ لگائے ہیں وہ شہرکی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہیں ان پراکثرلوگوں کارش لگارہتا ہے جومیر ے سکول کے اکلوتے نلکے او ر طلباء کی لڑائی کی بھرپورمنظر کشی کرتاہے دوسری طرف بے چارہ کسان بہت پریشان ہے نہروں میں مسلسل پانی کی کمی نے کسانوں کی سونا اُگلتی زمینوں کوبانجھ کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہرجاندارچیزکوپانی سے پیدافرمایا ہے اورپانی کوزندگی قراردیا ہے ۔ کسان کی زمین پانی کوترس رہی ہے اورانسان صاف پانی پینے کے لئے ترس رہا ہے ،غریب فاقہ کشی سے مررہے ہیں اورامیر بدہضمی سے مر رہا ہے جب کہ امریکی منرل واٹر پینے والے سیاست دان حکمرانی کے لئے ترس رہے ہیں ۔ وطن عزیز پانی کی قلت کے لحاظ سے دُنیا کے 15بدترین ممالک میں شامل ہوچکا ہے آج کالا باغ ڈیم ملکی ترقی کے لیے نہیں بلکہ ملکی زندگی کے لئے ناگزیربن چکا ہے ۔ فرینڈ زآف پاکستان ڈیموکریٹک پاکستان(FOPDP)نے کچھ عرصہ پہلے کالا باغ ڈیم پراجیکٹ کا ترجیحی بنیادوں پر ازسرنوجائزہ لینے کی تجویز دِی تھی۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پچھلے 50برسوں میں پاکستانی حکومتیں آبی منصوبوں میں صرف اور صرف دو چھوٹے چھوٹے اضافے کرپائی ہیں جن میں صرف ’غازی بروتھا‘اور’ہائیڈروالیکٹریسٹی‘ کی گنجائش میں اضافہ سرفہرست ہے جو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے مون سون کی بارشوں میں لاکھوں کیوسک پانی سمندر کے پیٹ میں اُتر جاتا ہے اور ہم نے کالا باغ ڈیم کو سیاست کی سُولی پرچڑھا رکھا ہے پاکستان کی بقا ء اورسلامتی کا انحصار کالا باغ ڈیم کی تعمیر،کشمیر اورکشمیر سے آنے والے دریاؤں پر ہے لیکن بدقسمتی سے ان دریاؤں پربھارت کا قبضہ ہے ستم ظریفی یہ کہ جب دریاؤں میں پانی کم ہوجاتا ہے تو بھارت جان بوجھ کر ہمارا پانی روک لیتا ہے اور جب سیلابوں کا موسم ہوتو پانی چھوڑ دیتا ہے تاکہ پیاسے مریں تو ہم، ڈوبیں تو ہم ۔ ایوب خان نے جہاں سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے تین دریا راوی،ستلج اوربیاس بھارت کے ہاتھ فروخت کرکے ستم کیا وہیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر التوا میں ڈال کر بھی ظلم کیا۔ اور رہی سہی کسر سابق زردار بیمار حکومت نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو ناقابل عمل قرار دے کر پوری کردِی۔ حالانکہ واپڈا کے سابق چئیرمین انجینئر شمس الملک نے کالاباغ ڈیم کے مخالفین کے اعتراضات پراس ڈیم کی افادیت واہمیت کے بارے میں مدلل دلائل سے ثابت کیا تھاکہ اس ڈیم کی تعمیر سے ملک میں پانی کی وافر مقداراورسستی ترین بجلی پیداہوگی۔ نیز نوشہر ہ سمیت صوبہ خیبرپختون کے کسی بھی شہر کو پانی میں ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا کیونکہ نوشہر ہ، کالا باغ ڈیم سے تقریباً165فٹ کی بلندی پر قائم ہے ۔ پھر انہوں نے تربیلا اور منگلا ڈیمز کی مثالیں بھی دیں کہ تربیلا سے کبھی کوہستان میں اور منگلا سے کبھی میرپورمیں سیلاب نہیں آیالیکن یہ باتیں کالاباغ ڈیم کے کٹرمخالفین’اے این پی‘کے سمجھنے کی ہیں جو وہ سمجھنا نہیں چاہتے ۔دلیل تو وہاں کارگر ہوتی ہے جہاں دل کے نہاں خانوں میں اخلاص کی رمق ہو۔ جب اپنے ہی ملک کے دشمن ہوں تو بیگانوں کو تو اپنا کام دکھانا ہی ہوتا ہے ۔ اقتدار کے بھوکوں نے تین تین بار کالا باغ ڈیم بنانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن دونوں مسئلے جُوں کے تُوں ہیں۔ اب اگر خدا نخواستہ پاک بھارت جنگ ہو تی ہے تو وہ کشمیر کے لیے نہیں بلکہ پانی کے لیے ہو گی۔ اس وقت بھارت، امریکہ کی شہ پر اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے کندھوں پر بندوق رکھ کر دھمکیوں اور بڑھکوں کے ساتھ ساتھ آبی جارحیت کی زبان بھی بول رہا ہے اور پاکستان کو ریگستان بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر ڈیم پہ ڈیم بنا کر پاکستان کے پانی پر ڈاکا ڈال کر عملی طورپر وطن عزیز کو ریگستان بنارہا ہے ۔ 2002 ء میں انڈیا کے وزیر مسٹر چکروتی نے پاکستان کو کھلی دھمکی دی تھی کہ ہم پاکستان کو پا نی کی بوند بوند سے ترسا دیں گے اس سے قبل کہ ہم پانی کی بوندبوندسے ترسیں ہمارے روڈ انسپکٹرز حکمرانوں، تبدیلی کے لیڈروں کوچاہئے کہ وہ دشمن کی اس دھمکی کے نتیجے میں جنگی بنیادوں پر جلدازجلدچھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے پر خصوصی توجہ دیں اسی میں ہم سب کی بقاء ہے عوام پی پی پی کے بلاولوں اوردلاوروں سے سوائے ’جئے بھٹو‘کے نعرے کے سواخیرکی توقع ہرگزنہ رکھیں ۔


ای پیپر