جمہوریت اور آمریت نے پاکستانی عوام کو کیا دیا
25 مارچ 2018

سیاست عبادت کا دوسرا نام ہے لیکن اس وقت جس طرف نظر دوڑائیں اسکے بر عکس ہی نظر آتا ہے کیا ہم پاکستانیوں کی قسمت میں یہ پوری زندگی کیلئے لکھ دیا گیا ہے کہ نظام کے نام پر ہمیشہ عوام کو بیوقوف بنایا جاتا رہے گا اور اسی طرح ہمارے حقوق پر ڈاگہ ڈلتا رہے گا۔ اس وقت دنیا میں جس نظام کے چرچے اورجسے بہتر نظام کہا جارہا ہے وہ جمہوریت ہی ہے اس سے بہتر نظام دنیا ابھی تک متعارف نہیں کراسکی اور یہ بھی سچ ہے کہ جمہور ی بادشاہتوں ، آمریتوں کے حامل ملکوں کے افراد کے رویوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے جمہوری ملکوں میں تحمل رواداری ، برداشت، انسانی حقوق کی پاسداری، مساوات جیسے سنہری اصول رائج ہیں اور ترقی کر رہے ہیں جبکہ بادشاہتوں اور آمرانہ طرز حکومت کے حامل ملکوں میں ان کا فقدان ہے بلکہ انسانی حقوق اور احترام آدمیت کی بات کرنے والوں کوناقابل جرم تصورکیا جاتا ہے اسی لیے یہ ملک ترقی کے میدان میں بھی پیچھے ہیں اوریہا ں شورشیں بھی برپاہیں لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ جمہور ی ملکو ں کو یہاں تک پہنچنے کیلئے طویل اور کٹھن سفر اختیار کرنا پڑا اور اوران میں کو ن سی قدر مشترک تھی۔ اگر تھوڑی سی محنت کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں انسانی شعور کی بلندی وہاں کے تعلیمی نظام کی بدولت حد درجہ تک مو جو د تھی جس نے انہیں قوم بننے کے درجے پر فائز کردیا جبکہ ہم جیسے ملکوں میں جمہوریت کا واویلا تو کیا جاتا ہے مگر جمہوریت دکھائی نہیں دیتی ہمارے ہاں ان رویوں کو ہی ابھی تک پروان نہیں چڑھایا جاسکا جنہیں جمہوری کہا جاتا ہے یہاں ایک چھوٹا موٹا سیاستدان، سرکاری افسر ہی فرعون کو مات دینے سے پیچھے نہیں ہے اس کے پاس کوئی چھوٹی موٹی کرسی ہونی چاہیے وہ انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتا اوریہ رویہ عمومی طورپر معاشرے کے ہر طبقے اورشعبے میں موجود ہے یہاں سوال کرنے والے کے راستے میں مشکلیں پیدا کی جاتی ہیں حالانکہ اپنے کام کے حوالے سے سوال کرنا ہر ایک کا بنیا دی اور آئینی حق ہے ہماری سرکاری و سیا سی و مذہبی اشر افیہ خود آئین اورقانو ن کی خلاف ورزی کرتی ہے جبکہ مہذب جمہوری ملکوں میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا پاکستان میں اگر جمہوریت فروغ نہیں پاسکی تو اس کی بنیادی وجہ بھی جمہوری حکمرانوں اور سیاستدانوں کے غیر جمہوری رویئے اورکردار رہا ہے آمرانہ سوچ کے حامل جمہوری سیاستدانوں نے ہمیشہ ’’ جمہور ‘‘ کو نظر انداز بھی کیا اورانہیں رعایا سمجھا جاتارہا ہے جن کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اب یہی دیکھ لیجئے کہ مسلم لیک ن نے اپنی حکومت کے اوائل کے مہینوں میں ہی پاکستا ن کی قومی اسمبلی سے جمہوریت کی حفاظت اوراس کی بالا دستی کیلئے متفقہ قرا ر داد منظور کرائی کہ قومی اسمبلی نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے بھر پور کردار ادا کرنے کی قرار داد اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی بقا ء تر قی ، سلامتی صرف اور صرف جمہوریت سے وابستہ ہے ۔جبکہ محمو د خان اچکزئی نے واضح کیا تھا کہ طاقت سے مینڈیٹ کی طرف دیکھنے والوں کی آنکھیں پھوڑ دیں گے آئین کو جو بھی چھیڑے گا اس کے خلاف بغاوت جائز ہے آئین و پارلیمنٹ کی بالا دستی اور جمہوریت کا جو حامی ہوگا میں اس لشکر کا سپاہی ہوں جمہور ی راستہ اورجمہور کے تعاون سے ہی پاکستان زندہ با د ہو سکتا ہے۔ لیکن قارئین کرام عوام کو یہ سوال پوچھنے کاحق تو دینا چاہیے کہ جس جمہوریت کی سیاستدان بات کرتے ہیں اس میں جمہور کہاں ہیں جب لو گوں کے جائز مسائل حل نہیں ہوں گے حکمران طبقہ اوران سے جڑے ہوئے لوگ امیر سے امیر تر ہوتے جائیں گے جبکہ ان کا کوئی کاروبار بھی نہ ہو اورباقی جمہور روٹی روزی سے بھی تنگ ہوں ان کے ساتھ ظلم و زیادتی پر انصاف کے دروازے بند کر دیئے جائیں تو پھر ان کے پاس احتجاج کے علاوہ اور کون سا راستہ رہ جاتا ہے ایسے موقعوں پر عموما دیکھنے میں آتا ہے کہ جب عوام کا جم غفیر اپنے جائز حقوق مانگنے اور سیاسی، مفاداتی برائے نام جمہور ی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے احتجاج کرنا چاہیں تو انہیں آہنی دیوار یں لگا کر ان کا حقہ پانی بند کردیا جاتا ہے اسے مہذب معاشروں میں کون جمہور یت کہتا ہے ایسی جمہوریت کے محافظوں کے ہوتے ہوئے جمہور یت کیسے پروان چڑھ سکتی ہے ؟ پاکستان جیسے ملکوں میں جمہور یت ایک ’’ سہانا ‘‘ خواب تو ہوسکتا ہے اس کے فیوض و برکات عام آدمی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہور ی رویئے پروان نہیں چڑھتے لیکن بد قسمتی سے پاکستا ن میں جمہوریت اس کی ساخت کے مطابق کبھی رائج ہی نہیں ہوئی اور نہ ہی یہاں جمہوری رویے ابھی پیدا ہوئے ہیں ۔ اس کیلئے اس نظا م تعلیم کی ضرورت ہے جو انسانی ذہن کو سو چنے ، کھولنے کے ساتھ آزادانہ سوال اٹھانے کی طرف لے کر جائے جب تک ایسا نہیں ہوتا یہاں حقیقی جمہوریت نہیں آ سکتی جبکہ پا کستان میں کو ئی سیاسی جماعت ایسی نہیں آئی جس نے ملک کی تعمیر و ترقی میں وہ کردار اد ا کیا ہو جو ہندوستان میں آزادی سے قبل اوربعد میں کانگریس نے نبھایا نہ ایسی کوئی عوامی قیادت پاکستان کے نصیب میں آ ئی جو گاندھی اورنہرو کی طر ح رائے عامہ کو تابع بنا کر رکھتی یہاں رائے عامہ کا ہمیشہ مذاق اڑایا گیا ۔ کیا جمہور کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے منتخب نمائندے کیخلاف الیکشن کمیشن میں جاکر درخواست دے سکے کہ اس نمائندے نے اپنے وعدے سے انحراف کیا ہے اس لئے اسے نا اہل قرا ر دیا جائے ؟ جواب نفی میں ہوگا اس لئے کہ ’’ یہاں جمہور صرف ووٹ کا نام ہے جو ڈبے میں ڈالنے کے کام تو آسکتاہے مگر اس کی اپنی حالت تبدیل نہیں ہو سکتی ۔ آج تک کی تاریخ ہی دیکھ لیں جمہوریت اور آمریت نے پاکستانی عوام کو کیا دیا ؟ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام کے ساتھ جو کچھ ہماری کرتا دھرتا حکومتوں نے کیا ہے کیا کسی مہذب جمہوری ملک میں اس کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے۔


ای پیپر