A House Divided A Faith Shattered
25 جون 2020 (16:06) 2020-06-25

نواز شریف کو تیسری مدت پوری کئے بغیر اس لئے ایوان اقتدار سے نکال باہر پھینک دیا گیا کہ مقتدر قوتوں کو اس کی حکومت کا باقی رہنا منظور نہ تھا ورنہ کارکردگی مثالی نہ سہی پاکستانی تاریخ کے تناظر میں ایسی بری بھی نہ تھی۔ عمران اس سبب کی بناء پر لیلیٰ اقتدار کے ساتھ چمٹا ہوا ہے کہ کارکردگی کا خانہ صفر ہونے کے باوجود ابھی تک اصل حکمرانوں کا منظور نظر ہے یا سردست اس کا متبادل نہیں مل رہا ۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے نئے گھوڑے کی تلاش ہے کیونکہ ہمارا کھلاڑی سیاستدان پہلے دو سال کے اندر ایسے کارہائے نمایاں کا مظاہرہ کرتا چلا آرہا ہے کہ اپنے اور اپنی جماعت کے علاوہ ان والیان ریاست کے لئے بھی بدنامی کا باعث بن رہا ہے جو اسے بڑے چائو کے ساتھ نواز شریف کی جگہ لے کر آئے تھے۔ پوری کاریگری کے ساتھ 2018ء کے انتخاب میں کامیاب کرا کے وزارت عظمیٰ کی مسند پر لا بٹھایا۔ توقع تھی اگر انقلاب نہیں تو اپنے انتخابی نعروں کے مطابق ایسی تبدیلی کے در ضرور کھول دے گا جو ملک کی ہچکولے کھاتی نائو کو سنبھال لے گی۔ کرپشن کو اکھاڑ کر رکھ دے گی۔ سکینڈلوں کا نام باقی نہ رہے گا۔ پاکستان اور اس کے عوام نئے سفر کا آغاز کریں گے۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ معیشت ڈوبتی چلی جا رہی ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے اور بہتر ہوتی دنیا میں ہمارا اس کے علاوہ کوئی مقام نہیں کہ منگتے سمجھے جاتے ہیں۔ کڑی شرائط پر قرضے ملتے ہیں جن پر حکومت کا گزارہ ہے۔پورا ریاستی و حکومتی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہوا جا رہا ہے۔ اس عالم میں جبکہ عمران حکومت کی یکے بعد دیگرے ناکامیاں انہیں اور پوری قوم کو تگنی کا ناچ نچوارہی ہیں۔ عمران کے سینئر ساتھیوں اور اس کی کابینہ کے بڑے بڑے ناموں کے درمیان سرپھٹول شروع ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے پر سرعام الزام لگائے جا رہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاسوں میں ہونے والی آپس کی تلخ باتوں کو میڈیا میں آکر بیان کر دیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کا اپنا وقار باقی رہتا ہے نہ ہی قائد اور وزیراعظم عمران خان کااگلے روز خان بہادر نے اس کا سختی کے ساتھ نوٹس لیا۔ ساتھیوں کو اندر کی باتیں باہر کرنے سے منع کر دیا لیکن کب تلک۔ جب پے در پے ناکامیوں کی ایک کے بعد دوسری داستانیںباہر آتی رہیں گی۔ میڈیا کے مسالے دار ٹاک شوز کی ریٹنگ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی رہیں گی۔ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں کیونکہ حکومت کی بدنامی کا اصل باعث وزراء کے سرعام ایک دوسرے کو طعنے دینا نہیں بلکہ ایسی ناقص کارکردگی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی مسلسل پراگندگی کا شکار ہوئی جا رہی ہے۔ وزراء ان کا سامنا کر سکتے ہیں نہ میڈیا پر روز روشن کی طرح ناکامیوں کا جواز پیش کرنے کے قابل رہے ہیں۔ لہٰذا ان میں سے ہر کوئی اپنا دامن چھپاتے ہوئے ایک دوسرے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گا تو کیا کرے گا۔

خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی ہے ۔ فواد چودھری کے وائس آف امریکہ کو دیئے گئے جس انٹرویو پر خاصا شور مچا ہوا ہے اس کے مطابق عمران خان نے کابینہ کے افراد کو متنبہ کیا ہے آپ کے پاس کارکردگی دکھانے کے لئے صرف چھ ماہ باقی ہیں بصورت دیگر معاملات ادھر ادھر ہو سکتے ہیں۔ کس کے خوف کے پیش نظر وزیراعظم کو اپنے ساتھیوں کوآنے والے وقت سے خبردار کرنا پڑا۔ مبصرین نے اصلی حاکموں کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ادھر فواد چودھری درون مے خانہ پائے جانے والے احوال کا

یہ کہہ کر کچہ چٹھہ بیان کر دیا ۔ جہانگیر ترین نے اسد عمر کو فارغ کرنے کے لئے پورا زور لگا دیا۔ اسد عمر دوبارہ واپس آئے تو انہوں نے چودھری صاحب کے بقول جہانگیر ترین کوچلتا کرنے میں کسر باقی نہ رہنے دی۔ شاہ محمود قریشی اور ترین صاحب کے درمیان باوجود بار بار کی ملاقاتوں کے جس پر شکایت دور نہ ہوئی۔ منتخب وزیروں اور نامزد مشیروں کے درمیان اکثر و بیشتر تنازع جاری رہتا ہے۔ اراکین کابینہ میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ باہمی خلفشار کے اس عالم میں فواد کے مطابق پالیسیاں کون بنائے گا اور ان سے نتائج کیونکر برآمد ہونگے۔ انٹرویو کے الفاظ زبان زدعام ہوئے۔ ایک تہلکہ مچا۔ اگلے روز کابینہ کے الفاظ میں عمران نے منع کیا اندر کی باتیں باہر نہ کی جائیں لیکن تلخی بڑھ چکی تھی۔ فیصل واوڈا نے دوران اجلاس شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے بیک وقت مخاطب ہو کر کہا آپ دونوں وزیراعظم کی جگہ لینا چاہتے ہو یعنی ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہو۔ عمران نے گرما گرمی پر فیصل واوڈا کا ہاتھ پکڑا دوسرے کمرے میں لے گئے اور کہا ریلیکس کرو میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں۔ گویا تم ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن مصلحت کا تقاضا ہے ابھی انہیں نہ چھیڑا جائے۔ اسی سے ملتی جلتی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انگریزی کے چوٹی کے شاعر شیکسپئر نے کبھی کہا تھا۔

A House Divided A Faith Shattered

ایک گھر جو منقسم ہو چکا ہے ایک یقین جس کے تارپو ددیکھ چکے ہیں

پاکستان جیسے ملک میں جہاں مثالیتہ پرستی کا چرچا بہت ہوتا ہے لیکن یہ خالی خولی الفاظ میں گونجتا ہے یا کاغذ پر لکھی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ شاید معمول کی سیاسی طعنہ بازی پر محمول کیا جاتا بشرطیکہ ملک کی گاڑی اگرچہ سست روی کے ساتھ مگر آگے کی جانب بڑھ رہی ہوتی۔ مگر یہاں پر چند نقطہ انجماد کو پہنچنا چاہتی ہے ایسے میں حکومت کے سینئر ترین افراد کے درمیان جوتوں میں دال بٹنی شروع ہو جائے تو ہر کوئی چوکنا ہو جاتا ہے۔ ان کا آخری وقت تو شروع نہیں ہو گیا۔ شاید اسی لئے پچھلے ایک دو دن کے دوران جب سے میڈیا میں کابینہ میں ہونے والی لڑائیوں کا تذکرہ ہونا شروع ہوا ہے وسط مدتی انتخابات Mid Term Elections کی قیاس آرائیوں کو پر لگ گئے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں سردار اختر مینگل کی بی این پی کے چار ووٹوں کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی اسی جانب پہلا قدم ہے۔ واللہ اعلم باالصواب۔ مگر کیا اسی کی آڑ میں ٹیکنوکریٹ حکومت تو نہیں بنا دی جائے گی۔ مشتری ہشیارباد۔ اپوزیشن والوں کو بہت سوچ سمجھ کر اگلا قدم اٹھانا چاہئے۔

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم

میں ابھی ابھی دیرینہ دوست ڈاکٹر مغیث کی نماز جنازہ میں شرکت کر کے واپس آیا ہوں۔ باوجود اس کے کہ کرونا کی پابندیوں نے اس آفت کا شکار بن جانے والے افراد کی میتوں کے قریب جانے اور نماز جنازہ میں شرکت پر سخت قسم کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے زندگی بھر کے دوستوں، شاگردوں اور اہل صحافت کی تعداد ان کی مقبولیت کی گواہی دے رہی تھی۔ مرحوم چوٹی کے استاد، مانے ہوئے ماہر ابلاغیات، بلند پایہ مصنف اور دوستوں، شاگردوں کے لئے دلاویز شخصیت کے مالک تھے۔ بطور ماہر ابلاغیات ان کا شہرہ ملک بھر کی یونی ورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پھیلا ہوا تھا۔ شاگردوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ فن صحافت میں اپنی تمام تر مہارت کے ساتھ اسلامی نظریات کے ساتھ وابستگی میں یگانہ تھے۔ اس کا اظہار اپنے لیکچروں اور تحریروں میں کرتے رہتے تھے۔ امریکہ سے پی ایچ ڈی کر کے آئے تو پنجاب یونی ورسٹی کے شعبہ صحافت میں اپنا مقام بنایا۔ ترقی کرتے کرتے اس کے سربراہ بن گئے۔ شعبے کی ہیئت بدل کر رکھ دی۔ اسے ادارہ امور ابلاغیات کے مقام تک پہنچا دیا۔ صحافت کے اندر نئی تکنیکوں کو متعارف کرایا۔ الیکٹرونک میڈیا پر خاص توجہ دی پھر سوشل میڈیا کا دور آیا تو اپنے نصاب کے اندر اس کے تدریسی پہلوئوں کو سمو دیا۔ یونی ورسٹی سے ریٹائر ہوئے تو میری درخواست پر ہمارے قائم کردہ نجی شعبہ میں پہلے صحافتی تعلیمی ادارے کی سرپرستی قبول کر لی۔ ایم فل کی کلاسوں کا اجراء کیا۔ بعدازاں دوسری یونی ورسٹیوں میں بھی کمال ہنر دکھاتے رہے جیسا کہ میں نے لکھا دلفریب شخصیت کے مالک تھے۔ محفلوں کی رونق تھے۔ کبھی کبھی غصہ میں بھی آجاتے تھے۔ میرے ساتھ ناراضی ہو گئی۔ مجھے احساس ہوا ایسے قیمتی دوست کو گنوا کر عمر بھر کے پچھتاوے سے جان نہیں چھڑا پائونگا۔ شاید دونوں طرف برابر کی آگ لگی ہوئی تھی۔ ان کی خود نوشت کی تعارفی تقریب تھی۔ مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی۔ میں پابہ جولاں چلا گیا۔ تقریر کی ہاتھ جوڑ کر اپنی غلطی کی معافی مانگی۔ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہو گئیں۔ اٹھ کر اس طرح گلے لگایا جیسے عمر بھر کے بچھڑے عزیز اچانک مل گئے ہوں۔ حاضرین بھی ایک خاص کیفیت میں ڈوب گئے۔ مجھے عجیب سا روحانی سکون ملا۔ اس کی حلاوت ابتک محسوس کرتا ہوں۔ اللہ درجات بلند کرے۔


ای پیپر