بھارتی مذموم ارا دے اور پا ک فو ج کا عز م
25 جون 2020 (21:19) 2020-06-25

یہ با ت ہے 1971 کی جب اس وقت کی بھا رتی وز یرِ اعظم اندرا گا ندھی نے پاکستان کو دو لخت کرنے کی ناپاک سازش کا جا ل بْنا۔ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے حوالے سے انتہائی منظم انداز میں نفرت پھیلائی گئی۔ جب کہ اب حا ل ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیش میں منعقد ایک تقریب میں اعتراف کرچکے ہیں کہ ’’بھارت نے یہ جنگ مشرقی پاکستان میں خود لڑی۔‘‘ الغرض پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت نے پھر اپنی مذموم سازشوں کا سلسلہ بلوچستان میں شروع کردیا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری نے بھارت کے خفیہ عزائم کو عیاں کیا کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دہشت گردی کروانے میں ملوث ہے۔ پچھلے دنو ںپاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے تمام منصوبے تیار تھے۔ گوادر پورٹ سی پیک کو تباہ کرنے کا ہر حربہ کامیابی کی طرف گامزن تھا۔ اب پاکستان کو کھلی جنگ کی طرف لانے کے لیے انڈیا کے پاس ایک ہی ہتھیار تھا جسے کشمیر کہتے ہیں۔ چنا نچہ کشمیر پر 370 لگانے کے بعد انڈیا، امریکہ اور اسرائیل فل تیاری میں تھے کہ جیسے ہی پاکستان کھلی جنگ کی طرف آئے پاکستان کو 3 جگہوں سے مارا جائے اور سب سے پہلے گوادر پورٹ کو تباہ کیا جائے جو آنے والے وقتوں میں پاکستان کی معیشت کو عروج پر لے جانے والا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے انڈیا میں ایئربیس بھی بنالی تھی جس سے وہ پاکستان پر 3 اطراف سے حملہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ بھول چکے تھے کہ ایک اور شخص ان پر نظر رکھے ہوئے ہے جسے مارخور کہتے ہیں۔ جب مارخور نے پاکستان انٹیلی جنس سروس کو یہ خبر دی تو پاکستان نے بھی تیاری پکڑ لی۔ کچھ ہی عرصے بعد جب جموں کشمیر میں 370 لاگو کیا گیا تو پاکستان کی عوام کو سڑکوں پر لایا جانے لگا۔ پاکستان اس وقت اندرونی دشمنوں سے لڑنے اور ان کو پہچاننے میں مصروف تھا۔ ایک طرف کشمیر کی آڑ میں پاکستان کو کھلی جنگ کی طرف لانے والے مصروفِ عمل تھے تو دوسری طرف پاک آرمی کے خلاف غلط نعرے لگانے والے اور پاکستانی عوام کو پاک فوج کا دشمن بنانے والے مصروف عمل تھے۔ ایسے میں موجودہ وقت کے وزیراعظم کے پاس ایک ہی راستہ تھا، قریبی دوستوں سے مشورہ کیا جائے۔ کیوںکہ وہ قریبی دوست سی پیک پر عربوں کی انویسٹ کر چکے تھے۔ جیسے ہی پاکستان کھلی جنگ کی طرف آتا سی پیک کئی سال کے لیے رک جاتا اور یوں دشمنوں کی ہر چال کامیاب ہوتی۔ اسی کشمکش میں قریبی دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ اقوام متحدہ کی طرف رجوع کریں۔ تاکہ دنیا بھر کے ممالک کو پتہ لگ سکے کہ پاکستان نے جنگ کی شروعات نہیں کی بلکہ پاکستان کو جنگ کی طرف لایا جارہا ہے اور اسی بنا پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ میں اس بات کا اعلان کیا کہ اگر جموں و کشمیر سے 370 نہ ہٹایا گیا تو اس کا نقصان پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا اور سب سے زیادہ جس کو نقصان ہوگا وہ انڈیا ہے۔ اسی وقت انڈیا اسرائیل یہ سوچ رہے تھے کہ پاکستان کمزور پڑ چکا ہے اور اقوامِ متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹارہا ہے۔ مگر وہ بھول چکے تھے کہ ایک پلان پاکستان بھی بنارہاہے۔ اور وہ پلان تھا لداخ کی طرف سے دشمن کو

طیش دلانا اور ناگا لینڈ اور خالصتان کی تحریک کو گرم کرنا اور نیپال کو حقوق دلانا۔ انڈیا جن 3 اطراف سے پاکستان کو مارنا چاہتا تھا پاکستان نے انہیں تین اطراف پر قبضہ جما لیا۔ اب لداخ بھی پاکستان کے قبضے میں ہے۔ نیپال بھی انڈیا کا دشمن ہے تو خالصتان بھی بہت جلد انڈیا کو دھول چٹانے والا ہے۔ اور جیسا کہ اب جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اعلان کیا کہ کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں ہے تو یہ وہ پینترا تھا جو پاکستان نے بہت کم وقت میں بہت سمجھداری سے کھیلا۔ اب انڈیا چاروں اطراف سے مکمل پھنس چکا ہے۔ چائنہ جو کہ انڈیا کو نگلنے کے لیے ہر وقت تیار ہے وہیں نیپال نے بھی انڈیا کو آنکھیں دکھانا شروع کردیا ہے اور خالصتان تحریک نے پورے انڈیا کو ہلا کر رکھ دینا ہے۔ باقی رہی بات پاکستان کی تو پاکستان اس وقت اپنی گری ہوئی معیشت کو اٹھانے میں لگا ہوا ہے۔ جب تک انڈیا تین اطراف کی جنگ سے نکلے گا تب تک پاکستان ایک بہت بڑی پاور بن چکا ہوگا جسے ہرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ قا رئین کرا م ، کہانی تو لمبی ہے بس آپ کو شارٹ کٹ میں بات سمجھائی ہے کہ اب ہمیں صبر کا مظا ہر ہ کر نا ہو گا۔ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ انشاء اللہ کشمیر بھی آزاد ہوگا اور پاکستان بھی خوشحال ہوگا اور انڈیا کا غرو ر بھی خاک میں مل چکا ہوگا۔ ہم لوگ پاکستان انٹیلی جنس سے زیادہ نہیں جانتے کون سا دشمن کہاں چھپا ہے اور کیا پلان کر رہاہے۔ یہ پاکستان انٹیلی جنس خوب جانتی ہے۔ اس لیے ہمیں چا ہیے کہ پاک آرمی کے خلاف کسی غلط پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔جو لوگ پاک آرمی کے خلاف ز ہر اگلتے ر ہتے ہیں وہ بھول چکے ہیں کہ عراق، افغانستان، شام، لیبیا کا کیا حال کیا گیا جہاں قومیں اپنے محافظوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوجائیں وہاں شام اور عراق جیسا حال ہوتا ہے۔ اپنے ملک کے محافظوں پر یقین رکھیں۔ وہ آپ کو کبھی کسی جنگ میں ہارنے نہیں دیں گے۔ نہ ہی دشمنوں کے منصوبوں کو کامیاب ہونے دیں گی۔ اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت ستر ہ جو ن بدھ کے روز ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں قومی اور علاقائی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ بھات کے مذموم مقاصد کو ناکام بناتے رہیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار کے مطابق شرکا نے افغانستان میں پرتشدد واقعات میں کمی اور افغان مفاہمتی عمل میں مسلسل مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بھارت کی جانب سے مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ریشہ دوانیوں کے پس منظر میں کور کمانڈرز کانفرنس میں سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانے اور بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کا عزم صمیم ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ پاک فوج نہ صرف سرحدوں بلکہ ہماری نظریاتی اساس کی بھی محافظ اور نگہبان ہے۔ اس وقت جبکہ کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں طرزِ حیات اور سوچ کے زاویوں کو بدل دیا ہے ایسے میں دشمنی پر مبنی سوچ اور نفرت کو پروان چڑھانے کی بھارتی روش میں رتی بھر فرق نہیں آیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کشمیر کی نہتی شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھارت کی کھلی مدد کو بھی بے نقاب کیا جائے گا۔ ایک ایسا ملک جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے چھ گنا بڑا ہے، اس نے پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو اس کی فطرت میں موجود ’’فساد‘‘ کا پتہ دیتی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین سے بھی سرحدی محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان اپنی قومی اور علاقائی سلامتی سے ہرگز غافل نہیں۔ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی ولولہ انگیز قیادت میں پاک فوج دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی اشتعال انگیزی کسی صورت رکنے میں نہیں آرہی اور تقریباً ہر روز بھارتی فوج ایل او سی کے اس طرف شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم نے چنگیزی مظالم کو بھی مات دے دی۔ بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنا ہے مگر کشمیریوں نے ان گنت قربانیاں دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ کوئی بھی بھارتی ظلم انہیں آزادی کی راہ سے نہیں ہٹا سکتا۔ تا ہم کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی پر مہذب دنیا کی خاموشی افسوسناک ہے۔ لیکن اس کے با وجو د خو ش کْن امریہ ہے کہ پاکستانی قوم میں مثالی اتحاد اور یکجہتی پائی جاتی ہے۔ پاکستانی عوام، حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور یہ دشمن کی ہر سازش کے خلاف انشاء اللہ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔


ای پیپر