کورونا مریض ہسپتالوں کے رحم و کرم پر
25 جون 2020 (21:19) 2020-06-25

دنیا بھر میں کورونا کا قہر جاری ہے۔ عالمی سطح پر کہرام مچ جانے والی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ انسانی زندگی پوری طرح اس کے نرغے میں آ چکی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ 77 ہزار جب کہ مجموعی طور پر کورونا کے مریضوں کی تعداد 92 لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ قیامت کی آمد سے قبل قیامتِ صغریٰ کا منظر دنیا بھر میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ زندگی کے جملہ شعبوں پر وباء کے گہرے منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ہر سو بے یقینی کی کیفیت ہے۔ عالمی سطح پر پائی جانے والی ا فراتفری میں ملحدین اور منکرین بھی اب خدا کو یاد کرنے لگے ہیں۔ آفت سے نجات کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں، دوائیں اور ویکسین بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر نہ دعائیں قبول ہو رہی ہیں اور نہ ہی دوا تیار ہو سکی ہے۔ لاکھوں مریض ہسپتالوں کے بستروں پر ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔

کورونا اس وقت انسانوں کے لئے ایک عجیب طرح کی مصیبت بنا ہوا ہے لیکن اس مشکل کی گھڑی میں بیچارہ جو کسی پرائیویٹ ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس چلا جاتا ہے تو ان کے بل دیکھ کر سکتے میں آ جاتا ہے۔ ایک طرف سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، تو دوسری طرف پرائیویٹ ہسپتالوں

میں عام شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ کورونا وباء کو اپنی تجوریاں بھرنے کا سنہری موقع بنا لیا ہے۔ کئی نجی ہسپتالوں کی لوٹ مار عام دنوں میں ہی مریضوں کے ہارٹ اٹیک کی وجہ بنتی ہے لیکن اس وباء میں تو ان ہسپتالوں نے انسانیت کی ساری حدوں کو ہی پھلانگ لیا ہے۔ بات صرف کورونا کے مریضوں کی ہی نہیں بلکہ ہر مرض، ہر چیک اپ، ہر علاج میں نجی ہسپتالوں اور کلینکوں نے اپنی قیمتوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ہسپتالوں اور کلینکوں میں لوٹ مار کا بازار ایسا گرم ہے کہ جس کے بارے میں کبھی سوچا نہ تھا، لوگ ہسپتال جانے سے گبھرا رہے ہیں۔ بڑے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کو ایڈمٹ نہیں کیا جا رہا ہے، جن ہسپتالوں میں مریضوں کو داخل بھی کیا جاتا ہے وہاں بد انتظامی منہ چڑا رہی ہے۔ ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد جیسے جیسے بڑھ رہی ہے ہسپتالوں میں لوٹ مار کے نئے ریکارڈ بننا شروع ہو گیا ہے۔ نجی ہسپتالوں کے بھاری بھر کم بل مریضوں اور ان کے لواحقین کو دوہرے عذاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ مسیحا کہے جانے والے ڈاکٹرز صدیوں کا یہ تقدس اور طبی اخلاقیات دستِ حقارت سے جھٹک کر مال و زر سمیٹنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ملک میں نظامِ زر اور ذمہ داری سے لاپروائی نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ حالات یہ ہیںکہ مریضوں کے چند دن ہسپتالوں میں رکھے جانے کے عوض لاکھوں روپے کے بل وصول کئے جا رہے ہیں۔

ایک اور بہت بڑا مسئلہ ہے کہ کورونا کے بارے میں عوام میں بیداری کم پائی جاتی ہے، لوگ آج بھی مشکوک ہیں، خاص طور پر علاج معالجے میں ہونے والی کوتاہیوں نے ان میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ بہت سارے لوگ ہسپتالوں کا رخ آخری وقت بطور مجبوری کرتے ہیں جب کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کو ابتداء میں ہی پکڑ لیا جائے تو صحت مند ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عوام کو کورونا کے تئیں ہر طرح کی معلومات ہونی چاہئیں۔ لوگوں کی سمجھ میں آنا چاہئے کہ کورونا کیوں خطرناک ہے اورا س کے پھیلنے کو روکنے کے لئے کیا تدابیر کی جانی چاہئیں۔ کورونا وائرس کا علاج نہیں ہے، لیکن اس میں بیماری کی علامات کم ہونے والی ادویات دی جا سکتی ہیں۔ کورونا وائرس کی ویکسین کی ایجاد پر پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ لیکن گزشتہ دونوں ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ غیر یقینی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں لوگوں کو یا تو زیادہ معلومات نہیں ہیں یا پھر وہ دانستاً ایسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کورونا کے مریض تیزی سے بڑھے ہیں۔ حکومت کو مختلف شہروں کے کچھ علاقوں میں پھر سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگانا پڑا ہے۔ عوام لاپرواہی کر رہے ہیں جب کہ اس تمام صورتحال سے نمٹنے کے لئے لوگ شعوری کوشش کریں گے تو اس وباء پر قابو پانا آسان ہو گا۔ بڑے شہروں میں کورونا وباء ہولناک شکل اختیار کر رہی ہے لہٰذا اس سے نمٹنے کے لئے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی سہولیات، انفارمیشن سسٹم، عوامی شمولیت پر مسلسل زور دینا ہو گا۔ کورونا کے بڑھتے مریضوں کی تعداد کے پیشِ نظر ڈھانچہ جاتی سہولتوں میں اضافہ اور ہر زندگی کو بچانا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہئے۔ یہ اس وقت ہو گا جب کورونا کے تمام مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولتیں میسر ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے ہو گے تا کہ متاثرہ افراد کو جلد سے جلد ٹریس کر کے آئیسو لیٹ کیا جا سکے۔

اس بحران میں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی حرکت انسانیت سوز اور حرص و ہوس کی شرمناک مثال ہے۔ عوام کی رگوں سے خون نچوڑنے کا عمل قابلِ مذمت ہے۔ کیا یہ طبی ادارے و افراد واقعی ہی انسانیت کو تیاگ چکے ہیں؟ کیا انہوں نے اپنی دولت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے اور انسانی خدمت کو فراموش کر چکے ہیں؟ اصولی طور پر اس موذی وباء کے دور میں دولت کمانے کی ہوس کو بالائے طاق رکھ دینا چاہئے۔ یہ وقت انسانیت پر بحران کا ہے۔ اس موقع پر آپ سے جتنی ہو سکے اتنی مجبور اور بے بس انسانوں کی مدد کرنی چاہئے۔ آپ کو اس بات کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ خدا نے انسانیت کی فلاح کے اتنے اچھے کام کے لئے آپ کو موقع دیا اور آپ کو منتخب کیا لیکن یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹا ہے۔پاکستان بھر میں کورونا کے نام پر پرائیویٹ ہسپتالوں کے اندر باقاعدہ نہ صرف مہنگا ترین علاج کیا جا رہا ہے بلکہ اکثر پرائیویٹ ہسپتالوں میں ٹائیفائیڈ اور ملیریا کے مریضوں کو بھی کورونا کا مریض بنا کر منہ مانگے پیسے وصول کئے جا رہے ہیں۔ کئی پرائیویٹ ہسپتالوں میں سرکاری ہسپتالوں سے مریضوں کو ریفر ہونے کا کہا جاتا ہے اورا س حوالے سے جو ڈاکٹر اس پرائیویٹ ہسپتال میں ریفر کرتا ہے وہ اپنا کمیشن علیحدہ سے ہسپتال سے لیتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیسن مافیا اور کمپنیز نے کئی ڈاکٹرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے باقاعدہ منصوبہ بندی سے میڈیسن کو مہنگا اور نایاب کیا ہوا ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی غفلت کی وجہ سے نجی لیبارٹریاں اور ہسپتال کرونا کے تشخیصی ٹیسٹ اور علاج کے لئے من مرضی کے ریٹس وصول کر رہے ہیںاور کرونا کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تشخیصی ٹیسٹ کے لئے پرائیویٹ ٹیسٹ فیس 10 سے 25 ہزار تک وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کرونا میں استعمال ہونے والے انجیکشن اور دوسری ادویات بھی بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں۔


ای پیپر