بھارت چین کشیدگی، کیا مودی عوام کومطمئن کر سکیں گے؟
25 جون 2020 (21:18) 2020-06-25

لگتا ہے لداخ پر چینی قبضہ کے بعد نریندر مودی کی عقل ماری گئی ہے۔ الٹا چین کو الزام دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر بھارت پر حملہ کی کوشش کی تو سبق سیکھایا جائے گا۔ کل جماعتی کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم انتہائی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے رہے۔

مودی کا کہنا تھا کہ چینی فوج ہمارے علاقے میں داخل نہیں ہوئی اور کسی بھارتی چوکی پر قبضہ نہیں کیا حالانکہ چینی فوج بھارتی علاقے میں گھس چکی ہے اور بھارتی کئی کلومیٹر کا علاقہ چین کے قبضے میں ہے۔ بقول چین بھارت90 مربع کلومیٹر علاقہ اس کے قبضے میں ہے جبکہ بھارتی 38 مربع کلومیٹر کی بات کرتے ہیں۔ حد تو یہ کہ بھارتی فوج نے رات کے اندھیرے میں اسی علاقے مین سے ایک پوسٹ چھڑانے کی کوشش کی تو کرنل سمیت 20 ہلاکتیں ہو گئیں۔

چین نے علاقے میں اپنے قدم جمائے، بھارتی علاقے پر قبضہ کیا۔ سیاچن راستے کو بھی بلاک کیا ۔ اس سارے عمل کے دوران مودی خاموش تھے اور کوئی بات نہیں کر رہے تھے۔ اب گزشتہ روز اپوزیشن کے احتجاج کے بعد فرمانے لگے کہ بھارت کی ایک انچ زمین بھی کوئی نہیں لے سکتا۔ہمارے بیس جوان ہلاک ہوگئے ہیں مگر جنھوں نے بھارت پر حملہ کی کوشش کی ہے۔ انہیں سبق سیکھایا جائے گا۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیسے اور کب سکھایا جائے گا؟ اور ان کے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہوگا۔

بھارت کی عسکری قیادت کی جانب سے مذاکرات میں چینی فوج کی منتیں کرنے کے بعد چین نے بھارتی فوجیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھارت اگرچہ اس بات کی تردید کر رہا تھا کہ اسکا کوئی فوجی لاپتہ نہیں ہے لیکن اب چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو رہا کئے جانے کے بعد بھارت کا ایک اور جھوٹ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے لداخ میں چینی کے ساتھ جاری کشیدگی پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چین نے لداخ میں اپنی فرنٹ لائنز کو تبدیل کر کے بھارتی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ نئی دہلی ابھی فوجی و سفارتی مذاکرات طے کرنے میںہی مصروف ہے۔ اگر مودی سرکار کو ایسے ذلت آمیز طریقے سے ہی سرنڈر کرنا تھا تو وہ لداخ سے ماؤنٹین سٹرائیک

کور اور بکتر بند بریگیڈ کو ہٹا لے۔ حکومت ذلت آمیز شکست پر پردہ ڈالنے کیلئے صحافیوں پر دباؤ نہ ڈالے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین ہمارے علاقے میں آچکا ہے جہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں۔ حکومت مذاکرات کے سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ چین نے نئی سرحدی پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے۔ اس ساری صورتحال کی ذمہ دار بھارتی سرکار ہے۔ نریندر مودی ہے۔

بھارتی حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے کورونا وائرس کے بحران کے تناظر میں پھیلی بدنظمی کے حوالے سے مودی حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوے کہا کہ مودی کے اقتدار میںبھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں حکومت کے گناہوں کے بوجھ سے عوام تھک چکے ہیں۔ وسیع پیمانے پر تکالیف کے لیے حکومت کی سخت بے حسی اور نہ اہلی عیاں ہے۔ مودی کی حکومت نے دو کروڑ سے زیادہ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم بھارت میں اس وقت بے روزگاری کی شرح 27 فیصد سے بھی زیادہ ہے جو آزادی کے بعد ایک نیاریکارڈ ہے۔ ملک کی معیشت کے تعلق سے کورونا وائرس کی وبا سے پہلے کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی معیشت پہلے ہی سے تباہی کے دہانے پر تھی اور مستقبل میں اس کی بہتری کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح لاحہ عمل بھی نہیں ہے۔

یہ جھوٹ تو بھارت نے لداخ میں ہزیمت کے بعد اپنی خفت مٹانے اور کشمیر میں سب ٹھیک ہے، دکھانے کیلئے بولے مگر مودی نے اپنے بارے میں بھی ایک جھوٹ بولا تھا جو بے نقاب ہوا۔ مودی نے ایک انٹرویو میں خود ہی اپنی اصلی تعلیمی قابلیت کا بھانڈا پھوڑدیا۔ بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کی تعلیمی اسناد پر متعدد بار اعتراضات اٹھائے گئے۔یوں کافی عرصہ تک نریندر مودی کی ڈگریوں کا معاملہ ان کیلئے بڑا درد سر بنارہا۔ اگرچہ اس سلسلے میں کچھ دستاویزات بھی منظر عام پر آئیں جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نریندر مودی نے دہلی یونیورسٹی سے 1978ء میں’تھرڈ کلاس‘کے ساتھ گریجویشن کی اور ایک اور دستاویز کے مطابق نریندر مودی نے 1983ء میں یونیورسٹی آف گجرات سے ’ایم اے‘ کی ’فرسٹ کلاس‘ ڈگری لے رکھی ہے اور ان کا سکور 62.3فیصد ہے۔لیکن سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ نریندر مودی کی ایک پرانی ویڈیو میں انہوں نے خود ہی اپنی تعلیمی قابلیت سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس بات کا ا نکشاف کیا ہے کہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔بھارتی صحافی راجیو شکلہ کو دیئے گئے اپنے ایک پرانے انٹرویو میں نریندر مودی نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ وہ کچھ خاص پڑھے لکھے انسان نہیں ہیں ۔یہ ان پر اوپر والے کا کرم ہے اور ان کو نئی نئی چیزیں جاننے اور سیکھنے کا شوق رہا ہے۔انہوں سے صرف ہائی سکول تک ہی تعلیم حاصل کی ہے۔

اسی طرح مودی سرکار کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا کہ بھارتی حکومت کی کرناٹک کی ویڈیو کو مقبوضہ کشمیر کی ریلی بتانے کی کوشش الٹی پڑگئی۔ بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں سفید لباس پہنے لوگ بھارت ماتا کے نعرے لگار ہے تھے۔ بھارت نے ان لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کا فیصلہ بتایا جبکہ اصل میں یہ وڈیو کرناٹک کے شہر بنگلور کی ہے جس کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جن اکاؤنٹس سے یہ وڈیو شیئر کی گئی، وہ بھی غیر تصدیق شدہ اور مشکوک نکلے۔


ای پیپر