گلوان کی جھڑپ پورے خطے کے لئے خطرہ
25 جون 2020 (21:17) 2020-06-25

جون کے وسط میں انڈیا اور چین کی سرحدی وادی گلوان میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپیں، کیل لگے خودساختہ اسلحے کا استعمال اور پھر امن مذاکرات کی بات صرف چین اور بھارت ہی نہیں بلکہ کشمیر سمیت پورے خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔نیوز رپورٹس کے مطابق 15اور 16 جون کی درمیانی شب لداخ کی گلوان میں ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں انڈین فوج کے ایک کرنل سمیت 20 جوانوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں۔انڈیانے چینی فوجیوں کو بھی مارنے کا دعویٰ کیا مگر چین نے کوئی پالیسی بیان جاری کیا اور نہ ہی اپنے کسی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تنازعے کا سلسلہ 3ماہ سے چل رہا تھا ۔پہلے چین کی جانب سے لداخ کی سرحد پر فوجی سرگرمیاں دیکھی گئیں اور پھر بھارت نے لداخ کے علاقے میں سڑک کی تعمیر کا اعلان کر دیا۔ بھارت کے 20 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے یا نہیں اور چین اپنے نقصانات پر بات کیوں نہیں کرتا؟ اس پر بہت بحث ہو چکی اب ضروری یہ ہے کہ ایشیائی ممالک اس جھڑپ کو جنگ کی شکل اختیار کرنے سے کیسے روکیں ؟ بھارت اور چین تنازعے کی تاریخ 60 کی دہائی سے ہی موجود ہے، 1962میں چین نے بھارت پر ایک ماہ تک جنگ مسلط کیے رکھی تھی۔ سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ چین بھارت کشیدگی کی وجہ صرف اے ای سی ( لائن آف ایکچول کنٹرول) کی خلاف ورزی یا سڑک کی تعمیر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جب بھارت کی جانب سے شہریت قانون کا نفاذ کیا گیا تو پاکستان کے ساتھ ساتھ چین نے بھی سخت تنقید کی تھی۔دونوں ممالک کے درمیان تلخی کی ایک وجہ چین کی

ایک کمپنی کی جانب سے بھارتی بینک کے 10 فیصد حصص کی خریداری بھی ہے ۔ اس معاہدے کے بعد بھارت نے سرمایہ کاری قانون میں ترمیم کر دی اور چین کو بھارت میں سرمایہ کاری سے روک دیا تھا۔موجود تنازعے میں دونوں ممالک نے 1996 اور 2005 کے چین  بھارت معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے آتشیں اسلحہ استعمال نہیں کیا مگر بھارتی فوج کے اہلکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ چین کی جانب سے جھڑپ کے دوران لوہے کے کیلوں والے راڈز کا استعمال کیا گیا جو کے اسلحے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان جھڑپ کا ایک اور پہلو عالمی منظر نامے سے بھی جڑا نظر آتا ہے جہاں اسرائیل سمیت عالمی طاقتیں اسلحے کی منڈی کو زندہ رکھنے کے لیے جنگ کا میدان تلاش کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔ افغانستان میں امن کی کوششوں کے بعد خطے میں نئی مصروفیات ڈھونڈنے کے ماسٹر مائنڈ بھارت کی موجود انتظامیہ کی عرصہ دراز سے تربیت کر رہے ہیں۔ یہ تربیت کشمیر کے نہتے مکینوں کے خلاف تو پہاڑ ثابت ہوئی مگر جب گلوان میں اصل میدان جنگ کا سامنا ہوا تو بھارتی فوج پانی کا بلبلہ بن گئی۔ بھارت کی تربیت کرنے والوں نے اسے کبھی افغانستان کی گراؤنڈ پاکستان کے خلاف مہیا کی تو کبھی کشمیر میں دراندازی کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلایا گیا۔مودی حکومت کی غلط پالیسیوں نے بھارت کے اندرونی و بیرونی معاملات کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ کسی بھی خانہ جنگی کے صورت میں بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ بھارتی فوج کے اندر سے بھی بغاوت کے آثار واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ بغاوت کوسر اٹھانے سے قبل کنٹرول کرنے کے لئے بھارتی فوج کو 5ارب روپے کے فنڈز دئیے گئے ہیں مگرصورتحال قابو میں دکھائی نہیں دیتی۔بھارتی فوج کے سکھ اور نیپالی فوجی اہلکاروں میں مایوسی اور غیر یقینی پائی جاتی ہے ۔ لداخ میں چین کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد بھارت کے ریٹائرڈ فوجی افسران اور دیگر حلقوں کی جانب سے بھی مودی حکومت پر شدید تنقید کی گئی ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرــ’ مودی سرینڈر‘‘ کا ٹرینڈ چلتا رہا ۔ مودی سرکار نے حکومت میں آنے سے قبل چین کو سبق سکھانے کے بڑے بڑے دعوے کئے تھے ۔بھارت ایک طرف تو عملی میدان میں دنیا کے سامنے بری طرح ناکام ہوا ہے اور دوسری طرف بھارتی سیاستدان ، میڈیا ، عوام اور یہاں تک فوج یہ دعویٰ کرتی نظر آتی ہے کہ کورونا کی صورتحال اور امریکہ و چائنہ کے تعلقات میں خرابی بھارت کو عالمی منڈی میں چائنہ کی جگہ لینے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں ۔بھارت احمقوں کی جنت میں رہتے ہوئے دعویٰ کچھ اور عمل کچھ کر رہاہے مگر مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کورونا کی صورتحال میں بھارت کی امن دشمن کوششیں نہ صرف ملک میں معشیت کی تباہی کا سبب بنیںگی بلکہ کورونا کی وبا کو قابو پانا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ چین اور بھارت کے اس تنازعے سے خطے میں عدم استحکام بھی لازم ہو جائے گا کیونکہ ایک طرف روس کو بھارت اور چائنہ میں سے کسی ایک کو سپورٹ کرنا ہوگا اور خطے میں جنگ شروع ہوئی تو پھر پاکستان اور دیگر ممالک کو بھی کسی ایک بلاک کا حصہ بن کر چاہتے ہوئے یا ناچاہتے ہوئے جنگ میںکودنا پڑے گا ۔اس لیے بھارت کو موجودہ صورتحال میں امن کی کوششیں کامیاب بنانا ہوں گی کیونکہ اس سے صرف بھارت کا مستقبل ہی نہیں بلکہ خطے کا امن بھی وابستہ ہے ۔


ای پیپر