اقوام متحدہ میں انڈیا کی جیت:کشمیر کے لیے دھچکا
25 جون 2020 (16:05) 2020-06-25

گزشتہ سال جب انڈیا نے کشمیر اور لداخ کی متنازعہ حیثیت ختم کرکے انہیں آئینی طور پر اپنے union territoryمیں شامل کیا تو یہ ایک تیر سے دو شکار والی بات تھی۔ ایک طرف چین نے اعتراض کیا اور دوسری طرف کشمیر اور جموں کو بد ترین لاک ڈائون کا سامنا کرنا پڑا۔یہ محاصرہ اب بھی جاری ہے جب ان دونوں متنازعہ علاقوں کو زبردستی انڈیا میں شامل کیا جا رہا تھا تو یہی وہ وقت تھا جب انڈیا نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں غیر مستقل ممبر کے الیکشن میں خود کو امیدوار ہونے کا اعلان کیا ویسے تو یہ معمول کی کارروائی تھی مگر یہ ایسے وقت پر ہوا تھا جب بھارت انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں مصروف تھا۔

وہ الیکشن اس سال ہوا ہے اور انڈیا کو 2021-2022ء یعنی دو سال کیلئے سکیورٹی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب کرلیا گیا ہے یہ شاید آپ کیلئے حیرت کی بات نہ ہو کیونکہ یہ ایک Rotationکی سیٹ ہے جو انڈیا پہلے 16دفعہ حاصل کرچکا ہے۔ پاکستان بھی 8بار اس کیلئے منتخب ہوچکا ہے اور 2022ء کے بعد اگلے سیٹ اپ میں اس کا امیدوار ہے اس الیکشن میں حیرت کی بات یہ تھی کہ پاکستان نے انڈیا کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا موجودہ حالات میں اس سے بھی بڑی سرپرائز یہ تھی کہ چین نے بھی انڈیا کی حمایت کا اعلان کیا ہواتھا۔

ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ عالمی سفارتکاری میں یہ معمول کا واقعہ ہے۔ چین کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تمام عرب ممالک بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب نے انڈیا کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح بھارت بلا مقابلہ اس اعلیٰ ترین فورم کا ممبر منتخب ہوگیا۔اب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اگلے دوسال بہت زیادہ اہمیت احتیار کرگئے ہیں۔ میرا ذاتی اندیشہ یہ ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے جموں کشمیر میں انڈیا کے مظالم جو پہلے ہی کم نہیں ہیں وہ مزید بڑھ جائیں گے اور اگر پاکستان یا کسی ملک نے معاملہ سکیورٹی کونسل میں اٹھانے کی کوشش کو تو انڈیا اسے ویٹو کردے گا گویا انڈیا کو کشمیر میں جارحیت کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

اب یہا ں ایک اورسوال اٹھتا ہے۔ انڈیا جاپان اور جرمنی نے مل کر ایک ریفارم گروپ بنایا ہواہے جوکئی سال سے سپر پاورز کی طرف سے ویٹوپاور کے خلاف تحریک چلارہاہے کہ یہ کسی ملک کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔ اب اگر بھارت اس ویٹو کو استعمال کرتا ہے تو 2سال کی عارضی سیٹ میںاس کی ساکھ مجروم ہو گی گویا وہ سپر پاورز کے خلاف اپنے موقف کی خود ہی تردید کر رہا ہو گا۔ دوسرا یہ ریفارم گروپ اقوام متحدہ کو جدید عالمی حالات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اس میں structural reform یا بنیادی تبدیلیوں کی وکالت کرتا ہے ان حالات میں پاکستان یا کسی بھی ملک کیلئے یہ نادر موقع ہوگا کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا معاملہ اٹھانے کی بار بار کوشش کی جائے انڈیا جتنی بار اس کو ویٹوکرلے گا اتنا ہی گندا ہوگا اور اس کی منافقت اور ڈبل سٹینڈرڈ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی معذرت خواہانہ لہجے میں جب لکھنو سٹائل اردو میں فرماتے ہیں کہ یہ معمول کی بات ہے تو بات اتنی سادہ اور قائل کرنے والی نہیں ہے انڈیا جب گزشتہ سال امیدوار بنا تھا تو کشمیریوں کا خون تازہ تھا اس وقت کیونکہ جاندار سفارتکاری کے ذریعے دنیا کو انڈیا کا چہرہ دکھایاگیا کہ وہ اس کی جگہ کسی اور کو امیدوار بنا دیں۔کہتے ہیں کہ پاکستان چونکہ ایشیا پیسفک گروپ (APG)کا ممبر ہے جودہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف 55ممالک کا اتحاد ہے۔پاکستان نے مجبوری میں اس لئے ووٹ دیا کیونکہ اس 55ملکی گروپ جس میں چین اور سعودی عرب بھی شامل ہیں سب نے متفقہ طور پر بھارت کو امیدوار بنایا تھا۔ وجہ جو بھی ہواس سے پاکستان کے مفادات اور کشمیر کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ چین کو انڈیا کی حمایت کرنے میں کوئی ٹینشن نہیں انہوں نے تولداخ میں انڈیا کے 20فوجی مار کراپنا حساب برابر کر لیا ہے بلکہ انڈیا کے کئی مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کرلیا ہے اور اقوام متحدہ میں انڈیا کو ووٹ بھی دیدیا ہے مگر پاکستان کا معاملہ قطی مختلف ہے۔

بھارت نے گزشتہ کئی سال سے بین الاقوامی گروپ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATFکے فورم سے پاکستان کو سفارتی دباؤ میں رکھا ہوا ہے کہ یہاں سے منی لانڈرنگ ہوتی ہے جس سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔FATFنے ابھی تک پاکستان کو ان الزامات سے کلیئر نہیں کیا اور انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ ان الزامات کی آڑ میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگوائی جائیں۔FATFکی موجودہ سربراہی چونکہ چین کے پاس ہے لہٰذا چین نے پاکستان کو موقع دیا ہے کہ وہاں الزامات کو غلط ثابت کرلے۔

بھارت جاپان اور جرمنی کی مدد سے اپنے لیے اقوام متحدہ میں مستقل سیٹ یعنی سپر پارو بننا چاہتا ہے۔ مگر اسے ابھی تک کامیابی نہیں ہو سکی اگر وہ چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کر دے اور جموں و کشمیر کے ناجائز قبضے سے دست بردار ہو جائے تو ہو سکتا ہے کسی سٹیج پر اسے سپر پاور کا درجہ مل جائے لیکن اگلی ایک دہائی میں اس کا امکان کم ہے ویسے بھی دنیا میں تیزی سے تبدیلی ہو رہی ہے اور امریکہ کی جگہ پر چین آگے آ رہا ہے ان حالات میں بھارت کو دی گئی امریکی یقین دہانیاں کام نہیں آئیں گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت کو چین کے مقابل کھڑا کر نے کی جو سازش کی تھی وہ بھی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری صرف صدر ٹرمپ کے دوسری بار منتخب ہونے کے امکانات کافی کمزور ہیں جس کا بھارت کو بھی نقصان ہو گا۔

البتہ بھارت کے سکیورٹی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کا سب سے بڑا نقصان کشمیریوں کو ہونے جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے اعلیٰ ترین پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھے گی گویا کشمیر میں بھارت خود ہی جج اور خود ہی جلاد ہے۔ ایک بار پھر بال پاکستان کی سفارتکاری کے کورٹ میں ہے اور سفارتکاری میں ہمیشہ ہی پاکستان کمزور وکٹ پر ہوتا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ہماری سفارتکاری کے تن مردہ میں شاہین کا جگر پیدا کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔


ای پیپر