ذارئع ابلاغ کی جدت اور ہم
25 جون 2020 (16:04) 2020-06-25

عام طور پر شعراء کرام کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ اپنا کلام سنانے کے لیے سامع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور اگر سامع میسر آجائے تو اس کی خوب آئو بھگت بھی کرتے ہیں اور اس وقت تک کرتے ہیں جب تک اپنا کلام اس کی روح تک میں اُتار نہ دیں۔ لیکن ایسے شاعربھی ہیں جن سے ان کا کلام سننے کے لیے سامعین کو ان کے ناز نخرے اُٹھانے پڑتے ہیں۔ ایک شاعر جن کی شاعری کی رفعت و ندرت میں کوئی کلام نہیں، اُن کے بارے میں بتایا یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں ضیاء آمریت کے دورمیں وہ بیرون ملک جاتے اور آمریت کے خلاف اپنی نظمیں پڑھ کر داد اور مہمان نواز کا لطف خوب سمیٹتے۔ انھی شاعر صاحب نے مشرف۔افتخار چوہدری کی محاذ آرائی میں عدلیہ کی سربلندی کی خاطر مشرف حکومت کی جانب سے ملنے والے اعلیٰ شہری اعزاز ہلال امتیاز کو کلنک کا ٹیکہ قرار دے کر واپس کردیا تھا ، حالانکہ جناب نے مشرف دور ہی میںبطور سربراہ نیشنل بک فائونڈیشن ،کئی سال تک خدمات انجام دیں تھیں۔

تمہید باندھی تھی ایک غلط العام تاثر سے جو شعراء کرام کے بارے میں پایا جاتا ہے لیکن بعض متاثرین اسے حقیقت بھی قرار دیتے ہیں۔ لیکن شاعر حضرات تو یوں ہی بدنام ہیں، یہاں تو سیاسی، ادبی اور مذہبی شخصیات بھی خودنمائی اور داد طلبی کے جنون میں انتہائی درجہ تک مبتلا ہیں۔ ایک محترم شخصیت جو ایک منظم اور طاقتور ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے، سفیر بھی رہے اور میدانِ سیاست میں بھی رہے ۔ 2004-5 میںجب وہ قومی سیاست میں انصاف کی تحریک برپا کرنے کے درپے تھے تو ان کا ایک انٹرویو کسی نجی چینل پر نشر ہوا۔ ابلاغ میں سوشل میڈیا نے آج کی جدت اور وسعت اختیار نہ کی تھی ، کہ ان کا انٹرویو ہر کسی کی سماعت اور بصارت کو فیض یاب کرسکتا ۔ تب موصوف ایک بھاری بھرکم ٹیلی ویژن سیٹ اور سی ڈی پلئیر اپنی کار میں رکھ کر سفر کرتے اور جہاں جاتے پہلے اپنا وہ انٹرویو سنواتے اور پھر تعریف بٹورتے۔ لاہور میں ایک معروف ادبی شخصیت جو بائیں بازو کی فکر کے بھی حامل تھے، لاہور ڈیفنس میں رہائش پذیر تھے۔ وہ اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے لیکن ساتھ ہی مہمان کو اندر بٹھا کر باہر جرمن شیفرڈ کتا کھلا چھوڑ دیتے ۔ ان کی گفتگو کا کم سے کم دورانیہ چار پانچ گھنٹے ہوتا، اب مہمان بے چارے میں اتنی جرات کہاں کہ مہمان خانے کا دروازہ کھولے اور باہر چلا جائے اور باہر غراتے جرمن شیفرڈ سے کون نپٹے؟۔ یہ رویہ بھی ہمارے یہاں عام ہے کہ کسی کو موبائل پر کال کرتے ہیں تو بجائے یہ پوچھنے اور سمجھنے کہ نہ جانے اگلا کس صورتحال سے دو چار ہے اپنا فلسفہ اور روز کی آپ بیتی سنانے بیٹھ جاتے ہیں ۔ بعض کرم فرما توکسی کتاب کے کئی کئی صفحات سنانے لگ پڑتے ہیں۔

سماجی رابطوںمیں سب سے معروف یوٹیوب، کتابِ رخ (فیس بک) اور واٹس ایپ زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ کتاب ِ رخ پر اکثر لوگ’’ میں‘‘ کی تکرار اس قدر کرتے ہیں جس سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ نہ ہوتے تونہ جانے کیا ہوتا؟۔ ایسے بھی ہیں جو یہ اعلان کردیتے ہیں کہ کتابِ رخ پر میرے دوستوں کی تعداد کی حد مکمل ہو چکی ہے، اب کوئی اور زحمت نہ کرے یعنی بتانا یہ مقصود ہے کہ متاثرین کی تعداد پانچ ہزار ہوچکی ہے۔ یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ میں اب فلاں فلاں کو ان فرنیڈ کرنے لگا ہوں اور خبردار وہ اب دوبارہ جرات نہ کریں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ جب آپ کتاب رخ پر کسی کو دوست بناتے ہیں تو کیا اس کا بھی اعلان کرتے ہیں؟۔ اگر کسی کے خیالات پسند نہیں تو خاموشی سے قطع تعلق کرلیں، یہی بہتر ہے۔ جاگیر دارانہ اور سرمایہ درانہ ذہنیت ہمارے معاشرے میں اس طرح رچ بس گئی ہے کہ جہاں درخواست (ریکوسٹ) کا لفظ آیا وہیں ہمارے اندر کا جاگیر دار اور وڈیرہ جاگ اُٹھتا ہے۔ میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ فیس بک پر دوستی کی درخواستوں کو یوں قبول کرتے گویا کہ درخواست گذار پر احسانِ عظیم کررہے ہوں۔ فیس بک کی دوستی بھی خوب ہے، وہ جو فرازؔ نے کہا تھا نا کہ :

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

فیس بک پر کتنے لوگ ہوں گے جن سے ہم کبھی ملے ہوں یا بات کی ہو؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فیس بک کے دوست اگر کسی جگہ اتفاقاََ اکٹھے ہوجائیں تو بتانا پڑتا ہے کہ میں فیس بک پر آپ کے احباب میں شامل ہوں۔ ادبی تقریبات میں اس قسم کے واقعات عام ہیں۔ ایک رویہ فیس بک پر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ خواہ کسی مشہور اور پنج ستارہ ہوٹل کی پارکنگ ہی میں کار کھڑی کی ہو لیکن ’’چیک اِن‘ ‘ کا اسٹیٹس ضرور لگاتے ہیں ۔ بعض تو ایسے بھی ہیں کہ اپنے باورچی خانے میں صبح، دوپہر اور رات بننے والے پکوانوں کی تصاویر بھی باقاعدگی کے ساتھ فیس بک پر آویزاں کرتے ہیں اور ایسے بھی جو روز اپنی نئی تصویر ’’ آج کی تصویر‘‘ کے عنوان کے ساتھ آویزاں کرتے ہیں۔

کسی ادیب، دانشور اور لکھاری کا اپنے کتب خانے میں بیٹھ کر بات کرنا اور بات ہے، لیکن خود نمائی کے شوقین ایسے دانشور بھی ہیں کہ یو ٹیوب یا کسی ویڈیو کلپ میںاپنے خطاب کے دوران کتابیں اس طرح سجاتے ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کتابیں اپنے مطالعے یا ریفرنس کے لیے نہیں بلکہ یہ دکھانے کے لیے ہیں کہ موصوف کے پاس کون کون سی کتابیں ہیں۔

واٹس ایپ کا حال اور بھی خراب ہے۔ کسی فرد کا دیگر افراد کو منتخب کرکے گروپ بنا لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ گروپ کا بنیادی مقصد کسی خبر، معلومات، حکایت یا مزاح میں سب کو بیک وقت شریک کرنا ہوتا ہے۔ لیکن لوگ یہاں آپس کی گفتگو ’’چیٹنگ‘‘ شروع ہوجاتے ہیں اور گروپ کے دیگر لوگ اپنے موبائل پر انگلیاں دُکھا دُکھا کر پاگل ہوجاتے ہیں۔

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے

ذرائع ابلاغ کی جدت اور وسعت کو ہم علم ، حقائق اور نظریات کے پھیلائو کی بجائے خود نمائی، دروغ گوئی اور مذہبی اور سیاسی عصبیت کے لیے استعمال کررہے ہیں، جس سے فائدے کی بجائے نقصان ہورہا ہے۔اقبالؔ کو شاید پہلے سے علم تھا، اسی لئے فرما گئے تھے کہ :

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی


ای پیپر