طارق عزیز: اک عہد کا خاتمہ
25 جون 2020 (16:03) 2020-06-25

پاک سر زمین میں الگ سی کشش ہے، کئی گوہر نایاب اس نے جنم دیے، بہت سے اپنی جانب مبذول کیے، بیشتر خود ہی محبت میں گرفتار ہو کردیس کو آئے اور چھا گئے۔ لاتعداد کہانیاں ہماری سماعت کی نظرہوتی ہیں جن میںدیس سے انسیت کے سحر میں اسیر ہو کر محبان ِ وطن اپنی پاک سر زمین کی جانب لوٹتے ہیں،منفرد خصوصیات کے حامل چندافراد جد و جہد کرتے کرتے دنیامیں نام روشن کرتے ہیں۔اسی طرح جالندھر، برطانوی ہندوستان کی سر زمین میں پیدا ہونے والے فرزندنے عالمی سطح پر اپنی قوم سے محبت کا پرچار کیا ،اس کے داہن پر پاکستان زندہ باد ہوتا تھا، اپنے ادا کردہ ہر فقرے سے اپنے دیس کے لئے اظہا رِ محبت کرتا، اپنی زبان کو اپنی شناخت سمجھتا، دین کی ترویج ناظرین میں عام کرتا۔وہ مرد ِ آہن کوئی اور نہیں، رستم ِ ثقافت، علم کا سمندر اور عوام کی گرج دار آواز جناب طارق عزیز تھے۔عوام کی نمائندگی کی باگ لفظی طور ہر سیاست دانوں کے حوالے ہوتی ہے۔ لیکن ثقافتی اور سماجی اعتبار سے کرشماتی شخصیات بازی لے جاتی ہیں۔ ان اشخاص کی فہرست میں طارق عزیز صاحب کو اولین ہندسوں میں دیکھا جاتا ہے۔ اب تک اس کی سب سے بڑی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب آپ کے انتقال کی خبر عوام تک پہنچی، ہر کوئی ایسے رنجیدہ ہوا جیسے کوئی گھر کا بزرگ دنیا سے رخصت ہوا ہو۔مجھ سمیت بہت سے ناظرین کے دماغ میں آپ کا دوران ِ پروگرام اندازِ بیان گھوم رہا تھا۔ مجھے تو آپ کو براہ راست دیکھنے اور ملاقات کا شرف بھی حاصل تھا۔آپ کی شخصیت کو دیکھ کر رشک ہوتا تھا۔ نجی ٹی وی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں آ پ نے اپنی آواز سے متعلق کہا میری آواز منفرد ہے، اس میں میرا کیا ہے، یہ خدا کی دین ہے ۔یہ جملہ عاجزی کی عکاسی کرتا ہے۔ آج کل تو یہ حال ہے کہ اگر کوئی اچھے ڈھنگ سے بال بنانے لگ جائے تو دوسرے کوا پنے سے کمتر سمجھتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی قابلیت ہی اسے اعلی مقام عطاء کرتی ہے۔ مگر جیسا آپ کاانداز اور نظریہ تھا، دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ جاننے کی کوشش تو کی جائے۔ جب تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی گئی تو معلوم ہوا کہ آپ کی گھر میں ہی ایسی تربیت ہوئی جس میں ملک سے محبت اور ادب سے شغف عیاں ہو۔ طارق عزیز نے 28 اپریل1936ء کو جالندھر میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والدِ گرامی میاں عبد العزیز کا اپنے ملک سے محبت کا یہ عالم تھا کہ 1936ء میں اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھنا شروع کر دیاتھا۔آزادی کے ایام میں خاندان کے ہمراہ پاکستان کے شہر ساہیوال ہجرت کر چکے۔ میاں عبدالعزیز پاکستانی ایک اخبار کے مدیر بھی تھے۔ اس حوالے سے آپ کے ہاں نامور شعرا منیر نیازی اور مجید امجد کا آنا جانا ہوتا تھا۔ طارق صاحب ان کی تواضع کیا کر تے اور نوجوانی میں ان سے عقیدتاََ ادب سے جڑی خواہش کا اظہار بھی کرتے ۔ یعنی طارق عزیز کی نو عمری میں ہی وطن سے محبت اور اردو ادب سے لگائو کی جڑیں پختہ ہورہی تھیں۔

جنابِ طارق عزیز نے کرئیر کا آغاز ریڈیو سے کیا، بعد ازاں 1964ء میں پی ٹی وی سے منسلک ہوئے اور آپ کا قومی نشریاتی ادارے سے رشتہ دنیا نے یا د رکھا۔ آپ کی ٹیلی ویژن کی ابتدائی ساتھی اور پاکستان کی پہلی خاتون انائونسر کنول نصیر آپ کے بارے میں فرماتی ہیں میں نے اتنا جزبہ اور جوش کسی میں نہیں دیکھا،ان کی آواز کی گھن گرج ، وہ اپنی دل سے سچے الفاظ بو لتے تھے۔1975ء میں آپ نے نیلام گھر کے نام سے پروگرام کیا، جس نے آپ کو ایک الگ پہچان دی۔ یہ پروگرام قریباََ چالیس سال چلتا رہا۔ پروگرام میں جس توانائی سے آپ دوڑتے ہوئے داخل ہوتے اور ہال میں موجود عوام میں گھلتے ملتے، وہ انداز آج کسی کے پاس موجود نہیں۔ معمر ہونے کے باوجود آپ برق رفتاری سے تمام امور نمٹاتے۔فلم انڈسٹری میں بھی آپ کاکرئیر شاندار رہا۔ پچیس سے زائد فلموں میں کام کیا اور اپنی صلاحیوتوں کا لوہا منوایا۔فلم انسانیت اپنے وقت میں سپر ہٹ گئی۔ فلم سالگرہ تو تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی دلچسپ وجہ یہ ہے کہ آپ اس میں جج کا کردار کر رہے تھے اور فلم میں چائلڈ سٹار کے طور پر سابق صدر آصف علی زرداری بھی شامل تھے۔

طارق عزیز اپنے نظریات پر اٹل تھے، جس کا انھیں نقصان بھی ہوا۔ مگر خود دار بندے کی نشانی یہی ہوتی ہے۔ 1970ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان کانفرنس منعقد ہوئی ۔ ان دنوں آپ پی ٹی وی کراچی میں سینئر پروڈیوسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ کانفرنس این اے پی بھاشانی گروپ نے منعقد کروائی تھی۔ آپ چونکہ بائیں بازو نظریات کے حامل تھے۔ جیسے ہی کانفرنس کے بارے میں معلوم ہوا۔ آپ کراچی سے لاہور آئے اور ٹیکسی کروا کر سیدھا ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچ گئے۔ آپ نے تقریر کے لئے پانچ منٹ مانگے ، لیکن تقریر پینتالیس منٹ تک کی۔ عوام کا جم غفیر مکمل خاموشی سے آپ کو سنتا رہا۔پھر کیا پوا، آپ واپس کراچی دفتر پہنچے تو دروازے پر ہی آپ کو برخاستگی کا پیغام سنا دیا۔آپ کی خطابت کی خوبی اتنی باکمال تھی کہ ان دنوں منعقد ہونے والی الیکشن مہم میں ذولفقار علی بھٹو نے بھی آپ کو مدعو کیا۔اپنے نظریات پرقائم رہنے کی وجہ سے طارق عزیز فوجی آمر جنرل ضیا اور بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی پی ٹی وی سے نکالے جا چکے ہیں۔

سیاست کی ابتداء میں آپ جیالے تھے، مگر جب آپ نے ان لوگوں کو بھٹو مرحوم کے قریب آتے دیکھا جو انقلابی نظریات کے مخالف تھے۔ آپ نے پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی کر لی۔ 1997ء میں وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے آپ کو(موجودہ وزیر اعظم) عمران خان کے مدمقابل ٹکٹ دیا۔ آپ نے اس انتخاب میں پچاس ہزار ووٹ حاصل کیے اور عمران خان نے صرف چار ہزار۔آپ پر 28نومبر1997ء کو ہونے والے سپریم کورٹ پر حملے کے حوالے سے الزامات لگائے گئے۔ لیکن آپ نے ایک نجی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں قسم کھا کر اس کی تردید کی۔

آپ کے کالموں پر مبنی مجموعہ داستان اور پنجابی منظوم مجموعہ غمزاد دا دکھ آپ کی روحانی کیفیت کی صحیح معنوں میں عکاسی کرتا ہے۔ آپ کا کتابوں سے عشق کا یہ عالم تھا کہ گھر میں کتابوں کی ہی بھرمار رکھی۔ طارق عزیز کہا کرتے تھے جس گھر میں کتاب نہ ہو اس گھر میں برکت ہی نہیں ہوتی۔اللہ کریم نے آپ کو اولاد نرینہ تو عطا ء نہ کی مگرمحسوس ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جس نے آپ کو دیکھ اور سن کر اپنی اصلاح کی ہو، آپ کی روحانی اولاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ کی وفات پر جہاں ہر مکتبِ فکر سے تعزیتی پیغامات جاری کیے گئے ، وہیں اداکاری کی دنیا کے معتبر نام، سفیر ِ مسرت سہیل احمد عزیزی نے آپ کو رستم ِثقافت کا لقب دے کر آپ سے منسوب تمام القابات کو کوذے میں بند کر دیا۔اداکاری، صداکاری، میزبانی، شاعری، نثر نگاری نیز ہر صنف میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ آپ کی تمام خدمات بارے پڑھ کر خوشی تو بہت ہوئی مگر دل دکھی ہوگیا۔ غم کی کیفیت کی سب سے اولین وجہ تو آپ کی جہان ِ فانی سے رخصتی ہے۔ مگر دوسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس آپ کا متبادل نہیں ہے۔ ہماری بدبختی ہے کہ ہم نے دوسرا طارق عزیز تیار ہی نہیں کیا۔ ہمارے ہاں اب پرورش میں حب الوطنی شامل ہے، نہ ہی زبان و ادب سے رغبت اور نہ ہی دین سے شغف۔ طارق عزیز تو اپنی جائیداد بھی پاکستان کے نام کر گئے۔ ہم توسرکاری املاک پر قبضہ کرنا بھی برا نہیں سمجھتے۔

رہی بات ثقافت کی تو اب صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہم ولائتی تہذیب و تمدن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو کیسے ملک کا نام روشن ہوگا، کیسے رستم ِ ثقافت اس دیس کی زینت بنیں گے؟آج کی قلمی نشست رستم ِ ثقافت کے نام۔


ای پیپر