قسم قرآن پاک کی!
25 جون 2020 2020-06-25

کورونا کے حوالے سے ایسی اُداس کرنے والی خبریں مل رہی ہیں کئی کئی گھنٹے دیوار سے لگ کر میں یہ سوچتا ہوں اِس ان دیکھی وبائ، آزمائش، بیماری یا عذاب نے کیسے کیسے ہیرے ہم سے چھین لیے، شعیب بن عزیز کا ایک خوبصورت مگر اُداس کردینے والا شعردِل ودماغ پر آج کل چھایا ہوا ہے۔

کوروکے دستِ اجل کو

ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

دھرتی اچھے لوگوں سے پہلے ہی خالی ہوتی جارہی تھی، رہی سہی کسر ظالم کورونے نے نکال دی، سچ پوچھیں میری تو آج باقاعدہ کمرٹوٹ گئی جب میرے ایف سی کالج کے شاگرد عزیزبرادرم عمر فاروقی نے صبح صبح یہ ہولناک خبر مجھ تک پہنچائی ایک انتہائی عظیم شخصیت، پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے سابق سربراہ، صحافت میں اُستادوں کے اُستاد، جدید صحافت کا باقاعدہ ایک ادارہ، ایک دبستان کورونے کا شکار ہوگئے، مجھ سے ابھی طارق عزیز کا صدمہ سنبھالانہیں جارہا تھا، اُس سے پہلے میرے سگے چچا، سگے پھوپھااور پھوپو اسی بیماری کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئے، مجھے طارق عزیز پر بہت کچھ لکھنا ہے، اور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ایسی عظیم شخصیت پر لکھنا اِس لیے کارثواب ہے میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا، خصوصاً میں نے اُن سے یہ سیکھا بغیر کسی مطلب اور مفاد کے بھی کسی سے محبت کی جاسکتی ہے، اور تعلق رکھا جاسکتا ہے، جس کا یہ زمانہ نہیں ہے، وہ میرے محسن بھی ہیں، جو احسان اُنہوں نے مجھ پر کیا، مجھ سے اُنہوں نے حلفاً وعدہ لے رکھا ہے کسی سے اِس کا ذکر نہیں کروں گا، یہ ایسا واقعہ ہے جس سے میرے دم توڑتے ہوئے اس احساس کو نئی زندگی مِل گئی تھی دھرتی اچھے اور خوبصورت لوگوں سے مکمل طورپر خالی ہوگئی ہے، ....مجھے طارق عزیزصاحب اور مغیث الدین شیخ صاحب پر بہت کچھ لکھنا ہے، پر ابھی میں اِس یقین اس حقیقت کا سامنا نہیں کرپارہا وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اُنہوں نے جانا کہاں ہے؟ ایسے لوگ کہیں نہیں جاتے، ”بلُھے شاہ اساں مرنا نہ ہی ....گور پیا کوئی ہور“....جی ہاں مجھے اُن کے بارے میں بہت کچھ لکھنا ہے، بہت کچھ کہنا ہے، کیونکہ یہ میں نے اُنہی سے سیکھا” کہنے کی کوئی حدہوتی ہے بکنے کی کوئی حد نہیں ہوتی“.... اِس ملک کی غلیظ سیاست اور اُس سے بھی زیادہ غلیظ سیاسی واصلی حکمرانوں پر بک بک کرکے کم ازکم میں تو تنگ آگیا ہوں، مذکورہ بالا عظیم شخصیات پر لکھنے سے پہلے میں ”جانے کہاں گئے وہ دِن“ کے عنوان سے پرانے پاکستان کی خوبصورت روایات اور نئے پاکستان کی غلاظتوں کا قصہ تمام کرنا چاہتا ہوں، یادوں کا سلسلہ ایک بارشروع ہو جائے اُسے روکنا بس میں نہیں رہتا، اِسی بہانے ہم اپنی نوجوان نسل کو شاید یہ بتاسکیں اُن کا پاکستان کیسا ہے؟ ہمارا کیسا تھا ؟ اپنے گزشتہ کالم کے آخر میں، میں یہ عرض کررہا تھا جب میری بیگم کا یہ اصرار بڑھ گیا میں نے اپنی کچھ کتابیں وغیرہ شائع کرواﺅں میں نے اُسے انجم یوسفی کا شعر سنایا تھا رہے گی یاد کسے آپ کی غزل انجم....یہاں تو لوگ خدا کا کلام بھول گئے“....میں اصل میں اُس سے یہ کہنا چاہ رہا تھا جس معاشرے میں لوگ سب سے بڑی سب سے عظیم کتاب ( قرآن پاک) کو اہمیت دینا آہستہ آہستہ کم کرتے جارہے ہوں، اور اُس کی تکریم سے پرے ہوتے جارہے ہوں وہاں ہم جیسوں کی کتابوں کا کوڑا یا چھان بورا کون اُٹھائے گا؟.... قرآن پاک کی تکریم ہمارے صلے دلوں میں کس قدر کم ہوتی جارہی ہے اِس کا اندازہ معاشرے میں کورونا کی طرح تیزی سے پھیلتے ہوئے اِس روگ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن پاک اُٹھا کر کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہیاں دینے کے عمل کو اب کوئی گناہ یاعذاب وغیرہ نہیں باقاعدہ ”کاروبار“ سمجھا جانے لگا ہے، جیسے”رشوت“ کو بھی اب کوئی لعنت وغیرہ نہیں باقاعدہ ”حق“ سمجھا جانے لگا ہے، اس ضمن میں ایک واقعہ بھی میں نے لکھا تھا، میں نے ایک جاننے والے ڈی ایس پی سے گلہ کیا ”تم نے میرے فلاں دوست سے پچاس ہزار رشوت لی، اُس کا کام بھی نہیں کیا، وہ بولا ”بٹ صاحب میں نے رشوت لی ہے تو کام لازمی کروں گا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی ”حرام“ نہیں کھلایا“ ....ابھی پچھلے دنوں میرے ساتھ ایک واقعہ ہوا، مجھ سے ایک جاننے والے نے کہا ”فلاں شخص آپ کو بُرابھلا کہہ رہا تھا “ ....میں عموماً ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا، نہ اپنے وزیراعظم خان صاحب کی طرح کانوں کا اتنا کچا ہوں کسی کی بتائی ہوئی جھوٹی سچی باتوں پر فوراً یقین کرلوں،.... دوسری اہم بات یہ کوئی شخص مجھ سے کہے ”فلاں شخص آپ کو بُرابھلاکہہ رہا تھا، میں جواباً اُس سے کہتا ہوں ” اگر آپ کا مجھ سے کوئی تعلق یا رشتہ ہے، یا آپ واقعی میرے دوست یا مہربان ہیں، پہلے آپ بتائیں آپ نے میرے خلاف اُس کی باتیں سُنی کیوں؟“....اُسے روکا کیوں نہیں؟ ، میری محبت میں کوئی ایک آدھ چنڈ ہی اُس کے منہ پر ماردی ہوتی“ .... خیر اِسی طرح ایک دوست نے مجھے بتایا ”فلاں شخص آپ کے خلاف بڑی بک بک کررہا تھا “ .... میں نے عرض کیا ”وہ میرے بارے میں بک بک کرہی نہیں سکتا، آپ جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ میں نے اُس پر زندگی میں کوئی احسان ہی نہیں کیا، اسے کیا حق پہنچتا ہے وہ میرے خلاف بک بک کرے؟“.... وہ بضد رہا، میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں کو ”کانفرنس کال“ پر لے لیا، ایک سے میں نے پوچھا آپ نے میرے خلاف یہ کچھ کہا ؟“۔ وہ بولا ” میں قرآن پاک پر حلف دینے کے لیے تیار ہوں میں نے آپ کے خلاف اِس سے ایک لفظ نہیں کہا“ ....دوسرا بیچ میں بولا ” میں بھی قرآن پاک اُٹھا کر حلف دینے کے لیے تیار ہوں اِس نے یہ سب آپ کے خلاف کہا ہے“ .... میں نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ جو گند اِس معاشرے میں پڑ گیا ہے اُس کے مطابق آپ دونوں ”سچے“ ہیں، مجھے کسی سے حلف لینے کی ضرورت نہیں، .... اگلے روز یہ سُن کر دل خون کے آنسو رویا، کچھ لوگ ہماری عدالتوں کے باہر قرآن پاک ہاتھ میں پکڑ کر یا جیبوں میں رکھ کر کھڑے ہوتے ہیں، کچھ وکیلوں حتیٰ کہ مبینہ طورپر کچھ ججوں سے بھی اُن کے رابطے ہوتے ہیں، کسی نے اُن کی جھوٹی گواہی دلوانی ہو اُس کا ”ہدیہ“ لے کر یہ کام بڑی آسانی سے وہ کردیتے ہیں، میں نے کبھی کسی کا بُرا نہیں سوچا، پر ایسے لوگوں کے بارے میں، میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کوئی ایسا ”کورونا“ اِس ملک میں آئے، ایسے سب لوگوں کو اُٹھا کر لے جائے۔


ای پیپر