بائیس کروڑ مریض اور تین کروڑ ہلاکتیں....دوسری قسط
25 جون 2020 2020-06-25

پاکستان میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کا اگر لاگرتھم یا لاگ 2 کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ستمبر کے پہلے ہفتے تک مجموعی طور پر تین کروڑ پینتیس لاکھ اموات ہو سکتی ہیں۔ شرح اموات کا لاگ 2 کے مطابق تخمینہ لگانے کے لئے ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں 20 مارچ کو وائرس سے متاثرہ پہلے دو مریضوں کی ہلاکت ہوئی۔ اس لئے دو کی تعداد کو بنیاد اور ہر ہفتے کو اکائی بنا کر لاگ 2 کا فارمولا استعمال کیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہونے والی اموات کی شرح لاگ 2 سے ظاہر ہونے والی شرح سے بہت زائد ہے۔ لاگ ٹو کے مطابق 27 مارچ کو 4 اموات ہونی چاہئیں تھیں، لیکن وائرس کے پھیلاو¿ اور ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے ہفتے میں ہی یہ تعداد 9 ہو چکی تھی۔ تیسرے ہفتے 8 کی بجائے 31 اموات، چوتھے ہفتے 16 کی بجائے 56، پانچویں ہفتے 32 کی جگہ 125, چھٹے ہفتے میں اموات کی تعداد 64 کی بجائے 227 ہو چکی تھی، اسی طرح یکم مئی سے شروع ہونے والے ساتویں ہفتے میں 128 کی بجائے 359، آٹھویں ہفتے 256 کی بجائے 568, مئی کے تیسرے اور گنتی میں نویں ہفتے جب لاگ ٹو کے مطابق یہ تعداد 514 ہونا تھی درحقیقت یہ 777 ہو چکی تھی۔ دسویں ہفتے اموات کی تعداد 1024 کی بجائے 1091 ہو گئی، یعنی محدود ٹیسٹنگ کے باوجود حکومتی اعدادوشمار لاگ ٹو کی شرح سے بھی دو گنا زیادہ تھے۔ لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ یا تو انتہائی حیرت انگیز ہے، گیارہویں ہفتے جب لاگ کے مطابق اموات 2048 ہونا چاہئیں تھیں یکدم یہ تعداد کم ہو کر 1291 ہو گئی۔ بارہویں ہفتے جب یہ تعداد 4046 پونا چاہیئے تھی، حکومتی اعدادوشمار کے مطابق یہ 1812 تھی۔ تیرھویں ہفتے یہ تعداد8192ہونا چاہئے تھی لیکن سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اموات 3300 تھی۔ اب 14واں ہفتہ جاری ہے اور سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ یہ تعداد 3755 ہو چکی یے جبکہ لاگ ٹو کے مطابق ایہ تعداد 16384 بنتی ہے۔ اب اگر لاگ کے فارمولے کو آگے بڑھائیں تو پندرہ ہفتوں بعد اموات 65536، بیسویں ہفتے 2097152 اور چوبیسویں ہفتے تین کروڑ پینتیس لاکھ 54 ہزار 432 مریضوں کی اموات ہو سکتی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پہلے دس ہفتوں میں اموات کا گراف لاگ 2 کی شرح سےبھی زائد رہا لیکن گیارویں ہفتےحکومت کے کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود ہلاکتوں کا گراف یکدم نیچے چلا گیا۔ آخر ایسا کون سا معجزہ رونما ہو گیا کہ حکومت نے اموات کی شرح کو کنٹرول کر لیا اور تاریخ میں پہلی بار لاگرتھم سے ملنے والی شرح بھی غلط ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ حکومت اور اس کی دانشور ٹیم عوام اور عالمی دنیا کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ مریضوں اور اموات کی حقیقی تعداد سامنے نہ آنے کی بڑی وجہ مریضوں کی ٹیسٹنگ نہ ہونا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی وضع کردہ تعریف کے مطابق صرف لیبارٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر ہی کسی شخص کو کنفرم مریض کہا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک تو پہلے ہی مریضوں کے محدود ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں، دوسری طرف عوام کے ذہنوں پر یہ خوف طاری ہے کہ جو ہسپتال جاتا ہے وہ زندہ واپس نہیں آتا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کے ایسے ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں کہ لوگ ٹیسٹ کروانے اور ہسپتال جانے کی بجائے اپنے پیاروں میں مرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ واضح علامات کے باوجود وہ ٹیسٹ کے بغیر کسی شخص کی موت کی وجہ کورونا کو قرار نہیں دے سکتے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ تمام ہلاکتیں جو وائرس کی وجہ ہوئیں لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث وہ حکومتی اعدادوشمار میں شامل نہیں ہیں۔ انھی دنوں میں وباءکے پھیلاو¿ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ورلڈ ان ڈیٹا نے بھی پاکستانی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ، کنفرم مریضوں اور ہلاکتوں کے متعلق جاری کئے جانے والے اعدادوشمار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انھیں درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ٹیسٹنگ کی بنیاد پر دئیے جانے والے اعدادوشمار انتہائی مبہم ہیں اور وہ درست حقائق کی نشاندھی نہیں کرتے۔ محدود پیمانے پر ٹیسٹنگ اور موت کی وجہ کی تشخیص نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد فراہم کردہ اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہونے کی ایک وجہ صرف ہسپتال میں ہونے والی اموات کو ریکارڈ کیا جانا ہے لیکن بہت سے ممالک گھروں میں ہونے والی اموات کو بھی ریکارڈ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ادارہ پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی حکومتوں کی جانب سے یورپین سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کو روزانہ کی بنیاد پر فراہم کیا جانے والا ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ جس کی بنیاد پر پاکستان سمیت ہر ملک کے حالات لاگریتھمک چارٹ کی مدد سے واضح کئے جاتے ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق ٹیسٹ کے بغیر وبائ کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ صرف حقیقی ڈیٹا کے ذریعے ہی جانا جا سکتا ہے کہ وباءکتنا پھیل چکی ہے، وبائ کے لوگوں کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور کیا متاثرہ ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات موثر ثابت ہوئے ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف اگر دنیا کے دیگر ممالک میں روزانہ کے کنفرم مریضوں اور اموات کی تعداد کا جائزہ لیں تو واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ جس ملک میں روزانہ چھ سے سات ہزار مریض سامنے آنا شروع ہوئے وہاں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔ جیسا کہ برازیل میں جس وقت مریضوں کی تعداد 3000 روزانہ پر پہنچی تو روزانہ اموات کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی۔ چلی میں چھ سے سات ہزار کیسز سامنے آنے پر 250 سے 750 تک روزانہ اموات ہوئیں۔ ایکواڈور میں 1200 کیسز روزانہ پر 250 سے زائد اموات، چائنا میں 3000 کیسز روزانہ پر 150 اموات، فرانس میں 6000 کیسز پر 1200 اموات روزانہ، انڈیا میں 11000 کیسز پر 325 اموات، اٹلی میں 4000 کیس روزانہ سامنے آنے پر 350 اموات، میکسیکو میں 2000 کیسز روزانہ پر 250 اموات، سپین میں 8000 کیسز پر 500 سے زائد اموات، برطانیہ میں 4000 کیسز پر 250 اموات روزانہ ہوتی رہیں۔ ان میں دنیا کے ترقی یافتہ اور شہریوں کو بہترین طبی سہولیات دینے والے ممالک بھی شامل ہیں۔ لیکن وہاں پاکستان کے برابر مریض سامنے آنے پر ہلاکتیں کہیں زیادہ تھیں۔ اگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوا تو یقیناً یا تو اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں کہ یا تو ان دس ہفتوں کے دوران حکومت نے ان ممالک سے کہیں زیادہ بہترین طبی سہولیات کا بندوست کر لیا تھا یا پھر حکومت کے اعدادوشمار جھوٹے ہیں۔


ای پیپر