محمد مُرسی ۔۔۔مزا حمت کا استعارہ تھا ،نہ رہا !
25 جون 2019 (21:53) 2019-06-25

ہمایوں سلیم :

بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف ممالک میں احیائے اسلام کی تحریکیں برپا ہوئیں ، لیکن قید و بند اور شہادت کی آزمائشوں کی جو تاریخ مصر کی اخوان المسلمون نے رقم کی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی _ اس کے بانی کو بے دردی سے شہید کیا گیا _ اس کے متعدد راہنماو¿ں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا ، اس کے ارکان کو ہزاروں کی تعداد میں کال کوٹھریوں میں ٹھونس دیا گیا _ آزمائشوں کا شکار ہونے والوں میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی ، لیکن کسی کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی، آزمائش کا ایک دور محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ چلا جب قانونی طور پر منتخب حکومت کو ایک سال ہی کے اندر 2013ءمیں معزول کردیا۔ احتجاج کرنے والے کئی ہزار اخوان مردوں ، عورتوں، بچوں اور بچیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا، اخوان رہنماو¿ں اور صدر محمد مرسی کو جھوٹے الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں میں قید کردیا گیا۔ چھ سال کے اس عرصے میں ان پر بدترین مظالم ڈھائے گئے ، بھیانک تشدد کیا گیا، یہاں تک کہ آج اس کی تاب نہ لاکر وہ کمرہ¿ عدالت ہی میں غش کھاکر گر پڑے اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔وہ اخوان المسلمین کے رہنما، مصر کے پہلے منتخب صدر اور عالم اسلام کی قد آور شخصیت تھے جو فوج کے خلاف ایک استعارے کے طور پر جانے جاتے تھے، جب ان کا انتقال ہوا تو وہ عدالت میں موجود پنجرے نما سیل میں بند تھے جہاں انہوں نے کچھ دیر جج سے گفتگو کی، سابق صدر نے جج سے تقریباً 20 منٹ تک بات کی، اس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے جس پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ وفات سے قبل محمد مرسی نے جذباتی انداز میں جج کے سامنے اپنا مو¿قف پیش کیا اور خود پر جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی ملک کی سلامتی و خود مختاری کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ محمد مرسی کو جاسوسی، مظاہرین کو قتل کروانے اور جیل توڑنے کے الزامات کے تحت عمر قید، سزائے موت اور 20 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئی تھی۔ ان کی وفات کو ”الجزیرہ“ کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ گروپ نے ’خوفناک‘ قرار دیا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ مصری حکومت سابق صدر کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے محمد مرسی کے کمرہ عدالت میں انتقال اور پنجرے میں گزرے ان کے آخری لمحات سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔واضح رہے67 سالہ محمد مرسی کو شوگر، دل اور جگر سے متعلق بیماریاں لاحق تھیں، وہ اس سے قبل بھی کئی بار عدالت میں دوران سماعت بے ہوش ہوگئے تھے۔

پہلے منتخب جمہوری صدر

مرسی جمہوری طور پر منتخب ہونے والے مصر کے پہلے صدر تھے لیکن صرف ایک ہی برس کے بعد تین جولائی 2013ءکو فوج نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ فوج کے اس اقدم سے پہلے محمد مرسی کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے تاہم انھوں نے فوج کے اس الٹی میٹم کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ 2011ءمیں حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے سب سے بڑے سیاسی بحران کو جلد از جلد حل کیا جائے۔تختہ الٹ دیے جانے کے بعد چار ماہ تک محمد مرسی کو نامعلوم مقامات پر قید رکھا گیا اور پھر ستمبر 2013ءمیں حکومت نے اعلان کیا کہ اب ان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ حکومت کا الزام تھا کہ محمد مرسی نے اپنے حامیوں کو صحافی اور حزب مخالف کے دو رہنماو¿ں کو قتل کرنے پر اکسایا اور کئی دیگر افراد کو غیر قانونی طور پر قید کیا اور ان پر تشدد کروایا تھا۔ حکومت نے یہ الزامات صدارتی محل کے باہر ہونے والے ان ہنگاموں کی بنیاد پر عائد کیے تھے جن میں اخوان المسلمین کے کارکنوں اور حزب مخالف کے مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے 14 دیگر سرکردہ رہنماو¿ں پر قائم کیے جانے والے ان مقدامات کی سماعت نومبر 2013ءمیں شروع ہوئی۔ مقدمے کی پہلی سماعت پر کٹہرے میں کھڑے محمد مرسی نے نہ صرف چیخ چیخ کر کہا تھا کہ انھیں ’فوجی بغاوت‘ کا شکار کیا گیا ہے بلکہ انھوں نے اس عدالت کو ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ محمد مرسی کا کہنا تھا ”ملک کے آئین کے مطابق میں جمہوریہ کا صدر ہوں اور مجھے زبردستی قید کیا گیا ہے“۔

پیدائش اور پیشہ وارانہ تعلیم

محمد مرسی 1951ءمیں دریائے نیل کے کنارے واقع شرقیہ صوبے کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے 1970ءکے عشرے میں قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ چلے گئے۔ مصر واپسی پر وہ زقازیق یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے شعبے کے سربراہ تعینات ہوئے۔

سیاسی سفر

2000ءسے لے کر 2005ءکے درمیانی عرصے میں محمد مرسی آزاد رکن کی حیثیت سے اس پارلیمانی اتحاد میں بھی شامل رہے جس میں اخوان المسلمین بھی شامل تھی۔ لیکن اس کے بعد وہ اپنے آبائی حلقے سے انتخابات ہار گئے۔ محمد مرسی کا دعویٰ رہا ہے کہ انھیں دھاندلی سے ہرایا گیا تھا۔ انھوں نے رکن پارلیمان کی حیثیت سے لوگوں کو اپنے انداز خطابت سے متاثر کیا، خاص پر ان کی وہ تقریر خاصی مشہور ہوئی تھی جب 2002 ءمیں ریل کے بڑے حادثے کے بعد انھوں نے سرکاری نااہلی کے لتے لیے تھے۔ اپریل 2012 میں محمد مرسی کو اخوان المسلمین کا صدارتی امیدوار منتخب کر لیا گیا تھا۔ انھیں امیدوار بنانے کے لیے جماعت کے نائب رہنما اور مشہور کاروباری شخصیت خیرت الشتار پردباو¿ ڈالا گیا تھا کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں۔ اگرچہ خیرت الشتار کے مقابلے میں محمد مرسی کو کم کرشماتی شخصیت کا حامل سمجھا جاتا تھا لیکن مرسی اس وقت اپنی جماعت ”حزب الحریت و العدل (فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی) کے چیئرمین تھے اور جماعت کا خیال تھا کہ ان کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران مرسی نے خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو حسنی مبارک کے دور کی بڑی بڑی شخصیات کو اقتدار میں آنے سے روک سکتا تھا۔

اقتدار میں آمد، مخالفت، مظاہرے

جون 2012ءمیں ہونے والے انتخابات میں چند نشستوں کی برتری سے اقتدار میں آنے والے مرسی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک ایسی حکومت کے سربراہ ہوں گے جو مصر کے تمام شہریوں کے لیے کام کرے گی۔ لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ایک سالہ ہنگامہ خیز اقتدار کے دوران عام لوگوں کی بھلائی میں ناکام ثابت ہوئے۔ ناقاین کا الزام تھا کہ انھوں نے ملکی سیاست میں اسلام پسندوں کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی جس سے اقتدار اخوان المسلمین کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا جا رہا تھا۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ملکی معیشت کو درست سمت میں نہیں چلا پا رہے تھے حالانکہ ان کے خود اقتدار میں آنے کی وجہ بری معیشت اور مہنگائی تھی جس کے بعد لوگوں نے حقوق اور معاشرتی انصاف کے حق میں جلوس نکالنا شروع کر دیے تھے۔ عوامی سطح پر محمد مرسی کی حکومت کی مخالفت میں اضافہ نومبر 2012ءمیں اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے اسلام پسند ارکان کی اکثریت والی پارلیمان سے ایک ایسا نیا آئین بنانے کا حکم دیا جس کے بعد صدر کے صوابدیدی اختیارات میں بہت اضافہ ہو جاتا۔ حزب مخالف کے کئی دنوں کے احتجاج کے بعد محمد مرسی اپنے حکم نامے کی شقوں میں کمی کرنے پر رضامند ہو گئے، لیکن اسی ماہ اس وقت ان کے خلاف احتجاج میں اضافہ ہو گیا جب قانون ساز اسلمبی نے عجلت میں آئین کا ایک مسودہ منظور کر دیا حالانہ اسمبلی میں موجود سکیولر، لبرل اور مسیسحی ارکان نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی بےچینی اور افراتفری کے ان دنوں میں محمد مرسی نے ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا جس کے تحت 15 دسمبر کو آئینی مسودے پر ریفرنڈم تک قومی اداروں اور پولنگ سٹیشنوں کی حفاظت کے ذمہ داری مسلح افواج کے سپرد کر دی گئی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ صدارتی حکم ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کے مترادف تھا۔ اگرچہ نئے چارٹر کی منظوری کے بعد فوج واپس بیرکوں میں چلی گئی لیکن چند ہی ہفتوں کے اندر اندر نہر سویز کے کنارے شہروں میں صدر مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان تصادم اور ہنگاموں کے بعد ایک مرتبہ پھر ان علاقوں میں فوج تعینات کر دی گئی۔ ان ہنگاموں میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 23 جنوری 2013 ءکو اس وقت کے فوج کے سربراہ اور موجودہ صدر، عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے نتیجے میں ’ریاست منہدم ہو سکتی ہے۔‘ اپریل کے آخر میں حزب اختلاف کے کارکنوں نے تمرد (بغاوت) کے نام سے گلی محلوں میں ایک بڑی مہم کا آغاز کر دیا جس میں لوگوں سے ایک ایسی پٹیشن یا عوامی درخواست پر دستخط کرنے کو کہا گیا جس کا متن یہ تھا کہ محمد مرسی سکیورٹی بحال کرنے اور معیشت پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے ملک میں نئے صدارتی انتخابات کرائے جائیں۔ اور پھر تمرد کی کال پر جب تین جون سنہ 2013ءکے دن صدر مرسی کے اقتدار کا ایک سال پورا ہونے پر لوگوں سے باہر نکلنے کو کہا گیا تو لاکھوں افراد مصر کی سڑکوں پر نکل آئے۔

جب تختہ الٹا گیا

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔ صدر منتخب ہونے کی پہلی سالگرہ کی شام صدر محمد مرسی نے قوم سے جو خطاب کیا اس میں ان کا لہجہ مصالحت والا تھا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ ان سے ’بہت سی غلطیاں ہوئیں اور اب ان غلطیوں کو درست کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘ محمد مرسی کے خلاف مظاہروں میں شدت آنے کے بعد فوج نے یکم جولائی کو انھیں متنبہ کیا کہ اگر انھوں نے 48 گھنٹوں کے اندر اندر عوام کے مطالبات نہ مانے تو وہ مداخلت کر کے اپنا ’روڈ میپ‘ نافذ کریں گے۔ فوج کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کے قریب آتے آتے مرسی نے اصرار کرنا شروع کر دیا کہ وہ مصر کے جائز رہنما ہیں اور اگر انھیں زبردستی ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ملک میں افراتفری پھیل جائے گی۔ مصر کی فوج نے تین جولائی کی شام کو آئین کو معطل کر دیا اور صدارتی انتخابات سے پہلے ایک ٹیکنوکریٹک عبوری حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا۔

محمد مرسی نے اس اعلان کو ”بغاوت“ قرار دیا تھا۔ انھیں تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا اور ایک خفیہ مقام پر زیرِ حراست رکھا گیا۔ محمد مرسی کے حامیوں نے مصر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مصر کی فوج نے 14 اگست کو دارالحکومت میں اخوان المسلمین کے دو کیمپوں پر دھاوا بول دیا۔ اس کارروائی میں کم سے کم 1000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مرسی اور ساتھیوں کو 20, 20 سال سزا

لیکن اپریل 2015 ءمیں محمد مرسی اور ان کے دیگر ساتھیوں کو 20، 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ اگرچہ انھیں اپنے کارکنوں کو قتل پر اکسانے کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا تاہم انھیں مظاہرین کو حراست میں لینے اور ان پر تشدد کرنے کے جرائم کا مرتکب پایا گیا۔ اس کے علاوہ محمد مرسی کو کئی دیگر جرائم کا بھی مرتکب پایا گیا جن میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے گٹھ جوڑ سے 2011ءمیں قیدیوں کو چھڑانے سے لے کر خفیہ سرکاری معلومات افشا کرنے، دھوکہ دہی اور توہین عدالت کے الزامات شامل تھے۔

کون محمد مرسی؟

محمد مرسی .... وہی محمد مرسی جو 60 فیصد ووٹ لے کر پہلے منتخب صدر کا اعزاز رکھتے تھے، وہی مرسی جو فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ ساتھ دنیا کے مظلوموں اور مسلمانوں کی مقبوضات کی بات کرتے تھے، یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ عالمی سطح پر برابری اور مسلمانوں کی حقوق کی بات کرتے تھے کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ بوٹ سے نہیں بلکہ ووٹ سے آئے ہیں۔

وہی مرسی جو یونیورسٹی میں پروفیسر، مسجد میں امام اور ایوان میں گرجتا ہوا سیاستدان ہوا کرتا تھا، وہی مرسی جو عربوں کی آزادی اور حرمین کی تقدس کی بات کرتا تھا۔ غلامی کا قائل ہی نہیں تھا اس لیے مرد حُر کی طرح جینا، امت مسلمہ کو عموماً اور عربوں کو خصوصا سکھاتا تھا۔ ان تمام محاذوں پہ لڑتا ہوا اکیلا مجاہد تھا، اس لیے صیہونی طاقتوں کے ساتھ ساتھ عربوں نے اپنی اقتدار کے خاطر جنرل سیسی کے خونی انقلاب کے ذریعے مرسی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر پابند سلاسل کیا تھا۔

مرسی کا قصور کیا تھا؟

محمد مرسی کا قصوریہ تھا کہ وہ کمال کا انسان تھا، اپنے بچوں اور بیوی کے خاطر فرعون وقت سے مفاہمت کے لیے تیار نہیں تھا، وہ رابعہ کے میدان میں نوجوانوں، بوڑھوں، بچوں، مرد اور خواتین کے جلے ہوئے لاشوں اور فوجیوں کے ہاتھوں نوجوان لڑکیوں کی لوٹی ہوئی عصمتوں کا حساب مانگ رہا تھا، وہ غلامی کی زندگی پر جیل کے اندر اپنے تحریکی ساتھیوں کے ساتھ تنگ کوٹھریوں، جسمانی اور ذہنی اذیت والی زندگی کو ترجیح دیتا تھا۔ کمال استقامت کا پیکر تھا جب بھی کورٹ آتا تھا تو پھانسی کا حکم سننے کے باوجود ہنستا تھا چہرے پہ خوف اور پیشمانی کے بجائے مسکراہٹ ہوتی تھی اپنا مقدمہ خود لڑتا تھا جج اس کے سامنے بے بس تھے۔ 17جون کو بھی اسے ججوں کے سامنے لایا گیا، وہ بے ہوش ہوا اور پھر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا گویا کہ رب اپنے اس بندہ درویش اور مرد قلندر کو اور خوار نہیں کرنا چاہ رہا تھا اس لیے عزت کے ساتھ اپنے پاس بلا لیا۔

کنارے نیل چھا گئی۔۔۔پھر ایک بار شامِ غم

آپ نے ظالم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا تھا اس لیے رب نے دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈالی تھی، آج ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل افسردہ ہے ڈاکٹر محمد مرسی آپ تو اپنے رب کے پاس چلے گئے لیکن مغرب کے نام نہاد جمہوریت پہ سوالیہ نشان چھوڑ گئے۔

محمد مرسی اور اخوان المسلمین

اخوان المسلمین مصر کی سب سے پرانی اور بڑی اسلامی تنظیم ہے۔ اخوان المسلمین 1920ء کی دہائی میں وجود میں آئی اور اس کے بانی حسن البنا تھے۔

اس تنظیم نے اپنی سیاست اور امدادی کاموں سے دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کو متاثر کیا۔ اپنے آغاز میں اس تنظیم کا مقصد اسلامی اخلاقیات کا پرچار تھا لیکن جلد ہی یہ سیاست میں شامل ہو گئی اور مصر میں برطانوی آبادیاتی قبصے اور ہر طرح کے مغربی اثر کے خاتمے کے لیے متحرک ہو گئی۔ مصر میں اخوان المسلمین پر سرکاری پابندی ہے اور اسے سخت دباﺅ کا سامنا ہے لیکن 1981ءسے برسر اقتدار صدر حسنی مبارک کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف عوامی جدوجہد میں یہ تنظیم سر فہرست رہی تھی۔ ایک طرف تو اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری اقدار کی حمایت کرتی ہے لیکن دوسری جانب ان کے واضع مقاصد میں ایک ایسی ریاست کا قیام بھی شامل ہے جو اسلامی قوانین کے تحت چلے۔

اس تنظیم کا دنیا بھر میں سب سے مشہور نعرہ ہے’ اسلام ہی حل ہے‘۔ 1928ءمیں جب حسن البنا نے اخوان المسلمین کا آغاز کیا تو جلد ہی ملک بھر میں اس کی شاخیں قائم کر دی گئیں۔ ہر شاخ کے زیر انتظام ایک مسجد، سکول اور کھیلوں کا کلب تھا۔ اس طرح تنظیم کی ممبر شپ تیزی سے بڑھتی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ 1940ءکی دہائی میں تنظیم کی ممبر شپ بڑھ کر 20 لاکھ ہو گئی اور اس کے نظریات عرب دنیا میں پھیل گئے۔

اسی دوران حسن البنا نے تنظیم کا مسلح ونگ بھی قائم کر دیا جس نے برطانوی حکمرانی کے خلاف مسلح کارروائیاں شروع کیں۔ مصری حکومت نے برطانوی اور یہودی مفادات پر حملوں کے الزام میں 1948ءمیں اخوان المسلمین پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے بعد تنظیم پر ملک کے وزیر اعظم محمود ال نقرشی کے قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ بعد میں حسن البنا کو 1948ءہی میں ایک نامعلوم شخص نے گولیاں مار کر قتل کر دیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق سکیورٹی فورسز سے تھا۔

اخوان المسلمون 1952ء میں مصر کے فوجی انقلاب کی حامی تھی مگر اس کی طرف سے جنرل نجیب اور جنرل ناصر کی خارجہ پالیسی کی بھی مخالفت ہوتی رہی۔ 1954ء میں مصری ڈکٹیٹر جمال عبدالناصر نے الزام لگایا کہ اس کے اراکین نے جنرل ناصر کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی جس کے بعد یہ جماعت خلاف قانون قرار دے دی گئی اور اس کی املاک ضبط کر لی گئیں۔ البتہ یہ الزام کبھی ثابت نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اس جماعت کے رہنما شیخ حسن الہدیبی نے اپنا صدر مقام قاہرہ سے دمشق تبدیل کر لیا۔ اس جماعت نے عرب قوم پرستی کے خلاف شدید آواز اٹھائی اور اسلامی بھائی چارے کا نعرہ لگایا۔ جس کی پاداش میں جماعت کے بہت سے اراکین کو جیلوں میں بند کر دیا گیا اور سید قطب شہید جیسے لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ پابندی کے بعد بھی یہ جماعت باقی رہی اور پورے عرب علاقوں میں پھیل گئی۔ دنیا بھر کی مشہور اسلامی رہنماو¿ں کا تعلق اخوان سے تھا جن میں القاعدہ کے لیڈر ایمن الزواہری، حماس کے راہنما شیخ احمد یاسین اور ڈاکٹر عبد العزیز ارنتیسی شامل ہیں۔

اخوان المسلمین نے مصر میں آنے والی سیاسی تبدیلی کے بعد ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے امیدوار محمد مرسی نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ مصری فوج نے صرف ایک سال بعد محمد مرسی کی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ایک عبوری حکومت قائم کر دی تھی اور مرسی کو قید کر دیا۔ مصر کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی اخوان المسلمین کا سیاسی ونگ ہے جسے 2011ءمیں قائم کیا گیا تھا۔

مصر کے موجودہ نائب وزیر اعظم حسام محمد عیسی کے مطابق اخوان المسلمین ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس کی تمام سرگرمیاں غیر قانونی ہیں، اس تنظیم کی کسی طرح کی مدد اور اس کے ساتھ تعاون جرم شمار ہوگا۔ مصر کے نائب وزیر اعظم نے المنصورہ میں ہوئے خودکش حملے کے لئے اخوان المسلین کو ذمہ دار قرار دیا تھا، جبکہ اس سے قبل اخوان المسلین نے اس حملے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

پولیس چوکی کو نشانہ بناکر کیے گئے بم حملے میں 16 افراد ہلاک اور تقریبا 140 زخمی ہو گئے تھے۔ انصار بیت المقدس نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری لی تھی۔ مصری حکام اس طرح کے حملوں کا الزام اخوان المسلمین پر عائد کرتے رہے ہیں جبکہ اخوان المسلمین ان حکومتی الزامات کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔ ادھر امریکا نے بھی مصر کی مذہبی سیاسی جماعت، اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا حتمی اعلان چند روز میں ہی کردیا جائے گا۔وائٹ ہاو¿س سے جاری باضابطہ اعلان کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس موضوع پر کام کررہی جس کے تحت اخوان المسلمین کو غیرملکی دہشت گرد جماعت قرار دیا جائے گا۔ اعلان کے فوراً بعد بالخصوص مصر اور مشرقِ وسطیٰ کی سب سے پرانی سیاسی مذہبی جماعت پر مالیاتی، معاشی اور سفری پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی جس کے اراکین کی تعداد 10 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق صدر السیسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے باضابطہ طور پر اس کی درخواست کی تھی۔ واضح رہے کہ اسلامی اور فعال سیاسی اور مذہبی جماعتوں پرامریکہ اس لئے پابندی عائد کرتا ہے کہ وہ امریکی دباو میں آ جائیں اور امریکہ کی مخالفت نہ کریں اس سے قبل امریکا ایران کے سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کو بھی اپنی نام نہاددہشت گردوں کی فہرست میں ڈال چکا ہے جس کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی۔

٭٭٭


ای پیپر