سیدا لشہداءسیدنا حضرت امیر حمزہ ؓ
25 جون 2019 (21:33) 2019-06-25

آپ ؓ نے حضور اکرم کے حکم پر سب سے پہلے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی

مختار احمد جمال:

اگرچہ ”سیدالشہدا“آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین ؓ کو بھی کہا جاتا ہے، مگر حضورِ اقدس کی ذاتِ مقدس نے حضرت امیر حمزہ ؓ کو باقائدہ ”سیدالشہدا“ (یعنی شہیدوں کے سردار)کے خطاب سے نوازا۔ سیدالشہدا سیدنا حضرت امیر حمزہؓ کی ولادت رحمت عالم کی ولادت باسعادت سے دو سال قبل تقریباً 568 عیسوی میں دنیا کے عظیم شہر مکة المکرمہ میں ہوئی۔

آپؓ رسولِ عربی کے چچا اور رضائی بھائی بھی تھے،کیونکہ ابولہب کی آزاد کردہ کنیز حضرت ثوبیہؓ نے ان دو ہستیوں یعنی حضور نبی کریم اور آپکے چچا حضرت امیر حمزہؓ کو دودھ پلایا تھا۔ اس کے علاوہ حضرت امیر حمزہؓ آپ کے خالہ زاد بھی تھے کیونکہ حضرت امیر حمزہؓکی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ آمنہ ؓ بنت وہب بن عبدمناب بن زہرہ کی چچازاد بہن تھیں۔

ایک دن حضرت امیر حمزہؓ شکار سے واپس آئے تو کسی نے آپؓ سے کہا کہ آپؓ کے بھتیجے حضرت محمد مصطفے کو ابوجہل نے برا بھلا کہا ہے، حضرت امیر حمزہؓ غصہ میں آ گئے اور ابوجہل کے پاس پہنچے اور جو کمان ہاتھ میں تھی، اُس کے سر پر دے ماری، لہولہان کیا اور فرمایا کہ” تم کیا سمجھتے ہو کہ محمد (ﷺ) اکیلے ہیں؟ آج سے میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔“

باقی لوگوں نے تو رحمتِ عالم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرتے ہوئے صحابی¿ رسول ہونے کا عظیم رتبہ حاصل کیا لیکن سیدالشہدا حضرت امیر حمزہؓ نے ابوجہل کے پاس جا کر مشرکین کے سامنے حضور نبی کریم پر ایمان لانے کا اعلان فرمایا۔

حضرت امیر حمزہؓ، رسولِ پاک کے دادا حضرت عبد المطلب کے دس بیٹوں میں آٹھویں نمبر تھے اور آپ کے والدِ گرامی حضرت عبداللہ ؓ دسویں نمبر پر تھے۔ (یہاںایک بات کی وضاحت کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں لوگ استفسار کرتے ہیں ہیں کہ حضرت امیر حمزہؓ حضرت عبدالمطلب کے دس بیٹوں میں آٹھویں نمبر ہیں اور حضرت عبداللہ ؓدسویں نمبر پہ، تو اس حساب سے حضرت امیر حمزہؓ آپ کے تایا بنتے ہیں۔ تو گزارش یہ ہے کہ چچا اور تایا کی اصطلاح صرف ہماری زبان کے اندر ہے، عربی زبان میں چچا اور تایا کے لئے ایک ہی لفظ”عمُّ“استعمال ہوتا ہے اس لیے چچا کو تایا اور تایا کو چچا کہنے میںکوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ابن عباسؓبھی آپ کے چچا کے طور پر ہی مشہور ہیں لیکن حقیقت میں عمر کے حساب سے ہماری زبان کی اصطلاح میں وہ بھی تایا ہی بنتے ہیں)۔ امیرالمومنین حضرت عمرِ فاروق ؓ اور سیدالشہدا حضرت امیر حمزہؓ نے آگے پیچھے ایک ہی سال اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ حضرت امیر حمزہؓ نے حضور سیدِ عالم کے حکم پر سب سے پہلے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی اور حضرت کلثوم بن ہدمؓ کے ہاں قیام فرمایا۔

مدینہ شریف میں آکر حضور سرورِ کائنات نے مدینہ شریف کے تینوں یہودی قبیلوں، بنی نضیر، بنی قریظہ اور بنی قینقاع سے معاہدے کئے اور آس پاس کے قبیلوں کے ساتھ صلح کے معاہدوں کے لئے سفر فرمائے۔ ابوا، بواط اور ذوالعشیرہ کے سفر بھی انہی مقاصد کے لئے ہی کئے گئے تھے۔ ان تینوں علاقوں میں سفر کے دوران نبی کریم نے حضرت امیر حمزہؓ کے ہاتھوں میں سفید رنگ کا جھنڈا تھمایا تھا جس سے مراد صلح تھی۔

جنگ بدر میں حضرت امیر حمزہؓ نے خوب جرا¿ت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور داد وصول کی، حضرت امیر حمزہؓ دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل زرہ بکتر پہنتے تھے مگر اسلام لانے کے بعدکبھی زرہ استعمال نہیں کی، کسی نے وجہ دریافت کی تو فرمانے لگے کہ ”اسلام لانے سے قبل میں موت سے ڈرتا تھا مگر اب موت کا ڈر نہیں رہا۔“جنگ بدر میں آپؓ نے اپنی دستار مبارک میں شتر مرغ کا ”پر“سجا رکھا تھا کہ تاکہ جنگ میں ہر آدمی حضرت امیر حمزہؓ کو پہچان سکے۔

جنگِ احد میں نبی کریم زخمی ہوئے جبکہ بہت سے صحابہ کرامؓ شہید ہوئے لیکن اس جنگ میںسیدالشہدا حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت کے حوالے سے.... امام بخاری، ابوداﺅد الطیاسی اور ابن اسحاق اور دیگر اہلِ تحقیق نے آپؓ کے قاتل وحشی(جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے)کی زبان سے یوں نقل کیا ہے کہ ”جنگ بدر میں حضرت امیرحمزہؓ نے طعیمہ بن عدی کو قتل کیا تھا جب مشرکین مکہ جنگ احد کے لئے روانہ ہوئے تو میرے مالک، جبیر بن مطعم (جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے) نے مجھے کہا کہ اگر تم میرے چچا طعیمہ کے بدلے میں حضرت امیرحمزہؓ کو قتل کر دو تو میں تم کو آزاد کر دوں گا، چناچہ میں بھی کفار کے لشکر میں شامل ہو کرروانہ ہوا، میں حبش النسل تھا اور حربہ (چھوٹا نیزہ) مارنے میں کمال مہارت رکھتا تھا، شاذ و نادر ہی میرا وار خطا جاتا تھا، جب جنگ شروع ہوئی اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مصروف پیکار ہو گئے تو میں صرف حضرت امیر حمزہؓ کی سرگرمیوں کو دیکھتا رہا۔ آپؓ ایک غضب ناک شیر کی طرح دندناتے پھرتے تھے، جدھر سے گزرتے اپنی تلوار آبدار سے مشرکین کی صفوں کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دیتے تھے، آپؓ کے مقابلہ میں کھڑا ہونے کی کسی میں جرا¿ت نہ تھی، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جدھر رخ کرتت ہیں، لوگ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں نے مجھے بتایا، یہی تو حمزہؓ ہیں، میں نے دل میں کہا، میرے مطلوب تو یہی ہیں، میں نے اُن کو پہچان لیا، اب میں اُن پر ضرب لگانے کی تیاری کرنے لگا، کبھی کسی درخت اور کبھی کسی چٹان کی اوٹ میں چھپتا چھپاتا اُن کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا، اسی اثناءمیں سباح بن عبدالعزٰی الغبثانی سامنے آ نکلا، جب حضرت امیر حمزہؓ نے اُسے دیکھا تو اُسے للکارتے ہوئے کہا ”اے ختنہ کرنے والے کے بیٹے! آ میری طرف، دو دو ہاتھ ہو جائیں، تُو اللہ عزوجل اور اُس کے پیارے حبیب سے دشمنی رکھتا ہے یہ کہہ کر آپؓ نے اُس پر حملہ کر دیا اور آنِ واحد میں ہی اُسے جہنم واصل کردیا اور لاشہ سے زرہ اتارنے کے لئے اُس پر جھکے، میں ایک چٹان کی اوٹ میں تاڑ لگائے چھپ کر بیٹھا تھا۔ حضرت امیر حمزہؓکا پاو¿ں پھسلا تو زرہ سرکنے سے آپؓ کا پیٹ ننگا ہو گیا، میں نے اپنے چھوٹے نیزے کو پوری قوت سے اپنی گرفت میں لے کر لہرا دیا، جب مجھے پوری تسلی ہو گئی تو میں نے تاک کر وہ نیزہ آپؓ کے شکم پر دے مارا جو ناف کے نیچے سے اندر گھسا اور پار نکل گیا۔ آپؓ نے غضب ناک شیر کی طرح مجھ پر جھپٹنا چاہا لیکن زخم کاری تھا اس لیے اُٹھ نہ سکے، میں وہاں سے چلا آیا، جب آپؓ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، اللہ تعالیٰ نے شہادت سے سرفراز فرمایا تو پھر وہاں گیا اور اپنا نیزہ اُٹھا لایا۔

حضرت امیر حمزہؓ کو وحشی نے شہید کرنے کے بعدآپؓ کا پیٹ چاک کیا، آپؓ کا کلیجہ مقدس نکالا اور ایک عورت، جس کا نام ہندہ تھا کے پاس لے آیا اور کہا کہ یہ حمزہ ؓکا کلیجہ ہے۔ اس نے چبایا اور نگلنا چاہا لیکن نگل نہ سکی اور تھوک دیا۔ ہندہ نے اپنا زیور اتار کر وحشی کو بطور انعام دیا اور وعدہ کیا کہ مکہ جا کر اُسے مزید دس دینار انعام دے گی۔ پھر اُسے کہا میرے ساتھ چلو اور مجھے حمزہؓ کی لاش دکھاﺅ، وہاں پہنچ کر اس سنگ دل عورت نے آپؓ کے اور دیگر شہدائے کرام ؓکے کان ، ناک کاٹے اور پھر انہیں رسی میں پرو کر گلے میں ڈالا اور مکہ میں یہ زیور پہن کر داخل ہوئی۔

حضورِ اقدس سیدالشہداحضرت امیر حمزہؓ کی شہادت پر تشریف لائے اور آپؓ کے مُثلہ (ناک کان کاٹنا)کیے ہوئے جسم مبارک کو دیکھا، آپ اس موقع پر انتہائی رنجیدہ اور غمگین ہوئے کہ آپ نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ شدید جلال میں آگئے، تو آپؓ نے قسم کھائی کہ میں ایک حمزہؓ کے بدلہ میں ستر کافروں کو قتل کر کے ان کا مُثلہ کروں گا، اس پر ربِ کائنات نے یہ آیت نازل فرمائی، ترجمہ” اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا ہے اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاو¿ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو بے شک اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کماتے ہیں۔“ اسی آیت کریمہ کے نازل ہونے پر رحمت عالم نے بارگاہِ خداوندِ قدوس میں عرض کیا ”اے میرے رب! بلکہ ہم صبر کریں گے۔“ اور ستر کفار کے قتل و مُثلہ کا ارادہ ترک کر دیا اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا۔

حضرت امیرحمزہؓ کی شہادت پر حضور پر نور نے ارشاد فرمایا ”اے چچا! آپؓ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو کیونکہ آپؓ جب تک عمل کرتے رہے، بہت نیکی کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔“

پھر حضرت امیرحمزہؓ کے جسد مبارک کو قبلہ کی جانب رکھا اور اُن کے جنازے کے سامنے کھڑے ہو کر اس شدت سے روئے کہ قریب تھا کہ آپ پر غشی طاری ہو جاتی، آقائے نامدار فرما رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول کے چچا! اللہ اور اُس کے رسول کے شیر، اے حمزہؓ، اے نیک کام کرنے والے، اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے جبرائیلِ امین تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ امیر حمزہؓ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہے”حمزہؓ ابن عبدالمطلب اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے شیر ہیں۔“

کریم آقا کو حضرت امیر حمزہؓ سے بے حد محبت تھی۔ آپؓ کا جنازہ ستر مرتبہ پڑھایا گیا۔ آپ کے حکم پر حضرت امیر حمزہؓ کے جنازے کے بعد ایک ایک شہید کو لایا جاتا رہا اور ہر بار حضرت امیر حمزہؓکے جسد مبارک کا جنازہ ساتھ پڑھایا گیا۔

ہادی¿ عالم نے سیدالشہدا حضرت امیر حمزہؓ کو ایسی چادر کا کفن پہنایا کہ جب اُسے سر پر پھیلاتے تو پاﺅں ننگے ہو جاتے اور پاﺅں پر پھیلاتے تو سر ننگا ہو جاتا، چناچہ وہ چادر آپؓ کے سر مبارک پر پھیلادی گئی اور پاﺅں پر اذخر (خوشبودار گھاس) ڈال دی گئی، حضور سید عالم نے شہدائے احد کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ”جو شخص قیامت تک ان کی زیارت کرے گا اور ان کی خدمت میں سلام عرض کرے گا تو وہ اُسے جواب دیں گے۔“ نیک لوگوں کی جماعت نے سنا کہ جس شخص نے شہدائے احد کی بارگاہ میں سلام عرض کیا تو انہوں نے جواب دیا۔

حضورِ اقدس ہر سال.... سال کے آخر میں شہدائے احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور فرماتے”تم پر سلام ہو تمہارے صبر کے سبب، دارِ آخرت کیا ہی اچھا وار ہے“سید ناحضرت صدیقِ اکبرؓ....سیدنا حضرت عمرِ فاروقؓ....سیدنا حضرت عثمانِ غنیؓ....سیدناحضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ شہدائے احد کے مزارات کی زیارت اور فاتحہ کے لئے ہر سال جایا کرتے تھے۔

حضرت امام تاج الدین سبکیؒ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ غزوہ¿ احد کے چالیس برس کے بعد نہر کھودنے کی کوشش میں ایک مزدور کی کدال حضرت امیر حمزہؓ کے قدم مبارک پر لگی تو اُس سے خون جاری ہو گیا، کیوں نہ ہو کہ ربِ قدوس نے یہ واضح ارشاد اور اعلان فرما دیا ہے کہ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جائیں وہ زندہ ہیں اور انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے مگر تم اس کا شعور نہیں رکھتے۔“

دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحابہ کرام ؓکے ساتھ سچی عقیدت ومحبت اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور یہ کہ عشقِ مصطفےٰ کی دولت سے مالا مال کرتے

ہوئے ہمارے ایمان کی سلامتی فرمائے۔


ای پیپر