مریم نواز نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کروا دیا
25 جون 2019 (13:06) 2019-06-25

اسلام آباد:مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی عہدہ رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرادیا، جواب میں کہا گیا ہے کہ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے، الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزا یافتہ شخص پارٹی کی نائب صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف دائر درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل عمر سجاد الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے وکیل جہانگیر جدون الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،درخواست گزار کی طرف سے وکیل حسن مان الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

مریم نواز کے وکیل عمر سجاد نے مریم نواز کا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا،جبکہ ن لیگ کی طرف سے جواب جمع نہ کرایا جا سکا ، مریم نواز کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں پارٹی نائب صدر کا عہدہ رکھنے کی ایسی کوئی ممانعت نہیں،ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزا یافتہ شخص پارٹی کی نائب صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا یا پارٹی کا رکن نہیں ہو سکتا، ماضی جب آٹو کریٹک دور ہوا کرتے تھے تو عوام کو ان کی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے روکنے کے لیئے اس طرح کے قوانین بنائے جاتے رہے ۔

پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002 جس کی شق فائیو ون میں یہ ممانعت تھی کہ کوئی بھی سزا یافتہ شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا یا رکن نہیں ہو سکتا ،پارلیمان کے الیکشن ایکٹ 2017 میں سوچ سمجھنے کے بعد اس شق کو شامل نہیں کیا گیا، جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے ۔ الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی ۔


ای پیپر