کیا ہماری عدلیہ آزاد ہے؟
25 جون 2019 2019-06-25

ہم نے ایک ”پیج“ پہ سیاسی اور عسکری قیادت کا چرچہ تو بڑا سنا تھا لیکن شاید یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک میں عدالت عظمیٰ بھی، ان کے ساتھ ایک ”پیج“ پر آ جائے۔

ابھی حال ہی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جسٹس فائز عیسیٰ جو قدرت کی مہربانی سے اپنی قابلیت و صلاحیت کی بناءپر اس منصب پر ”فائز“ ہوئے ہیں، کچھ ”سیاسی صیّاد“ ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے تھے اور ان کے خلاف عملی کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا تھا۔

حالانکہ اس سے قبل ججوں کے خلاف متعدد کیسز جوڈیشل کونسل میں پڑے ہیں مگر سارا حکومتی زور جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کے کیس کو نمٹانے جسے سیدھے سادھے الفاظ میں ان کو گھر بھیجنے کے لئے لگایا جا رہا تھا۔ لیکن یہ تو خدا بھلا کرے چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب آصف سعید کھوسہ کا جنہوں نے بیرون ملک دورے پر ہونے کے باوجود اپنے عدالتی وقار تحمل اور بردباری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہوتے ہوئے حکومت نے قاضی فائز عیسیٰ کا کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جج صاحبان کیسے ہیں؟ لہٰذا ان عدالتی معاملات میں کسی دوسرے کو دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے خدا خدا کر کے ایک نیک نام خاندان کا نیک فرد اس منصب جلیلہ پر متمکن ہوا ہے مگر ان کا وقت منصبی و منصفی نہایت کم ہے۔

اب مجھے نہیں معلوم کہ ان کی میعاد ملازمت کو کیسے توسیع دی جا سکتی ہے اور دوسرا یہ بھی کہ وہ یہ توسیع لینا پسند بھی کرتے ہیں، یا نہیں؟ ان کے بعد جسٹس گلزار صاحب کی باری ہے، مگر یہ دونوں نیک جج صاحبان تھوڑی دیر کے لئے ہی اپنے عہدے پر رہ سکیں گے، کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ میں بھی بہت کم وقت رہ گیا ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نظام سقہ کو محض ایک دن کے لئے ہندوستان کی حکومت ملی تھی مگر اس نے اپنے ہم پیشہ اور دوستوں کو ایسے نوازا اور ہندوستان کے امراءمیں ان کا نام شامل کروا لیا۔

جیسے تبدیلی سرکار کے دعویدار نے ”ازخود نوٹس“ لے کر روپے کی قدر چار گنا کم کر کے اپنے یاروں اور اپنے پیاروں کو کھربوں پتی بنا دیا، اب اسد عمر کے مہنگائی کا رونا رونے سے اس قومی رنج و الم میں ذرا برابر فرق نہیں آئیگا جو وہ چاہتے تھے وہ انہوں نے حاصل کر لیا، اب اسد عمر کے سیاسی بیان کا مقصد دو فوائد حاصل کرنے کا حصول ہو سکتا ہے ایک اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنا اور دوسرا کابینہ میں دوبارہ شمولیت کرنا ہو سکتا ہے موج و مستی کے اس دور میں انتخاب جیتنا بھی ضروری نہیں ہے بس جس کی جتنی واقفیت ہو اتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

حتیٰ کہ اہلیہ سہیلی کے میاں کو وزیراعلیٰ بھی لگوا سکتی ہے جب کہ اسلامی ریاست کی ہی نہیں ہر حکومت کی اولین بنیاد عدل و انصاف ہے اور تاریخ اسلامی ان سنہری واقعات سے بھری پڑی ہے۔

کیونکہ حضور کا فرمان ہے کہ اک منصف حکمران بلکہ بادشاہ جو سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے اس حکمران کی نیند اور اس کا سونا ستر برس کی عبادت سے بہتر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر حق و انصاف کے ساتھ اگر سزائیں دی جائیں اور حد کو قائم رکھنا چالیس روز کی صبح کی بارش سے بھی زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔ (طبرانی، ترمذی، مسلم)

جب اللہ تعالیٰ کسی حکمران کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اچھے وزیر عنایت کرتا ہے، جب کبھی امیر یا حکمران عدل سے انحراف کرنے لگتا ہے تو وزیر اس کو یاد کراتا ہے اور ہر موقعے پر اس کی امداد و غائت کرتا ہے۔ (ابوداﺅد)

حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول پاک نے اپنے گھر والوں کو بلایا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فاطمہؓ تشریف لائے تو حضرت ثوبانؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ‘ میں بھی تو گھر والوں میں سے ہوں۔

تو آپ نے جواب دیا ہاں تم بھی گھروالوں میں سے ہو، مگر اس وقت تک کہ جب تک کسی حکمران سے کچھ نہ مانگو، اور اس سے سوال نہ کرو، اور اس کے دروازے تک نہ جا پہنچو (طبرانی)

مگر یہاں ہماری عدالت عظمیٰ کے ججوں کا یہ حال ہے کہ کوئی حکمرانوں کی سالگرہ پر ان کے دروازوں تک جا پہنچتے ہیں، اور کوئی حکمران دعویٰ دوستی کر بیٹتھے ہیں کہ چیف جسٹس میرا دوست ہے، ان حالات میں آپ کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ ”ایوان عدل“ ضلع کچہری کا نام رکھ دینے سے عدل قائم ہو جاتا ہے بقول موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ، ہر عدالت میں جھوٹے گواہ مل جاتے ہیں ان کی یہ بات سوفیصد صحیح ہے، اگر گواہ ہی جھوٹے ہوں تو کس طرح توقع رکھی جا سکتی ہے کہ مقدمات کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہو گا؟

ایک اور بات جو اکثر دیکھتے ہیں کہ حکمران وقت، اور عدلیہ کے جج صاحبان کے فیصلے باہم ایک ہو جاتے ہیں حتی کہ شیخ رشید جیسے وزیر فیصلہ آنے سے پہلے سو فیصد عدالتی پیش گوئی بھی کر دیتے ہیں، اور آج کل شیخ صاحب کی وجہ شہرت بھی سیاسی پیش گوئیوں کی ہے، کیونکہ عوام بھی عقل و دانش کے اس مقام پر ہیں کہ ان سے کوئی بھی توقع کی جا سکتی ہے، جیسے عرصہ سے یہ مثال دی جاتی ہے کہ ایک عورت نے دوسرے دن اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے بھاگ جانا تھا تو اس نے کہا تھا کہ ایسے لگتا ہے کہ کل گھر سے اک فرد غائب ہو جائے گا، دوسرے دن جب وہ گھر سے بھاگ کر غائب ہو گئی تو لڑکی کے غائب ہو جانے کے بعد ”عوام الناس“ نے کہہ کر ستیا ہی ناس کر دیا کہ وہ ”ولی اللہ“ تھی جو پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ کل سے گھر کا اک فرد غائب ہو جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ” آزاد عدلیہ “ کس چیز کو کہتے ہیں؟

ججوں کے پاس بے شمار ذرائع ہیں، اور بے شمار طریقے ہیں، جس کی بناءپر ان کو پیغام مل جاتا ہے، ایک دفعہ راقم کے خالہ زاد بھائی جو عدلیہ کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے، انہیں گھر پر ایک آدمی پیغام دے جاتا تھا، کہ ملک کے ایک صدر جو مرحوم ہو چکے ہیں فلاں مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں کر دیں، چونکہ موصوف کو دعویٰ دیانت داری تھا، شام کو جب وہ گھر آئے تو پتہ چلا کہ فلاں شخص مٹھائی دیکر شکریہ ادا کر گیا ہے جج صاحب پریشان ہو گئے کہ میں نے فیصلہ مخالف کے حق میں دیا ہے تو پھر مٹھائی کس بات کی بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ دراصل وہ بھی یہ چاہتے تھے کہ فیصلہ مخالفت میں ہو چلیں اس ایک مقدمے کا فیصلہ اگر ہم قدرت پر ڈال بھی دیں مگر کیا ہم پھر بھی یہ بلندوبانگ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہماری عدلیہ آزاد ہے؟

ویسے ہمارا میڈیا توآزاد ہے اخبارات بھی آزاد ہیں کابینہ بھی قدغن اخلاقیات سے آزاد ہے، بیورو کریسی تو ”آزادی“ سے آزاد ہے عوام دور روشن خیالی سے مادر پدر آزاد ہیں بس پھر ہمیں اور کیا چاہیئے؟ بقول حضرت اقبالؒ

قرآن کو بازیچہ¿ تاویل بنا کر!

چاہے، تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد

حکومت کی آزادی کا بھید نومبر کو کھل جائے گا کہ وہ دوسرے ”چیف“کی ملازمت میں توسیع کرتی ہے یا نہیں؟


ای پیپر