ساکھ اور سوال!
25 جون 2019 2019-06-25

میرا اچھا بھلا عمرے کا سفر نامہ جاری تھا اس بابرکت سلسلے کو روک کر مجھے مجبوراً سپریم کورٹ آف پاکستان کے مسٹر جسٹس گلزار احمد کے پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے بارے میںدیئے گئے ”منفی ریمارکس“ پر لکھنا پڑ رہا ہے میں ان کے اس ”فرمان“ کو اس لئے نظرانداز نہیں کر سکا کہ اس سے ایک ایسے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جن کی ملک میں دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے بڑی قربانیاں ہیں، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کل اس کا اعتراف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کیا۔ ممکن ہے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت انہیں مسٹر جسٹس گلزار احمد کے اس فرمان کے بعد ہی محسوس ہوئی ہو کہ اکثر پولیس والے دن کو ڈیوٹیاں رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں، ویسے محترم جج صاحب کو چاہئے تھا پولیس کی تنخواہیں بڑھانے کے کیس میں ایسے منفی ریمارکس دینے کے بجائے پولیس کی تنخواہیں اس طرح بڑھانے کی اجازت دے دیتے جیسے کچھ برس قبل ججوں کی تنخواہیں بڑھائی گئی تھیں، ممکن ہے ان کے اس عمل سے اکثر پولیس والے رات کو” ڈکیتیاں“ بند کر دیتے، یہ بھی ممکن ہے محترم جج صاحب نے یہ سوچا ہو کہ ججوں کی تنخواہیں بڑھنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا تو پولیس کی تنخواہیں بڑھنے سے بھی شاید نہ پڑے، یا ہو سکتا ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران وہ اس احساس میں نہ مبتلا ہو گئے ہوں کہ پولیس کی تنخواہیں بڑھنے سے بجٹ پر اتنا بوجھ نہ پڑ جائے کہ ججوں کی تنخواہیں پھر سے کم کرنا پڑجائیں، بہرحال آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے حوالے سے پولیس کے کردار کو خراج تحسین پیش کر کے بہت اچھا کیا، اس وقت اس کی بڑی ضرورت تھی ہو سکتا ہے اس کے بعد محترم جج صاحب بھی اپنا یہ فرمان واپس لے لیں کہ اکثر پولیس والے دن کو ڈیوٹیاں رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں.... ماضی میں اکثر آرمی چیف دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کا سارا کریڈٹ صرف اور صرف اپنے ادارے (فوج) کو ہی دیتے تھے، فوج کا کردار یقیناً بڑا اہم ہے، مگر اس ضمن میں عوام اور پولیس کے کردار کو نظرانداز کرنا ایک ایسی ناانصافی ہے جس کی توقع صرف عدلیہ سے وابستہ کچھ شخصیات سے ہی کی جا سکتی ہے میں نیک نیتی سے یہ سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کو کنٹرول یا کم کرنے کی ذمہ داری فوج اور پولیس کے علاوہ کسی اور ”ادارے“ کی ہوتی تو اب تک وہ ہاتھ کھڑے کر چکا ہوتا کہ یہ فرض ہم سے ادا نہیں ہوتا، ہم صرف ”تاریخ پہ تاریخ“ ہی دے سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گردوں کو سبق سکھانے یا انہیں کڑی سزائیں سنانے کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنا پڑیں، اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کا بہتر جواب ہماری عدلیہ سے وابستہ شخصیات ہی دے سکتی ہیں، توہین عدالت کے پیش نظر ہم اس پر زیادہ بات نہیں کرسکتے، حضرت عمرؓ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے عظیم منصف تھے، ان کے فیصلوں پر اس دور کے لوگوں کو تنقید کرنے کی مکمل اجازت تھی، اس کے برعکس ہم اپنے نیک پاک ججوں کے کچھ فیصلوں یا فرمانوں پر تنقید کرنا تو دور کی بات ہے کھل کر ان پر بات بھی نہیں کر سکتے۔ البتہ سوچوں پر چونکہ پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے تو ہم سوچ ضرور سکتے ہیں پاکستان آج بدنامیوں کی دلدل میں بری طرح دھنسا ہوا ہے تو اس میں بنیادی کردار کس ادارے کا ہے؟ کہا جاتا ہے کسی ملک کا نظام عدل درست ہو اس ملک یا معاشرے کے باقی سارے نظام خودبخود درست ہو جاتے ہیں۔ ہمارے تقریباً سارے نظام درست نہیں ہو رہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ چلیں ہم توہین عدالت کے پیش نظر فرشتہ صفت عدلیہ کے کسی فیصلے یا فرمان پر تنقید نہیں کرتے مگر اس سوالات کے جواب کون دے گا کہ سارے فیصلے اگر قانون کے مطابق ہوتے ہیں تو ایک

عدالت کا فیصلہ دوسری عدالت رد کیوں کر دیتی ہے؟ دوسری عدالت اپنا کوئی فیصلہ کیوں سنا دیتی ہے؟ اس عمل سے عدالتیں خود ایک دوسرے کی توہین کی مرتکب نہیں ہوتیں؟ اگر سارے فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں تو سول کورٹ سے ہونے والا فیصلہ سپریم کورٹ تک بحال رہنا چاہئے۔ہمارا اصل المیہ یہی ہے ہم صرف دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں خود نہیں ہونا چاہتے، پولیس کو چاہئے رات کو ڈکیتیاں بند کر دے مگر کچھ اور ”موقر اداروں“ سے وابستہ شخصیات کی ”ڈکیتیاں“ کون بند کروائے گا؟ اس کا جواب بھی کسی کو دینا ہے یا نہیں؟ مسٹر جسٹس گلزار احمد کے ان ریمارکس کے ”پولیس والے دن کو ڈیوٹیاں رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں“ کے بعد سول سوسائٹی خصوصاً پولیس ملازمین کی جانب سے کیا جانے والا یہ مطالبہ زور پکڑرہا ہے کہ ”ججوں کی سکیورٹی کے لئے وقف کئے جانے والے تمام ”ڈکیت“ واپس لئے جائیں....مجھے نہیں معلوم آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو اس مطالبے کو رد کرنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنا پڑیں گے؟ انہوں نے بہت مختصر عرصے میں اپنی فورس کی عزت اور مقام بحال کرنے میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، پولیس کی تنخواہیں بھی وہ اس لئے بڑھانا چاہتے ہیں پولیس ملازمین کی خدمات یا ڈیوٹی کے مطابق ان کا حق ادا کیا جائے، اس حوالے سے گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جس طرح اپنی فورس کی انہوں نے وکالت کی وہاں موجود پنجاب کے وزیر خزانہ فرما رہے تھے ”آئی جی عارف نواز کو یہ ذمہ داری سونپی جائے وہ مسئلہ کشمیر حل کروا دیں، دوسروں کو ٹھوس دلائل کے ساتھ قائل کرنے کی جو صلاحیت ان میں موجود ہے یہ مسئلہ بھی وہ آسانی سے حل کروا لیں گے“.... مسٹر جسٹس گلزار احمد کوچاہئے کسی روز آئی جی پنجاب کو الگ سے بلا کر ان سے بے شمار پولیس ملازمین اور افسران کی قربانیوں کی تفصیلات معلوم کریں، جن حالات میں وہ اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، اس بارے جانکاری حاصل کریں، مجھے یقین ہے اس کے بعد وہ اپنا ”یہ تاریخی فرمان“ واپس لینے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ”اکثر پولیس والے دن کو ڈیوٹیاں رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں“بلکہ ہو سکتا ہے اس پر وہ معذرت بھی کر لیں۔


ای پیپر