File Photo

الیکٹیبلزکی سیاست اور نظریاتی کارکن
25 جون 2018 (16:29) 2018-06-25

حافظ طارق عزیز:قومی انتخابات سر پر ہونے کے باعث ملکی سیاسی منظر نامے میں بڑی تیزی سے سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کو چھوڑکر امیدواران نئی نئی پارٹیوں میں شمولیت اختیارکی ہے جس کا مقصد اپنے سیاسی اورگروہی مفادات کا تحفظ ہے کیونکہ الیکٹیبلزیا منتخب ہوجانے کی صلاحیت رکھنے والے بیشتر امیدوارآنے والے سیاسی بندو بست میں اپنا حصہ لینے کے خواہش مند ہوتے ہیں اس لیے مختلف قومی اداروں کی ترجیحات اور عوامی رائے کی نبض کو بھانپتے ہوئے وہ آنے والے انتخابات کے قریب سیاسی اڑانیں بھرتے رہتے ہیں۔ الیکشن قریب آنے پرپاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی بڑی قومی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ چھوٹی بڑی درجنوں اور سیاسی جماعتیں بھی ملک میں سر گرم عمل ہیں صوبہ سندھ کو چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی کسی دوسرے صوبے میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد وفاقی حکومت میں اسے حصہ بقدر جثہ مل جائے تا ہم اہم ترین مقابلہ پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این کے مابین ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

ایک سیاست دان کا کہنا تھاکہ حکومت کی نااہلی کی سزا عوام کو نہیں ملنی چاہیے۔ اب ان کو ن سمجھائے کہ جناب حکومت کی نااہلی نہیں بلکہ نااہلیوں کی سزا صرف عوام کو ہی ملتی ہے۔ اگر حکمرانوں کو ملی ہوتی تو آج ہمارے ہاں کوئی حکومت تو ڈھنگ کی آ گئی ہوتی۔ اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو آنے والے دنوں میں یقیناً الیکشن مہم میں تیزی آئے گی، الزامات کی سیاست عروج پر رہے گی،کئی مزید اسکینڈلز سامنے آئیں گے، اپنے ”کردہ“اور” ناکردہ“ کارنامے گنوائے جائیں گے اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالی جائیں گے، ووٹروں کے صدقے واری جایا جائے گا اور ہرگاو¿ں، ہر شہر میں دودھ اور شہدکی نہریں بہانے کے وعدے کئے جائیں گے۔

راقم کے ذہن میں یہ ابہام اس لیے پیدا ہوئے کہ تاریخ میں جن جن پارٹیوں نے ایسے امیدواروں جن کی جیت یقینی سمجھی جاتی ہے یعنی الیکٹیبلز Electablesکو اپنے نظریاتی کارکنوں، پرانے ورکرز اور قربانیاں دینے والے پارٹی رہنماو¿ں پر ترجیح دی ہے وہ ہمیشہ ناکام ہوئے ہیںیا انھیں ناکام بنا دیاگیا۔ اپ جوزف اسٹالن کی مثال لے لیں، 1923ءمیں لینن کی وفات کے بعد وہ سوویت یونین کا سربراہ بنا، اقتدار میں آنے کے بعد اس نے سیاسی معزولیوں کا خوفناک سلسلہ شروع کیا، اس نے آزاد ریاستوں لٹویا، لیتھوانیا اور اسٹونیاکو ساتھ ملایا، اُس نے ہٹلر کو شکست دی، وہ عروج پر تھا، وہ انتہا کا ذہین تھا، مگر اُسے عجیب خوف تھا کہ اُس کے پرانے پارٹی ورکرز و رہنما ہی اسے اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے اور اسے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔

اس لیے اُس نے اپنے پرانے ساتھیوں سے پیچھا چھڑانا شروع کیا، اور وہ آخر اپنی کابینہ میں اکیلا ہی رہ گیا تھا، اس لیے وہ اپنی اہمیت کھو گیا اور جلد ہی اس کا اقتدارکمزور پڑ گیا اور اسے سب کچھ چھوڑنا پڑا یہاں تک کہ اپنی عمرکے 74 ویں برس میں وہ خود کوعظیم ترین تصور کرتا تھا۔ وہ خلل دماغ میں مبتلا ہوگیا، پھر وہ آخری ایام میں اپنے ڈاکٹروں کے قتل کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ اسے ان پر بالکل اعتماد نہیں تھا۔ مریضانہ حد تک شکی مزاج وہ پہلے سے تھا شبہ کیا جاتا ہے کہ اس کا علاج روک دیا گیا تھا چنانچہ اس کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ لاعلاج ہو گیا۔

آئیے! اب وطن عزیزکی بات کرتے ہیں ۔ آپ پاکستان میں بھٹوکی مثال لے لیں، ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاست دان تھے جنہوں نے غریبوں کی بات کی، غریبوں کے لیے سیاست کے دروازے کھو لے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہدکی۔

پیپلز پارٹی نے1970ءکے انتخابات بائیں بازو کی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر لڑے جس میں ترقی پسند رہنما جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، مختار رانا، شیخ محمد رشید، حنیف رامے، خورشید حسن میر، رسول بخش تالپور، علی احمد تالپور، محمود علی قصوری، حیات محمد خان شیرپاو¿ اورطارق عزیز شامل تھے۔ مذہبی عالم مولاناکوثر نیازی ، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمایندے غلام مصطفیٰ کھر اورغلام مصطفی جتوئی بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ معراج محمد خان اور غلام مصطفیٰ کھرکو بھٹو نے اپنا جانشین بھی بنایا تھا۔ پنجاب میں تو پیپلزپارٹی کے کھمبے بھی جیت گئے تھے، مختار رانا تو پیپلز پارٹی سے بہت جلدہی علیحدہ ہوگئے جب کہ جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹوکے ساتھ زیادہ دیرنہ چل سکی۔

جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جب کہ معراج محمد خان جیل پہنچا دیے گئے اورجیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگئے۔ حنیف رامے اورغلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ اسی طرح وہ پرانے لوگوں سے متنفر ہوتے گئے اور نتیجہ یہ نکلاکہ نئے لوگوں نے پیپلزپارٹی کو ہائی جیک کرنا شروع کیا اورڈبل گیم کھیلنا شروع کی۔ ذوالفقار علی بھٹو 1977ءکے انتخابات تک کافی بدل چکے تھے۔

وہ پارٹی کے اساسی نظریہ سے دور ہٹتے گئے۔ چار اپریل 1979ءکو جنرل ضیاءالحق حکومت نے بھٹوکو پھانسی دے دی جسے عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔کئی سالوں کے بعد 1986ءمیں بے نظیر بھٹو جو لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں، بالآخر متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ زید کی مدد سے پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہوئیں جہاں عوام نے اُن کا ایسا تاریخی اورشاندار استقبال کیاکہ میں بذات خود اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ مینار پاکستان پر ایسا جم غفیر تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ اس کے بعد بی بی اقتدار میں آگئیں لیکن وہی مصلحت پسندی اور الیکٹبلزکی سیاست میں گھر گئیں اور آخر کار دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں لیکن پیپلز پارٹی بھی ختم ہوگئی۔ اب تحریک انصاف اور عمران خان بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں۔ قریباً ہر روز ہی کوئی نہ کوئی سیاسی رہنما تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرتارہا۔ اس شمولیت کو لے کر مخالف جماعتوں اور ان کے میڈیا اور سوشل میڈیا ونگز کی جانب سے زور و شور سے ایک نئے بیانیے کو ترتیب دیا جاتارہا کہ ان روایتی سیاستدانوں اور الیکٹیبلز کی شمولیت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کسی روایتی سیاسی جماعت سے مختلف نہیں رہی اور اس صورت میں عمران خان کے لیے اپنے وژن پر عمل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

پی ٹی آئی کے حامیوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں پہلے بھی الیکٹیبلزموجود ہیں جو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سامنے آئے لیکن اس کے بعد انہوں نے پارٹی وژن کو ہی آگے بڑھایا اور اگرکسی نے پارٹی وژن سے اختلاف کرکے روایتی ہتھکنڈے اپنانے کی کوشش کی یا پارٹی وژن سے اختلاف کیا تو اس کے لیے پارٹی میں یا عمران خان کی جانب سے کبھی کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیاگیا۔ گزشتہ پانچ سالوں کے درمیان خصوصاً پارٹی میں تطہیر اور احتساب کا سلسلہ جاری رہا جس سے ہر قسم کے روایتی عناصرکو علیحدہ کرنے کا عمل پارٹی وژن پر اثر انداز نہ ہوسکا۔ اس دوران کچھ ایسے لوگ بھی پارٹی میں شامل ہوئے جن کے حوالے سے سپورٹرزکو اختلافات اور تحفظات بھی تھے لیکن عمران خان نے ہر موقع پر نہ صرف اس حوالے سے تنقید کوکھلے دل سے سنا بلکہ اپنے پارٹی سپورٹرزکو مطمئن کرنے کی بھی پوری کوشش کی۔

بعض سیاسی مبصرین تحریک انصاف کے ایسے ورکرز، سپورٹرز اور پاکستانی قوم کے اس طبقہ کو جو یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کو الیکٹیبلزکو اپنی پارٹی میں نہیں لینا چاہیے ، اس طرح سمجھاتے ہیںکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی بھاگ دوڑ ایماندار اور نوجوان طبقے کے پاس ہونی چاہیے، لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی مان لینا چاہیے کہ بدقسمتی سے پاکستان کے موجود مفلوج نظام کے ہوتے ہوا ایسا ممکن نظر نہیں آرہا ، عمران خان ایسا ممکن کرنے کے لیے پچھلے 25 سال سے ان لوگوں سے جنگ لڑ رہا ہے لیکن یہ لوگ اتنے طاقتور اورکرپٹ ہیں کہ یہ کسی بھی قیمت میں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا اگر عمران خان اقتدار میں آئیں اور اداروں کو فنکشنل کریں اورکرپٹ لوگوں کو ہٹاکر ایماندار لوگوں کے ہاتھوں میں اداروں کی بھاگ دوڑ دیں ۔ اقتدار میں آئے بغیراداروں کو ٹھیک کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اور پاکستان میں الیکٹیبلزکے ذریعے ہی اقتدارمیں آیا جا سکتا ہے کیونکہ لوہے کو لوہا ہی کاٹ سکتا ہے۔

پاکستانی قوم کا ایک مخصوص طبقہ ابھی بھی ان اس سسٹم کو سپورٹ کرتا ہے جہاں برادری سسٹم ہے جہاں لوگوں کوتھانہ،کچہری میں سپورٹ کرکے، جنازوں، شادیوں میں شرکت کرکے اور ان لوگوں کی گلی، نالیوں ، سٹرکیں بناکر خریدا جاتا ہے اورکبھی بریانی کی پلیٹ کھلاوا کر۔ تو ایسے حالات میں صرف پڑھا لکھا طبقہ کھبی بھی اقتدار میں نہیں آئے گا اس لیے الیکٹیبلزکا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ اقتدار میں آنے کے لیے الیکٹیبلزکی سیاست ہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

اس حوالے سے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں نظریات کی گنجائش بہت ہی کم رہ گئی ہے اکثر لوگ اس پارٹی میں شامل ہو نے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے بر سر اقتدار آنے کے امکانات روشن ہوں اس لیے اس الیکٹیبلزپی ایم ایل این کے دامن سے وابستہ رہنے کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ جاملے ہیں۔ اس کی وجہ مسلم لیگ ن کے رہنماو¿ں کا یہ بیانیہ بھی رہا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ پی ایم ایل این کو نکال باہرکر نے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

عام پاکستانی کو اگرچہ امن وامان اور اپنی روز مرہ کی زندگی کے مسائل کے حل میں دلچسپی ہے لیکن پچھلے ایک عشرے سے پاکستان کے متحرک اور فعال میڈیا نے اب شہروں کو چھوڑکر دیہات میں رہنے والے بیشتر پاکستانیوں کو بھی سیاسی بیداری عطا کی ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی کے برعکس اب عام پاکستانی بھی ایشوز پر سیر حاصل گفتگوکرتا ہوا نظر آتا ہے جو ایک لحاظ سے ایک بڑی مثبت سیاسی تبدیلی ہے۔ اسی سیاسی بیداری کا نتیجہ ہے کہ اب بڑی پارٹیوں پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این کے عام ورکرز بھی اب کی بار پارٹی قیادت کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم پر برہم نظر آئے اور انہوں نے اپنی آوازاعلیٰ قیادت تک پہنچانے کے لئے احتجاج کا سہارا لیا۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ جب تک عام پاکستانی کے سیاسی شعورکی سطح بلند نہیں ہوتی اس وقت تک سیاسی جماعتیں اور جمہوری ادارے مستحکم نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ عام پاکستانی بھی اٹھ کھڑا ہو اور اپنے ووٹ اور رائے کے ذریعے نا صرف سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر پیداکر نے کی مہم میں حصہ لے بلکہ وطن عزیز میں اس وقت نافذ العمل جمہوریت کو بھی کسی اندرونی و بیرونی مداخلت کے بغیر مزید مستحکم بنانے کی کوشش کرے تاکہ پاکستان واقعی ایک ایسا اسلامی جمہوری ملک بن سکے جس کا خواب ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔


ای پیپر