جناب چیف جسٹس کیا کلبھوشن اور عائشہ ممتازکا جرم ایک جیسا ہے؟
25 جون 2018 2018-06-25

وکیل ہماری وکالت پیسے لے کر کرتے ہیں، مگر میں اپنے دوست وکیل کی وکالت پیسے لیے بغیر کررہا ہوں، تعجب کی بات ہے، کہ ایک مقدمے کا کیس بھی انہوں نے بغیر پیسے لیے لڑا، اور حیرت کی بات ہے، کہ وہ ہر جمعے کو راولپنڈی اپنی گاڑی پہ جاتے تھے، اور ساڑھے سات سال تک ان کا یہ معمول رہا۔ ہواکچھ یوں کہ ایک محکمے کے ایک سینئر افسر کے پاس ایک کیس اس وقت آیا، جب کہ وہ بالکل اسی نوعیت کے ایک اور کیس پہ تفتیش کررہے تھے، اور بالآخر انہوں نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا، اسی دوران آمر وقت کے قریبی دوست ، بلکہ ”کولیگ“ اور سینئر ترین افسر پہ بھی بالکل اسی نوعیت کا الزام تھا، الزام ثابت ہونے پر انہوں نے اس کے خلاف بھی پرچہ کٹوادیا، کہ اگر کسی عام پاکستانی شہری پہ کیس بن سکتا ہے، تو کسی جنرل کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ جنرل راحیل شریف نے بھی اپنے دور میں کچھ ایسے جنرلز کے خلاف جو بدعنوانی میں ملوث پائے گئے تھے، انہیں قانون کے حوالے کردیا تھا، کل اپنے سیاسی عہدے سے استعفیٰ دینے، اور پاکستان آنے سے منکر کمانڈو، جو ڈرتے ورتے کسی سے نہیں، سوائے مقدمات کے اور امریکہ کے انہوں نے پیغام بھجوایا، کہ میرے دوست کے خلاف کارروائی بند کرو، ورنہ پچھتاﺅ گے، جب پیغام بر، کے بتانے اور سمجھانے کے باوجود موصوف نے انصاف کے ترازو کو قائم رکھنے پر کسی قسم کی ”مفاہمت زر“ سے انکار کردیا، تو ان کے گھر پہ چھاپہ مروا کر دوکروڑ روپے ان کے گھر سے برآمدگی کا اعلان کرکے اُنہیں نوکری سے برخاست کرواکر جیل ڈال دیا تھا، 1965اور 1971ءکی جنگیں لڑنے والے باکردار اور باوقار شخص نے جنہیں کہا گیا کہ اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے، کہ ”اختیار کل“ رکھنے والے سے معافی مانگ لو، مگر اس مجاہد نے مقدمات لڑنے کو ترجیح دی۔ اور معافی مانگنے سے انکار کردیا، موصوف ساڑھے سات سال جیل میں رہے، اور مقدمہ لڑتے رہے، جیل میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وہ ایک ہی کمرے میں رہے، یوسف رضا گیلانی تو جلد ہی رہا ہوگئے ....مگر شاید وہ بھی برادران یوسف نکلے، اور جیل سے رہائی کے بعد ساتھی کو بھول گئے ۔ ایک دفعہ کسی فنکشن میں ان سے ملاقات ہوئی، تو بھیڑ کی وجہ سے دور ہی سے اُنہیں یاددہانی کراتے رہے، کہ جیل میں تو آپ ڈیم بنانے، بھارتی ڈیموں کو بند کرانے کے لیے عالمی عدالتوں میں جاکر، بند لگوانے اور پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنے کے وعدے کرتے رہے، اور قسمیں کھاتے تھے، مگر ان سب عہدو پیمان کا کیا ہوا؟ مگر یوسف رضا گیلانی نے سنی ان سنی کردی۔ شاید یہ سوچا ہوگا، کہ وزیراعظم میں ہوں، حلف وفاداری ، میں نے اُٹھایا ہوا ہے، مگر محب وطنی کا خبط ان کے سر پہ سوار ہے۔ اور حلف اٹھائے بغیر وطن سے وفادار ہمیں کیوں غدار سمجھتے ہیں۔ غدار اور وفادار کی اس تکرار نے میرا دھیان یکدم کلبھوشن کی جانب موڑ دیا۔ کلبھوشن پر بات کرنے سے پہلے مجھے حضرت خواجہ اویس قرنیؒ کا فرمان یاد آگیا ، کہ اگر جدوجہد کرتے ہوئے کامیابی کو صرف خدا کے حوالے کردوگے، تو لوگوں سے بے پرواہ ہوجاﺅ گے۔ اور یہ استغناہے، حضرت علامہ اقبالؒ نے بھی فرمایا ہے ، کہ حوصلے کے ساتھ زندہ رہنا چاہیے کیونکہ جدوجہد وہمت میں زندگی کا راز مضمر ہے کیونکہ ہمت ہار دینا ناکامی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ کلبھوشن کے حوالے سے خود بھارت نے ایک ایسی مثال ہمیں دکھادی تھی، ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے تھا، اجمل قصاب کا ڈرامہ اس نے خود ہی لگوایا تھا، اور خود ہی نشان اور ثبوت بھی مٹا دیا۔ ایسا تو پاکستان کو کرنا چاہیے تھا، اور اگر دنیا کے سامنے بھارت کو بے نقاب کرنا مقصود تھا، تو پھر اس وقت سے ابھی تک پاکستان نے کیا فائدہ اُٹھایا ؟ بجائے اس کے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھاتے، عالمی عدالت انصاف میں جن میں شاید زیادہ جج ہندو ہیں، جن کی وجہ سے کشن گنگا، اور کلبھوشن کے معاملے میں بھارت ان سے مراعات لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اور ہم حق پہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں بلکہ الٹا دنیا کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہتے۔ نہ ہماری سفارتکاری کامیاب ہے، اور نہ ہی ہماری سیاست کامیاب ہے، ہم چھوٹے سے تھے تو سنا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن پکڑا گیا ہے، کلبھوشن جو پہلے ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا، اب سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، پیپلزپارٹی کے تاج حیدر جماعت اسلامی کے سراج الحق، وغیرہ وغیرہ کا منہ چڑاتا ہے۔ مگر چونکہ کلبھوشن فوج کے قبضے، اور حراست میں ہے، شاید اسے ریمنڈڈیوس کی طرح پرل کانٹینیٹل سے تو کھانا نہ آتا ہو، مگر مہمان نوازی میں صرف محمد نواز ہی نہیں سارے پاکستانی چاہے عسکری ہوں، چاہے لشکری ہوں، مہمان نوازی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
اگر اس کے حسن سلوک کی وجہ سے ہم اس غلط فہمی کا شکار ہیں، تو یہ ہماری سراسر غلط فہمی ہے، کیونکہ عزت التجاﺅں، درخواستوں، منتوں، اور نیازمندانہ رویوں اور سلوک سے نہیں بلکہ ان جیسے بے حس، ممالک اور بدطنیت بدیشی حکمرانوں کو ”مجبور“ کرنے سے ملتی ہے۔
مگر لگتا ہے کہ مودی نے پیسے لگاکر ”پہیے جام“ کرادیئے ہیں، اور پاکستان کے گم شدہ کرنل کو نیپال سے اغوا کرکے بھارت لے جانا، کس کی ناکامی ہے۔ میری اور آپ کی تو نہیں، کلبھوشن ایک ”اعترافی مجرم“ ہے، دکھائی یوں دیتا ہے کہ ہماری قیادت ، اس ”حقیقت مجاز“ کی منتظر ہے، کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، اور عدالت سے ایسا مبہم یا غیر مبہم فیصلہ آجائے، اور کلبھوشن کو مودی کے حوالے کردیا جائے، اور ہم صرف اس کی بیوی کے جوتے، اپنے عجائب گھر کی زینب بناسکیں، اور اسی پہ فخروغرور کریں، کہ ایک جاسوسہ کے جوتے، ہمارے ”چشم عقابی“ رکھنے والوں نے پکڑلیے۔ قارئین میں کلبھوشن پہ مزید نہیں لکھنا چاہتا، یہ نہ ہو، کہ کلبھوشن چھوٹ جائے، اور میں پکڑا جاﺅں۔ کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ کا فرمان ہے کہ اپنی زبان کو اپنا حکمران مت بناﺅ پتہ نہیں میں بھی کیسا انسان ہوں، میرے ذہن میں کالم لکھتے ہوئے اور قلم اٹھاتے وقت تو سابقہ پنجاب کی ڈائریکٹر فوڈاتھارٹی عائشہ ممتاز تھیں وہ صرف میرے ذہن میں ہی نہیں، پنجاب کے عوام کے ذہنوں میں بھی ہمیشہ رہیں گی اگر وہ سیاستدان ہوتیں تو ان انتخابات میں یقیناً کامیاب ہوجاتیں۔ 2015ءمیں ڈائریکٹر آپریشن فوڈ اتھارٹی لگنے والی عائشہ ممتاز کو نجانے کس نے اور کس مقصد کے لیے نامور اداکار رنگیلا کی بیٹی مشہور کردیا، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے سرانجام دیں، مگر انہیں صرف ایک سال کے لیے برداشت کیا گیا اور ان پر کرپشن کا الزام اس بھونڈے طریقے سے لگایا، کہ عوام ماننے کو تیار نہیں، یہ بھی کہا گیا کہ وہ خود ”فوڈ بزنس“ میں ملوث ہیں۔
عائشہ ممتاز نے فوڈ کے بعد میڈیکل کے شعبے میں جعلی دواﺅں پہ بھی ہاتھ ڈالا، اور پولٹری کی صنعت پہ بھی جب چھان پھٹک شروع کی، حتیٰ کہ وہاں بھی جا پہنچیں، جہاں پہنچنے پہ پورا گھنٹہ لگ جاتا ہے موٹروے بن جانے کے بعد اب 35منٹ لگتے ہیں ....شاید یہ انصاف کا تقاضا تھا مگر میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ انصاف تو اندھا ہوتا ہے، کلبھوشن اور عائشہ ممتاز کے جرم کی نوعیت ایک جیسی ہے کلبھوشن نے بھی درجنوں پاکستانی مار دیئے تھے، اور عائشہ ممتاز بھی درجنوں، بیکریاں، اور ریسٹورنٹ بند کراکے سینکڑوں پاکستانیوں کو مارنا چاہتی تھیں، اسی لیے تو وزیراعلیٰ پنجاب نے باقی فرمانبردار، افسروں کی طرح نہ انہیں ایوارڈ دیا، نہ ہی نقد رقم، چیف جسٹس ثاقب نثار بھی عائشہ ممتاز کی کارکردگی سے واقف ہوں گے کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں، مشہور ہے کہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہوتا ہے، عائشہ ممتاز نے بھی تو ہمیں بچانے کی کوشش کی تھی، کیا یہی اس کا جرم ہے !
اگلی دفعہ انشاءاللہ میں چیف جسٹس سے ایک سینئر عدالتی عہدیدار کے ساتھ ہونے والی صریحاً ناانصافی کو انصاف وعدل میں بدلنے کے لیے درخواست کروں گا، ابھی عائشہ ممتاز آپ کے کٹہرے میں کھڑی ہے !!کیونکہ
اک حبس ہے گھیرے ہوئے ماحول کو میرے
یارب رہے تائب کی نوا تازہ بہ تازہ


ای پیپر