دُہری شہریت والے اربوں پتی مشیران اورمعاونین خصوصی
25 جولائی 2020 (10:25) 2020-07-25

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ایک سیلیبرٹی (celebrity) ہیں۔ شو بز اور کھیلوں سے متعلق نامور لوگ سیلیبرٹی کہلاتے ہیں۔ان سیلیبرٹیز کے ارد گرد دنیا بھر کے اُمراء بھنوروں کی طرح جھومتے نظر آتے ہیں۔ ان کی زندگی کی سانسیں انہی بھنوروں کی بھنبھناہٹ سے جڑی رہتی ہیں۔ یقین کریں یہ سیلیبرٹیز ان بھنوروں کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر یہ بھنورے ان کی زندگی سے دور ہو جائیں تو یہ خود بخود مر جاتے ہیں۔پاکستان چونکہ ایک غریب ملک ہے لہذا یہاں کے بھنورے بھی نسبتاً غریب ہوتے ہیں۔ اس ملک کی سیلیبرٹیز کو غیر ممالک میں بسنے والے امیر بھنورے اچھے لگتے ہیں جو ان کے سٹینڈرڈز پر پورے اترتے ہیں ۔آپ اگر یہ چاہیں کہ یہ دہری شہریت والے ،غیر ممالک میں بسنے والے پاکستانی عمران خان سے دور ہو جائیں تو پھر آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ انہی لوگوں نے تو عمران کی سیاست اور الیکشن compaign کے لیے پیسے دیئے ورنہ عمران خان جیسے آدمی نے کہاں تک پاکستان میں سیاست کر لینی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نظریاتی سیاست تو ذوالفقا رعلی بھٹو کی زندگی کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔اب ارض پاک میںسیاست صرف امراء کا کام ہے۔ پیسہ دے اور تماشہ دیکھ۔بطور ایک نمایاں کرکٹر عمران خان نے شہرت اور اہمیت کو خوب enjoy کیا، لیکن یہ ایک قدرتی امر ہے کہ ایک کھلاڑی کی کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ سب چیزیں کم ہوتے ہوتے ناپید ہو جاتی ہیں۔ آپ انڈین نمایاں کھلاڑی سنیل گواسکر سے لیکر دنیا کے دوسرے بڑے کھلاڑیوں کی زندگی پر نظر ڈال لیں۔ لیکن عمران خان نے وقت کے بہائو کے ساتھ گم ہو جانے کی بجائے عمر کی قید سے آزاد شعبہ میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کرلیا اور وہ تھا اس ملک کی ’’سیاست‘‘۔ آپ جانتے ہیں سیاست میں تو ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔جب تک سانس چلتی ہے یہاں کام چلتا ہے۔ جس خطہ میں ہم رہتے ہیںیہاں کے باسیوں کی سرشت یعنی Genetic makeup میں غلامی ر چ بس چکی ہے۔ پھر اس خطہ کے حکمرانوں نے یہاں کے باسیوں کو جان بوجھ کر اور ارادتاً تعلیم اور علم سے دور رکھا ،کیونکہ علم انسان کو اس دنیا کی ہر چیز اور ہر عمل کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت بخشتا ہے۔سو ان پڑھ اور غربت میں ڈوبی عوام ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ لیتی ہے۔ یہاں کی عوام شریف خاندان اور زرداری خاندان کی لمبی اور مسلسل حکومتوں سے تنگ آچکی تھی۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ لمبے عرصے تک جاری رہنے والی حکومتوں سے ویسے بھی عوام تنگ آجاتی ہے۔ سو عمران خان کے سیاست میں آنے کے بعد یہاں کے لوگوںنے اُسے تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا۔ لوگوں نے اُسے ووٹ دئیے لیکن پھر بھی اُسے اتنے ووٹ نہیں ملے کہ وہ حکومت بنا سکتا ۔ خیر غائب سے کچھ مدد ملی اور وہ اس ملک کا وزیراعظم بن گیا۔اب ملک کی حکومت چلانے کے لیے انہیں ایک ٹیم کی ضرورت تھی۔ لیکن مرضی کی ٹیم بنانے کے راستے میں ایک آئینی رکاوٹ کھڑی تھی اور وہ یہ کہ چونکہ اس ملک

میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے لہذا کوئی شخص بھی اس ملک کی کابینہ کا ممبر نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ قومی اسمبلی یا سینٹ کاممبر نہ ہو۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کا ممبر بننے کے راستے میں بھی ایک اور رکاوٹ سینہ تانے کھڑی تھی اور وہ یہ کہ کوئی بھی ایسا شخص جو کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھتا ہو وہ قومی اسمبلی یا سینٹ کا ممبر نہیں بن سکتا۔لیکن یہاں تو سارا مال متاع ہی وہ لوگ تھے جو یا تو کسی دوسرے ملک کی شہریت یامستقل قیام کا اجازت نامہ رکھتے تھے۔جب انسان کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو بڑے بڑے دانشور صاحب اقتدار کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے دلپذیر سے حل سامنے لے آتے ہیں۔ حکومت کو بتایاگیا کہ غیر ملکی شہریت یا مستقل قیام کا اجازت نامہ رکھنے والے افراد کو وزیراعظم کا مشیر یا معاون خصوصی مقرر کرنے میں کوئی قانون مانع نہیںہے۔ وزیراعظم نے حفیظ شیخ صاحب کو باہر سے بلوا کر حکومت پاکستان کی سب سے اہم وزارت یعنی خزانہ کا مشیر مقرر کر دیا۔ یہ مشیر کا نام تو محض قانونی رکاوٹ کے گنجلک سے نکلنے کی ایک راہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ وہ حکومت پاکستان کی وزارت خزانہ کے کلی مالک ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ قومی اسمبلی یا سینٹ میں وزارت خزانہ کے امور سے متعلق کسی کاروائی میں حصہ نہیں لے سکتے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ وہ اپنی وزارت کا تیار کردہ بجٹ بھی اسمبلی میں پیش نہیں کر سکتے ۔ حال ہی میں حکومت کا پیش کردہ قومی بجٹ حماد اظہر نے پیش کیا تھا۔کیا یہ پارلیمانی جمہوری نظام کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ شیخ حفیظ اور ان کی فیملی پاکستان میں نہیں رہتے ۔شیخ صاحب کا کاروبار پاکستان سے باہر ہے۔کیا خانصاحب کو اپنے ملک میں ایک بھی ایسا شخص نہیں ملا جو اس ملک کی وزارت خزانہ کو سنبھال سکتا۔خیر خانصاحب کو آئینی ماہرین نے اپنی حکومتی ٹیم بنانے کا خوب حل بتا دیا۔ خانصاحب نے اسی طرح اپنے ایک پرانے دوست جو الیکشن ولیکشن کے چکر میں نہیں پڑتے کو بھی چار پانچ وزارتوں کا مشیر مقرر کردیا۔ ان کا نام ہے رزاق داود۔بابر اعوان کو پارلیمانی امور کا مشیر مقرر کر دیا گیا۔ آئینی امور کے ماہرین نے بتایاکہ مشیران تو صرف پانچ تک بنائے جا سکتے ہیں ۔لہذا اب دوسرا راستہ بھی اختیار کرنا چاہیے اور وہ ہے معاون خصوصی برائے وزیراعظم کے عہدہ کا ۔ رولز آف بزنس کی کسی کلاز کے تحت وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی شخص کو بھی چاہے وہ کسی بھی ملک کا شہری ہو ،اپنا معاون خصوصی بنا سکتے ہیں اور اُن کا سٹیٹس وزیر مملکت کا ہوتا ہے۔خانصاحب نے اپنے پیارے دوست ذوالفقار عباس بخاری عُرف زلفی بخاری کو اپنا معاون خصوصی بنا دیا اور انہیں وزارت اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ڈیویلپمنٹ سونپ دی۔ ویسے تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ ڈپٹی پرائم منسٹر ہیں کیونکہ خانصاحب کی جان ان میں ہے ۔ زلفی صاحب انگلینڈ کے شہری ہیں۔ خانصاحب انہیں کسی بھی محکمہ کی ٹاسک فورس کا انچارج بنا دیتے۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم نے احکامات دئیے ہیں کہ نیویارک کے پی آئی اے ملکیتی ہوٹل ’روزویلٹ ‘ کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی میٹنگ زلفی بخاری کے بغیر نہیں ہو گی۔ اسی طرح خانصاحب نے ندیم بابر جو امریکی شہری ہیںاور آئی پی پی ایز و پٹرول کرائسس میں جن کا خاصا نام زیر بحث رہا تھا کو بھی اپنا معاون خصوصی پٹرولیم بنایا ہوا ہے۔ آج کل تو اثاثوں کے جاری ہونے کے بعد اُن کا شمار دولت مند ترین معاونین خصوصی میں ہو رہا ہے۔اسی طرح شہزاد سید قاسم جو امریکی شہری ہیں اور اثاثوں کے مطابق خاصے دولت مند ہیں کو بھی وزیراعظم نے معاون خصوصی بنایا ہوا ہے۔معید یوسف کو نیشنل سیکورٹی کا معاون خصوصی بنا دیا گیا ہے جو امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔کس کا ذکر کریں اور کس کا نہیں ۔ نہ جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہیگا۔ سنا ہے عوام کے چنے گئے قومی اسمبلی کے ممبران سے بنائے گئے وزاراء اپنی بے وقعتی سے رنجیدہ خاطر رہتے ہیں۔ا ن پڑھ اور غربت کی ماری عوام وزیراعظم سے کیا کہہ سکتی ہے۔وزیراعظم کا حلقہ احباب پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ جسے مرضی آے وہ ایڈوائزر بنائیں اور جسے معاون خصوصی لیکن اتنا ضرور سوچ لیں کہ انھوں نے تو لوگوں سے وعدے کیے تھے کہ باہر سے پاکستانی ڈالرز اور پونڈز لائیں گے، لیکن اب تو درجنوں پاکستانی باہر سے آکر غریب قوم سے تنخواہیں لے رہے ہیں اور باقی facilities سے بہرہ مند ہو رہے ہیں ۔ ہمارے پیسوں سے ہم پر حکمرانی کر رہے ہیں۔اس کا حساب کب اور کون کریگا۔


ای پیپر