شفافیت کے دعوے اوردہری شہریت
25 جولائی 2020 (10:24) 2020-07-25

آمریت ہو یا جمہوریت ،وطنِ عزیز کی یہ بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگوں کو اہم منصب تفویض کیے جاتے ہیں جن کے پاس ملک کی شہریت بھی نہیں ہوتی اور یہ لوگ صرف دہری شہریت ہی نہیں رکھتے بلکہ اُن کے کاروبار،جائیدادیں اور خاندان بھی ملک سے باہر ہوتے ہیں جن کے مفادات ملک سے باہر ہوں وہ ملک کے طرفدار نہیں ہو سکتے ظاہر ہے یہ اغیارکے مفادات کے نگہبانی کرتے ہیں مسائل کی گرداب میں پھنسے ملک کی ہر جماعت میں دہری شہریت رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور یہ موجودگی کابینہ میں پہنچ گئی ہے یہ لوگ مرضی کا فیصلہ کرانے پر بھی قادر ہیں کیونکہ دُہری شہریت رکھنے والے کابینہ میں طاقتور حیثیت کے حامل ہیں ہمارے ملک نے تو ایسا دور بھی دیکھا ہے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی رضا مندی سے بیرونِ ملک سے معین قریشی جیسے بندے کوبلاکر وزیرِاعظم کا حلف پہلے لیا جاتا ہے اور پاکستانی شناختی کارڈ بعد میں بنتا ہے جو نگران دور مکمل کرتے ہی دوبارہ دیارِ غیر میں جا کر آباد ہوجاتا ہے پرویز مشرف نے بھی شوکت عزیز کو وزارتِ عظمیٰ سونپ دی جو اقتدار سے باہر ہوتے ہی ملک سے بھی باہر ہو گئے ہیں اور آج کل سُنا ہے عالمی مالیاتی اِداروں کے پاس پُرانی تنخواہ پر کام کرکے شاد ہیں حیران کُن امر تو یہ ہے کہ اغیار کے طرفداروں کے پاس اب بھی اہم اور حساس عہدے ہیں شفافیت کے دعویداروںکے آس پاس دُہری شہریت کے لوگ دیکھ کر کوئی بھی اُن کے دعوئوں پر یقین کرنے کو آمادہ نہیں جانے کیوں کسی کوعوام کا اعتماد بحال کرنے کا خیال نہیں شفافیت کے دعوئوں کی زمینی حقائق نفی کرتے ہیں مگر حکمران مسلسل دیانتداری کا راگ آلاپ رہے ہیں یہ خودفریبی نہیں تو کیا ہے ؟

نواز شریف خاندان اور آصف زرداری کُنبے کے پاس غیر ملکی اقامے ہونے پر عمران خان نے مسلسل تنقید کے نشتر چلائے اور اپنی ہر تقریر میں دُہراتے کہ جن کاملک میں کچھ نہیں جائیدادیں اور کاروباربیرونِ ملک ہیں وہ ہمارے ملک کے فیصلے کرنے کے مجاز نہیں اب سابق حکمران دونوں خاندان اپوزیشن میں ہیں اور اقتدار عمران خان کے پاس ہے اب وہ دہری شہریت پر تنقید کرنے کی بجائے دفاع کرنے پر آگئے ہیں جس پر پورا ملک بھونچکا ہے خدالگتی کہیں تو لوگوں کو قیادت کے قول و فعل کا تضاد ہضم نہیں ہورہا ممکن ہے قیادت کو بھی اِس نُکتے کا ادراک ہو اگر نہیں بھی تو اب ہو جانا چاہیے نہیں ہوتا تو کون سا انتخاب دور ہے نصف مدت بیت چکی ایک ڈیڑھ برس تک انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوجائے گا تو خلقِ خدا ضرور دریافت کرے گی کہ اے صاحب عقل ودانش، جو دوسری جماعتوں سے سرزد ہوتو لائقِ تنقید ،وہی کچھ آپ کریں تو لائقِ تحسین کیوں ہو جاتا ہے؟۔

پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے لیے لازم ہے کہ غیرملکی شہریت ہو مگر موجودہ حکمرانوں نے کابینہ کے چُنائو میں کسی اصول،ضابطے یا قاعدے کا خیال نہیں رکھا حالانکہ ممبر پارلیمنٹ سے زیادہ اختیار کابینہ کے پاس ہوتے ہیں کابینہ پالیسی بناتی ہے اور ایک ممبر پارلیمنٹ سے زیادہ حساس معلومات تک رسائی رکھتی ہے پھر بھی پارلیمنٹ کے رُکن جتنی احتیاط کابینہ کا رُکن بناتے ہوئے کیوں نہیں ہو رہی؟ یہ غیردانستگی میں ہر گز نہیں ہو رہا پھر اِتنا تو صاحبان اختیار سے دریافت کرنا بنتا ہے کہ جن کا سب کچھ ہی بیرونِ ملک ہے وہ پاکستان کے خیرخواہ کیونکر تصورکر لیے گئے ہیں ؟جنھوں نے شہریت لیتے ہوئے غیر ملک کے مفادکے تحفظ کاحلف اُٹھا رکھا ہے وہ بھلا کیسے وطنِ عزیر کے مفاد کا تحفظ کیسے کریں گے؟کیا بہتر نہیں کہ غیر ممالک کی شہریت رکھنے والوں کو کابینہ سے نکال باہر کیا جائے اور ایسے لوگوں کو فیصلہ سازی کے لیے کابینہ کا حصہ بنایا جائے جن کا مفاد ملک سے وابستہ ہو۔ ایسا یونے سے ہی قومی مفاد کی نگہبانی ممکن ہے غیر وں کے حاشیہ برداروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ مسائل کی دلدل میں کمی لانے کے لیے محنت مشقت سے کام کریں۔

ملک کو اندرونی بیرونی خطرات کا سامنا ہے جن سے عہدہ برآء ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سوچ ،سمجھ کر اور احتیاط سے فیصلے کیے جائیں مگر ہوکیا رہا ہے اہم عہدوں پر امریکہ اور برطانیہ شہری براجمان ہیں شفافیت کے دعویداروں کی دہری شہریت رکھنے والوں سے اِتنی اُلفت خالی ازعلت نہیں واقفانِ راز کا کہنا ہے کہ سابق دونوں ادوار میں میںپاکستان کو چین کے زیادہ قریب کیا گیا اور امریکہ کی وعدہ خلافیوں کی بنا پر دوری اختیار کی گئی جس پر نواز شریف اور آصف زرداری زیرِ عتاب آئے ویسے تو عمران خان بھی چین دوستی کا دم بھرتے ہیں اور امریکہ و یورپ کی بجائے متبادل کی بات کرتے ہیں لیکن کابینہ اجلاس کی تصاویر کچھ اور ہی کہانی سُناتی ہیں پوچھنا تو محض اِتنا ہے کہ اقاموں کی بنا پر اگر سابق حکمران قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں تو دہری شہریت رکھنے والے ایسے لوگ جنھوں نے شہریت لینے سے قبل کسی اور ملک کی وفاداری کا حلف اُٹھانے میں قباحت محسوس نہیں کی تو کیا یہ لوگ حساس معلومات افشا کرکے قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث نہیں بن سکتے؟۔

چین کے لیے مضبوط اور خوشحال پاکستان اشد ضروری ہے کیونکہ کمزورپاکستان بھارت کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا امریکہ اور چین میں ٹھنی ہوئی ہے اِس لیے پاکستان اہم حثیت اختیار کر گیا ہے جبکہ برطانیہ اور امریکہ کے مفاد یکساں ہیں اور وہ ہر صورت خطے میں بھارت کی بالا دستی کے خواہاں ہیں پاکستان کی مضبوطی و خوشحالی کے لیے چین جس قدر پُرجوش ہے ویسا پاکستان کی طرف سے جذبہ بھی نظر نہیں آتا بلکہ ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی موجودہ تبدیلی چین سے دوری کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ برطانوی شہری زلفی بخاری اختیار کے حوالے سے نائب وزیرِ اعظم سے کم نہیں اور کابینہ اجلاس کے دوران اُن کی نشست وزیرِ اعظم کے دائیں طرف رکھی جاتی ہے جو باعتماد ہونے کی نشانی ہے اسی طرح اگر اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کے بائیں طرف نگاہ دوڑائی جائے تو امریکی رہائشی ندیم بابر براجمان دکھائی دیتے ہیںآئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کے دعوے کرنے والوں نے اقتدار ملتے ہی ملک کے معاشی معاملات آئی ایم ایف کے ملازم حفیظ شیخ کے سپرد کر دیے ہیں جنھوں نے زہانت کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ ڈالر کو پَر لگ گئے ہیں اور روپیہ مسلسل زوال پذیر ہے اسی طرح ترجمانی پر شہباز گل کو مامور کر رکھا ہے جن کے پاس امریکہ کا گرین کارڈ ہے اقامہ رکھنے والے اقتدار میں آئیں تو ملک کے لیے خطرات پیداہو سکتے ہیں غیرملکی شہریت رکھنے والے اقتدار میں ہوں تو ملک محفوظ کیسے ہو گیا؟ شفافیت کے دعویداروں کو دہری شہریت کے حوالے سے قوم کودلیل سے جواب دینا ہو گا الزام تراشی کرتے ہوئے یاد رکھیں وہ اپوزیشن میں نہیں لیکن اُن کے وعدے اور دعوے عوام کو بخوبی یاد ہیں۔


ای پیپر