یہاں …سب ممکن ہے!
25 جولائی 2020 (10:24) 2020-07-25

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب کوئی ایجاد یا عمل حیران کن سمجھا جاتا تھا۔ شیشے کے مشینی ڈبے(ٹی وی سکرین) میں انسانوں کو حرکت کرتے دیکھنا، مشین (ریڈیو) سے انسانی آوازیں اور سازوں سے وجود میں لائی جانے والے دھنیں سننا،کاغذ پر اپنی تصویر چھپے حیرانی سے دیکھنا، بڑے ڈبے (اے سی) سے ٹھنڈی ہوائوں کا اخراج محسوس کرنا، پَروں والی مشین (پنکھا) سے پسینہ خشک کرنا، دوست، احباب سے رابطے کے لئے چھوٹی مشین (ٹیلی فون) کا استعمال کرنا، نیز اس طرح کا ہر عمل حیرانی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے انسان ٹیکنالوجی کی دنیا کی حدود کو چھونا تو کیا انھیں ختم کرنے کی کوششوں میں جت گیا۔اب کیا موبائل، کیا ٹی وی، سب نے ہی اپنے رنگ ڈھنگ بدل لئے۔ کوئی بھی یار بیلی ہو، دنیا کے کسی بھی کونے میں مقیم ہو، موبائل نکالو، جھٹ سے فون گھمائو اور گپیں لگائو۔ کوئی رکاوٹ ہی نہیں۔ یہاں۔۔۔ سب ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کی بیش بہا اقسام کی ایجادات اب بھی زور و شور سے جاری ہیں۔ لیکن دورِ جدید میں انسانی رویوں میں بھی نت نئی جہات متعارف ہو رہی ہیں۔ایک ایسی سمت، جس میں پاکستان کے باسی اپنی پوری قوت سے مصروف ہیں وہ ہے حرام خوری، کرپشن۔۔۔

21جون 2020ء کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پائلٹس کے جعلی لائسنس کے حوالے سے ڈی

جی سول ایوی ایشن سے رپورٹ طلب کی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں دنیا کی قوموں میں ہم کرپٹ ترین ملک ہیں۔ ہم بدنامی کی کس نہج تک جائیں گے؟مزید بدنامی کی گنجائش نہیں۔عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن پائلٹس کے جعلی لائسنس والے معاملے پر فوری ایکشن لیں۔اور معاملے میں ملوث ایوی ایشن حکام کے خلاف محکمانہ اور

فوجداری کارروائی کی جائے۔ سماعت کا احوال پڑھتے ہوئے ان شہدا کا خیال آیا جنہوں نے جہاز میں سوار ہونے سے قبل منزل کے لئے رخت ِ سفر باندھا تھا لیکن وہ آخرت کا رخت ِ سفر ثابت ہوا۔وہ گھڑی، وہ لمحہ کربناک تھا لیکن اس کیفیت کو وہ کرپٹ افسران نہیں سمجھ سکتے جنہوں نے جعلی لائسنس دیے، جہاز کی جانچ کر کے تکنیکی حالت کو قابل ِ اڑان قرار دیا۔انہوں نے ثابت کیا ،ہم صحیح کریں یا غلط، یہاں۔۔ سب ممکن ہے۔

کورونا وائرس نے نحوست پھیلائی، ماسک ، جس کی قیمت پانچ روپے سے زیادہ نہ تھی، وہ قیمتاََ ارتفاع کو ثواب سمجھ کر پہنچ گئی۔ حکومت نے ہزار دعوے کیے، وعدے کیے، سہولیات تک رسائی کے لئے اقدامات کیے لیکن۔۔۔ یہاں سب ممکن ہے!

مذہبی تہواروں کی ہر سال آمد ہوتی ہے۔ دنیا میں عوام کو رعایت دی جاتی ہے۔ ہم گراں فروشی کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔ گاہکوں سے بے ربط بحث کرتے ہیں ۔ سرکار بے چاری کیا کرے ، ہم میں سے ہی حکمرانوں کا انتخاب ہوا ہے۔لیکن ہم کریں گے وہی جو کرتے آ رہے ہیں۔کیوں کہ یہاں سب ممکن ہے۔

سرکاری اداروں میں کبھی کام کی غرض سے جانا ہو، کام کی نوعیت جائز ہو یا نا جائز۔ کوئی بھی ملازم تب تک کام کرنے کی جسارت نہیں کرے گا جب تک اسے بانی ِ پاکستان کی عمدہ کاغذ پر چھپی تصویر پیش نہ کی جائے۔ پھر اُس عمل کی راہداری میں حائل تمام رکاوٹیں غائب ہو جائیں گی۔ حتیٰ کہ اگر زندگی میں کبھی بے قصورر ہنے کے باوجود قانون کے محافظین سے واسطہ پڑ ہی جائے تو جان چھڑانے کے لئے بھی یہی حربہ نافذ العمل ہے۔ کیوں کہ یہاں سب ممکن ہے۔

منشیات کی ترسیل ہمارے دیس میں غیر قانونی عمل ہے۔ لیکن اگر ضرورت ہو، تو ہم بڑے بڑوں کی چھتر چھایا میں یہ کام خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں۔ بلکہ کرتے آ رہے ہیں۔ لاکھ کارروائیاں ہوں، جرائم کا خاتمہ، ندارد۔ منشیات کی ترسیل کی روک تھام کا منصوبہ ، اللہ حافظ۔ کیوں کہ یہاںجرائم پیشہ افراد کے لئے سب ممکن ہے۔

بات کی جائے غلاظت سے بھر پور ماحول میں بنائے جانے والے پکوان کی یا دودھ میں زہریلی ملاوٹ کی ۔ بس گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں حرام خوری کی فہرست میں اول سطر میں نام کے اندارج کی دیر ہے۔ ہم عالمی سطح پر بھی نام روشن کر لیں گے۔ انسانیت پسند ممالک میں خوراک سے کھلواڑ غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ بقول ایک لکھاری کے، یہاں گنگا الٹی بہتی ہے، اس دیس میں اندھے حاکم ہیں،نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں، نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں۔دورانِ تحریر احساس ہوا کہ ہم بد عنوانی کے عازم ہیں،بے حسی کے دیس کے ناظم ہیں،ہم جابر ہیں ہم ظالم ہیں، ہم امن کے خونی راقم ہیں۔

مندرجہ بالا سطور ، معاشرتی شکستگی کی کیفیت میں ڈبو رہی ہیں۔ لکھتے ہوئے نا امیدی کے حبس میںجکڑا جا رہا تھا کہ خیال آیا کہ ہمارے پاس زرخیز اذہان کی بھی کمی نہیں جو مثبت پیرائے میں ناممکنات میں بہتری کی سمت دریافت کر سکتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسی بھی عمل کو مکمل کرنے کے لئے قانونی، غیر جانبداریت اور جائز راستہ اپنائیں ۔ اور خاص طور پر آزادی ِ اظہار ِ رائے کو فوقیت دینے کے لئے آگاہی اور عملی اقدامات کریں ۔ اس طرح معاشرے کی کالی بھیڑوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، ورنہ ہم یہی گردانیں گے ،" یہاں سب ممکن ہے


ای پیپر