الخدمت یا ہر پل خدمت
25 جولائی 2020 (10:23) 2020-07-25

بچے ہمارے عہد کے چالاک یا بے باک ہوگئے لیکن ہم تو ان کے آگے لاجواب ہوگئے۔ بچوں کا معاشرتی علوم کا آن لائن پرچہ تھا۔ پڑھائی کے دوران حکومت کی تعریف اور کردار کا سوال آگیا جب میں انہیں حکومت اوران کی ذمہ داریاں سمجھا رہی تھی تو وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے تھے اور مسکراتے تھے کبھی سوال پر سوال کرتے جارہے تھے۔ سبق میں جب یہ ذکرآیا کہ حکومت کا کام عوام کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے جس میں صحت، تعلیم، فلاح،تحفظ،ا ن کے لیے روزگار فراہم کرنا، انصاف دینا، اچھا انفراسٹرکچر دینا ہے اور حکومتی اراکین عوام کے خادم ہوتے ہیں اور جب کوئی مصیبت آئے تو حکومت عوام کو مفت سہولیات بھی دیتی ہے۔ بچوں نے یہ پڑھ کر فوراً کہا کہ ماما یہ سب جھوٹ لکھا ہوا ہے ہمارے ملک میں تو ایسا کچھ نہیں ہورہا جو تعریف آپ یاد کروا رہی ہیں کیونکہ نہ تو یہاں صحت کی کوئی سہولت ہے نہ تعلیم پر توجہ اور تو اوراس کرونا کے دوران کتنی مہنگائی کی گئی کہ لوگوں کے لیے علاج کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ بچوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کی طرف سے تو ایک ماسک تک نہیں دیا گیا تو پھر اس حکومت کا کیا فائدہ یہ سب جھوٹ ہے!

میرا بیٹا تو یہاں تک کہنے لگا کہ اس کرونا وبا میں ہرجگہ الخدمت اور جماعت اسلامی ہی نظر آرہی تھی کہیں سپرے ہو رہے ہیں کہیں ماسک اور سینی ٹائزر دئیے جا رہے ہیں کہیں راشن تقسیم ہورہا ہے کہیں آکسیجن سلنڈر فراہم کیے جارہے ہیں تو کیا یہ حکومت کا کام نہیں تھا؟

اس کے اس تجزئیے نے مجھے بہت حیران کیا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا واقعی ہمیشہ کی طرح اس وبا کے دوران الخدمت نے تو خدمت کا حق ادا کردیا ہے۔ میں تو شکر کرتی ہوں میں نے گزشتہ تین الیکشن سے اپنے حلقے میں تینوں بڑی جماعتوں کے امیدوروں کو ووٹ نہیں دیا کیونکہ میں سب سے واقف تھی اور میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں نے کسی کرپٹ یا بے دین کو ووٹ دیا اور کل جیت کر اس نے کوئی بھی خیانت کی تو میں اس کے ہر گناہ میں خواہ مخواہ حصہ دار بن جائوں گی۔ تو میں نے سوچ سمجھ کر اپنے حلقے میں پانچ وقت کے نمازی،ایماندار اورعوام کے لیے ہر لمحہ موجود امیدوار کو ووٹ دیا۔ مجھے اس بات سے غرض نہیں تھی کہ وہ جیتے یا ہار جائے میرا مطمع نظر یہ تھا کہ ووٹ ایک مقدس امانت ہے اور روز

محشرمیں سرخ رو ہوں گی۔ اور پھر کرونا آیا تو بڑی تین جماعتوں کے کوئی بھی نمائندے میرے حلقے میں موجود نہ تھے لیکن جماعت اسلامی اور الخدمت کا پوراایک نیٹ ورک ہمہ وقت سرگرم تھا۔ حیرت کی بات تویہ ہے کہ ان تین بڑی جماعتوں کے ووٹرز بھی راشن، ماسک اور سینی ٹائزر لینے الخدمت کے نمائندوں سے رابطے کر رہے تھے۔ اس پانچ ماہ کے دوران ٹائیگر فورس کا ایک بھی بندہ کہیں نظر نہیں آیا۔

ویسے یہ الخدمت کے لوگ بھی عجیب پر اسرار لوگ ہیں، پتہ نہیں کیسے کرلیتے ہیں اتنا منظم کام، جب کرونا کے باعث نیا نیالاک ڈائون ہوا دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوا تو انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر دو وقت کی روٹی دینے کا انتظام کیا جس میں کبھی سبزی، چاول کبھی گوشت کبھی دال کا اہتمام ہوتا تھا ساتھ ساتھ علاقے میں سپرے بھی کیے گئے۔ یہاں بھی کوئی حکومت کا بندہ نظر نہیں آیا۔ اس کے بعد رمضان میں مستحقین کے گھروں تک راشن کی فراہمی ممکن بنائی گئی اور ان کی عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ یہ مرحلہ گزرا تو عید الفطر کے بعد ایک دم کرونا مریضوں میں اضافہ ہوا تو الخدمت نے مفت آکسیجن سلنڈر اور آکسی میٹر کی فراہمی یقینی بنا دی۔ پھر باقی ٹیسٹ لیبارٹریز سے آدھی قیمت پر کرونا کی گھر گھر ٹیسٹنگ کی گئی جس نے مجھے حیران کردیا میں نے ایک دن پوچھ ہی لیا آخر سب جو ٹیسٹ دس ہزار میں کر رہے ہیں آپ پانچ ہزارمیں کیسے کرلیتے ہیں تو جواب ملا کہ ہم صرف کِٹ کے پیسے لیتے ہیں اور ایک روپیہ بھی منافع نہیں لیتے۔

پھر انہوں نے فری اینٹی باڈی ٹیسٹ کا اعلان کردیا الغرض ان کی خدمت جاری و ساری ہے۔

میں نے خود دیکھا، کس طرح لاہور کے امیر ذکر اللہ مجاہد، پی پی ایک سو ساٹھ کے امیر احمد سلمان،اور یو سی دو سو سولہ کے صدر میاں شاہد محمود نے ان چھ ماہ میں دن رات کام کیا،گھر گھر راشن تقسیم کیے خود کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کی خدمت کی اور لوگوں کی دعائیں لیں ان میں سے بہت سے کارکن کرونا کا شکار بھی ہوئے اور پھر ٹھیک ہوکردوبارہ اپنے مشن میں لگ گئے۔ میں نے ان سب کو اس دور میں اپنے ہاتھوں سے مسجدوں کی دیواریں اور فرش دھوتے دیکھا جب برسرِ اقتدار لوگ لوگوں کو سہولت دینے کی بجائے مندر کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ میرا آپ کو یہ بتانے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ میری رائے سے متفق ہوں اپ بے شک انہی کو ووٹ دیں جہاں آپ کا ضمیر مطمئن ہو لیکن یہ یاد رکھنا کہ اس کے ہر عمل کے جوابدہ روز محشر آپ بھی ہوں گے۔

میں ذاتی طور پر کسی سیاسی جماعت سے متاثر نہیں ہوں کیونکہ میرا یہ خیال ہے کہ پاکستان کو قائد اعظم کے بعد آج تک کوئی مخلص رہنما نہیں ملا۔ میں نے پچھلی چار دہائیوں سے یہی دیکھا ہے کہ الیکشن سے پہلے عوام کو دکھانے کے لیے ہر پارٹی کے منشور میں تعلیم، صحت اور خوشحالی کے دعوے کیے جاتے ہیں اورجیتنے کے بعد وہ منشور ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کا سہرا پچھلی حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔

جس نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا اس نے بھی تجوریاں بھرلیں جس نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اس نے تو عوام کے لیے جینے کے معنی ہی تبدیل کردئیے اور اپنے قول و فعل کے تضاد سے بہت جلد اس کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی اب تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ سب گورکھ دھندا ہے اور حکومت کا کام صرف اپنی جیبیں بھرنا اور عوام کو ستانا ہے یہ غیر ملکی آقائوں کے اشاروں پر ناچنے والی وہ طوائف ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور طاغوت کی بالادستی قائم کرنا ہے آج ستر سال بعد بھی دیکھیں تو ہم غلام درغلام بن چکے ہیں، سر اٹھا کر کھڑے نہیں ہوسکتے۔

ہم صرف روزی روٹی کے چکروں میں پس کر رہ گئے ہیں ہمیں تو اتنی مہلت بھی نہیں ملتی کہ کبھی سوچ سکیں کہ ہم کیا کررہے ہیں مجھے تو دکھ ہے اس بات کا کہ ہمارے ٹیکسوں سے وہ کام کیے جاتے ہیں جن کا ہمیں پتہ تک نہیں ہوتا جیسے یہ مندر کی تعمیر،جب حج کی بات ہو تو مہنگا کردیا جاتا ہے، قربانی کا کہو توکہتے ہیں کسی یتیم بچی کی شادی کرادو۔اپنے شعائر کا مذاق اور دوسری جانب غیرمسلموں پر اتنی عنایات!

یہاں توہروقت دجالی فتنوں کی بے راہ روی ہے یا پھر دو وقت کی روٹی کے لالے ہیں۔ ہمیں اندازہ بھی نہیں کہ کشمیر پرکرفیو لگے سال ہونے کو ہے اور اب تک وہ آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کرونا کی آڑ میں مسجدیں ویران اور مندر آباد ہونے جارہے ہیں،قادیانیت اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔ عوام سوشل میڈیا کی لایعنی بحثوں میں الجھی ہے،کم سن ذہنوں کو ٹک ٹاک اور پب جی کے حوالے کردیا گیا۔ غریب غریب ترین اور امیر ٹائیکون بن گئے۔مہنگائی تین سو فیصد بڑھ گئی ہے لیکن آپ نے گھبرانا نہیں کیونکہ سکون صرف قبر میں ہے۔


ای پیپر