قلم کو ہتھکڑی … !
25 جولائی 2020 (10:18) 2020-07-25

وقت گزرتے دیر نہیں لگتی ۔ سال پہلے 26 جولائی 2019ء کی بات ہے جب الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر چیختی ، چنگھارتی اور شور مچاتی شہ سرخیوں کے ساتھ کسی حد تک یہ غیر متوقع خبر سامنے آئی کہ اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری جس میں باوردی اور بے وردی اہلکار شامل تھے ، کئی گاڑیوں میں سوار ہو کر رات گئے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے انتہائی قریبی اور بااعتماد ساتھی اور مشیر ِ محترم عرفان صدیقی کی رہائش گاہ پر گئی اور انھیں گھر سے باہر بُلا کر اور بغیر وارنٹ گرفتاری دکھائے دھکے دیتے ہوئے ایک پولیس وین میں بٹھا کر اسلام آباد کے تھانہ رمنا پہنچا دیا۔ یہ خبر جو مجھ تک کچھ تاخیر سے پہنچی، میرے لئے ہی نہیں بہت سارے دوسرے لوگوں کے لئے بھی حیرانی، پریشانی اور تعجب اور تجسس کا باعث تھی کہ آخر محترم عرفان صدیقی جیسی صاف ستھرے اور اُجلے کردار کی مالک انتہائی شائستہ ، بامروت، مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انتہائی محترم اور واجب التعظیم بُزرگ شخصیت سے ایسا کون سا قصور یا جرم سرزد ہوا کہ انھیں اس ا نتہائی نازیبا ، بہمانہ اورہر لحاظ سے باعث شرمندگی سلوک کا حق دار گرداناگیا۔ جنا ب عرفان صدیقی جن کی عمرِ عزیز کا بڑا حصہ درس و تدریس اور بعد میں صحافت کے پیشے سے بطور ایک نامور کالم نگار وابستہ ہونے کے ساتھ پڑھنے پڑھانے ، لکھنے لکھانے اور تصنیف و تالیف میں گزرا ہے اور ان کے سینکڑوںنہیں بلکہ ہزاروں شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انتہائی اونچے مناصب اور ذمہ دار حیثیت کے حامل اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور رہے ہیں ۔ان کے ساتھ اتنے ہتک آمیز اور تکلیف دہ سلوک کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

سچی بات ہے محترم عرفان صدیقی کو میری طرح قریب سے جاننے والے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ وہ زندگی کے طویل ماہ و سال میں ادب واحترام ، حلال و حرام ، جائز و ناجائز ، شائستگی و مروت اور دانش و بصیرت کے سبھی قرینوں سے بخوبی شنا ساہی نہیں رہے ہیں بلکہ ان کو حرزِ جان بھی بنائے رکھا ہے۔ اللہ کریم کے فضل و کرم اور اپنے سادہ لوح اور پاکباز والدین کی دعائوں کے ساتھ محنت و مشقت ذاتی قابلیت و اہلیت اور جہدِ مسلسل سے وہ زندگی میں نیک نامی کمانے اور ایک دبستان فکر کے طور پر اپنی پہچان بنانے میںہی کامیاب نہیں رہے بلکہ اقتدار و اختیار کی راہداریوں میں ان کو ایسی رسائی بھی نصیب ہوئی جیسے یہ سب کچھ ان کے لازمہ حیات کا حصہ ہو۔ اب ایسی شخصیت کے لئے پولیس گردی کا سلوک اور رویہ یقینا بہت سارے لوگوں کے لیے صدمے اور دُکھ کی بات ہونی چاہئے تھی۔

جیسے میں نے اوپر کہا مجھے عرفان صاحب کی گرفتاری کی خبر تاخیر سے صبح اخبار دیکھنے کے بعد پتہ چلی۔ مکرم و محترم ڈاکٹر جمال ناصر صاحب سے میرا رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ تازہ ترین صورتِ حال سے مجھے آگاہ رکھیں گے۔ کئی گھنٹے گزر گئے اور میں انتظار میں رہا اور شش و پنج میں کہ کہاں اور کس جگہ پہنچوں کہ صحیح صورتِ حال سے آگاہی ہی نہ حاصل ہو سکے بلکہ عرفان صدیقی سے رابطے اور کچھ بات چیت کی سبیل بھی نکل سکے۔ اسی دوران جیو نیوز کے عزیز مکرم آصف بشیر چوہدری سے فون پر میری بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ تھانہ رمنا پولیس عرفان صاحب کو اسلام آباد کچہری کے بخشی خانے (F-8 ) میں

لے گئی ہے اور وہاں سے انھیں غالباً اڈیالہ جیل بھیج دیا جائیگا۔ میں نے اپنے بیٹے حارث بلال ملک کے ہمراہ بخشی خانے کا رُخ کیا لیکن ٹریفک کے ہجوم میں ایسے پھنسے کہ اسلام آباد کچہری تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت صرف ہو گیا۔ بخشی خانے پہنچے تو وہاں ہُو کا عالم تھا۔ پولیس کے ایک دو اہلکار بیٹھے ہوئے تھے ان سے پوچھا تو ان میں سے ایک نے جواب دیا بزرگو! آپ دیر سے آئے ہیں۔ عرفان صدیقی صاحب ادھر ہی تھے آپ پہلے آ جاتے تو ہم آپ کی ضرور ان سے ملاقات کروا دیتے لیکن اب کیا ہو سکتا ہے ان کی پرزنر (Prisoner ) وین کو اڈیالہ جیل روانہ ہوئے گھنٹے گزر چکے ہیں۔ مجھے شدید افسوس تھا کہ یار مہربان سے ملاقات نہ ہو سکی۔

اگلا دن اتوار کا تھا۔ اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزر کر گائوں جانا تھا۔ دل میں کچھ اس طرح کا خیال تھا کہ جیل کے گیٹ نمبر 3 کے سامنے رُک کر جو بھی کوئی اہلکار ڈیوٹی پر ہوا اس سے کہوں گا کہ جیل کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے کسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں جُرم بے گناہی میں بند میرے مہربان ومکرم دوست کو میرا سلام پہنچا دے۔ یہ محض میرا ایک خیال تھا ورنہ مجھے اچھی طرح علم تھا کہ کس نے میری بات سننی اور کس نے میرا سلام اور پیغام پہنچانا ہے۔ لیکن قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انہونی بھی ہونی ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا وہ اس طرح کہ میں اپنے بیٹے حارث ملک کے ہمراہ ابھی گائوں سے پانچ چھ کلو میٹر پیچھے اڈیالہ روڈ پر ’’سود‘‘ گائوں کے قریب تھا کہ مجھے عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام کا فون آیا کہ سر کہاں ہیں؟ سر (عرفان صدیقی صاحب) کی ضمانت ہو گئی ہے اور انھیں لینے کے لئے اڈیالہ جیل روانہ ہو رہے ہیں۔ سچی بات ہے میری خوشی دیدنی تھی۔ میں نے بیٹے سے کہا کہ گاڑی واپس موڑے ہم نے اڈیالہ جیل جانا ہے عرفان صدیقی صاحب کی ضمانت ہو گئی ہے اور کچھ دیر میں رہا ہو جائیں گے۔ بیٹا مجھ سے پوچھتا رہا کہ ایسا کیسے ہوا؟ میرا یک ہی جواب تھا کہ واپس جیل کے گیٹ پر پہنچیں تے تو پتہ چل جائے گا۔ اگلے آدھ گھنٹے میں ہم واپس اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 3 کے سامنے پہنچ چکے تھے ۔ بہت ساری گاڑیاں جن میں نیوز چینلز کی vans بھی شامل تھیں سڑک پر کھڑی تھیں اور پولیس والے سڑک کو کھُلا رکھنے اور گاڑیوں اور ہجوم کو گیٹ نمبر 3 کے سامنے سے ہٹانے کے لئے ہائو ہُو کر رہے تھے ۔ عرفان صاحب کا چھوٹا صاحبزادہ عزیزی نعمان صدیقی ان ان کا نو عمر بڑا پوتا فائز عمران (جو دوبئی میں اپنے والدین کے ہمراہ رہتا ہے اور چند دن قبل ہی اسلام آباد آیا ہوا تھا)، محترم ڈاکٹر جمال ناصر، مکرم و محترم پروفیسر ڈاکٹر ریاض شیخ اور دوسرے احباب اپنی گاڑیوں میں موجود تھے۔ ڈاکٹر ندیم اکرام ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ میں ڈاکٹر جمال ناصر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا وہ مجھے جمعتہ المبارک 26 جولائی کی رات سے اب تک (اتوار 28 جولائی دن 2 بجے) گزرے کم و بیش چالیس گھنٹوں کی روداد بتانے لگے۔ اسی دوران ہجوم میں کچھ ہلچل ہوئی پتہ چلا کہ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور سابقہ وفاقی وزیر محترمہ مریم اورنگزیب بھی پہنچ چکی ہیں۔ کچھ دیر میں عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام اور محب مکرم اسماعیل قریشی بھی معہ مٹھائی بھی آگئے ۔ میں ان کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہو گیا۔ پھر اچانک دیکھا کہ ہجوم کچھ چھٹ رہا ہے اور گاڑیاں وغیرہ بھی پنڈی کی طرف روانہ ہو رہی ہیں۔ پتہ چلا کہ جیل حکام نے محترم عرفان صدیقی کو جیل کے دوسرے گیٹ سے باہر نکال کیا ہے اور وہ پنڈی اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں۔ ہم نے چونکہ گائوں ضرور جانا تھا لہٰذا میں نے حارث بیٹے سے کہا کہ گاڑی سٹارٹ کرو انشاء اللہ انکل (بچے عرفان صدیقی کو انکل کہتے ہیں) سے اسلام آباد میں ان کے گھر جا کر تفصیلی ملاقات کر لیں گے۔ ہم گاڑی میں بیٹھ کر پنڈی کی مخالف سمت اپنے گائوں (چونترہ) کو روانہ ہونے ہی والے تھے کہ پتہ چلا کہ عرفان صاحب جیل کے گیٹ نمبر 3 کے سامنے جمع نیوز چینلز کے رپورٹرز اور دیگر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرنے کے لئے واپس آ رہے ہیں۔ ہمیں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے تھا ۔ جوں ہی عرفان صاحب گاڑی سے اُترے مجھے دھکم پیل میں سامنے دیکھ کر حسب معمول اپنے نرم اور شائستہ لہجے میں ملک صاحب کہہ کر پکارا۔ میں آگے بڑھا انھیں گلے لگایا۔ ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر بوسہ دیا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس دوران چینلز کے رپورٹرز اپنے کیمروں سمیت اکٹھے ہو کر آگے آ گئے محترم عرفان صدیقی نے رپورٹرز کے استفسارا ت کے جواب میں رات گئے دھکے دے کر اپنے گرفتار کئے جانے ، پولیس وین میں تھانہ رمنا پہنچائے جانے ، رات تھانہ میں بند رکھنے اور کسی کو ملنے کی اجازت نہ دینے، صبح پولیس کی طرف سے کرایہ داری ایکٹ کی معمولی دفتہ کے تحت FIR کاٹنے اور گرفتاری ظاہر کر کے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے اور مجسٹریٹ کی طرف سے کرایہ داری ایکٹ کی معمولی دفہ کی مبینہ خلاف ورزی کرنے (حقیقت میں عرفان صدیقی صاحب کا کوئی قصور یا جرم بنتا ہی نہیں تھا اس لئے کہ جس مکان کو کرایہ پر دینے کی بنا پر ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا وہ مکان ان کا نہیں بلکہ اُن کے بیٹے عمران صدیقی کا ہے جو کئی سالوں سے دوبئی میں ملازمت کرتا ہے) پر ان کی ضمانت لینے کی بجائے انھیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوانے اور اب اتوار کو اچانک ضمانت کا فیصلہ کرنے کی پوری تفصیل بیان کر دی۔

محترم عرفان صدیقی نے قومی معاصر روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالموں کے سلسلے میں اپنی گرفتار ی اور دیگر معاملات کی یہ تفصیل بڑے نپے تُلے اور منطقی انداز میں بیان کی ہے۔ یہ کالم محترم کاشف کی مرتب کردہ اورجہانگیر بُکس کی شائع کردہ دیدہ زیب کتاب ’’ قلم کو ہتھکڑی‘‘ میں بھی شامل ہیں ۔ تاہم ایک سوال کا جواب سامنے نہیں آیا کہ آخر ان کی رہائی کا اتنی جلدی فیصلہ کیسے ہو گیا۔ کچھ حتمی بات تو نہیں کی جاسکتی لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں کئی ایسے اعلیٰ ترین عہدیدار شامل رہے اور ہیں جو زمانہ طالب علمی میں عرفان صدیقی صاحب کے شاگرد رہے ہیں۔ یہ ان کے شاگرد ہونے پر ناز بھی کرتے ہیں۔ سابقہ چیئر مین جوائنٹ سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات ہوں یا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، یہ محترم عرفان صدیقی صاحب کے شاگرد رہے ہیں۔ جنرل زبیر نے تو چند ماہ قبل ایک تقریب میں اپنے اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے کھُل کر عرفان صاحب کی تعریف کی تھی ۔ جنرل باجوہ بھی ان سے کبھی اتنے دور نہیں رہے۔


ای پیپر